الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَۃِ .
دھوکے والی چیزوں کی تجارت سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5828
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَقَالَ إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَبْتَاعُونَ ذَلِكَ الْبَيْعَ يَبْتَاعُ الرَّجُلُ بِالشَّارِفِ حَبْلَ الْحَبَلَةِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھو کہ والی تجارت سے منع کیاہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یہ دورِ جاہلیت میں لوگوں کا طریقۂ تجارت تھا، اس کی صورت یہ تھی کہ آدمی حمل کے حمل کے عو ض اونٹنی فروخت کرتے تھے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5828]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6437»
وضاحت: فوائد: … حَبْلَ الْحَبْلَۃِ (حمل کا حمل): اس کی تین مشہور تفسیریں ہیں: (۱)آدمی کا اس شرط پر اونٹنی خریدنا کہ اس کی قیمت اس وقت دے گا، جب اونٹنی بچہ جنے گی، پھر وہ بچہ جو اونٹنی کے پیٹ میں ہے وہ آگے ایک بچہ جنے گا۔ (۲) مادہ کے پیٹ میں پرورش پانے والا بچہ پیدائش کے بعد جوان ہو کر جو بچہ جنے گا اس کی بیع کرنا۔ (۳) اس قیمت پر جانور دینا کہ یہ جو بچہ جنے گا، اس کا بچہ اس کو دینا ہو گا۔
ان تینوں تعریفات کے مطابق اس میں دھوکہ ہے اور معدوم و مجہول شے کی بیع ہے۔
ان تینوں تعریفات کے مطابق اس میں دھوکہ ہے اور معدوم و مجہول شے کی بیع ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6437
حدیث نمبر: 5829
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ قَالَ أَيُّوبُ وَفَسَّرَ يَحْيَى بَيْعَ الْغَرَرِ قَالَ إِنَّ مِنَ الْغَرَرِ ضَرْبَةَ الْغَائِصِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ الْعَبْدُ الْآبِقُ وَبَيْعُ الْبَعِيرِ الشَّارِدِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ تُرَابُ الْمَعَادِنِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي ضُرُوعِ الْأَنْعَامِ إِلَّا بِكَيْلٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھوکہ والی تجارت سے منع فرما دیاہے۔ ایوب کہتے ہیں کہ یحیی بن ابی کثیر نے دھوکے والی تجارت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: غوطہ خور کی بیع دھوکے کا سودا ہے، بھاگے ہوئے غلام کی بیع دھوکہ ہے، بھا گے ہوئے اونٹ کے سودے میں دھوکہ دہی ہے، چوپائیوں کے پیٹوں میں جوبچے ہیں، ان کی سودا بازی دھوکہ ہے، کانوں کی مٹی کا سودا دھوکے کا سودا ہے اور چوپائیوں کے تھنوں یعنی ان کے دودھ کا سودا بھی دھوکے پر مشتمل ہے، مگر ماپ کے ساتھ۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5829]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره- أخرجه ابن ماجه: 2195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2752»
وضاحت: فوائد: … غوطہ خور کی بیع سے مراد یہ ہے کہ غوطہ خور کسی آدمی سے کہے: میں اس غوطے میں جو کچھ باہر لاؤں گا، وہ اتنی قیمت میں تیرا ہو گا، وہ مچھلی بھی ہو سکتی ہے اور کوئی موتی وغیرہ بھی۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره- أخرجه ابن ماجه: 2195
حدیث نمبر: 5830
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ وَعَنْ بَيْعِ مَا فِي ضُرُوعِهَا إِلَّا بِكَيْلٍ وَعَنْ شِرَاءِ الْعَبْدِ وَهُوَ آبِقٌ وَعَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَاتِ حَتَّى تُقْبَضَ وَعَنْ ضَرْبَةِ الْغَائِصِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوپائیوں کے حملوں کو جنم لینے سے قبل خریدنے سے، ماپ کے بغیر تھنوں میں موجود دودھ کو خریدنے سے، بھاگے ہوئے غلام کو خریدنے سے، تقسیم سے پہلے غنیمتوں کو خریدنے سے، قبضے میں لینے سے پہلے صدقات کو خریدنے سے اور غوطہ خور کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5830]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا لجھالة محمد بن ابراهيم، ومحمدِ بن زيد العبدي، ولضعف شھر بن حوشب، وجھضمُ اليمامي ثقة الا ان حديثه منكر فيما روي عن المجھولين، وھذا منھا- أخرجه الترمذي: 1563، وابن ماجه: 2196، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11397»
وضاحت: فوائد: … درج بالا دونوں احادیث میں بیان کی گئی بیع کی اقسام میں دھوکہ پایا جاتا ہے، معلوم نہیں کہ بھاگا ہوا غلام یا اونٹ کیسا ہے اور وہ پکڑا بھی جائے گا یا نہیں، اسی طرح حاملہ جانوروں کے پیٹوں میں کیا ہے، وہ مذکر ہے یا مؤنث، اسی طرح تام الخلقت ہے یا ناقص الخلقت، علی ہذا القیاس۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا لجھالة محمد بن ابراهيم
حدیث نمبر: 5831
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّينَ وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَعَنْ بَيْعِ التَّمْرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لاچار وں کی تجارت، دھوکہ کی تجارت اور پکنے سے پہلے کھجوروں کے سودے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5831]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف ابي عامر المزني وجھالة الشيخ من بني تميم- أخرجه ابوداود: 3382، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 937»
وضاحت: فوائد: … لاچاروں کی تجارت کی دو صورتیں ہیں: (۱)بندے کو کوئی چیز خریدنےیا بیچنے پر مجبور کر دیا جائے، یہ بیع فاسد ہو گی اور منعقد نہیں ہو گی۔ (۲) بندے کو کسی قرضے یا کفالت کی وجہ سے بیع کرنا پڑے، مثلا قرض خواہ اپنے قرض دار سے کہے کہ تو نے مجھے جو قرضہ دیناہے، اس کے عوض مجھے فلاں چیز بیچ دے، اس صورت میں قرض خواہ کی مرضی چلے گی اور قرض دار کو خسارہ اٹھانا پڑے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5832
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْتَرُوا السَّمَكَ فِي الْمَاءِ فَإِنَّهُ غَرَرٌ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ سے رویت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانی میں موجو د مچھلیوں کا سودا نہ کرو، کیو نکہ اس میں دھوکہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5832]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، وقد روي مرفوعا وموقوفا، والموقوف اصح، يزيد بن ابي زياد الھاشمي الكوفي ضعيف، والمسيب بن رافع لم يسمع من ابن مسعود، ومحمد بن سماك واعظ مشهور مختلف فيه- أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 10491، والبيھقي: 5/ 340، وابن ابي شيبة: 6/ 575، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3676 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3676»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5833
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَصَى وَبَيْعِ الْغَرَرِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنکریوں والی تجارت او ردھوکے والے سودے سے منع فرمایاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5833]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1513، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7411 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7405»
وضاحت: فوائد: … کنکری کی بیع کی کئی صورتیں ہیں: (۱)فروخت کنندہ، خریدار سے کہے: جب میں کنکری پھینکو ں گا تو تجارت طے ہوجائے گی۔ (۲) خریدار کہے: میں کنکری پھینکوں گا، وہ جس کپڑے کو لگ جائے گی، وہ اتنی قیمت میں میرا ہو جائے گا۔ (۳) اسی طرح ہر وہ سودا جہالت کی وجہ سے اسی قسم میں شامل ہو گا، جس کی بنیاد کنکری پر ہو گی، مثلا زمین کے سودے میں فروخت کنندہ یا خریدار میں سے کوئی ایک کہتا ہے کہ وہ کنکری پھینکے گا، وہ جہاں تک پہنچے گی، اتنی زمین کا سودا اتنے میں ہو جائے گا، علی ہذا القیاس۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1513
18. بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ
ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5834
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُلَامَسَةُ يُمَسُّ الثَّوْبُ وَفِي لَفْظٍ لَمْسُ الثَّوْبِ لَا يُنْظَرُ إِلَيْهِ وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ وَهُوَ طَرْحُ الرَّجُلِ الثَّوْبَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ إِلَى الرَّجُلِ بِالْبَيْعِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ وَيَنْظُرَ إِلَيْهِ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع ملامسہ سے منع فرمایا اور ملامسہ یہ ہے کہ کپڑے کو صرف چھوا جائے اور اس کو (چیک کرنے کے لیے) دیکھا نہ جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع منابذہ سے بھی منع فرمایا ہے اور منابذہ یہ ہے کہ ایک آدمی سودا کر کے کپڑے کو دوسرے کی طرف پھینک دے، قبل اس کے کہ وہ اس کو الٹ پلٹ کرے یا ا س کو دیکھے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5834]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6284، ومسلم: 1512، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11899 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11921»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6284
حدیث نمبر: 5835
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ فَذَكَرَ الشَّطْرَ الْأَوَّلَ مِنَ الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ وَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُنَابَذَةُ وَالْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ إِذَا نَبَذْتُ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَالْمُلَامَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ وَلَا يُقَلِّبُهُ إِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے (یہ بھی) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو قسم کے لباسوں اور دو قسم کی تجارتوں سے منع فرمایا ہے، (لباسوں کا ذکر دوسرے مقام پر کیاگیا ہے) دو تجارتیں یہ ہیں، ایک منابذہ اور دوسری ملامسہ، منابذہ یہ ہے کہ آدمی کہے: جب میں یہ کپڑا تیری طرف پھینک دوں گا تو سودا پکا ہو جائے گا اور ملامسہ یہ ہے کہ آدمی کپڑے کو چھوتا ہے، نہ وہ اس کو پہن کر چیک کرتا ہے اور نہ الٹ پلٹ کر کے، بس جب چھوتا ہے تو سودا پکا ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5835]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11926»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11926
حدیث نمبر: 5836
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ وَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُلَامَسَةُ أَلْقِ إِلَى وَأَلْقِ إِلَيْكَ وَإِلْقَاءُ الْحَجَرِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے: رہا مسئلہ دو تجارتوں کا تو ایک ملامسہ ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو کہتے ہیں: تو میری طرف ڈال دے اور میں تیری طرف ڈال دیتا ہوں اور دوسری تجارت پتھر کا ڈالنا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5836]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 5476، وأخرجه مقطعا مسلم: 1511، 1545، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8949 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8936»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں ملامسہ، منابذہ اور پتھر ڈالنے کی بیع کا ذکر ہے، مؤخر الذکر سے مراد کنکری کے ذریعے کیا جانے والا سودا ہے، جس کا ذکر پچھلے باب میں ہو چکا ہے۔ ملامسہ کی بنیاد چھونے پر اور منابذہ کی بنیاد پھینکنے پر ہے، دونوں دھوکے اور غرر پر مشتمل ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 5476
19. بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَافَلَةِ وَعَنْ بَيْعِ كُلَّ رَطْب بِيَابِسِهِ
مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5837
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَهُوَ اشْتِرَاءُ الزَّرْعِ وَهُوَ فِي سُنْبُلِهِ بِالْحِنْطَةِ وَنَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَهُوَ شِرَاءُ الثِّمَارِ بِالتَّمْرِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ اور مزانبہ سے منع فرمایاہے، محاقلہ یہ ہے کہ کھیتی کی بالیوں میں لگا اناج گندم کے عوض فروخت کیا جائے اور مزانبہ یہ ہے کہ ایک درخت پر لگے ہوئے پھل کی کھجوروں کے عوض بیع کر دی جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5837]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البيھقي: 5/ 308، وأخرجه مقطعا مسلم: 1511، 1545، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9088 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9077»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں محاقلہ اور مزابنہ کی ممانعت کا بیان ہے، احادیث میں ہی دونوں کی تعریفات کر دی گئی ہیں، مزید وضاحت درج ذیل ہے:
محاقلہ: … بالیوں میں کھڑی کھیتی کو غلے کے عوض فروخت کر دینا، جیسے گندم کے عوض گندم کا کھیت فروخت کر دینا۔
مزابنہ: … درختوں پر لگے ہوئے پھل کو اسی کی جنس سے اتارے ہوئے خشک پھل کے عوض فروخت کر دینا، کھجوروں کے عوض درخت پر لگی ہوئی کھجوریں فروخت کر دینا۔
بیع کی ان دونوں اقسام کی حرمت کا سبب یہ ہے کہ دونوں کی صحیح مقدار کا علم نہیں ہو سکتا، حالانکہ جب ایک ہی جنس کی آپس میں خرید و فروخت کی جا رہی ہو تو ان کا ہم وزن ہونا شرط ہے۔ جیسا کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلذَّھَبُ بِالذَّھَبِ، وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِیْرُ بِالشَّعِیْرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مِثْلاً بِمِثْلٍ، سَوَائً بِسَوَائٍ، یَدًا بِیَدٍ، فَاِذَا اخْتَلَفَ ھٰذِہِ الْاَجْنَاسُ فَبِیْعُوْا کَیْفَ شِئْتُمْ اِذَا کَانَ یَدًا بِیَدٍ۔)) (مسلم: ۱۵۸۷) … ”(خرید و فروخت کے وقت) سونے کے عوض سونا، چاندی کے عوض چاندی، گندم کے بدلے گندم، جو کے عوض جو، کھجور کے عوض کھجور اور نمک کے بدلے نمک برابر برابر اور نقد و نقد ہونے چاہیے۔ ہاں جب جنسیں مختلف ہو جائیں تو جیسے چاہو، خریدو فروخت کر سکتے ہو، بشرطیکہ نقد و نقد ہوں۔“
ذہن نشین رہے کہ جب کوئی کھیتییا باغ پک جائے تو نقدی کے عوض اس کو خریدنا درست ہے۔ سود کی دو قسمیں ہیں، رباالفضل اور ربا النسیئہ، درج بالا ممنوعہ صورتوں میں ربا الفضل کا قوی شبہ ہے، کیونکہ بالکل برابر مقدار کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، سود کی ان اقسام کی وضاحت آگے آئے گی، ان شاء اللہ تعالی
محاقلہ: … بالیوں میں کھڑی کھیتی کو غلے کے عوض فروخت کر دینا، جیسے گندم کے عوض گندم کا کھیت فروخت کر دینا۔
مزابنہ: … درختوں پر لگے ہوئے پھل کو اسی کی جنس سے اتارے ہوئے خشک پھل کے عوض فروخت کر دینا، کھجوروں کے عوض درخت پر لگی ہوئی کھجوریں فروخت کر دینا۔
بیع کی ان دونوں اقسام کی حرمت کا سبب یہ ہے کہ دونوں کی صحیح مقدار کا علم نہیں ہو سکتا، حالانکہ جب ایک ہی جنس کی آپس میں خرید و فروخت کی جا رہی ہو تو ان کا ہم وزن ہونا شرط ہے۔ جیسا کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلذَّھَبُ بِالذَّھَبِ، وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِیْرُ بِالشَّعِیْرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مِثْلاً بِمِثْلٍ، سَوَائً بِسَوَائٍ، یَدًا بِیَدٍ، فَاِذَا اخْتَلَفَ ھٰذِہِ الْاَجْنَاسُ فَبِیْعُوْا کَیْفَ شِئْتُمْ اِذَا کَانَ یَدًا بِیَدٍ۔)) (مسلم: ۱۵۸۷) … ”(خرید و فروخت کے وقت) سونے کے عوض سونا، چاندی کے عوض چاندی، گندم کے بدلے گندم، جو کے عوض جو، کھجور کے عوض کھجور اور نمک کے بدلے نمک برابر برابر اور نقد و نقد ہونے چاہیے۔ ہاں جب جنسیں مختلف ہو جائیں تو جیسے چاہو، خریدو فروخت کر سکتے ہو، بشرطیکہ نقد و نقد ہوں۔“
ذہن نشین رہے کہ جب کوئی کھیتییا باغ پک جائے تو نقدی کے عوض اس کو خریدنا درست ہے۔ سود کی دو قسمیں ہیں، رباالفضل اور ربا النسیئہ، درج بالا ممنوعہ صورتوں میں ربا الفضل کا قوی شبہ ہے، کیونکہ بالکل برابر مقدار کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، سود کی ان اقسام کی وضاحت آگے آئے گی، ان شاء اللہ تعالی
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البيھقي: 5/ 308