🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابُ الرُّحْصَةِ فِي الْعَرَایَا وَالنَّهْي عَنِ الْإِسْتِثْنَاءِ فِي البیع إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعْلُومًا
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5848
عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُشْتَرَى بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا
۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک کھجوروں کے عو ض فروخت کرنے سے منع کیا، البتہ بیع عرایا کی رخصت دی ہے اوراس کی صورت یہ ہے کہ انداز ے سے پھل خرید لیا جائے، اس کے مالک تازہ کھجوریں کھا لیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5848]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2384، ومسلم: 1540، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17394»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2384
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5849
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُؤْخَذَ وَفِي لَفْظٍ أَنْ تُبَاعَ بِمِثْلِ خَرْصِهَا تَمْرًا وَفِي لَفْظٍ بِمِثْلِ خَرْصِهَا كَيْلًا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع عریہ کی رخصت دی ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ اندازے سے ماپ شدہ کھجوروں کے عوض (درختوں پر لگی ہوئی تازہ کھجوریں خرید لینا)، یہ لوگ (مالک) تازہ کھجوریں کھا لیں گے، (ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ)اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی رخصت نہیں دی۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5849]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2380، ومسلم: 1539، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21995»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2380
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5850
عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ قَالَ وَالْعَرِيَّةُ النَّخْلَةُ وَالنَّخْلَتَانِ يَشْتَرِيهِمَا الرَّجُلُ بِخَرْصِهِمَا مِنَ التَّمْرِ فَيَضْمَنُهُمَا فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ
۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (درخت پر لگے) پھل کو خشک کھجوروں کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، البتہ بیع عریہ میں اجازت دی ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی اندازے سے خشک کھجوروں کے عوض کھجور کے ایک دو درخت خریدتا ہے، پھر وہ ان درختوں کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کرلیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں رخصت دی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5850]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1540، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23091 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23479»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1540
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5851
عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ الثَّمَرُ بِالتَّمْرِ إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ
۔ بنو حارثہ کے غلام بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزابنہ سے منع کیا ہے، اس بیع میں (درخت پر لگے) پھل کو خشک کھجوروں کے عوض فروخت کیا جاتا ہے، اس سلسلہ میں عرایا والوں کو اجازت دی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5851]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2384، ومسلم: 1540، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17394»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2384
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5852
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَذِنَ لِأَصْحَابِ الْعَرَايَا أَنْ يَبِيعُوهَا بِخَرْصِهَا يَقُولُ الْوَسْقَ وَالْوَسْقَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرایاوالوں کو ایک سے چار وسق تک اجازت دی ہے کہ وہ اتنی مقدار تک اندازے سے بیچ سکتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5852]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن حبان: 5008، وابويعلي: 1781، وابن خزيمة: 2469، والحاكم: 1/ 417، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14868 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14929»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن حبان: 5008
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5853
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا فِي خَمْسَةِ أَوْسَقٍ أَوْ فِيمَا دُونَ خَمْسَةٍ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرایا میں رخصت دی ہے، اس میں پانچ وسق تک یا اس سے کم مقدار تک اندازے سے کے ساتھ پھل بیچا جا سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5853]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2190، 2382، ومسلم: 1541، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7235»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں بیع عرایا کے جواز کا بیان ہے، پچھلے باب میں بیان کیے گئے اصولوں کے مطابق تو یہ سودا بھی مزابنہ کی ایک صورت ہے، جس سے منع کیا گیا ہے، لیکن شریعت ِ مطہرہ نے لوگوں کی آسانی کے لیے کچھ شرطوں کے ساتھ بیع عرایاکی رخصت دی ہے، اس کی درج ذیل صورتیں ہیں:
(۱) مالک، مسکین کو کھجوروں کے کچھ درختوں کا پھل ہبہ کر دیتا، لیکن جب وہ دیکھتا کہ مسکین انتظار نہیں کر سکتا ہے تو وہ اس مسکین سے ان درختوں پر لگی کھجوریں خشک کھجوروںکے عوض خرید لیتا۔
(۲) کچھ لوگوں کے پاس خشک کھجوریں موجود ہیں، لیکن وہ تازہ کھجوریں کھانا چاہتے ہیں، اس لیے وہ خشک کھجوروں کے عوض میں باغ کے مالکوں سے درختوں پر لگی ہوئی تازہ کھجوریں خرید لیتے ہیں۔
(۳) کھجوروں کا مالک ایک دو کھجوروں کا پھل کسی شخص کو ہبہ کر دیتا ہے، پھر وہ اس شخص کے آنے کو اچھا نہیں سمجھتا یا اس سے تکلیف محسوس کرتا ہے، پس وہ اس شخص کو خشک کھجوریں دے کر اس سے ہبہ کی کھجوریں خرید لیتا ہے۔
بیع عرایا کی شرطیںیہ ہیں کہ اس بیع کا تعلق اہل خانہ کے کھانے سے ہو، نہ کہ آگے تجارت کرنے سے، نیز اس سودے میں کھجوروں کی مقدار پانچ وسق یا اس سے کم ہو، بہتر یہ ہے کہ اس سودے کی مقدار کو پانچ وسق سے کم رکھا جائے۔پانچ وسق کی مقدار پندرہ من اورتیس کلو گرام ہے، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں، پس پانچ اوساق میں تین سو صاع ہوگئے اور ایک صاع کا وزن تقریبا دو کلو سو گرام ہوتا ہے۔ اس باب میں بیع ثُنْیا کا ذکر نہیں کیا گیا، ویسے پچھلے باب میں اس بیع کی وضاحت کی جا چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2190
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. باب
باب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: Q5854]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. أَبْوَابُ بَيْعِ الْأُصُولِ وَالثِّمَارِ
درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5854
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنْ بَاعَ نَخْلًا مُؤَبَّرًا فَالثَّمَرَةُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے غلام فروخت کیا اور اس کے پاس مال موجود ہوتو وہ فروخت کرنے والے کا ہی ہوگا، الا یہ کہ خریدار سودا کرتے وقت اس کی شر ط لگا لے اور جس نے پیوند لگائے ہوئے کھجوروں کے درخت بیچے تو ان کا پھل بیچنے والے کا ہی ہو گا، الا یہ کہ خریدنے والا شرط لگا لے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5854]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2379، ومسلم: 1543، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4552»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2379
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ مَنْ بَاعَ نَخْلًا مُؤَبَّرًا
پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5855
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ ثَمَرَ النَّخْلِ لِمَنْ أَبَّرَهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَقَضَى أَنَّ مَالَ الْمَمْلُوكِ لِمَنْ بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ کھجو ر کا پھل اسی کا ہو گا، جس نے پیوند کاری کی ہو گی، الا یہ کہ خریدنے والا شرط لگا لے، اسی طرح غلا م کا مال فروخت کرنے والے کے لیے ہی ہو گا، الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت اس کی شر ط لگالے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5855]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد۔ أخرجه ابن ماجه: 2213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»

الحكم على الحديث:
صحيح بالشواھد۔ أخرجه ابن ماجه: 2213
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ بُدُو صَلَاحِهَا
پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5856
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَاعُ الثَّمَرُ حَتَّى يُطْعَمَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھلوں کو اس وقت تک فروخت نہ کیا جائے، جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5856]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن حبان: 4988، والبيھقي: 5/ 302، والدارقطني: 3/ 14، والحاكم: 2/ 37، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2247 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2247»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن حبان: 4988
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں