الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ جَامِعٌ فِي قَضَايَا حَكَمَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کیے ہوئے چند متفرق فیصلہ جات
حدیث نمبر: 6425
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ وَالْبِئْرَ جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءَ جَرْحُهَا جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءُ الْبَهِيمَةُ مِنَ الْأَنْعَامِ وَغَيْرِهَا وَالْجُبَارُ هُوَ الْهَدَرُ وَالَّذِي لَا يُغَرَّمُ وَقَضَى فِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ وَقَضَى أَنَّ تَمْرَ النَّخْلِ لِمَنْ أَبَّرَهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَقَضَى أَنَّ مَالَ الْمَمْلُوكِ لِمَنْ بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَقَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَقَضَى بِالشُّفْعَةِ بَيْنَ الشُّرَكَاءِ فِي الْأَرَضِينَ وَالدُّورِ وَقَضَى لِحَمْلِ بِفَتْحِ الْحَاءِ وَالْمِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْهُذَلِيِّ بِمِيرَاثِهِ عَنِ امْرَأَتِهِ الَّتِي قَتَلَتْهَا الْأُخْرَى وَقَضَى فِي الْجَنِينِ الْمَقْتُولِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ قَالَ فَوَرِثَهَا بَعْلُهَا وَبَنُوهَا قَالَ وَكَانَ لَهُ مِنْ امْرَأَتَيْهِ كِلْتَيْهِمَا وَلَدٌ قَالَ فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا صَاحَ وَلَا اسْتَهَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذَا مِنَ الْكُهَّانِ وَقَضَى فِي الرَّحْبَةِ تَكُونُ بَيْنَ الطَّرِيقِ ثُمَّ يُرِيدُ أَهْلُهَا الْبُنْيَانَ فِيهَا فَقَضَى أَنْ يُتْرَكَ لِلطَّرِيقِ فِيهَا سَبْعَةُ أَذْرُعٍ وَقَالَ وَكَانَتْ تِلْكَ الطَّرِيقُ سُمِّيَتِ الْمِيتَاءُ وَقَضَى فِي النَّخْلَةِ أَوِ النَّخْلَتَيْنِ أَوِ الثَّلَاثِ فَيَخْتَلِفُونَ فِي حُقُوقِ ذَلِكَ فَقَضَى أَنَّ لِكُلِّ نَخْلَةٍ مِنْ أُولَئِكَ مَبْلَغُ جَرِيدَتِهَا حَيِّزٌ لَهَا وَقَضَى فِي شُرْبِ النَّخْلِ مِنَ السَّيْلِ أَنَّ الْأَعْلَى يَشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ وَيُتْرَكُ الْمَاءُ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَاءُ إِلَى الْأَسْفَلِ الَّذِي يَلِيهِ وَكَذَلِكَ تَنْقَضِي الْحَوَائِطُ أَوْ يَفْنَى الْمَاءُ وَقَضَى أَنَّ الْمَرْأَةَ لَا تُعْطِي مِنْ مَالِهَا شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا وَقَضَى لِلْجَدَّتَيْنِ مِنَ الْمِيرَاثِ بِالسُّدُسِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوَاءِ وَقَضَى أَنَّ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ فَعَلَيْهِ جَوَازُ عِتْقِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ وَقَضَى أَنْ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ وَقَضَى أَنَّهُ لَيْسَ لِعِرْقِ ظَالِمٍ حَقٌّ وَقَضَى بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي النَّخْلِ لَا يُمْنَعُ نَقْعُ بِئْرٍ وَقَضَى بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّهُ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ لِيُمْنَعَ فَضْلُ الْكَلَأِ وَقَضَى فِي دِيَةِ الْكُبْرَى الْمُغَلَّظَةِ ثَلَاثِينَ ابْنَةَ لَبُونٍ وَثَلَاثِينَ حِقَّةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً وَقَضَى فِي دِيَةِ الصُّغْرَى ثَلَاثِينَ ابْنَةَ لَبُونٍ وَثَلَاثِينَ حِقَّةً وَعِشْرِينَ ابْنَةَ مَخَاضٍ وَعِشْرِينَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورًا ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهَانَتِ الدَّرَاهِمُ فَقَوَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِبِلَ الْمَدِينَةِ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ حِسَابَ أَوْقِيَّةٍ وَنِصْفٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتِ الْوَرِقُ فَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَلْفَيْنِ حِسَابَ أُوقِيَّتَيْنِ لِكُلِّ بَعِيرٍ ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتِ الدَّرَاهِمُ فَأَتَمَّهَا عُمَرُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا حِسَابَ ثَلَاثِ أَوَاقٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ قَالَ فَزَادَ ثُلُثَ الدِّيَةِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَثُلُثًا آخَرَ فِي الْبَلَدِ الْحَرَامِ قَالَ فَتَمَّتْ دِيَةُ الْحَرَمَيْنِ عِشْرِينَ أَلْفًا قَالَ فَكَانَ يُقَالُ يُؤْخَذُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ مِنْ مَاشِيَتِهِمْ لَا يُكَلَّفُونَ الْوَرِقَ وَلَا الذَّهَبَ وَيُؤْخَذُ مِنْ كُلِّ قَوْمٍ مَالَهُمْ قِيمَةُ الْعَدْلِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ کان بھی رائیگاں ہے، کنواں بھی رائیگاں ہے، چوپائے کا زخم بھی رائیگاں ہے۔ عَجْمَاء سے مراد چوپایہ ہے اور جُبَار سے مراد ہدر ہو جانے والی وہ چیز ہے، جس کی چٹی نہیں بھری جاتی۔ رکاز میں پانچویں حصے کافیصلہ فرمایا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ کھجور کے درخت کا پھل اس کاہے جس نے اس کو پیوند لگایا ہے، الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت لینے کی شرط لگا لے۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ فروخت ہونے والے غلام کا مال بیچنے والے کی ملکیت ہوگا، الا یہ کہ خریدار سودا کرتے وقت اس کی شرط لگا لے۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ اولاد اس کی ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوئی ہو، اور زانی کیلئے پتھر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین اور گھروں میں حصہ داروں کیلئے شفعہ کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ سیدنا حمل بن مالک رضی اللہ عنہ کو اس کی بیوی کی میراث سے حصہ دیا جائے گا، جس کو اس کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیٹ کے مقتول بچے کی دیت کا فیصلہ دیا کہ ایک لونڈی یا غلام دیا جائے اور فرمایا کہ قتل ہونے والی عورت کا خاوند اور اسکے بیٹے وارث ہوں گے اور حمل بن مالک رضی اللہ عنہ کی دونوں بیویوں سے اولاد تھی، قتل کرنے والی کے باپ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی چٹی کیسے بھروں، جس نے نہ توآواز نکالی، نہ چیخا، نہ پیا اور نہ کھایا۔اس قسم کا معاملہ تو باطل اور ہدر ہو جانا چاہیے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کاہنوں کی قافیہ بندی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چبوترے کے بارے میں فیصلہ کیا جو راستے میں تھا اور اس کے مالکوں نے عمارت تعمیر کر نے کا ارادہ کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ سات سات ہاتھ راستہ چھوڑ کر عمارت بنائی جائے۔ اور وہ چلنے کا عام راستہ ہو گا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ جب لوگ ایک یا دو یا تین کھجوروں کے درختوں میں اختلاف کریں تو ہر درخت کی ٹہنیوں کی مقدار تک کی جگہ مالک کی ملکیت قرار پائے گی۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ نالوں میں بہتے ہوئے پانی سے کھجوروں کو سیراب کرتے وقت نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین اس طرح سیراب کی جائے کہ پانی ٹخنوں تک آ جائے، پھر اس کو اس سے متصل نیچے والی زمین کی طرف چھوڑا جائے، پھر اسی طریقے سے پانی آگے کی طرف پہنچایا جائے، یہاں تک کہ باغات ختم ہو جائیں یا پانی ختم ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ عورت اپنا مال بھی خاوند کی اجازت کے بغیر نہیں دے گی۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ دو جدّات کومیراث سے چھٹا حصہ ملے گا، وہ دونوں میں برابر تقسیم ہوگا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ جس نے مشترک غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگراس کے پاس مال ہواتو اسے سارا غلام آزاد کرنا ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا (اپنے بھائی کو اس کے حق میں کمی کر دینے والا) نقصان پہچانا اور (پہنچائی گئی اذیت سے) زیادہ ضرر پہنچانا جائز نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ ظالم جڑ کا کوئی حق نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ والوں کے درمیان کھجوروں کے بارے میں یہ فیصلہ کیا کہ کنوئیں کا زائد پانی نہ روکا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیہات والوں کے درمیان یہ فیصلہ کیا کہ زائد پانی اس لیے نہ روکا جائے کہ زائد گھاس سے لوگوں کو روک دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ کیا دیت ِ کبری میں تیس اونٹنیاں دو دو سالوں کی، تیس تین تین سالوں کی اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہونی چاہئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیت ِ صغری میں فیصلہ کیا کہ تیس دو دو سال کی اونٹنیاں، تیس تین تین سال کی، بیس ایک ایک سال کی اونٹنیاں اور بیس ایک ایک سال کے اونٹ ہونے چاہئیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اونٹ مہنگے ہوگئے اور درہم سستے ہوگئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیت کے اونٹوں کی قیمت چھ ہزار درہم مقرر کی، ایک اونٹ کی ایک اوقیہ کے برابر قیمت لگائی، بعد میں پھر جب اونٹ مہنگے ہوئے اور درہم گر گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہر اونٹ کے دو دو اوقیے قیمت لگا کر دو ہزار درہم کی قیمت بڑھا دی، پھر جب تیسری مرتبہ اونٹ مہنگے ہو گئے اور درہم گر گئے تو ہر اونٹ کی تین اوقیے قیمت لگا کر بارہ ہزار درہم کر دی۔ دیت کے ایک تہائی حصے کا اضافہ حرمت والے مہینے میں کیا اور مزید ایک تہائی کا حرمت والے شہر میں کیا، ان دو حرمتوں کی دیت بیس ہزار درہم ہو گئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ دیہاتیوں سے ان کے مویشیوں میں سے دیت لی جائے، انہیں سونے اور چاندی کا پابند نہ بنایا جائے، ہر قوم کے مال سے اندازہ لگا کر وہی چیز دیت میں لی جائے، جو ان کے پاس ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6425]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،الفضيل بن سليمان النميري لين الحديث، واسحاق بن يحيي الوليد مجھول الحال، ثم روايته عن جده عبادة مرسلة، لكن القصص والقضايا التييأتي ذكرھا فيمايلي صحيحة بالشواھد: قصة المعدن جبار، قصة الركاز، قصة تأبير النخل وقصة مال المملوك، قصة الولد للفراش، قصة الشفعة، قصة حمل بن مالك، قصة الرحبة، قصة حيز النخلة، قصة شرط النخل، قصة عطية المرأة، قصة توريث الجدتين، قصة عتق المملوك، لا ضرر ولا ضرار، ليس لعرق ظالم حق، منع فضل المائ،، قصة الدية الكبري۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»
وضاحت: فوائد: … ان فیصلوں کی تفصیل ان سے متعلقہ موضوعات میں دیکھیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6426
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ ثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ وَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ بِطُولِهِ غَيْرَ أَنَّهُمَا اخْتَلَفَا فِي الْإِسْنَادِ فَقَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ عُبَادَةَ قَالَ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الصَّلْتُ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ عُبَادَةَ إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ کان رائیگاں ہے، … پھر ابو کامل والی سابقہ روایت مکمل طور پر ذکر کی، البتہ دو راویوں کا اختلاف ذکر کیا، ایک نے مِنْ قَضَاءِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہا اور ایک نے اِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہا اور پھر ساری حدیث بیان کی۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6426]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22779 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23160»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق
15. باب
شہادتوں کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: Q6427]
16. بَابُ مَنْ يَجُوزُ الْحُكْمُ بِشَهَادَتِهِ وَمَنْ لَا يَجُوزُ.
اس چیز کا بیان کہ کس کی شہادت پر حکم لگانا جائز ہے اور کس کی شہادت پر ناجائز
حدیث نمبر: 6427
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ وَلَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ وَيَجُوزُ شَهَادَتُهُ لِغَيْرِهِمْ وَالْقَانِعُ الَّذِي يُنْفِقُ عَلَيْهِ أَهْلُ الْبَيْتِ وَفِي لَفْظٍ وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ الْخَادِمِ التَّابِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ خیانت کرنے والے مرد و زن کی شہادت جائز ہے اور نہ اس کی جس کے دل میں بھائی کے خلاف کینہ ہو، اسی طرح اس شخص کی شہادت بھی جائز نہیں ہے جو کسی خاندان کا خادم اور تابع ہو، ان کے علاوہ باقی سب افراد کی شہادت جائز ہو گی۔ اَلْقَانِع سے مراد وہ شخص ہے، جس پر گھر والے خرچ کرتے ہوں۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ فرد جو کسی گھر والوں کا خادم اور تابع ہو گھر والوں کے حق میں اس کی گواہی رد کی ہے اور باقی افراد کے حق میں جائز قرار دی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6427]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3600، 3601، ابن ماجه: 2366، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6899 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6899»
وضاحت: فوائد: … خائن کا معاملہ واضح ہے، کینہ سے مراد وہ افراد ہیں کہ جن کے درمیان بظاہر دشمنی والا معاملہ ہو، زیادہ تر ایسے ہوتا ہے کہ کسی خاندان کا خادم اور تابع اس خاندان کے بارے میں عدل و انصاف کا ترازو قائم نہیں رکھ سکتا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3600
حدیث نمبر: 6428
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا مَحْدُودٍ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ خیانت کرنے والے کی شہادت جائز ہے، نہ اس شخص کی جس کو اسلام میں حد لگائی گئی ہو اور نہ اس کی جو اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھتا ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6428]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6940»
وضاحت: فوائد: … اگر واضح طور پر معلوم ہو رہا ہو کہ خائن اور حد والے آدمی نے توبہ کر لی ہے اور ان پر توبہ کے آثار دکھائی دے رہے ہوں تو ان شاء اللہ ان کی گواہی قبول کی جائے گی، بہرحال اس مسئلہ میں اختلاف موجود ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6940
17. بَابُ شَهَادَةِ النِّسَاءِ
عورتوں کی گواہی کا بیان
حدیث نمبر: 6429
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي إِهَابٍ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَذَكَرَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْنَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَكَلَّمْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَقُمْتُ عَنْ يَمِينِهِ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ سَوْدَاءُ قَالَ وَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ
۔ سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ابواہاب کی بیٹی سے شادی کی، لیکن ہوا یوں کہ ایک سیاہ فام عورت آئی اور اس نے کہا کہ اس نے ہم (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہے، یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی بات بتلائی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اعراض کیا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب آگیا، اور یہی بات کہی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر مجھ سے اعراض کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ سیاہ فام عام سی عورت ہے، (اس کا کیا اعتبار ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم کیسے اکٹھے رہ سکتے ہو، جبکہ یہ بات کہی جا چکی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6429]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 88، 2052، 2640، 2660، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19424 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19644»
وضاحت: فوائد: … عورت کے خاص مسائل میں اس اکیلی کی گواہی قبول کی جائے گی، مثلا: حمل، حیض اور رضاعت وغیرہ۔ مسلمانوں کے دوسرے معاملات میں اگر دو مرد گواہ نہ مل رہے ہوں تو ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کی گواہی قبول کی جائے گی،یعنی دو عورتیں، ایک مرد کے قائم مقام ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَاسْتَشْھِدُوْا شَہِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ فَاِنْ لَّمْ یَکُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّھَدَائِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰھُمَا فَتُذَکِّرَ اِحْدَاھُمَا الْاُخْرٰی} … ”اور اپنے میں سے دو مرد گواہ رکھ لو، اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کر لو، تاکہ ایک عورت کی بھول چوک کو دوسرییاد دلا دے۔“ (سورۂ بقرہ: ۲۸۲)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 88
18. بَابُ نَهْي الشَّاهِدِ عَنْ كِتْمَانِ الْحَقِّ خَشْيَةَ النَّاسِ وَمَا جَاءَ فِي شَهَادَةِ الْحِسْبَةِ
گواہی دینے والے کو لوگوں کے ڈر کی وجہ سے حق چھپانے سے ممانعت کا بیان اور (بغیر مطالبے کے) ثواب حاصل کرنے کے لیے شہادت دینے والے کی گواہی کا بیان
حدیث نمبر: 6430
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ فِي حَقٍّ وَفِي لَفْظٍ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا رَآهُ أَوْ شَهِدَهُ أَوْ سَمِعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی حق کو دیکھ لے یا اس پر موجود ہو یا اس کو سن لے تو لوگوں کی ہیبت اس کو اس چیز سے نہ روکنے پائے کہ وہ حق بات بیان کرے۔ ابو سعید نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث نہ سنی ہوتی۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6430]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الترمذي: 2191، و ابن ماجه: 4007، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11030»
وضاحت: فوائد: … ابو سعیدیہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس حدیث پر عمل کرنا بہت مشکل کام ہے، اس لیے اگر ان کو اس حدیث کا علم نہ ہوتا تو بہتر تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الترمذي: 2191
حدیث نمبر: 6431
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا أَوْ يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتلا نہ دوں کہ سب سے بہتر گواہ کون ہے، وہ وہ ہے جو مطالبہ کیے جانے سے پہلے گواہی دے دے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6431]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1719، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22025»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1719
حدیث نمبر: 6432
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الشَّهَادَةِ مَا شَهِدَ بِهَا صَاحِبُهَا قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین گواہی وہ ہے جو گواہ مطالبے سے پہلے خود ہی پیش کردے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6432]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22013»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان احادیث میں جس شہادت کو بہتر قرار دیا ہے، اس کے دو محل ہیں:
(۱) جب کسی کا حق غصب ہورہا ہو، جبکہ اس کے پاس کوئی اور گواہ نہ ہو تو جس آدمی کو معاملے کاعلم ہو، وہ از خود گواہی دے دے۔
(۲) اس شہادت کا تعلق طلاق، آزادی، وقف، عام وصیتوں اور حدود وغیرہ سے ہے، یعنی جس شخص کو امور کا علم ہو اور حاکم کے ہاں وضاحت کی ضرورت پڑ جائے تو وہ از خود حاکم کے پاس گواہی دے۔
جس شہادت کا تعلق محض کسی کے عیب کو ظاہر کرنے کے ساتھ ہو، وہاں خاموشی اختیار کرنی چاہیے، البتہ جہاں تک ممکن ہو، اس آدمی کو سمجھا دینا چاہیے۔
(۱) جب کسی کا حق غصب ہورہا ہو، جبکہ اس کے پاس کوئی اور گواہ نہ ہو تو جس آدمی کو معاملے کاعلم ہو، وہ از خود گواہی دے دے۔
(۲) اس شہادت کا تعلق طلاق، آزادی، وقف، عام وصیتوں اور حدود وغیرہ سے ہے، یعنی جس شخص کو امور کا علم ہو اور حاکم کے ہاں وضاحت کی ضرورت پڑ جائے تو وہ از خود حاکم کے پاس گواہی دے۔
جس شہادت کا تعلق محض کسی کے عیب کو ظاہر کرنے کے ساتھ ہو، وہاں خاموشی اختیار کرنی چاہیے، البتہ جہاں تک ممکن ہو، اس آدمی کو سمجھا دینا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22013
19. بَاب دَم مَنْ أَذًى شَهَادَةً مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ
بغیر مطالبے کے گواہی دینے والے کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 6433
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَقَالَ الثَّالِثَةَ أَمْ لَا ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں بہترین زمانہ وہ ہے، جس میں میں موجود ہوں، پھر اس کے بعد والے لوگوں کا زمانہ، پھر اس کے بعد والے لوگوں کا زمانہ، (راوی کہتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا تھا یا نہیں)،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر ایسے لوگ آئیں گے، جو موٹاپے کو پسند کریں گے اور وہ گواہی کے مطالبے سے پہلے گواہی دیں گے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6433]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7123 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7123»
وضاحت: فوائد: … موٹاپے کو پسند کرنے سے مراد عیش پرستی اور زیادہ مقدار میں کھانا پینا ہے، جس کا نتیجہ موٹاپے کی صورت میں نکلتا ہے۔
پچھلے باب کی احادیث میں مطالبے سے پہلے گواہی دینے کو سراہا گیا ہے، جبکہ اس حدیث میں مذمت کی جا رہی ہے۔ جمع وتطبیقیہ ہے کہ جب ایک آدمی کو اپنے حق کے بارے میں علم ہو، لیکن پھر بھی اس کے مطالبے کے بغیر اس کے حق میں گواہی دے دی جائے، یہ مذموم گواہی ہو گی، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ آدمی اپنا حق معاف کرنا چاہتا ہو، یا کم از کم لوگوں کے سامنے اس کا ذکر نہ کرنا چاہتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس حدیث میں مذموم گواہی سے مراد جھوٹی گواہی لی ہے۔
پچھلے باب کی احادیث میں مطالبے سے پہلے گواہی دینے کو سراہا گیا ہے، جبکہ اس حدیث میں مذمت کی جا رہی ہے۔ جمع وتطبیقیہ ہے کہ جب ایک آدمی کو اپنے حق کے بارے میں علم ہو، لیکن پھر بھی اس کے مطالبے کے بغیر اس کے حق میں گواہی دے دی جائے، یہ مذموم گواہی ہو گی، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ آدمی اپنا حق معاف کرنا چاہتا ہو، یا کم از کم لوگوں کے سامنے اس کا ذکر نہ کرنا چاہتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس حدیث میں مذموم گواہی سے مراد جھوٹی گواہی لی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2534