الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ النَّجْشِ، وَعَنْ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيْهِ إِلَّا فِي الْمُزَايَدَةِ
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
حدیث نمبر: 5907
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ إِلَّا عَلَى الْغَنَائِمِ وَالْمَوَارِيثِ
۔ زید بن اسلم کہتے ہیں: میں نے سنا کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مُزَایَدہ کی تجارت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز سے منع فرمایا ہے کہ ایک آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے، ماسوائے غنیمت اور وراثت کے مالوں کے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5907]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة۔ أخرجه البيھقي: 5/ 344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5398 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5398»
وضاحت: فوائد: … ”مُزَایَدہ“ کا مفہوم یہ ہے کہ ایک آدمی ایک چیز کا ریٹ بتائے، پھر مالک دوسرے لوگوں سے پوچھے کہ اس سے زیادہ کون دے گا، کوئی دوسرا آدمییہ بات سن کر اس پہلے سے زیادہ قیمت لگا دے اور مالک اس کو فروخت کر دے، یہ بات تیسرے چوتھے آدمی تک بھی جا سکتی ہے۔ یہ جائز صورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا سودا کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة۔ أخرجه البيھقي: 5/ 344
حدیث نمبر: 5908
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص بھی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5908]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10849 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10861»
وضاحت: فوائد: … یعنی دو آمیوں نے آپس میں بھائو مقررکرلیا ہے۔ اسے دوبارہ تیسرا آدمی توڑ پھوڑکا شکار نہ کرے کیونکہ اس تجارت کااتعقاد ہوچکا ہے۔ اس طرح نفرت، بغض اور فساد معاشرہ میں جنم لیتاہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1413
حدیث نمبر: 5909
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَاعَ قَدَحًا وَحِلْسًا فِيمَنْ يَزِيدُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پیالہ اور ایک ٹاٹ اس کو فروخت کئے تھے جس نے قیمت زیادہ لگائی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5909]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال ابي بكر الحنفي۔ أخرجه النسائي: 7/ 259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11990»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال ابي بكر الحنفي۔ أخرجه النسائي: 7/ 259
حدیث نمبر: 5910
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ أَوْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ
۔ سیدنا سمرہ بن حبذب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے یا اس کی بیع پر بیع کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5910]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطيالسي: 912، والبزار: 1420، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 6898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20115 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20376»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الطيالسي: 912
32. بَابُ بَيْعِ الرَّقِيقِ وَكَرَاهَةِ التَّفْرِيْقِ بَيْنَ ذَوِي الْمَحَارِمِ
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5911
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الْوَلَدِ وَوَالِدِهِ فِي الْبَيْعِ فَرَّقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے (غلاموں کی) تجارت کرتے ہوئے اولاد اور اس کے والدین کے درمیان تفریق ڈال دی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان تفریق ڈال دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5911]
تخریج الحدیث: «حسن بمجموع طرقه وشواھده۔ أخرجه الترمذي: 1283، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23513 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23910»
الحكم على الحديث:
حسن بمجموع طرقه وشواھده۔ أخرجه الترمذي: 1283
حدیث نمبر: 5912
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُهُمَا فَفَرَّقْتُ بَيْنَهُمَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَدْرِكْهُمَا فَأَرْجِعْهُمَا وَلَا تَبِعْهُمَا إِلَّا جَمِيعًا
۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دو غلاموں کو بیچنے کا حکم دیا، وہ دو آپس میں بھائی تھے، میں نے ان کو بیچ تو دیا، لیکن ان کے درمیان تفریق کر دی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو پا اور ان کو لوٹا اور ان کو فروخت نہ کر مگر اکٹھا۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5912]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه البيھقي: 9/ 127، والبزار: 924، والدارقطني: 3/ 65، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1045»
وضاحت: فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک لونڈی اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈال دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس سے روک دیا اور بیع کو ردّ کر دیا۔ (ابوداود: ۲۶۹۶)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ لونڈی اور اس کی اولاد کے درمیان اور بہن بھائیوں کے درمیان جدائی ڈالنا درست نہیں ہے، خواہ بیع کے ذریعے ہو یا ہبہ وغیرہ کے ذریعے، باپ کو ماں پر قیاس کیا جائے گا۔
اہل علم کا اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ چھوٹے بچے اور اس کی ماں میں جدائی ڈالنا درست نہیں ہے۔ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بچہ یا بچی بالغ ہو جائے تو جدائی ڈالنا درست ہے:
سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوۂ فزارہ کے لیے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا، ہم نے ہر طرف سے دشمنوں پر حملہ کیا، میں نے دشمنوں میں سے لوگوں کی ایک جماعت دیکھی، اس میں بچے اور عورتیں بھی تھے، میں نے ان پر تیرچلائے اور وہ کھڑے ہو گئے، پھر میں ان کو لے کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان میں بنو فزارہ کی ایک خاتون تھی، اس نے خشک چمڑے کا لباس پہنا ہوا تھا، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی، جو عربوں میں حسین ترین تھی، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے وہ مجھے دے دی، جب میں مدینہ منورہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے اور فرمایا: ”یَا سَلَمَۃُ! ھَبْ لِیَ الْمَرْأَۃَ۔“ … ”اے سلمہ! وہ خاتون مجھے ہبہ کر دو۔“ میں نے کہا: اللہ کی قسم! وہ مجھے بہت پسند ہے، لیکن ابھی تک میں نے اس کا کپڑا نہیں اٹھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات بازار میں ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی بات ارشاد فرمائی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کا کپڑا تک نہیں اٹھایا اور اب وہ آپ کے لیے ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو مکہ والوں کی طرف بھیج دیا اور ان کے ہاتھوں میں جو مسلمان قیدی تھے، اس عورت کو ان کے فدیے میں دے دیا۔ (صحیح مسلم: ۱۷۵۵، ابوداود: ۲۶۹۷)
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس ماں بیٹی کے درمیان جدائی ڈال دی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برقرار رکھا، جبکہ یہ بیٹی بالغ تھی۔ امام ابو داود نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا: باب الرخصۃ فی المدرکینیفرق بینھم (بالغ غلاموں میں تفریق ڈال دینے کی رخصت کا بیان)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ لونڈی اور اس کی اولاد کے درمیان اور بہن بھائیوں کے درمیان جدائی ڈالنا درست نہیں ہے، خواہ بیع کے ذریعے ہو یا ہبہ وغیرہ کے ذریعے، باپ کو ماں پر قیاس کیا جائے گا۔
اہل علم کا اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ چھوٹے بچے اور اس کی ماں میں جدائی ڈالنا درست نہیں ہے۔ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بچہ یا بچی بالغ ہو جائے تو جدائی ڈالنا درست ہے:
سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوۂ فزارہ کے لیے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا، ہم نے ہر طرف سے دشمنوں پر حملہ کیا، میں نے دشمنوں میں سے لوگوں کی ایک جماعت دیکھی، اس میں بچے اور عورتیں بھی تھے، میں نے ان پر تیرچلائے اور وہ کھڑے ہو گئے، پھر میں ان کو لے کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان میں بنو فزارہ کی ایک خاتون تھی، اس نے خشک چمڑے کا لباس پہنا ہوا تھا، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی، جو عربوں میں حسین ترین تھی، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے وہ مجھے دے دی، جب میں مدینہ منورہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے اور فرمایا: ”یَا سَلَمَۃُ! ھَبْ لِیَ الْمَرْأَۃَ۔“ … ”اے سلمہ! وہ خاتون مجھے ہبہ کر دو۔“ میں نے کہا: اللہ کی قسم! وہ مجھے بہت پسند ہے، لیکن ابھی تک میں نے اس کا کپڑا نہیں اٹھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات بازار میں ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی بات ارشاد فرمائی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کا کپڑا تک نہیں اٹھایا اور اب وہ آپ کے لیے ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو مکہ والوں کی طرف بھیج دیا اور ان کے ہاتھوں میں جو مسلمان قیدی تھے، اس عورت کو ان کے فدیے میں دے دیا۔ (صحیح مسلم: ۱۷۵۵، ابوداود: ۲۶۹۷)
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس ماں بیٹی کے درمیان جدائی ڈال دی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برقرار رکھا، جبکہ یہ بیٹی بالغ تھی۔ امام ابو داود نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا: باب الرخصۃ فی المدرکینیفرق بینھم (بالغ غلاموں میں تفریق ڈال دینے کی رخصت کا بیان)
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه البيھقي: 9/ 127
33. بَابُ البَيْعِ بِغَيْرِ إِشْهَادٍ وَفِيهِ مَنْقَبَةٌ عَظِيمَةٌ لِخُزَيْمَةَ بْنِ ثابت رضي الله عنه
گواہ کے بغیر تجارت کرنے کا اور اس سلسلے میں سیدنا خزیمہ بن ثابت کی عظیم منقبت کا بیان
حدیث نمبر: 5913
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ عَمَّهُ حَدَّثَهُ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ فَاسْتَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَهُ ثَمَنَ فَرَسِهِ فَأَسْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ فَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الْأَعْرَابِيَّ فَيُسَاوِمُونَ بِالْفَرَسِ لَا يَشْعُرُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَهُ حَتَّى زَادَ بَعْضُهُمُ الْأَعْرَابِيَّ فِي السَّوْمِ عَلَى ثَمَنِ الْفَرَسِ الَّذِي ابْتَاعَهُ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى الْأَعْرَابِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا هَذَا الْفَرَسَ فَابْتَعْهُ وَإِلَّا بِعْتُهُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الْأَعْرَابِيِّ فَقَالَ أَوَلَيْسَ قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ لَا وَاللَّهِ مَا بِعْتُكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَلْ قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ فَطَفِقَ النَّاسُ يَلُوذُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْأَعْرَابِيِّ وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ هَلُمَّ شَهِيدًا يَشْهَدُ أَنِّي بَايَعْتُكَ فَمَنْ جَاءَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ وَيْلَكَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِيَقُولَ إِلَّا حَقًّا حَتَّى جَاءَ خُزَيْمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْتَمَعَ لِمُرَاجَعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمُرَاجَعَةِ الْأَعْرَابِيِّ فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ هَلُمَّ شَهِيدًا يَشْهَدُ أَنِّي بَايَعْتُكَ قَالَ خُزَيْمَةُ أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَايَعْتَهُ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُزَيْمَةَ فَقَالَ بِمَ تَشْهَدُ فَقَالَ بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ
۔ عمارہ بن خزیمہ انصاری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے صحابی چچانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بدو سے گھوڑاخریدا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے پیچھے آنے کے لئے کہا تاکہ گھوڑے کی قیمت اداکر سکیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود تیزی سے چلنے لگے، دیہاتی سست رفتار تھا، اس طرح دونوں کے درمیان فاصلہ ہوگیا، اُدھر لوگوں نے بدو سے گھوڑے کی قیمت لگانا شروع کردی، انہیں معلو م نہیں تھاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ گھوڑا خرید چکے ہیں، ایک آدمی نے گھوڑے کی قیمت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیمت سے زیادہ لگا دی،یہ دیکھ کر بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بلند آواز میں مخاطب ہو ا اور کہا: اے محمد!اگر آپ نے یہ گھوڑا خر ید ناہے تو خرید لیں، وگرنہ میں اسے کسی دوسرے کے ہاں فروخت کر دوں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی یہ آواز سن کر ٹھہرگئے اور فرمایا: یہ تو میں تجھ سے خرید چکا ہوں، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو آپ کو یہ فروخت نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا: کیوں نہیں، میں نے تجھ سے یہ خرید لیا ہے، اُدھر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیہاتی کے پاس جمع ہو گئے، جبکہ ان میں تکرار جاری تھا، دیہاتی کہنے لگا: اچھا گواہ پیش کرو، وہ گواہی دے کہ آپ نے یہ خرید لیا تھا، جو مسلمان وہاں جمع تھے، انہوں نے دیہاتی سے کہا: تجھ پر بہت افسوس ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو حق ہی کہتے ہیں، اتنے میں سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ وہاں پہنچ گئے، بدو پھر کہنے لگا کہ گواہ لاؤ جو یہ گواہی دے کہ میں نے آپ کو یہ گھوڑا فروخت کر دیا ہے، سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ گھوڑا فروخت کر دیا تھا، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم کیسے گواہی دے رہے ہو؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی تصدیق کی وجہ سے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کو دو مردوں کی گواہی کے برابر قرار دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5913]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3607، والنسائي: 7/ 301، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21883 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22228»
وضاحت: فوائد: … جس بدّو سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑا خریدا تھا، اس کا نام سواء بن حارث محاربی تھا، ممکن ہے کہ یہ آدمی منافق ہو یا مسلمان تو ہو، لیکن ابھی تک ایمان کی چاشنی اس کے دل میں نہ اتری ہوئی اور اس نے دنیا کی دولت کو ہی مقصد حیات سمجھ رکھا ہو۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گواہ کے بغیر سودا درست ہے، لیکن گواہ بنانا اور معاملے کو لکھ لینا مستحبّ ہے، نیز اس حدیث میں سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی عظیم موقع شناسی اور منقبت کا بیان ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گواہ کے بغیر سودا درست ہے، لیکن گواہ بنانا اور معاملے کو لکھ لینا مستحبّ ہے، نیز اس حدیث میں سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی عظیم موقع شناسی اور منقبت کا بیان ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3607