الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَفَضْلِ الْمَاءِ وَعَسْبٍ الْفَّحْل
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5818
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ بَيْعُ الْمُغَنِّيَاتِ وَلَا شِرَاؤُهُنَّ وَلَا تِجَارَةٌ فِيهِنَّ وَأَكْلُ أَثْمَانِهِنَّ حَرَامٌ
۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گانے والیوں کی خرید و فروخت، ان کی کمائی اور ان کی تجارت اور ان کی قیمت حرام ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5818]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، عبيد الله بن زحر الافريقي وعلي بن يزيد بن ابي ھلال الالھاني ضعيفان۔ أخرجه الترمذي: 1282، وابن ماجه: 2168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22522»
وضاحت: فوائد: … جب کسی لونڈی کو لونڈی کی حیثیت سے نہیں، بلکہ گانے والی کی حیثیت سے فروخت کیا جائے تو اس کی قیمت ناجائز ہو گی، اس تجارت کا انحصار نیت پر ہو گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 5819
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَمَنُ الْحَرِيسَةِ حَرَامٌ وَأَكْلُهَا حَرَامٌ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چوری شدہ بکری کی قیمت اور اس کو کھانا حرام ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5819]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يحيي بن يزيد وابيه ولجھالة بشر بن ابي صالح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8388»
وضاحت: فوائد: … اس بکری کو ”حَرِیْسَۃ“ کہتے ہیں، جو ابھی تک اپنے باڑے تک نہ پہنچ پائے کہ اس کو رات پا لے اور ”اِحْتِرَاس“ کے معنی چراگاہ سے چوری کرنے کے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف يحيي بن يزيد وابيه ولجھالة بشر بن ابي صالح
16. بَابُ النَّهْيِ عَنْ بُيُوعِ الْغَرِدِ
وَلاء اور زائد پانی کو فروخت کرنے اور سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 5820
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَهِبَتِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ولاء کو فروخت کرنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5820]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2535، ومسلم: 1506، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5496 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5496»
وضاحت: فوائد: … ولائ، نسب کی طرح کا ایک حق ہے، اس لیے جیسے نسب کو فروخت یا ہبہ نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح ولاء کی خرید و فروخت بھی نہیں کی جا سکتی۔
وَلاء: یہ ایک تعلق ہے جو کسی غلام یا لونڈی کو آزاد کرنے سے اس کا اس کے مالک کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آزاد کنندہ یا اس کے عصبہ بنفسہ آزاد شدہ کے وارث بنتے ہیں۔
وَلاء: یہ ایک تعلق ہے جو کسی غلام یا لونڈی کو آزاد کرنے سے اس کا اس کے مالک کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آزاد کنندہ یا اس کے عصبہ بنفسہ آزاد شدہ کے وارث بنتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2535
حدیث نمبر: 5821
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَبِيعُوا فَضْلَ الْمَاءِ وَلَا تَمْنَعُوا الْكَلَأَ فَيَهْزُلَ الْمَالُ وَيَجُوعَ الْعِيَالُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ زائد پانی فروخت کرو اور نہ گھاس کو ممنوع قرار دو، وگرنہ مویشی کمزور ہو جائیں اور اہل و عیال بھوک میں مبتلا ہو جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5821]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: ’’فيھزل المال“۔ أخرجه ابن حبان: 4956، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9439»
وضاحت: فوائد: … ”فَیَہْزُلَ الْمَالُ“ سے مراد یہ ہے کہ مویشی کمزور پڑجائیں اور اس طرح ان کا دودھ کم پڑ جائے گا، جس کے نتیجے میں لوگ بھوک میں مبتلا ہو جائیں گے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: ’’فيھزل المال ‘‘۔ أخرجه ابن حبان: 4956
حدیث نمبر: 5822
عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا فَضْلَ الْمَاءِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ وَالنَّاسُ يَبِيعُونَ مَاءَ الْفُرَاتِ
۔ سیدنا ایاس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ضرورت سے زائد پانی فروخت نہ کیا کرو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، لوگ تو دریائے فرات کا پانی فروخت کرنے لگ گئے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5822]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين غير ان صحابيه لم يرو له الا اصحاب السنن۔ أخرجه ابوداود: 3478، والترمذي: 1271، والنسائي: 7/ 307، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15444 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15523»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ سیدنا ایاس رضی اللہ عنہ نے ایسی صورت دیکھی ہو کہ لوگ بغیر اجرت اور مشقت کے فرات سے پانی بھرکر لاتے ہوں، پھر ضرورت سے زائد پانی کو فروخت کرتے ہوں، پھر انھوں نے ان لوگوں کو اس طرح کرنے سے یہ حدیث بیان کی ہو۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين غير ان صحابيه لم يرو له الا اصحاب السنن۔ أخرجه ابوداود: 3478
حدیث نمبر: 5823
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِيمَا أَحْسِبُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5823]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1565، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14842 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14903»
وضاحت: فوائد: … ایک مہاجر صحابی رسول کہتے ہیں: کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین غزوات میں شریک ہوا اور آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((اَلْمُسْلِمُوْنَ شُرَکَائُ فِیْ ثَلَاثٍ: فِی الْمَائِ وَالْکَلَأِ وَالنَّارِ۔)) (ابوداود: ۳۴۷۷، ابن ماجہ: ۲۴۷۲) … ”مسلمان تین چیزوںپانی، آگ اور گھاس میں شریک ہیں۔“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ثَلَاثٌ لَا یُمْنَعْنَ: اَلْمَائُ وَالْکَلَأُ وَالنَّارُ۔)) (ابن ماجہ: ۲۴۷۳) … ”تین چیزوں کو (دوسروں سے) نہیں روکا جا سکتا: پانی، گھاس اور آگ۔“
محمد بن اسماعیل صنعانی نے زائد پانی کی بیع کی نہی پر بحث کرتے ہوئے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت سے زائد پانی کو فروخت کرنا منع ہے، علمائے کرام کہتے ہیں: اس کی صورت یہ ہے کہ غیر مملوکہ زمین میں پانی کا چشمہ
پھوٹ پڑتا ہے، جس آدمی کی زمین اس چشمے کے قریب تر ہو گی، وہ اس کے پانی کا سب سے زیادہ مستحق ہو گا، لیکن جب اس کی زمین سیراب ہو جائے گی تو اسے کوئی حق حاصل نہیں ہو گا کہ وہ اس پانی کو دوسروں سے روک سکے۔ اسی طرح اگر کوئی آدمی اپنی مملوکہ زمین میں کوئی گڑھا یا کنواں وغیرہ کھود کر پانی جمع کرتا ہے، ایسی صورت میں بھی جب وہ اپنے لیے، مویشیوں کے لیے اور زمین کے لیے پانی استعمال کر لیتا ہے، اور پانی پھر بھی بچ جاتا ہے، تو وہ اسے نہیں روک سکتا۔ (سبل السلام: ۳/ ۲۵)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ثَلَاثٌ لَا یُمْنَعْنَ: اَلْمَائُ وَالْکَلَأُ وَالنَّارُ۔)) (ابن ماجہ: ۲۴۷۳) … ”تین چیزوں کو (دوسروں سے) نہیں روکا جا سکتا: پانی، گھاس اور آگ۔“
محمد بن اسماعیل صنعانی نے زائد پانی کی بیع کی نہی پر بحث کرتے ہوئے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت سے زائد پانی کو فروخت کرنا منع ہے، علمائے کرام کہتے ہیں: اس کی صورت یہ ہے کہ غیر مملوکہ زمین میں پانی کا چشمہ
پھوٹ پڑتا ہے، جس آدمی کی زمین اس چشمے کے قریب تر ہو گی، وہ اس کے پانی کا سب سے زیادہ مستحق ہو گا، لیکن جب اس کی زمین سیراب ہو جائے گی تو اسے کوئی حق حاصل نہیں ہو گا کہ وہ اس پانی کو دوسروں سے روک سکے۔ اسی طرح اگر کوئی آدمی اپنی مملوکہ زمین میں کوئی گڑھا یا کنواں وغیرہ کھود کر پانی جمع کرتا ہے، ایسی صورت میں بھی جب وہ اپنے لیے، مویشیوں کے لیے اور زمین کے لیے پانی استعمال کر لیتا ہے، اور پانی پھر بھی بچ جاتا ہے، تو وہ اسے نہیں روک سکتا۔ (سبل السلام: ۳/ ۲۵)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1565
حدیث نمبر: 5824
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ عَسْبِ الْفَحْلِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سانڈ کی جفتی کی اجرت لینے سے منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5824]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4630»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2284
حدیث نمبر: 5825
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ فِحْلَةَ فَرَسِهِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدمی کو نر گھوڑے کی جفتی کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5825]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 3592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12505»
وضاحت: فوائد: … آخری د و احادیث سے معلوم ہوا کہ سانڈ کا مالک اس کی جفتی کی قیمت وصول نہیں کر سکتا۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو کلاب کے ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈ کی جفتی کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس سے منع کر دیا، اس نے کہا: جب ہم جفتی کے لیے سانڈ دیتے ہیں تو ہمیں بطورِ عزت و کرامت کوئی چیز دے دی جاتی ہے، فَرَخَّصَ لَہُ فِیْ الْکَرَامَۃِ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کرامت کی رخصت دے دی۔ (ترمذی: ۱۲۷۴، نسائی: ۷/ ۳۱۰)
یعنی وہ عطیہ جو بغیر کسی شرط کے سانڈ کے مالک کو عزت و توقیر کے طور پر پیش کیا جائے، وہ مالک کے لیے لینا جائز ہے۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھی معاملہ نیت کا ہے، سانڈ کے مالک کی نیت کمائی کی نہیں ہونی چاہیے، اس کا مقصد احسان ہو، اگر کوئی آدمی کم یا زیادہ قیمت پر مشتمل کوئی چیز بطورِ کرامت و توقیر دیتا ہے تو مالک قبول کر لے اور اگر وہ کچھ نہ دے تو مالک کو ناراض ہونے کییا اجرت کا سوال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی اور ہمیشہ مالک کو اجرت اور کرامہ میں فرق کرنا پڑے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کے بہانے کمائی شروع کر دے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو کلاب کے ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈ کی جفتی کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس سے منع کر دیا، اس نے کہا: جب ہم جفتی کے لیے سانڈ دیتے ہیں تو ہمیں بطورِ عزت و کرامت کوئی چیز دے دی جاتی ہے، فَرَخَّصَ لَہُ فِیْ الْکَرَامَۃِ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کرامت کی رخصت دے دی۔ (ترمذی: ۱۲۷۴، نسائی: ۷/ ۳۱۰)
یعنی وہ عطیہ جو بغیر کسی شرط کے سانڈ کے مالک کو عزت و توقیر کے طور پر پیش کیا جائے، وہ مالک کے لیے لینا جائز ہے۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھی معاملہ نیت کا ہے، سانڈ کے مالک کی نیت کمائی کی نہیں ہونی چاہیے، اس کا مقصد احسان ہو، اگر کوئی آدمی کم یا زیادہ قیمت پر مشتمل کوئی چیز بطورِ کرامت و توقیر دیتا ہے تو مالک قبول کر لے اور اگر وہ کچھ نہ دے تو مالک کو ناراض ہونے کییا اجرت کا سوال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی اور ہمیشہ مالک کو اجرت اور کرامہ میں فرق کرنا پڑے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کے بہانے کمائی شروع کر دے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 3592
17. بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَۃِ .
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5826
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمل کے حمل کی تجارت سے منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5826]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري2256، 3843، ومسلم: 1514، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5510»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري2256
حدیث نمبر: 5827
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَبِيعُونَ لَحْمَ الْجَزُورِ بِحَبْلِ حَبَلَةٍ وَحَبْلُ حَبَلَةٍ تُنْتَجُ النَّاقَةُ مَا فِي بَطْنِهَا ثُمَّ تَحْمِلُ الَّتِي تُنْتَجُهَا فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ جاہلیت والے لوگ اونٹ کا گوشت حمل کے حمل کے عوض فروخت کر دیتے تھے، اور حمل کے حمل کی تجارت کی وضاحت یہ ہے کہ ایک اونٹنی اپنے پیٹ والے بچے کو جنم دے، پھر وہ پیدا ہونے والی حاملہ ہو کر جس بچی یا بچے کو جنم دے گی، (اس کے ساتھ اس گوشت کو فروخت کرتے تھے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اس سے منع کردیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5827]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4640»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4640