🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ كَرَاهَةِ الْحِرْصِ عَلَى الْقَضَاءِ وَالْوِلَايَةِ وَنَحْوِهَا بَابُ التَّشْدِيدِ عَلَى الْحُكّامِ الْجَائِرِينَ وَفَضْل الْمُقْسِطِينَ
قضا اور امارت کی حرص رکھنے کی کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6396
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے لوگوں پر قاضی مقرر کیا گیا، اسے گویا چھری کے بغیر ذبح کر دیا گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6396]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3571، والترمذي: 1325، وابن ماجه: 2308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8777 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8762»
وضاحت: فوائد: … یقینا امت ِ مسلمہ کے لیے قاضی اور حاکم کا ہونا ضروری ہے اور وہ لوگ بڑے خوش بخت اور سعادت مند ہیں جو عہدہ ٔ قضا پر فائز ہونے کے بعد عدل و انصاف کے ترازو کو تھامے رکھتے ہیں، جبکہ ایسے لوگ بہت کم ہیں، حکمرانوں اور قاضیوں کی اکثریت عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہ کر سکی اور ان کی وجہ سے عوام الناس پر بڑا ظلم و ستم ڈھایا گیا۔
عدل و انصاف والے پہلو کو دیکھ کر شریعت ِ مطہرہ میں اس شعبے کی مدح سرائی کی جاتی ہے اور ظلم و تعدی والے پہلو کو دیکھ کر اس کی مذمت کی جاتی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3571
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ التَّشْدِيدِ عَلَى الْحُكَّامِ الْجَائِرِينَ وَفَضْلِ الْمُقْسِطِينَ
ظالم حاکموں کی مذمت اور مُنصِف حکمرانوں کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6397
عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا مِنْ حَاكِمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ إِلَّا حُبِسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ حَتَّى يُوقِفَهُ عَلَى جَهَنَّمَ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ قَالَ: أَلْقِهِ، أَلْقَاهُ فِي جَهَنَّمَ يَهْوِي أَرْبَعِينَ خَرِيفًا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک یا دو مرتبہ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو حاکم اور فیصل لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے، قیامت والے دن اسے روک لیا جائے گا اور فرشتہ اسے گردن سے پکڑ کر دوزخ کے بالکل قریب لا کر کھڑا کر دے گا، پھر وہ فرشتہ سر اٹھا کر اللہ تعالی کی جانب دیکھے گا، اگر اللہ تعالی یہ کہہ دے گا کہ اس کو پھینک دے تو وہ فرشتہ اسے دوزخ میں پھینک دے گا اوروہ چالیس سال تک گرتا رہے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6397]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مجالد الھمداني، وروي مرفوعا و موقوفا، والموقوف اصح۔ أخرجه ابن ماجه: 2311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4097 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4097»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف مجالد الھمداني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6398
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاضِي حِينَ يَقْضِي، وَيَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاسِمِ حِينَ يَقْسِمُ) )
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قاضی جب فیصلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور اسی طرح جب کوئی آدمی مال تقسیم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اس کے ساتھ ہوتا ہے (یعنی جب تک وہ انصاف کرتے رہتے ہیں)۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6398]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن لھيعة سيء الحفظ۔ أخرجه البيھقي: 10/ 132، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23511 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23908»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6399
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (أَتَدْرُونَ مَنِ السَّابِقُونَ إِلَى ظِلِّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟) ) قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ( (الَّذِينَ إِذَا أُعْطُوا الْحَقَّ قَبِلُوهُ، وَإِذَا سُئِلُوهُ بَذَلُوهُ، وَحَكَمُوا لِلنَّاسِ كَحُكْمِهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون لوگ ہیں جو روزِ قیامت اللہ تعالی کے سائے کی طرف سبقت لے جانے والے ہوں گے؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جب انہیں حق ملے تو اسے قبول کرتے ہیں اور جب ان سے حق کا سوال کیا جائے تو وہ اس کو خرچ کرتے ہیں اور جب لوگوں کے لئے فیصلہ کرتے ہیں تو ایسے فیصلہ کرتے ہیں، جیسے وہ اپنے نفسوں کے لیے کر رہے ہوں۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6399]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سيء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24883»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6400
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ الْمُقْسِطِينَ فِي الدُّنْيَا عَلَى مَنَابِرَ مِنْ لُؤْلُؤٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمَنِ بِمَا أَقْسَطُوا فِي الدُّنْيَا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں انصاف کرنے والے روز قیامت اللہ تعالی کے سامنے موتیوں کے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے، اس وجہ سے کہ انھوں نے دنیا میں انصاف کیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6400]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1827، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6485 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6485»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1827
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6401
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَلَى يَمِينِ الرَّحْمَنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا) )
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصاف کرنے والے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے، جبکہ اللہ تعالی کے دونوں ہاتھ دائیں ہی ہیں،یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال کے حق میں اور اپنے ما تحت امور اور افراد کے حق میں انصاف کرتے ہوں گے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6401]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6492»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6492
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6402
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَ قَوْمٍ، فَقُلْتُ: مَا أُحْسِنُ أَنْ أَقْضِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (اللَّهُ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَحِفْ عَمْدًا) )
۔ سیدنا معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے لوگوں کے ما بین کوئی فیصلہ کرنے کا حکم دیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اچھے انداز میں فیصلہ نہیں کر سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس وقت تک قاضی کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک وہ ظلم نہ کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6402]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، نفيع بن الحارث الاعمي متروك الحديث، وقد كذبه ابن معين۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 20/ 539، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20305 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20571»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الْقَاضِیْ مَا لَمْ یَجُرْ، فَاِذَا جَارَ تَخَلّٰی عَنْہُ وَلَزِمَہُ الشَّیْطَانُ۔)) … ”بیشک اللہ تعالی اس وقت تک قاضی کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک وہ ظلم نہیںکرتا، جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ تعالی اس سے ہٹ جاتا ہے اور شیطان اس کو چمٹ جاتا ہے۔“ (ترمذی: ۱۳۳۰، ابن ماجہ: ۲۳۱۲)
اس موضوع سے متعلقہ احادیث ِ صحیحہ کا تقاضا یہ ہے کہ حکمرانوں اور حاکموں کو عدل و انصاف کی روش اختیار کرنی چاہیے، جبکہ عدل کے تقاضے اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو پورا کرنا بہت مشکل ہے، مسلم حکمران طبقے کو خلفائے راشدین کے طرزِ خلافت کا مطالعہ کرنا چاہیے اور یہ نکتہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اس شعبے کا چودھراہٹ کے اظہار اور دنیوی مال و زر کے حصول کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ نَهْيِ الْحَاكِمِ عَنِ الرّشْوَةِ
حاکم کو رشوت سے منع کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6403
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لعنت کرے رشوت دینے والے پر اور لینے والے پر۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6403]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 1336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9031 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9019»
وضاحت: فوائد: … رشوت: وہ رقم جو ابطالِ حق یا احقاقِ باطل یا اپنے مفاد کو پورا کرنے کے لیے کسی کو دی جائے، مثال کے طور پر قاتل کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے جج کو رقم دینا، کسی امتحان میں زیادہ نمبر لگوانے کے لیے ممتحن کو روپیہ پیسہ دینا، رقم لے کر اپنی کمپنی سے کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کرنا، رقم لے کر اپنی ذمہ داری کو پورا نہ کرنا، وغیرہ وغیرہ۔
جو اسباب کسی شخص کو اس کی ذمہ داری اور ڈیوٹی کے تقاضے پورے نہیں کرنے دیتے، ان میں سے ایک بڑا سبب رشوت ہے اور یہ ایسی منحوس بیماری ہے کہ جو غیر محسوس انداز میں اکثر ملازمین میں سرایت کر گئی ہے، خاص طور پر قضا سے متعلقہ عہدوں میں، اللہ تعالی سے عافیت کا سوال ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 1336
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6404
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے رشوت دینے والے پر اور لینے والے پر لعنت کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6404]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 3580، والترمذي: 1337، وابن ماجه: 2313، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6532»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 3580
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6405
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رشوت دینے والے پر اور لینے والے پر اللہ تعالی کی لعنت ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6405]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6984»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6984
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں