🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. أَبْوَابُ الدَّعَاوِي وَالْبَيِّنَاتِ وَصُورَةِ الْيَمِينِ وَغَيْرِ ذَلِكَ
دعووں، گواہیوں اور قسم کی صورتوں وغیرہ کے ابواب مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مُدَّعِی کے پاس گواہ نہ ہو تو مُدّعٰی علیہ سے قسم لینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6415
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاهُمْ، ادَّعَى نَاسٌ مِنَ النَّاسِ دِمَاءَ نَاسٍ وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ) )
۔ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ تحریر بھیجی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو ان کے دعووں کے مطابق دیا جائے تو وہ لوگوں کے خونوں اور مالوں کا دعوی کر دیں، لیکن قسم مُدَّعٰی علیہ پر ہو گی۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6415]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2514، 2668، ومسلم: 1711، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3188»
وضاحت: فوائد: … یہ شریعت ِ اسلامیہ کا بڑا اہم اور سادہ قانون ہے کہ مدّعی اپنے دعوے پر گواہ پیش کرے، وگرنہ مُدّعٰی علیہ قسم اٹھا کر اس کے دعوے سے بری ہو جائے گا، لیکن اس کو چاہیے کہ وہ جھوٹی قسم سے مکمل اجتناب کرے، وگرنہ اگلی حدیث کا مصداق بن جائے گا، ایسے موقع پر حاکم کو چاہیے کہ وہ وعظ و نصیحت کرے اور آخرت کی اہمیت اور دنیا کی بے ثباتی بیان کرے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2514
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6416
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّ هَذَا انْتَزَى عَلَى أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ (وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدَانَ) ، فَقَالَ لَهُ: ( (بَيِّنَتُكَ) ) ، قَالَ: لَيْسَ لِي بَيِّنَةٌ، قَالَ: ( (يَمِينُهُ) ) ، قَالَ: إِذًا يَذْهَبُ، قَالَ: ( (لَيْسَ لَكَ إِلَّا ذَلِكَ) ) ، فَلَمَّا قَامَ لِيَحْلِفَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنِ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ) )
۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، ان کا زمین کا جھگڑا تھا، ایک امرء القیس بن عابس کندی تھا اور اس کا مقابل ربیعہ بن عبدان تھا، اول الذکر نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے جاہلیت میں میری زمین زبردستی چھین لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کندی سے فرمایا: دلیل پیش کرو۔ وہ کہنے لگا: دلیل تو کوئی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مُدّعا علیہ قسم اٹھائے گا۔ اس نے کہا: وہ تو پھر میرا مال ہتھیا لے گا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ تیرے حق میں کچھ ہے ہی نہیں۔ پھر جب وہ قسم اٹھانے کے لیے کھڑا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ظلم کرتے ہوئے کسی کی زمین ہتھیا لے گا تو وہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6416]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 139، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19069»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 139
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6417
عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: خَاصَمْتُ ابْنَ عَمٍّ لِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بِئْرٍ كَانَتْ لِي فِي يَدِهِ، فَجَحَدَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (بَيِّنَتُكَ أَنَّهَا بِئْرُكَ وَإِلَّا فَيَمِينُهُ) ) ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا لِي بَيِّنَةٌ، إِنْ تَجْعَلْهَا بِيَمِينِهِ تَذْهَبْ بِئْرِي، إِنَّ خَصْمِي امْرُؤٌ فَاجِرٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ) ) ، وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ} (آل عمران: 77) الآية
۔ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرا ایک کنویں تھا اور اس کے معاملے میں میرا اپنے چچا زاد بھائی سے جھگڑا تھا، اس نے یہ کنواں مجھے واپس کرنے سے انکار کر دیا تھا، میں یہ مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: دلیل لاؤ کہ یہ کنواں تمہارا ہے، وگرنہ وہ قسم اٹھا لے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس دلیل تو نہیں ہے اور میرا مقابل فاجر اور فاسق آدمی ہے،اس لیے اگرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا تو وہ میرا کنواں ہتھیا لے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کا مال نا حق ہتھیائے گا وہ اس حال میں اللہ تعالی سے ملاقات کرے گا کہ وہ اس سے ناراض ہو گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِکَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِیْ الآخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔} … بے شک جو لوگ اللہ تعالی کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے، اللہ تعالی نہ تو ان سے بات چیت کرے گا نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6417]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 2356، 4549، 6676، 6677، ومسلم: 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21848 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22191»

الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه البخاري: 2356
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ اسْتِخْلَافِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ فِي الْأَمْوَالِ وَالدِّمَاءِ وَغَيْرِهِمَا إِذَا لَمْ تُوجَدْ بَينَةٌ لِلْمُدَّعِى
مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مدعی کے پاس گواہ نہ یو تو مدعیٰ علیہ سے قسم لینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6418
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ، قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ: سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ هَلْ يَجُوزُ فِي الطَّلَاقِ وَالْعِتَاقِ، فَقَالَ: لَا، إِنَّمَا هَذَا فِي الشَّرَائِ وَالْبَيْعِ وَأَشْبَاهِهِ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کیا۔ زید بن حباب کہتے ہیں: میں نے سیدنا مالک بن انس سے قسم اور گواہ کے متعلق پوچھا کیایہ طلاق اور غلام کی آزادی میں بھی کافی ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں،یہ تو صرف خرید و فروخت جیسے معاملات میں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6418]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1712، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2967 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2967»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1712
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6419
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، قَالَ عَمْرٌو: وَإِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْأَمْوَالِ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گواہ کے ساتھ ایک قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا، عمرو نے کہا: یہ مالوں کے معاملات کے لیے ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6419]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6929»
وضاحت: فوائد: … مُدّعی اپنے دعوی پر دو گواہ پیش کرے گا، اگر دو گواہ میسر نہ ہوں تو وہ ایک گواہ پیش کر دے،لیکن اس کے ساتھ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے ایک قسم اٹھائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور ایک قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد کا یہی مسلک ہے، البتہ امام ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ دو گواہ ہی ضروری ہے، لیکنیہ رائے درست نہیں ہے۔ اگر مُدّعی کے پاس ایک گواہ بھی نہ ہو تو پھر اس کو قسم اٹھانے کا کوئی اختیار نہیں ہو گا اور مُدّعی علیہ اپنے حق میں قسم اٹھا کر بری ہو جائے گا۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6929
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ مَنْ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ
ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کرنے والے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6420
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، قَالَ جَعْفَرٌ: قَالَ أَبِي: وَقَضَى بِهِ عَلِيٌّ بِالْعِرَاقِ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کیا، جعفر کہتے ہیں: میرے والد صاحب نے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عراق میں اسی طرح فیصلہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6420]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 2369،و الترمذي: 1344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14278 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14329»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 2369
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6421
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَمْرِو بْنِ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُمْ وَجَدُوا فِي كُتُبِ أَوْ كِتَابِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ
۔ عمرو بن قیس کہتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی تحریروں میں یہ چیز بھی لکھی ہوئی پائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گواہ کے ساتھ ایک قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6421]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 1343، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22460 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22827»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 1343
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ الْقَضَاءِ بِالْقُرْعَةِ فِيمَا إِذَا إِذْهَا الْخَصْمَانِ مِلْكَ شَيْءٍ وَلَمْ يَكُن لَهُمَا بَينَةٌ وَمَا ذَا يَفْعَلُ إِذَا كَانَ لَهُمَا بينةٌ وَتَعَارَضَتِ البَيِّنَاتُ
جب فریقین کسی چیز کی ملکیت کا دعوی کریں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو قرعہ کے ذریعے فیصلہ کرنے کابیان، اسی طرح اس چیز کی وضاحت کہ اگر دونوں کے پاس گواہ تو ہوں، لیکن متعارض ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6422
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَارَآ فِي دَابَّةٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَأَمَرَهُمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ أَحَبَّا أَوْ كَرِهَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دوآدمی ایک جانور کے بارے میں جھگڑ پڑے، جبکہ کسی کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قسم اٹھانے پر قرعہ ڈالنے کا حکم دیا،یہ حکم ان کو پسند ہو یا نہ ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6422]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 3616، 3618، وابن ماجه: 2329، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10352»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 3616
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6423
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُكْرِهَ الِاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ وَاسْتَحَبَّاهَا فَلْيَسْتَهِمَا عَلَيْهَا
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مدّعِی اور مُدَّعا علیہ دونوں قسم پر مجبور کئے جائیں اور وہ اس کو پسند بھی کریں تو ان میں قسم پر قرعہ ڈالا جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6423]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8194»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری، نسائی اور بیہقی میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((عَرَضَ النَّبِیُّV عَلٰی قَوْمٍ الْیَمِیْنَ فَاَسْرَعَ الْفَرِیْقَانِ جَمِیْعًا فِیْ الْیَمِیْنِ، فَأَمَرَ النَّبِیُّV اَنْ یُسْھَمَ بَیْنَھُمْ فِیْ الْیَمِیْنِ اَیُّھُمْیَحْلِفُ۔)) … ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم پر قسم پیش کی، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریقین کو قسم اٹھانے کے لیے جلدی کرتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ پہلے قسم کے معاملے میںیہ قرعہ ڈالا جائے کہ قسم کون اٹھائے گا۔“ ان احادیث میں بڑا اہم قانون بیان کیا گیا کہ جب مدّعِی اور مُدّعٰی علیہ کا پتہ نہ چل رہا ہو اور دونوں آدمی قسم اٹھانے پر بھی تل جائیں تو دونوں سے قسم نہیں لی جائے گی، بلکہ قرعہ ڈالا جائے گا اور جس کے حق میں قرعہ نکلے گا، صرف وہ قسم اٹھائے گا، اگر اس نے قسم اٹھا لی تو اس کے حق میں فیصلہ کیا جائے گا۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8194
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6424
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي دَابَّةٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی ایک چوپائے کا مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی دلیل نہ تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سواری کو ان کے درمیان نصف تقسیم کر دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6424]
تخریج الحدیث: «حديث معلول بين اھل الحديث مع الاختلاف في اسناده علي قتادة۔ أخرجه ابوداود: 3613، والنسائي: 8/ 248، وابن ماجه: 2330، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19832»

الحكم على الحديث:
حديث معلول بين اھل الحديث مع الاختلاف في اسناده علي قتادة۔ أخرجه ابوداود: 3613
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں