🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ بُدُو صَلَاحِهَا
پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5867
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَزْهُوَ وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پختہ ہونے سے قبل پھل کو، کالا ہونے سے پہلے انگور کو اور سخت ہونے سے پہلے اناج کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5867]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلنم۔ أخرجه ابوداود: 3371، وابن ماجه: 2217، والترمذي: 1228، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13613 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13648»
وضاحت: فوائد: … مذکورہ بالا تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ درختوں اور پودوں پر لگا ہوا پھل پکنے سے پہلے فروخت نہیں کیا جا سکتا، ہر پھل کے پکنے کی علامت اس کے ساتھ خاص ہے۔ کوئی بھی پھل یا فصل پکنے سے پہلے مختلف ادوار اور کیفیات سے گزرتی ہیں، بیچ میں ایسی کیفیتیں بھی آ جاتی ہیں کہ ان میں معمولی بارش ہو جانا اور ہوا کا چل جانا بہت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، جبکہ بعض کیفیتوں میں بارش اور ہوا کا چلنا انتہائی ضروری ہوتا ہے، لیکن جب فصل پک کر تیار ہو جائے تو پھر عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ گرمییا سردی، معتدل مقدار کے ساتھ بارش اور ہواؤں کا چل پڑنا یا رک جانا، اس سے فصل متاثر نہیں ہوتی، ہاں شاذ و نادر ایسے بھی ہوتا ہے کہ فصل پک جانے کے باوجود کسی بڑی آفت کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو جاتی ہے، ایسے میں کیا کرنا چاہیے، اس کی وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔ بہرحال زمیندار لوگوں کو متنبہ رہنا چاہیے اور کوئی فصل پکنے سے پہلے فروخت نہیں کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلنم۔ أخرجه ابوداود: 3371
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ مَا جَاءَ فِي الخَرْضِ وَبَيْعِ السِّينِ وَوَضْعِ الْجَوَائِحِ
پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5868
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ الْخَرْصِ وَقَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ هَلَكَ الثَّمَرُ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ مَالَ أَخِيهِ بِالْبَاطِلِ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اندازے سے منع کرتے ہوئے سنا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا بتاؤ کہ اگر پھل تباہ ہو جاتا ہے تو کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ باطل طریقے سے اپنے بھائی کا مال کھائے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5868]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله ’’ينھي عن الخرص‘‘ فقد تفرد به ابن لھيعة وھو سييء الحفظ، وقد ثبت خلافه عن النبيV، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15310»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله ’’ينھي عن الخرص‘‘ فقد تفرد به ابن لھيعة وھو سييء الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5869
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَوَضَعَ الْجَوَائِحَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی سالوں کے لئے تجارت کرنے سے منع کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوائح کو معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5869]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرج شطره الاول مسلم: 2874، شطره الثاني: 1554، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14371»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَوْ بِعْتَ مِنْ اَخِیْکَ ثَمَرًا فَاَصَابَہٗجَائِحَۃٌ فَـلَا یَحِلُّ لَکَ اَنْ تَاْخُذَ مِنْہُ شَیْئًا، بِمْ تَأْخُذُ مِنْہُ شَیْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ اَخِیْکَ بِغَیْرِ حَقٍّ۔)) (صحیح مسلم) … ”اگر تو اپنے بھائی کو پھل فروخت کرتا ہے اور اس پر کوئی آفت آ جاتی ہے تو تیرے لیے حلال نہیں ہے کہ تو اس میں سے کچھ قیمت بھی وصول کرے، بھلا تو کس چیز کے عوض میں اس سے کچھ لے گے، تو بغیر حق کے اپنے بھائی کا مال کیسے لے گا؟“ جوائح سے مراد وہ آسمانی آفات ہیں جن کے باعث کل یا بعض پھل ضائع ہو جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت میں پھل اور فصل کے مالک کو حکم دیا ہے کہ وہ خریدار کو قیمت واپس کر دے۔ یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے، لیکن عام طور پر زمیندار لوگ اس کا کوئی لحاظ نہیں کرتے اور وہ ایسے نقصان کی صورت میں سارے کا سارا بوجھ خریدار پر ڈال دیتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرج شطره الاول مسلم: 2874
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5870
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ النَّخْلُ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو تین سالوں تک کھجوروں کا پھل بیچ دینے سے منع فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5870]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 7/ 294، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14424»
وضاحت: فوائد: … ایک ہی عقد میں ایک سال سے زیادہ مدت کے لیے کھجوروں کی ان کے درختوں پر بیع کرنا ”بیع معاومہ“ کہلاتا ہے، اوپر والی سالوں کی بیع سے یہی سودا مراد ہے، اس بیع میں دھوکہ ہے، کیونکہ کوئی علم نہیں کہ کتنا پھل لگے گا اور اس کی نوعیت کیا ہو گی، نیز وہ آخر تک برقرار بھی رہے گا یا نہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 7/ 294
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْعِينَةِ وَبَيعَتَيْنِ فِي بَيعَةِ وَبَيْعِ العربُونَ
بیع عینہ، ایک سودے میں دو سودوں اور بیع عربون سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5871
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَئِنْ تَرَكْتُمُ الْجِهَادَ وَأَخَذْتُمْ بِأَذْنَابِ الْبَقَرِ وَتَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ لَيُلْزِمَنَّكُمُ اللَّهُ مَذَلَّةً فِي رِقَابِكُمْ لَا تَنْفَكُّ عَنْكُمْ حَتَّى تَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ وَتَرْجِعُوا عَلَى مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے جہاد چھوڑ دیا، گائیوں کی دمیں پکڑ لیں اور بیع عینہ کرنے لگ گئے تو اللہ تعالی تمہاری گردنوں میں ایسی ذلت ڈالے گا کہ وہ تم سے اس وقت تک جدا نہیں ہو گی، جب تک تم اللہ تعالی کی طرف اور اس دین کی طرف رجوع نہیں کرو گے، جس کے تم پابند تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5871]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه ابوداود: 3462، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5007»
وضاحت: فوائد: … بیع عینہیہ ہے کہ بیچنے والا ایک چیز ادھار پر فروخت کر کے خریدنے والے کے سپرد کر دے، پھر اسی سے وہی چیز کم قیمت نقد پر خرید لے۔ جیسے اویس نے ذیشان کو پانچ سو روپے ادھار کے عوض ایک بیگ فروخت کیا، پھر وہی بیگ اس سے چار سو روپے نقد کے عوض خرید لیا۔ اس بیع کا پس منظر یہ ہے کہ ذیشان کو کچھ رقم کی ضرورت تھی، جو وہ اویس سے براہ راست رقم کے طور پر نہیں لے سکتا تھا اور اویس سود کے بغیر دینے پر راضی نہیں تھا، لیکن وہ براہِ راست سود بھی نہیں لے سکتا تھا، اس لیے اس نے ”بیع عِینہ“ والا باطل حیلہ استعمال کیا اور چار سو کے عوض پانچ سو بٹور لیے۔ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ ذلت کا مسلّط ہونا صرف کھیتی باڑی کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ دوسری احادیث میں مسلمانوں کو کھیتی باڑی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے اور اسے سب سے بہترین ذریعۂ معاش قرار دیا گیا ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے جو آدمی کھیتی باڑی کا ہی ہو کر رہ جائے اور اس کی وجہ سے دنیا پرست بنتے ہوئے جہاد جیسی عظیم عبادتوں سے غفلت برتنے لگ جائے، تو وہ ذلیل ہو جائے گا۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5872
حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَأَبُو النَّضْرِ وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ قَالَ أَسْوَدُ قَالَ شَرِيكٌ قَالَ سِمَاكٌ الرَّجُلُ يَبِيعُ الْبَيْعَ فَيَقُولُ هُوَ بِنَسَاءٍ بِكَذَا وَكَذَا وَهُوَ بِنَقْدٍ بِكَذَا وَكَذَا
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سودے میں دو سودے کرنے سے منع فرمایا ہے۔ سماک نے کہا: اس کی صورت یہ ہے کہ بیچنے والا آدمی کہے: یہ چیز ادھار اتنے کی ہے اور نقد اتنے کی۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5872]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2277، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3783 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3783»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2277
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5873
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ وَعَنْ بَيْعٍ وَسَلَفٍ وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ وَعَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیعیں کرنے سے، بیع اور ادھار کرنے سے،آدمی جس چیز کا ضامن نہ ہو، اس کے نفع سے اور جو چیز ملکیت میں نہ ہو، اس کی بیع کرنے سے منع فرمایاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5873]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه النسائي: 7/ 295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6628»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ چاروں اصطلاحات کا مفہوم:
(بَیْعتَیْنِ فِیْ بَیْعٍ: ایک بیع میں دو بیعوں) سے منع کیا گیا ہے، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور سیدنا عبد اللہ بن عمر e سے مروی ہیں۔ اس حدیث کے راویوں نے اس اصطلاح کی وہی تعریف کی ہے جو (شَرْطَیْنِ فِیْ
، … ایک سودے میں دو شرطیں)کی کی گئی ہے۔ جیسے سیدنا عبد اللہ بن مسعود کی حدیث میں سماک بن حرب نے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں عبد الوھاب بن عطا نے کہا: (بَیْعتَیْنِ فِیْ بَیْع: ایک بیع میں دو بیعیں)کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی آدمی کہے: میں تجھے یہ چیزفروخت کروں گا، ایک ماہ کے بعد ادائیگی کی صورت میں قیمت اتنی ہو گی اور دو مہینوں کی صورت میں اتنی۔ (اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے کہ یہ جائز ہے یا ناجائز۔)
(بَیْعٌ وَ سَلَفٌ، … ایک ہی معاملہ میں بیع بھی اور قرض بھی): ابن اثیر نے اس کا معنی بیان کرتے ہوئے کہا: اس کا مفہوم یہ ہے جیسے کوئی آدمی کہے: میں تجھے یہ غلام ایک ہزار کا فروخت کروں گا، بشرطیکہ تو مجھے فلاں سامان میں بیع سلم کرے یا ایک ہزار ادھار دے۔ ایسی صورت میں قرض دینے کا مقصد یہ ہو گا کہ قرضہ لینے والا اس کے بدلے قیمت میں نرمی برتے گا، جس کی حد نا معلوم ہو جاتی ہے اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ منفعت کا سبب بننے والا قرض سود ہوتا ہے۔
بیع سلم: قیمت پیشگی ادا کر کے مَبِیع (چیز) ایک معین مدت کے بعد وصول کی جائے۔
(وَرِبْحِ مَا لَمْ یُضْمَنْ): … ایسی چیز کا نفع جس کے نقصان کا آدمی ضامن نہیں بن سکتا): امام خطابی نے کہا: اس کی صورت یہ ہے کہ عرفان نے فاروق سے سامان خریدا اور قبضے میں لینے سے پہلے ابراہیم کو فروخت کر دیا۔ ایسی صورت میں اس مال کا ضامن پہلا بائع یعنی فاروق ہو گا۔ جب تک عرفان یہ سامان اپنے قبضے میں لے کر اس کا ضامن نہ بن جائے، اس وقت تک اس کو آگے فروخت کرنا منع ہے۔
(وَبَیْعِ مَا لَیْسَ عِنْدَکَْ، … ایسی چیز کی بیع جو تیرے پاس نہیں ہے): امام خطابی نے کہا: اس سے مراد بیع العین ہے، نہ کہ بیع الصفہ۔ آپ خود غور کریں کہ بیع سلم کو مدتوں تک جائز قرار دیا ہے، حالانکہ اس میں بیچنے والا ایسی چیز فروخت کر رہا ہوتا ہے جو معاہدے کے وقت اس کے پاس نہیں ہوتی،یہ بیع الصفہ ہے۔
ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا کہ جو چیز بائع کے پاس نہیں ہے، وہ اس کا سودا نہ کرے، اس کی وجہ دھوکہ اور غرر ہے، مثلا بھاگا ہوئے غلام یا آوارہ اور بھاگے ہوئے اونٹ کا سودا کرنا، یہ بیع العین ہے۔
اسی طرح یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ عمومی لحاظ سے اسی چیز کا سودا کرنا منع ہے، جو آدمی کے پاس نہ ہو، لیکن بیع سلم کی شکل جائز ہے، کیونکہ اس کے جواز کی صراحت موجود ہے، جیسے بیع مزابنہ سے بیع عرایا مستثنی ہے۔ (عبد اللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه النسائي: 7/ 295
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابٌ فِيمَنْ بَاعَ سِلْعَةٌ مِنْ رَجُلٍ ثُمَّ مِنْ آخَرَ وَ فِي النهي عن بيع مَا لَا يَمْلِكُهُ فَيَشْتَرِيهِ وَيُسْلِمُهُ
ایک سودے میں دوسودوں کا مفہوم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5874
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع عُربان سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5874]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الثقة الذي رواه عنه مالك۔ أخرجه ابوداود: 3502، وابن ماجه: 2192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6723 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6723»
وضاحت: فوائد: … بیع عربون (بیانے کی بیع): بیع عربون یہ ہے کہ خریدار بائع کو بیع سے پہلے کچھ رقم اس شرط پر دے دے کہ اگر اس نے سودا چھوڑ دیا تو وہ رقم بائع کی ہو جائے گی، اس سے خریدار کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بائع پابند رہے اور اس چیز کو کسی اور کے ہاتھوں فروخت نہ کرے۔ اس بیع کے جواز اور عدم جواز، دونوں سے متعلقہ روایات ضعیف ہیں، اس لیے جب اس سے ممانعت کی معتبر دلیل نہیں ہو گی تو اس کو اصل پر محمول کرتے ہوئے جائز قرار دیا جائے گا۔
بیع عربان کے جواز کو تسلیم کیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ سودا چھوڑنے کی صورت میں، بائع بیانے کی رقم کیوں اور کس کے عوض ضبط کر رہا ہے؟ جب اس کا عوض کوئی نہیں تو کسی کا مال کسی چیز کے عوض کے بغیر لینا جائز نہیں۔
(عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الثقة الذي رواه عنه مالك۔ أخرجه ابوداود: 3502
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ نَهي الْمُشْتَرِي عَنْ بَيْعَ مَا اشْتَرَاهُ قَبْلَ قَبْضَةٍ¤ بَابُ الأمْرِ بِالْكَيْلِ وَالْوَزْنِ وَالنَّهْي عَنْ بَيْعِ الطَعَامِ حَتَّى يَجْرِيَ فِيهِ الصَّاعَانِ
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5875
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَنْكَحَ الْوَلِيَّانِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا وَإِذَا بَاعَ الرَّجُلُ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دو ولی ایک عورت کا نکاح کردیں تو ان میں سے پہلے کا نکاح معتبر ہو گا اور جب ایک آدمی کوئی چیز دو آدمیوں کو فروخت کر دے تو وہ پہلے خریدار کی ہی ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5875]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لم يسمع الحسن من عقبة بن عامر شيئا۔ أخرجه ابوداود: 2088، وابن ماجه: 2344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17482»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5876
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو ولی جس عورت کا نکاح کر دیں تو وہ عورت پہلے کے نکاح کے مطابق ہو گی اور جو شخص ایک چیز دو آدمیوں کو فروخت کر دے تو وہ پہلے خریدار کی ہی ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5876]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحسن البصري لم يصرح بسماعه۔ أخرجه ابوداود: 2088، والترمذي: 1110، وابن ماجه: 2190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20085 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20345»
وضاحت: فوائد: … جب ایک آدمی ایک چیز ایک شخص کو فروخت کر دیتا ہے تو وہ اس کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور اس کا اختیار ختم ہو جاتا ہے، اس لیے جب وہ آدمی وہی چیز دوسرے آدمی کو فروخت کرے گا تو اس کا یہ سودا باطل اور بے اثر قرار پائے گا اور وہ چیز اسی شخص کی ہو گی، جس کو پہلے سودے میں فروخت کی گئی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں