الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ النَّهْي عَنْ تَلَقَّى الرُّكْبَانِ وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادِ
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5887
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ فَالطَّعَامُ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِرَأْيِهِ وَلَا أَحْسَبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا مِثْلَهُ
۔ (دوسری سند)سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: وہ چیزجوقبضہ میں لینے سے پہلے فروخت کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمائی ہے، وہ اناج ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ ہر چیز کا حکم اناج کی مانند ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5887]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1928»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث میں بیع کے اس اصول پر زور دیا گیا ہے کہ خریدار خریدی ہوئی چیز کو اپنے قبضے میں لے اور اس کو اس مکان سے منتقل کرے، جہاں سودا ہوا ہے، احادیث نمبر (۵۸۸۱، ۵۸۸۶) میں اس اصول کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ سودی تجارت ہے، کیونکہ اگر ایک آدمی (۱۰۰) درہم کے ساتھ گندم کا ایک ڈھیر خریدتا ہے اور پھر اسی مقام پر اس کو (۱۲۰) درہم میں فروخت کر دیتا ہے، تو گویا اس نے (۱۰۰) درہم کے عوض (۱۲۰) درہم بٹور لیے ہیں۔ ان احکام پر عمل کرنا اس وقت ممکن ہو گا، جب تاجروں کا مقصد صرف یہ نہ ہو کہ حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر زیادہ سے زیادہ زر جمع کیا جائے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1928
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5888
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا عُثْمَانُ إِذَا اشْتَرَيْتَ فَاكْتَلْ وَإِذَا بِعْتَ فَكِلْ
۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عثمان!جب کچھ خریدو تو اسے ماپ لو اور جب کچھ فروخت کرو تو اسے بھی ماپا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5888]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2230، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 560»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ Vعَنْ بَیْعِ الطَّعَامِ حَتّٰییَجْرِیَ فِیْہِ الصَّاعَانِ، صَاعُ الْبَائِعِ وَصَاعُ الْمُشْتَرِیْ۔ … ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلے کی بیع سے منع فرمایا ہے، حتی کہ اس میں دو صاع جاری ہو جائیں، ایکفروخت کنندہ کا صاع اور دوسرا خریدار کا صاع۔“ (ابن ماجہ: ۲۲۲۸)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خرید و فروخت کے وقت چیزوں کو ماپنا چاہیےیا ان کا وزن کرنا چاہیے، درج ذیل دونوں احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی عمل بیان کیا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم پر عمل کرنے سے برکت ہو گی اور سوئے ظن کا امکان بھی ختم ہو جائے گا۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خرید و فروخت کے وقت چیزوں کو ماپنا چاہیےیا ان کا وزن کرنا چاہیے، درج ذیل دونوں احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی عمل بیان کیا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم پر عمل کرنے سے برکت ہو گی اور سوئے ظن کا امکان بھی ختم ہو جائے گا۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2230
حدیث نمبر: 5889
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَةُ الْعَبْدِيُّ ثِيَابًا مِنْ هَجَرَ قَالَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا فِي سَرَاوِيلَ وَعِنْدَنَا وَزَّانُونَ يَزِنُونَ بِالْأُجْرَةِ فَقَالَ لِلْوَزَّانِ زِنْ وَأَرْجِحْ
۔ سیدنا سوید بن قیس کہتے ہیں، میں اور مخرمہ عبدی ہجر کے علاقہ سے کپڑا لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے شلوار کا سودا کیا، جبکہ ہمارے پاس اجرت پر وزن کرنے والے لوگ بھی موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک وزن کرنے والے سے فرمایا: وزن کر۔ اور جھکا کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5889]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3336، ابن ماجه: 2220، 3579، والترمذي: 1305، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19098 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19308»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3336
حدیث نمبر: 5890
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ بِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ سَرَاوِيلَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ فَأَرْجَحَ لِي
۔ سیدنا ابوصفوان مالک بن عمیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ہجرت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شلوراخریدی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا وزن کرتے ہوئے میرے لیے پلڑے کو جھکایا۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5890]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 3337، وابن ماجه: 2221، والنسائي: 7/ 284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19099 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19309»
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 3337
حدیث نمبر: 5891
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ
۔ سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے اناج کو ماپا کرو، اس سے تمہارے لیے اس میں برکت ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5891]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2128، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23904»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل سے، اناج کی مقدار کے معلوم ہو جانے سے، ماپ تول کے وقت بسم اللہ پڑھنے سے اور خاص طور پر مدینہ کا مُدّ اور صاع استعمال ہونے سے اناج میں برکت ہو گی۔
لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا درج ذیل عمل اس حدیث ِ مبارکہ کا معارِض ہے:
سیدہ کہتی ہیں: تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَا فِی بَیْتِی مِنْ شَیْء ٍ یَأْکُلُہُ ذُو کَبِدٍ، إِلَّا شَطْرُ شَعِیرٍ فِی رَفٍّ لِی، فَأَکَلْتُ مِنْہُ حَتّٰی طَالَ عَلَیَّ، فَکِلْتُہُ فَفَنِیَ۔ … جب رسول اللہ Vفوت ہوئے تو میرے گھر میں جاندار کے کھانے کے لیے کوئی چیز نہیں تھی، ما سوائے جوؤں کی کچھ مقدار کے، جو میرے طاق میں پڑے تھے، میں ان سے کھاتی رہی،یہاں تک کہ کافی عرصہ بیت گیا، جب میں نے ان کو ماپا تو وہ ختم ہو گئے۔ (صحیح بخاری: ۳۰۹۷)
حافظ ابن حجر نے ان دو احادیث میں جمع تطبیق کی درج ذیل صورت نکالی ہے:
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ کی حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ غلہ خریدتے وقت اس کو ماپا جائے اور اس ماپ کی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کو قرار دیا جائے، جب اس حکم کی تعمیل نہیں ہو گی تو نافرمانی کی وجہ سے غلے میں بے برکتی پیدا ہو جائے گی۔ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے عمل کا تعلق اس چیز سے ہے کہ ان کے ماپ کا دارومدار پرکھنے پر تھا، اس لیے بیچ میں نقص آ گیا تھا۔ دونوں احادیث کا ماحصل یہ ہے کہ برکت کا تعلق صرف ماپنے سے نہیں ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے ہے، اسی طرح ماپ کی وجہ سے اس وقت برکت ختم ہو جاتی ہے، جب ماپ کا مقصود حدیث کی معارضت اور اس کو پرکھنا ہو۔ (فتح الباری: ۴/ ۳۴۶)
علامہ سندھیl نے دونوں احادیث کو یوں جمع کیا ہے کہ آدمی گھر میں اناج ڈالتے وقت اس کو نہ ماپے، لیکن جب کھانے کے لیے وہاں سے نکالے تو اس کو ماپے۔
لیکن جو بات ہمیں راجح سمجھ آتی ہے کہ جب آدمی گھر میں اناج لائے تو اس کا ماپ کر کے لائے اور خرید کر لانے کی صورت میں بھی اس کو ماپنا تو پڑے گا، لیکن جب کھانے کے لیے وہاں سے نکالے تو بغیر ماپ کے نکالتا رہے، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی اپنے تھیلے میں ڈالی ہوئی کھجوروں کو ایسے ہی کھاتے تھے۔
لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا درج ذیل عمل اس حدیث ِ مبارکہ کا معارِض ہے:
سیدہ کہتی ہیں: تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَا فِی بَیْتِی مِنْ شَیْء ٍ یَأْکُلُہُ ذُو کَبِدٍ، إِلَّا شَطْرُ شَعِیرٍ فِی رَفٍّ لِی، فَأَکَلْتُ مِنْہُ حَتّٰی طَالَ عَلَیَّ، فَکِلْتُہُ فَفَنِیَ۔ … جب رسول اللہ Vفوت ہوئے تو میرے گھر میں جاندار کے کھانے کے لیے کوئی چیز نہیں تھی، ما سوائے جوؤں کی کچھ مقدار کے، جو میرے طاق میں پڑے تھے، میں ان سے کھاتی رہی،یہاں تک کہ کافی عرصہ بیت گیا، جب میں نے ان کو ماپا تو وہ ختم ہو گئے۔ (صحیح بخاری: ۳۰۹۷)
حافظ ابن حجر نے ان دو احادیث میں جمع تطبیق کی درج ذیل صورت نکالی ہے:
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ کی حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ غلہ خریدتے وقت اس کو ماپا جائے اور اس ماپ کی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کو قرار دیا جائے، جب اس حکم کی تعمیل نہیں ہو گی تو نافرمانی کی وجہ سے غلے میں بے برکتی پیدا ہو جائے گی۔ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے عمل کا تعلق اس چیز سے ہے کہ ان کے ماپ کا دارومدار پرکھنے پر تھا، اس لیے بیچ میں نقص آ گیا تھا۔ دونوں احادیث کا ماحصل یہ ہے کہ برکت کا تعلق صرف ماپنے سے نہیں ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے ہے، اسی طرح ماپ کی وجہ سے اس وقت برکت ختم ہو جاتی ہے، جب ماپ کا مقصود حدیث کی معارضت اور اس کو پرکھنا ہو۔ (فتح الباری: ۴/ ۳۴۶)
علامہ سندھیl نے دونوں احادیث کو یوں جمع کیا ہے کہ آدمی گھر میں اناج ڈالتے وقت اس کو نہ ماپے، لیکن جب کھانے کے لیے وہاں سے نکالے تو اس کو ماپے۔
لیکن جو بات ہمیں راجح سمجھ آتی ہے کہ جب آدمی گھر میں اناج لائے تو اس کا ماپ کر کے لائے اور خرید کر لانے کی صورت میں بھی اس کو ماپنا تو پڑے گا، لیکن جب کھانے کے لیے وہاں سے نکالے تو بغیر ماپ کے نکالتا رہے، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی اپنے تھیلے میں ڈالی ہوئی کھجوروں کو ایسے ہی کھاتے تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2128
حدیث نمبر: 5892
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5892]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2232، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23906»
وضاحت: فوائد: … اس کا متن بھی بالکل مذکورہ بالا ہی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2232
حدیث نمبر: 5893
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ أَوْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مالِ تجارت لانے والے قافلوں کو راستے میں ملنے سے اور شہری کادیہاتی کیلئے خریدو فروخت کرنے سے منع فرمایاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5893]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 2165، ومسلم: 1517، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5010»
الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه البخاري: 2165
حدیث نمبر: 5894
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ تَلَقِّي السِّلَعِ حَتَّى تُهْبَطَ بِهَا وَفِي لَفْظٍ حَتَّى تَدْخُلَ الْأَسْوَاقَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےراستے میں ہی سامان والوں سے ملنے سے منع فرمایا ہے، ہاں جب وہ سامان بازاروں میں پہنچ جائے (تو پھر تجارت کرنا ٹھیک ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5894]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5304»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5304
حدیث نمبر: 5895
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ عَلَيْهِمْ إِذَا ابْتَاعُوا مِنَ الرُّكْبَانِ الْأَطْعِمَةَ مَنْ يَمْنَعُهُمْ أَنْ يَتَبَايَعُوهَا حَتَّى يُؤْوُوهَا إِلَى رِحَالِهِمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب لوگ قافلوں سے اناج خریدتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خریداروں کے پاس (اپنے نمائندے) بھیجتے جو ان کو اس چیز سے منع کرتے تھے کہ وہ اس مال کو اس وقت تک آگے فروخت نہ کریں، جب تک اس کو اپنے ٹھکانوں میں نہ لے جائیں۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5895]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2131، 2137، 6852، ومسلم: 1527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6191 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6191»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2131
حدیث نمبر: 5896
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَسُمِ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ وَلَا يَبِيعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ وَلَا تَشْتَرِطُ امْرَأَةٌ طَلَاقَ أُخْتِهَا
۔ سیدنا ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ شہر ی، دیہاتی کا مال فروخت کرے، لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دو،اللہ تعالی بعض کو بعض کے ذریعے روزی دیتا ہے اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلا ق کا مطالبہ نہ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5896]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2727، ومسلم: 1515، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10657»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2727