🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ نَهْيِ الْحَاكِمِ عَنِ الرّشْوَةِ
حاکم کو رشوت سے منع کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6406
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الرِّبَا إِلَّا أُخِذُوا بِالسَّنَةِ، وَمَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الرُّشَا إِلَّا أُخِذُوا بِالرُّعْبِ) )
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس قوم میں سود پھیل جائے، ان پر قحط سالی مسلط کر دی جاتی ہے اور جس قوم میں رشوت عام ہو جائے، وہ خوف اور رعب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6406]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، عبد الله بن لھيعة سييء الحفظ، ومحمد بن راشد المرادي مجھول غير معروف، ويبدو أنه سقط رجل بين محمد بن راشد وعمرو، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17822 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17976»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا پہلا جملہ شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6407
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ، وَالرَّائِشَ يَعْنِي الَّذِي يَمْشِي بَيْنَهُمَا
۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رشوت دینے والے، رشوت لینے والے اور ان دونوں کے درمیان دلالی کرنے والے، تینوں پر لعنت کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6407]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: ’’الرائش۔‘‘ وھذا اسناد ضعيف، ليث بن أبي سليم ضعيف، وقد اضطرب في ھذا الحديث، وشيخه ابو الخطاب مجھول، ابوزرعة روايته عن ثوبان مرسلة۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 6/ 549، والبزار: 1353، والحاكم: 4/ 103، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22399 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22762»
وضاحت: فوائد: … رائش (دلال) وہ ہے جو رشوت خور اور رشوت دینے والے میں رشوت میں کمی بیشی کرا کر شریک ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: ’’الرائش ۔‘‘ وھذا اسناد ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب
قضا اور قاضی کے آداب کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: Q6408]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحُكْمِ إِلَّا بَعْدَ سَمَاءِ كَلامِ الْخَصْمَيْنِ
قضا اور قاضی کے آداب کا بیان فریقین کا کلام سن لینے سے پہلے فیصلہ کر دینے سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6408
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: قَاضِيًا) فَقُلْتُ: تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ أَسَنُّ مِنِّي وَأَنَا حَدَثٌ لَا أُبْصِرُ الْقَضَاءَ؟ قَالَ: فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي وَقَالَ: ( (اللَّهُمَّ ثَبِّتْ لِسَانَهُ وَاهْدِ قَلْبَهُ؛ يَا عَلِيُّ! إِذَا جَلَسَ إِلَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِ بَيْنَهُمَا حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الْآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنَ الْأَوَّلِ، فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ تَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ) ) قَالَ: فَمَا اخْتَلَفَ عَلَيَّ قَضَاءٌ بَعْدُ أَوْ مَا أَشْكَلَ عَلَيَّ قَضَاءٌ بَعْدُ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بطورِ قاضی بھیجا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایک جہاندیدہ قوم کی جانب بھیج رہے ہیں، جبکہ میں ابھی نوخیزجوان ہوں اور قضا کا تجربہ بھی نہیں ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینہ پر رکھا اورفرمایا: اے میرے اللہ! اس کی زبان کو ثابت قدم رکھ اور اس کے دل کو راہ ہدایت دے۔ اے علی! جب جھگڑے والے دو آدمی تیرے پاس آئیں تو پہلے کی طرح دوسرے کی بات سنے بغیر فیصلہ نہ کر، اگر تو اس طرح دونوں کی بات سنے گا تو تیرے لیے فیصلہ کرنا واضح ہو جائے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد فیصلہ کرتے وقت میں کبھی بھی کسی اختلاف اور اشکال میں نہیں پڑا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6408]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3582، والترمذي: 1331،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 882 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 882»
وضاحت: فوائد: … کسی بھی قاضی اور حاکم کے لیےیہ بہت بڑا اصول ہے کہ جھگڑا سے متعلقہ تمام فریقوں کی باتیں سن کر تحقیق کرے اور صرف پہلے فریق کا دعوی سننے کے بعد کسی کے ظالم یا مظلوم ہونے کا فیصلہ نہ کرے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3582
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحُكْمِ فِي حَالَةِ الْغَضَبِ
غصے کی حالت میں فیصلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6409
عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ أَبَاهُ أَمَرَهُ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى ابْنٍ لَهُ وَكَانَ قَاضِيًا بِسِجِسْتَانَ: أَمَّا بَعْدُ، فَلَا تَحْكُمَنَّ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يَحْكُمُ أَحَدٌ (وَفِي لَفْظٍ: لَا يَقْضِي الْحَاكِمُ) بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ) )
۔ ابن ابی بکرہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک بیٹے، جو کہ سجستان کے علاقے میں قاضی تھا، کو یہ خط لکھا: اما بعد! جب تو غصہ کی حالت میں ہو تو دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہیں کرنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی یا کوئی حاکم غصے کی حالت میں دو افراد کے مابین فیصلہ نہ کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6409]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20467 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20741»
وضاحت: فوائد: … دو یا زائد افراد یا فریقوں کے مابین فیصلہ کرنے کے لیے صبر و تحمل کی اشد ضرورت ہے، بلکہ یہ صفت تو قاضی اور حاکم کا زیور ہے، غیظ و غضب کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، ہاں یہ علیحدہ بات ہے کہ ظالم فرد یا فریق کے ظلم کی نوعیت کو دیکھ اس کے سامنے غصے کا اظہار کیا جا سکتا ہے، تاکہ اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے، لیکن فیصلہ کرتے وقت حاکم کو غصے کی حالت میں نہیں ہونا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6410
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا اسْتَشَاطَ السُّلْطَانُ تَسَلَّطَ الشَّيْطَانُ) )
۔ سیدنا عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب سلطان انتہائی غصے میں ہوتا ہے تو اس وقت شیطان مسلط ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6410]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال محمد بن عطية۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 17/ 444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18147»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال محمد بن عطية۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 17/ 444
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي جُلُوسِ الْخَصْمَيْنِ أَمَامَ الْقَاضِي
فریقین کا قاضی کے سامنے بیٹھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6411
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ عَمْرِو بْنِ الزُّبَيْرِ خُصُومَةٌ، فَدَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ عَلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَعَمْرُو ابْنُ الزُّبَيْرِ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ، فَقَالَ سَعِيدٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: هَا هُنَا، فَقَالَ: لَا، قَضَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ الْخَصْمَيْنِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَيِ الْحَكَمِ
۔ سیدنا مصعب بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور ان کے بھائی سیدنا عمرو بن زبیر رحمہ اللہ کے درمیان کوئی جھگڑا ہو گیا، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جبکہ سیدنا عمرو بن زبیر رحمہ اللہ چارپائی پر ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے کہا: یہاں تشریف لے آؤ، لیکن انہوں نے کہا: جی نہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قضا کا طریقہ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو اپنائیں گے اور وہ یہ ہے کہ دونوں فریق حاکم کے سامنے بیٹھیں۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6411]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مصعب بن ثابت، ولانقطاعه۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 246، والحاكم: 4/ 94، وأخرجه ابوداود مختصرا: 3588، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16104 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16203»
وضاحت: فوائد: … جب حاکم کسی کو اپنے سامنے بٹھا کر بات سنے گا تو حقیقت تک رسائی حاصل کرنا زیادہ ممکن ہو جائے گا، بہرحال یہ روایت ضعیف ہے، لیکن عام طور پر جب صحابہ کرام f آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنے جرائم کا اعتراف کرتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوتے تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف مصعب بن ثابت
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ إِثْمِ مَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَإِنْ حُكِمَ لَهُ بِهِ فِي الظَّاهِرِ وَهَلْ يَحْكُمُ الْقَاضِي بِعِلْمِهِ أَمْ لَا
باطل چیز پر جھگڑنے والے کے گناہ کا بیان، اگرچہ بظاہر اس کے لیے فیصلہ کر دیا گیا ہو¤اور اس چیز کا بیان کہ کیا قاضی اپنے علم کی روشنی میں فیصلہ کر سکتا ہے یا نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6412
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ) لَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، وَإِنَّمَا أَقْضِي لَهُ بِمَا يَقُولُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ بِقَوْلِهِ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ، فَلَا يَأْخُذْهَا) )
۔ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک بشر ہوں اور تم میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو، اس لیے ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسروں کی بہ نسبت دلائل کے نشیب و فراز سے زیادہ واقف ہے اور میں تو اس کے بیان کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، لہذ ا اگر میں کسی کے حق میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس کو نہ لے، کیونکہ ایسی صورت میں میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6412]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2680، 7169، ومسلم: 1713، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26189»
وضاحت: فوائد: … حاکم نے گواہوں اور دلیلوں کی روشنی میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ حاکم کے فیصلے کا حرام کو حلال کرنے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یعنی اگر وہ کسی چیز کا غیر مستحق آدمی کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہے تو اس فیصلے سے وہ چیز اس آدمی کے لیے حلال نہیں ہو جائے گی، جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے، بلکہ وہ حرام ہی رہے گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2680
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6413
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اس قسم کی ایک حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6413]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2318، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8394 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8375»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2318
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6414
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو علم ہونے کے باوجود ناحق جھگڑا کرے تو وہ اس سے دستبردارہونے تک اللہ تعالی کی ناراضگی میں ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6414]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الحاكم: 2/ 27، والبيھقي: 6/ 82، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5385»
وضاحت: فوائد: … ہمارے ہاں خاندانی اور مذہبی تعصب کی بنا پر ایسی مثالیں موجود ہیں کہ لوگ ظالم کا ساتھ دینے پر تل جاتے ہیں اور عدالتوں اور کچہریوں میں جا کراس کے حق میں جھوٹی گواہیاں دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الحاكم: 2/ 27
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں