الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ النَّهْي عَنْ قَوْلِ الدَّاعِيِّ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ وَعَنْ اسْتِبْطَاءِ الإِجَابَةِ وَكَرَاهَة السَّجَع فِی الدُّعَاءِ
اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 5612
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5612]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6338، ومسلم: 2678، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11203»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6338
حدیث نمبر: 5613
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ الْعَبْدُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَسْتَعْجِلُ قَالَ يَقُولُ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ خیر و بھلائی کے ساتھ رہتا ہے، جبکہ تک جلدی نہ کرے۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ جلدی کیسے کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے اپنے ربّ سے دعا کی، لیکن اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5613]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 2865، والطبراني في الاوسط: 2518، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13008 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13039»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 5614
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يُعَجِّلْ فَيَقُولَ قَدْ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے، جب تک وہ جلدی نہ کرے، جلدی کرنے کی صورت یہ ہے کہ وہ یہ کہنا شروع کر دے کہ میں نے اپنے ربّ سے دعا کی، لیکن اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5614]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6340، ومسلم: 2735، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9148 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9137»
وضاحت: فوائد: … بندے کا کام ہے کہ امید اور یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مانگتا رہے، یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ جلدی قبول کرے یا بدیر اور یہ بھی ممکن ہے کہ بندے کی اس التجاء کو پورا نہ کرے لیکن اس کے عوض اس کو کوئی اورخیر عطا کر دے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6340
حدیث نمبر: 5615
عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لِابْنِ أَبِي السَّائِبِ قَاصِّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ثَلَاثًا لَتُبَايِعَنِّي عَلَيْهِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّكَ فَقَالَ مَا هُنَّ بَلْ أَنَا أُبَايِعُكِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ اجْتَنِبِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً فَقَالَتْ إِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَاكَ وَقُصَّ عَلَى النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً فَإِنْ أَبَيْتَ فَثِنْتَيْنِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلَاثًا فَلَا تُمِلَّ النَّاسَ هَذَا الْكِتَابَ وَلَا أُلْفِيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِهِمْ فَتَقْطَعُ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ وَلَكِنِ اتْرُكْهُمْ فَإِذَا جَرَّءُوكَ عَلَيْهِ وَأَمَرُوكَ بِهِ فَحَدِّثْهُمْ
۔ امام شعبی سے مروی ہے، سیدہ عائشہ نے اہل مدینہ کے واعظ ابن ابی سائب سے کہا: تین چیزوںکو یاد رکھ، تو ان پر ضرور ضرور میری بیعت کرے گا، یا میں تجھ سے جھگڑوں گی، اس نے کہا: اے ام المؤمنین! وہ کون سی چیزیں ہیں، میں بالکل آپ کی بیعت کروں گا، سیدہ نے کہا: (۱) دعا میں قافیہ بندی سے اجتناب کر، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام ایسا نہیں کرتے تھے۔ اسماعیل راوی کے الفاظ یہ ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کو ایسا کرتے ہوئے نہیں پایا، (۲) ہفتہ میں ایک بار لوگوں کو وعظ کرو، اگر تم انکار کرو تو دو بار کر دو، اگر تم یہ بات بھی نہ مانو تو تین بار کر دو، لیکن لوگوں کو اس کتاب سے اکتا نہ دینا، اور (۳) میں تجھے اس طرح کرتے ہوئے نہ پاؤں کہ تو کچھ لوگوں کے پاس جائے، جبکہ وہ اپنی گفتگو میں مصروف ہوں اور تو ان کی بات کو کاٹ دے، بلکہ تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دے، ہاں اگر وہ تجھ سے مطالبہ کریں اور تجھے حکم دیں تو تب ان سے گفتگو کر۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5615]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26340»
وضاحت: فوائد: … دعا کے سلسلے میں قافیہ بندی سے اجتناب کرنا چاہیے، وگرنہ توجہ بٹ جائے گی اور خشوع و خضوع میں فرق آ جائے گا۔ لیکن بعض احادیث میں اس قسم کے ہم وزن جملے ملتے ہیں، جیسے: اَللّٰہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ، سَرِیْعَ الحِسَابِ، اِھْزِمِ الْأَحْزَابِ اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہ، صَدَقَ وَعْدَہُ، وَ نَصَرَ عَبْدَہُ، وَ ھَزَمَ الأحْزَابَ وَحْدَہُ۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جملے اتفاقی طور پر ہم وزن ہو گئے ہیں، ان کے لیے کوئی تکلف نہیں کیا گیا۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
38. باب كَرَاھَةِ الْاعْتِدَاءِ فِي الدُّعَاءِ
دعا میں زیادتی کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 5616
عَنْ أَبِي نَعَامَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ ابْنًا لَهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ مِنَ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا وَفِي لَفْظٍ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْفِرْدَوْسَ وَكنَا عَنْ يَمِينِي فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ وَالطُّهُورِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو یوں دعا کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے جنت میں سفید محل کا سوال کرتا ہوں، جب میں اس میں داخل ہوں تو وہ میری دائیں جانب ہو، ایک روایت میں ہے: میں تجھ سے فردوس کا اور ایسی ایسی چیز کا سوال کرتا ہوں، تو انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے! اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کر اور آگ سے پناہ مانگ، بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے، جو دعا اور طہارت کے معاملے میں زیادتی کریں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5616]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 96، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16924»
الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره
حدیث نمبر: 5617
عَنْ مَوْلًى لِسَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ ابْنًا لَهُ يَدْعُو وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَنَعِيمَهَا وَإِسْتَبْرَقَهَا وَنَحْوًا مِنْ هَذَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَسَلَاسِلِهَا وَأَغْلَالِهَا فَقَالَ لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ خَيْرًا كَثِيرًا وَتَعَوَّذْتَ بِاللَّهِ مِنْ شَرٍّ كَثِيرٍ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ وَإِنَّ حَسْبَكَ أَنْ تَقُولَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ
۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا، اس کی نعمتوں کا، اس کے موٹے ریشم کا اور اس کی فلاں فلاں چیز کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں، آگ سے، اس کی زنجیروں سے اور اس کے طوقوں سے، انھوں نے اس سے کہا: تو نے اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ خیر کا سوال کیا ہے اور بہت زیادہ شرّ سے پناہ مانگی ہے جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: عنقریب ایسے لوگ آئیںگے، جو دعا میں زیادتی کریں گے۔ پھر انھوں نے اس آیت کی تلاوت کی: {اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِینَ} اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو، بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ (الاعراف: ۵۵) اور اپنے بیٹے سے کہا: تجھے یہ چیز کافی ہے کہ تو کہے: اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور اس قول اور عمل کا، جو مجھے اس کے قریب کر دے اور میں جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اس قول یا عمل سے بھی، جو جہنم کے قریب کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5617]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه بنحوه ابوداود:1480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1483»
وضاحت: فوائد: … دعا میں زیادتی کی ایک مثال تو ان احادیث میں بیان کر دی گئی ہے، مزید مثالیں یہ ہیں: ناجائز چیز
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
39. بَاب مَا جَاءَ فِي أَوْقَاتٍ يُسْتَجَابُ فِيهَا الدُّعَاءُ
ان اوقات کا بیان، جن میں دعا قبول ہوتی ہے
حدیث نمبر: 5618
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَلِذَلِكَ كَانُوا يُفَضِّلُونَ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ عَلَى صَلَاةِ أَوَّلِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور کہتا ہے: کون مجھے پکارے گا کہ میں اس کی پکار کا جواب دوں، کون مجھ سے سوال کرے گا کہ میں اس کو عطا کروں، کون مجھ سے بخشش طلب کرے گا کہ میں اس کو بخش دوں، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ اسی لیے لوگ ابتدائے رات کی بجائے آخر ِ رات کی نماز کو ترجیح دیتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5618]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 659، ومسلم: 758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7592 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7582»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 659
حدیث نمبر: 5619
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَفِيهِ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَرْزِقُنِي فَأَرْزُقَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَكْشِفُ الضُّرَّ فَأَكْشِفَهُ عَنْهُ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: کون مجھ سے رزق طلب کرے گا کہ میں اس کو رزق عطا کروں، کون مجھ سے تکلیف کے دور کرنے کا مطالبہ کرے گا کہ میں اس کی تکلیف کو دور کر دوں، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ ‘ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5619]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7500»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7500
حدیث نمبر: 5620
عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَضَى نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثَاهُ يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي أَحَدًا غَيْرِي مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ
۔ سیدنا رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نصف یا دو تہائی رات گزر جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے اور کہتا ہے: میں اپنے بندوں کے متعلق اپنے علاوہ کسی سے سوال نہیں کرتا، (کیونکہ مجھے اپنے بندوں کے مکمل حالات معلوم ہیں) کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے، تاکہ میں اس کو بخش دوں، کون ہے جو مجھے پکارے، تاکہ میں اس کی پکار کا جواب دوں، کون ہے جو مجھ سے سوال کرے، تاکہ میں اس کو عطاء کروں، یہاں تک کہ فجر پھوٹ پڑتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5620]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطيالسي: 1291، والدارمي: 1/ 348، والبزار: 3543، والطبراني في الكبير: 4559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16215 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16316»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 5621
عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ
۔ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے اور کہتا ہے: کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ میں اس کو عطاء کروں، کیا کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5621]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الدارمي: 1/ 347، والنسائي في الكبري: 10321، والبزار: 3153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16866»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں اللہ تعالیٰ کی جتنی صفات بیان کی گئی ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی صفات ہیں، جیسے اس کی شان کو لائق ہیں اور یہ مخلوق کی صفات کی طرح نہیں ہیں۔ یہ کیسا وقت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر آ کر اپنے بندوں کو آواز دیتے رہیں، لیکن آگے سے لبیک کہنے والا کوئی نہ ہو، جتنا یہ وقت عظیم اور قیمتی تھا، اتنا ہی لوگوں نے غفلت اور سستی کا مظاہرہ کیاہے، عصر حاضر میں تو بزرگ اور عمر رسیدہ لوگ بھی تہجد جیسے شرف سے محروم ہو گئے ہیں، باقیوں کو تو اس کا شعور ہی نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم