الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
ماپ اور وزن کرنے کے حکم اور دو صاع چلائے بغیر اناج کی بیع کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5897
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَبِيعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شہری، دیہاتی کے لئے بیع نہ کرے، لوگو ں کو ان کے حال پر چھوڑ دو، اللہ تعالی بعض کو بعض کے ذریعے رزق دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5897]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1522، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14392»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1522
حدیث نمبر: 5898
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ
۔ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے کہ شہری، دیہاتی کے لئے تجارت کرے، یہ ایک طویل حدیث ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5898]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3441، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1404»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3441
حدیث نمبر: 5899
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُتَلَقَّى الْأَجْلَابُ حَتَّى تَبْلُغَ الْأَسْوَاقَ أَوْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس امر سے منع کیا ہے کہ مالِ تجارت لانے والوں کو بازاروں میں پہنچنے سے پہلے ملا جائے اور یہ کہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5899]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 6929، 6930، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20119 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20380»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 6929
حدیث نمبر: 5900
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الْجَلَبُ فَإِنِ ابْتَاعَ مُبْتَاعٌ فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ بِالْخِيَارِ إِذَا وَرَدَتِ السُّوقَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال تجارت لانے والے قافلوں کو ملنے سے منع کیا، اگر کوئی آدمی اُن سے سامان خرید لیتا ہے تو جب اس سامان کو بازار میں لایا جائے، اس کے مالک کو واپس لینے کا اختیار ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5900]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1519، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9225»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1519
حدیث نمبر: 5901
عَنْ طَاوُوسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لَا يَكُونُ سِمْسَارًا
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ قافلوں کو (آگے جا کر) ملا جائے اور یہ کہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت کرے۔ طاؤس کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا اس کا مفہوم کیا ہے کہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت نہ کرے؟ انھوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کا دلّال نہ بنے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5901]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2158، 2274، ومسلم: 1521، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3482»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں دو امور کا ذکر ہے: سامان تجارت لانے والے قافلوں کو منڈی اور مارکیٹ میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر نہ ملا جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ خریدار بھاؤ کے بارے میں کوئی غلط بیانی کر کے سستے داموں ان سے سامان خرید لے، یہ دھوکہ دہی اور ضرر رسانی ہو گی۔ اگر کوئی آدمی کسی قافلے سے سامان خرید لیتا ہے تو جب مالک مارکیٹ میں پہنچیں گے، ان کو خریدار سے اپنا سامان واپس لے لینے کا اختیار ہو گا۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت نہ کرے، اس موضوع پر دلالت کرنے والی کئی احادیث موجود ہیں۔ جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نُھِیْنَا اَنْ یَّبِیْعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَاِنْ کَانَ أَخَاہُ لِأَبِیْہِ وَأُمِّہِ … ”ہمیں منع کیا گیا کہ کوئی شہری دیہاتی کا سامان فروخت کرے، اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہو۔“ (بخاری: ۲۱۶۱، مسلم: ۱۵۲۳، واللفظ لہ)
اس معاملے میں شہری عوام اور دیہاتی تاجر دونوں کا تحفظ مقصود ہے، بسا اوقات ایسے ہوتا ہے کہ شہری لوگ دیہاتی تاجروں سے سستے داموں مال خرید لیتے ہیں، جس کا نقصان دیہاتیوں کو ہوتا ہے اور شہری دلالوں کی وجہ سے شہری عوام کو وہ سودا مہنگا خریدنا پڑتا ہے۔ اگر حکومت یہ سہولت مہیا کرے کہ شہری عوام براہِ راست دیہاتی لوگوں سے ان کامال خرید سکے تو اس میں دونوں کا فائدہ ہو گا اور اس طریقے سے شاید مہنگائی کا عفریت بھی ماند پڑ جائے۔
قارئین کرام! پاکستان ایک زرعی ملک ہے، لیکن۲۰۰۸ ء اور ۲۰۰۹ ء میں گندم کی کٹائی کے چند دنوں کے بعد شہری عوام گندم کے بحران میں کیوں مبتلا ہو گئے؟ اگر شریعت کے تجارتی قوانین پر عمل کیا جاتا اور زمینداروں کو شہروں میں گندم پہنچانے کے لیے مراکز مہیا کر کے شہری لوگوں کو ان سے گندم خریدنے کا موقع فراہم کیا جاتا تو ذخیرہ اندوزوں کے چہرے خود بخود ماند پڑ جاتے اور عوام کو بھی مہنگائی کے عذاب سے نجات مل جاتی۔ اس معاملے میں قصور وار دلال، آڑھتی اور ذخیرہ اندوز لوگ ہیں،یہ لوگ نہ زمینداروں کو وقت پر ادائیگی کرتے ہیں اور نہ عوام کی ضرورت کے وقت مال کو مارکیٹ میں لاتے ہیں۔
قطعی طور پر شریعت کا ہدف یہ نہیں ہے کہ چند لوگوں کے منافع کی وجہ سے ساری عوام مہنگائی میں مبتلا ہو جائے، اس باب کی حدیث کی مخالفت کی وجہ سے چند دلّال اور ذخیرہ اندوز قسم کے لوگ اربوں روپیہ کما لیتے ہیں، لیکن عوام دو کلو آٹا اور ایک کلو چاول کو ترس رہے ہوتے ہیں۔ سچ فرمایا فلاحِ انسانیت کے خیرخواہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ((لَایَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوْا لنَّاسَ یَرْزُقِ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ مِنْ بَعْضٍ۔)) (مسلم: ۱۵۲۲) … ”کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے، لوگوں کو چھوڑ دو (اور ان کو آپس میں معاملات طے کرنے دو)، اللہ تعالی بعض کو بعض سے رزق دیتا ہے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے۔
شہریوں کی بہ نسبت زمینداروں کے دلوں میں وسعت زیادہ ہوتی ہے، وہ سبزی وغیرہ کی معمولی مقدار کے پیسے ہی وصول نہیں کرتے اور ان کے ہاں سبز دھنیا اور سبز مرچ جیسے ایٹموں کی سرے سے کوئی قیمت وصول ہی نہیں کی جاتی،اسی طرح دوسری سبزیاں بھی ان لوگو ں کے ہاں ارزاں قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں۔ لیکن دلالی اور آڑھتی نظام کی وجہ سے سبزی فروش کو یہ کہتے ہوئے سنا جاتا ہے کہ آج سبز دھنیا دس روپے سے کم نہیں ملے گا اور ایک کلو مولی پچاس روپے کی اور اور ایک کلو شلغم اسی (۸۰) روپے کے ملیں گے۔
زمیندار کو یہ شکوہ ہے کہ اس کی پیداوار کا ریٹ صحیح نہیں لگ رہا اور فصل پر کیے گئے اس کے اخراجات پورے ہی نہیں ہو رہے، جبکہ شہری عوام کو خورد و نوش کی اشیا کی کمی کا زبر دست سامنا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے؟ گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ اپنے عوام میں شرعی ماحول کو فروغ دے اور ملک کی تجارت کو شریعت کے مرتب کردہ تجارتی قوانین کے سانچے میں ڈھالے اور ذخیرہ اندوزوں کی زبردست حوصلہ شکنی کرے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت نہ کرے، اس موضوع پر دلالت کرنے والی کئی احادیث موجود ہیں۔ جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نُھِیْنَا اَنْ یَّبِیْعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَاِنْ کَانَ أَخَاہُ لِأَبِیْہِ وَأُمِّہِ … ”ہمیں منع کیا گیا کہ کوئی شہری دیہاتی کا سامان فروخت کرے، اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہو۔“ (بخاری: ۲۱۶۱، مسلم: ۱۵۲۳، واللفظ لہ)
اس معاملے میں شہری عوام اور دیہاتی تاجر دونوں کا تحفظ مقصود ہے، بسا اوقات ایسے ہوتا ہے کہ شہری لوگ دیہاتی تاجروں سے سستے داموں مال خرید لیتے ہیں، جس کا نقصان دیہاتیوں کو ہوتا ہے اور شہری دلالوں کی وجہ سے شہری عوام کو وہ سودا مہنگا خریدنا پڑتا ہے۔ اگر حکومت یہ سہولت مہیا کرے کہ شہری عوام براہِ راست دیہاتی لوگوں سے ان کامال خرید سکے تو اس میں دونوں کا فائدہ ہو گا اور اس طریقے سے شاید مہنگائی کا عفریت بھی ماند پڑ جائے۔
قارئین کرام! پاکستان ایک زرعی ملک ہے، لیکن۲۰۰۸ ء اور ۲۰۰۹ ء میں گندم کی کٹائی کے چند دنوں کے بعد شہری عوام گندم کے بحران میں کیوں مبتلا ہو گئے؟ اگر شریعت کے تجارتی قوانین پر عمل کیا جاتا اور زمینداروں کو شہروں میں گندم پہنچانے کے لیے مراکز مہیا کر کے شہری لوگوں کو ان سے گندم خریدنے کا موقع فراہم کیا جاتا تو ذخیرہ اندوزوں کے چہرے خود بخود ماند پڑ جاتے اور عوام کو بھی مہنگائی کے عذاب سے نجات مل جاتی۔ اس معاملے میں قصور وار دلال، آڑھتی اور ذخیرہ اندوز لوگ ہیں،یہ لوگ نہ زمینداروں کو وقت پر ادائیگی کرتے ہیں اور نہ عوام کی ضرورت کے وقت مال کو مارکیٹ میں لاتے ہیں۔
قطعی طور پر شریعت کا ہدف یہ نہیں ہے کہ چند لوگوں کے منافع کی وجہ سے ساری عوام مہنگائی میں مبتلا ہو جائے، اس باب کی حدیث کی مخالفت کی وجہ سے چند دلّال اور ذخیرہ اندوز قسم کے لوگ اربوں روپیہ کما لیتے ہیں، لیکن عوام دو کلو آٹا اور ایک کلو چاول کو ترس رہے ہوتے ہیں۔ سچ فرمایا فلاحِ انسانیت کے خیرخواہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ((لَایَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوْا لنَّاسَ یَرْزُقِ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ مِنْ بَعْضٍ۔)) (مسلم: ۱۵۲۲) … ”کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے، لوگوں کو چھوڑ دو (اور ان کو آپس میں معاملات طے کرنے دو)، اللہ تعالی بعض کو بعض سے رزق دیتا ہے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے۔
شہریوں کی بہ نسبت زمینداروں کے دلوں میں وسعت زیادہ ہوتی ہے، وہ سبزی وغیرہ کی معمولی مقدار کے پیسے ہی وصول نہیں کرتے اور ان کے ہاں سبز دھنیا اور سبز مرچ جیسے ایٹموں کی سرے سے کوئی قیمت وصول ہی نہیں کی جاتی،اسی طرح دوسری سبزیاں بھی ان لوگو ں کے ہاں ارزاں قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں۔ لیکن دلالی اور آڑھتی نظام کی وجہ سے سبزی فروش کو یہ کہتے ہوئے سنا جاتا ہے کہ آج سبز دھنیا دس روپے سے کم نہیں ملے گا اور ایک کلو مولی پچاس روپے کی اور اور ایک کلو شلغم اسی (۸۰) روپے کے ملیں گے۔
زمیندار کو یہ شکوہ ہے کہ اس کی پیداوار کا ریٹ صحیح نہیں لگ رہا اور فصل پر کیے گئے اس کے اخراجات پورے ہی نہیں ہو رہے، جبکہ شہری عوام کو خورد و نوش کی اشیا کی کمی کا زبر دست سامنا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے؟ گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ اپنے عوام میں شرعی ماحول کو فروغ دے اور ملک کی تجارت کو شریعت کے مرتب کردہ تجارتی قوانین کے سانچے میں ڈھالے اور ذخیرہ اندوزوں کی زبردست حوصلہ شکنی کرے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2158
31. بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ النَّجْشِ، وَعَنْ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيْهِ إِلَّا فِي الْمُزَايَدَةِ
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
حدیث نمبر: 5902
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ أَوْ يَتَنَاجَشُوا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت کرے یا لوگ بیع نجش کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5902]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2140، ومسلم: 1413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7248 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7247»
وضاحت: فوائد: … بیع نجش: ایسے شخص کا سودے کی قیمت میں اضافہ کرنا جو خود تو اسے خریدنا نہ چاہتا ہو، لیکن کسی اور کو اس میں پھنسانا چاہتا ہو۔ یہ محض ایک دھوکہ ہے۔ اس باب میں مذکورہ زیادہ تر قسمیں وضاحت کے ساتھ پہلے گزر چکی ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2140
حدیث نمبر: 5903
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبَايَعُوا بِالْحَصَاةِ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَايَعُوا بِالْمُلَامَسَةِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ تم لوگ کنکری کے ذریعے بیع کرو، نہ بیع نجش کرو اور نہ ملامسہ کی تجارت کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5903]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2140، ومسلم: 1413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9929»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2140
حدیث نمبر: 5904
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ اسْتِئْجَارِ الْأَجِيرِ حَتَّى يُبَيَّنَ أَجْرَهُ وَعَنِ النَّجْشِ وَاللَّمْسِ وَإِلْقَاءِ الْحَجَرِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدور سے اجرت طے کیے بغیر اسے مزدوری پر رکھنے سے، بیع نجش سے، بیع ملامسہ سے اور پتھر پھینک کرتجارت کرنے سے منع فرمایاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5904]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: ’’نھي عن استئجار الاجير حتييبين اجره‘‘ وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، ابراهيم بن يزيد النخعي لم يسمع من ابي سعيد۔ أخرجه ابودواد في ’’المراسيل‘‘: 181، وأخرجه موقوفا النسائي: 7/ 31، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11672»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: ’’نھي عن استئجار الاجير حتييبين اجره‘‘ وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 5905
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبِيعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے، الا کہ وہ اسے اجازت دے دے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5905]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5142، ومسلم: 1412، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4722»
وضاحت: فوائد: … کسی کی بیع پر بیع کرنا، اس کا مفہوم یہ ہے کہ فروخت کنندہ اور خریدار ایک سودا کر رہے ہوں، دونوں رضامند نظر آ رہے ہوں اور عقد کا معاملہ بالکل قریب پہنچ چکا ہو، اتنے میں تیسرا آدمی بیچ میں گھس جائے اور زیادہ قیمت لگا کر مالک کو اپنے طرف مائل کر لے۔ تیسرے آدمی کی اس کاروائی سے مسلمانوں میں دشمنی اور فساد بڑھے گا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع کر دیا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5142
حدیث نمبر: 5906
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ التُّجِيبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى مِنْبَرِ مِصْرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَهُ
۔ عبدالرحمن بن شماسہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مصر میں منبر پر کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی تجارت پر تجارت کرے، الا یہ کہ وہ اس کو چھوڑ دے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5906]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1414، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17327 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17460»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1414