🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي القَاضِي يُصِيبُ وَيُخْطِى، وَأَجْرُ الْقَاضِي الْمُجْتَهِدِ وَكَيْفَ يَقْضِى
قاضی کے فیصلے میں درستی اور خطا دونوں کے امکان، مجتہد قاضی کے اجر اور اس کے فیصلہ کرنے کی کیفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6386
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَصْمَانِ يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ لِعَمْرٍو: ( (اقْضِ بَيْنَهُمَا يَا عَمْرُو!) ) فَقَالَ: أَنْتَ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ( (وَإِنْ كَانَ) ) قَالَ: فَإِذَا قَضَيْتُ بَيْنَهُمَا فَمَا لِي؟ قَالَ: ( (إِذَا أَنْتَ قَضَيْتَ فَأَصَبْتَ الْقَضَاءَ فَلَكَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَإِنْ أَنْتَ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ حَسَنَةٌ) )
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: دو آدمی آپس کا ایک جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عمرو!ان کے درمیان فیصلہ کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس امر کے زیادہ حقدار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ میں ہوں۔ میں نے کہا: اگر میں ان کے ما بین فیصلہ کروں تومجھے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے فیصلہ کیا اور درست صورت تک پہنچ گئے تو دس نیکیاں ملیں گی اوراگر اجتہاد میں خطا اور غلطی ہو گئی تو ایک نیکی ملے گی۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6386]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، الفرج بن فضالة ضعيف، محمد بن عبد الاعلي و أبوه لا يعرفان۔ أخرجه الدارقطني: 4/ 203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17978»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۶۳۸۹)، اس باب کی پہلی تین احادیث سے کفایت کرتی ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6387
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: ( (فَإِنِ اجْتَهَدْتَ فَأَصَبْتَ الْقَضَاءَ فَلَكَ عَشَرَةُ أُجُورٍ، وَإِنِ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ أَجْرٌ وَاحِدٌ) )
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےاسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے اجتہاد کیا اور فیصلہ درست کر لیا تو دس اجر ملیں گے اور اگر تم نے اجتہاد کیا اور خطا ہو گئی تو ایک اجر ملے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6387]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف الفرج ابن فضالة۔ أخرجه الدارقطني: 4/ 203، والطبراني في ’’الصغير‘‘: 131، وفي ’’الاوسط‘‘: 1606، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17825 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17979»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6388
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو إِنَّ خَصْمَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَضَى بَيْنَهُمَا، فَسَخِطَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا قَضَى الْقَاضِي فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ عَشَرَةُ أُجُورٍ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ كَانَ لَهُ أَجْرٌ أَوْ أَجْرَانِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دو آدمی اپنا مقدمہ لے کر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انھوں نے ان کے درمیان فیصلہ کیا اور جس کے خلاف فیصلہ ہوا، وہ ناراض ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: جب قاضی فیصلہ کرتا ہے اور پوری جد وجہد کرتا ہے اور درست فیصلہ کر لیتا ہے تو اسے دس اجر ملتے ہیں اور اگر پوری محنت کے باوجود اس سے خطا ہو جائے تو اس کو ایک یا دو اجر پھر بھی ملتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6388]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، وجھالة سلمة بن اكسوم۔ أخرجه الحاكم: 4/88، والطبراني في ’’الاوسط‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6755»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6389
عَنِ ابْنِ قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ) ) قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، قَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب حاکم پوری محنت کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور درستی کو پہنچ جاتا ہے تو اس کو دو اجر ملتے ہیں اور جب پوری محنت کے باوجود اس سے خطا ہو جاتی ہے تو اس کو ایک اجر ملتا ہے۔ یہ حدیث سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6389]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7352، ومسلم: 1716، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17774 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17926»
وضاحت: فوائد: … حاکم، شرعی علم و فہم میں اتنا بلند مقام رکھتا ہو کہ اس میں اجتہاد کرنے کی صلاحیت ہو، جس آدمی میں اجتہاد کرنے کی صلاحیت نہ ہو، اس کو حاکم بننے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، ایسا شخص خود بھی گمراہ ہو گا اور دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کرے گا، ایسے شخص کی قرآن و حدیث کی نصوص میں سخت مذمت کی گئی ہے، مثال کے طور پرسیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أُفْتِیَ بِغَیْرِ عِلْمٍ کَانَ إِثْمُہُ عَلٰی مَنْ أَفْتَاہُ)) … جس آدمی کو بغیر علم کے فتوی دیا گیا، اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہو گا۔ (ابوداود: ۳۶۵۷)
ہمارے معاشرے میں جہاں دینی و شرعی علم کی قدر بہت کم ہوئی ہے، وہاں اس علم کے حاملین بھی بے وقعت ہو کر رہ گئے ہیں، اللہ تعالی گواہ ہے کہ اب خاندانوں اور بازاروں کے فیصلے کرنے والی پنچائتیں ایسے ایسے افراد پر مشتمل ہوتی ہیں، جو بے نماز اور بد کردار ہوتے ہیں اور کوئی ایک سورت یا حدیث ترجمہ کے ساتھ سنانے پر بھی قادر نہیں ہوتے، صرف وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ سرمایہ دار ہوتے ہیںیا رہ چکے ہوتے ہیں، ایسی پنچائتوں کے چند فیصلےیہ ہیں:
ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں، صاحبوں نے عدت کے اندر ہی اسی خاوند کے ساتھ دوبارہ نکاح کر دیا، جبکہ ایسا کرنے والے لوگ حنفی تھے، جن کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں، ان لوگوں نے ایک ظلم تو یہ کیا کہ تین طلاقوں کے بعد اسی خاوند سے نکاح کر دیا، جبکہ ایسا نکاح قبول ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے اور دوسرا ظلم یہ کیا کہ عدت کے اندر نکاح کر دیا، جبکہ عدت کے اندر خاتون کا نکاح نہیں کیا جا سکتا۔
اس سے زیادہ قابل افسوس فیصلہ کہ ایک اور خاوند نے اپنی بیوی کو اسی طرح تین طلاقیں دے دیں، بیوی اور اس کے سسرال والے بیوی کے والدین کو اس وقوعہ کی اطلاع نہیں دینا چاہتے تھے، سو جاہلوں نے اس کا حل کیا نکالا کہ سسر نے اپنی اس بہو سے کہا: تم مجھے ولی تسلیم کر لو، میں اپنے بیٹے کے ساتھ تمہارا دوبارہ نکاح کرا دیتا ہوں، پس ایسے ہی ہوا، اوپر والی مثال والے دو مظالم بھی تھے اور تیسرا ظلم یہ بھی تھا کہ ولی کے بغیررسمِ نکاح رچا دی گئی۔
حمید نے کسی کا حق دینا تھا، جبکہ وہ انکار پر تلا ہوا تھا، پنچائت نے فیصلہ کیا کہ حمید نے قسم اٹھانی ہے، لیکن حقدار اس کی قسم پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہ تھا، اس نے کہا کہ حمید کی بجائے اس کا بھائی حامد قسم اٹھائے، جبکہ حامد کو اس معاملے کی کوئی خبر نہ تھی، لیکن پنچائت نے یہ فیصلہ دینا چاہا کہ چلو حامد قسم اٹھا لے۔ یہ علم شرعی سے محرومی اور شرعی علوم کے حاملین کی بے وقعی کے نتائج ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6390
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ: ( (كَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟) ) قَالَ: أَقْضِي بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: ( (فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟) ) قَالَ: فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ( (فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟) ) قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِي، لَا آلُو، قَالَ: فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدْرِي ثُمَّ قَالَ: ( (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) )
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو عامل بنا کر یمن کی طرف بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: جب کوئی مقدمہ پیش ہو تو تو کس طرح فیصلہ کرے گا؟ انھوں نے کہا: جی میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ا ٓپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ مسئلہ اللہ تعالی کی کتاب میں نہ ہو تو؟ انھوں نے کہا: تو پھر اللہ کے رسول کی سنت کی روشنی میں کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر رسول اللہ کی سنت میں بھی نہ ملے تو؟ انھوں نے کہا: تو پھر میں اجتہاد کروں گا اور اس میں کوئی کمی نہیں کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے سینے پر تھپکی دی اور فرمایا: اس اللہ کے لئے تعریف ہے، جس نے اپنے رسول کے قاصد کو اس چیز کی توفیق بخشی کہ جس کو اس کا رسول پسند کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6390]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام اصحاب معاذ وجھالة الحارث بن عمرو، لكن مال الي القول بصحته غير واحد من المحققين من اھل العلم۔ أخرجه ابوداود: 3593، والترمذي: 1328، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22357»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث سنداً ضعیف ہے، اگرچہ شریعت کا سرسری مطالعہ رکھنے والوں کی زبانوں پر بہت مشہور ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6391
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ (يَعْنِي قَاضِيًا) وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِ، قَالَ: قُلْتُ: تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ يَكُونُ بَيْنَهُمْ أَحْدَاثٌ وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ، قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي لِسَانَكَ وَيُثَبِّتُ قَلْبَكَ) ) قَالَ: فَمَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کا قاضی مقرر کر کے بھیجا، جبکہ میں ابھی نو عمر تھا، اس لیے میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایک ایسی قوم کے ہاں بھیج رہے ہیں، جن کے درمیان نت نئے معاملات جنم لیتے ہیں اور مجھے تو قضا کا علم ہی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری زبان کی رہنمائی کرے گا اور تیرے دل میں مضبوطی پیدا کر دے گا۔ اس کے بعد دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرتے مجھے کبھی کوئی شک و شبہ نہیں ہوا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6391]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2310، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 636»
وضاحت: فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی تھی، جو اللہ تعالی نے بطورِ معجزہ پوری کی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ كَرَاهَةِ الْحِرْصِ عَلَى الْقَضَاءِ وَالْوِلَايَةِ وَنَحْوِهَا بَابُ التَّشْدِيدِ عَلَى الْحُكّامِ الْجَائِرِينَ وَفَضْل الْمُقْسِطِينَ
قضا اور امارت کی حرص رکھنے کی کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6392
عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اقْضِ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ لَهُ: لَا أَقْضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَلَا أَؤُمُّ رَجُلَيْنِ، أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَقَدْ عَاذَ بِمَعَاذٍ) ) قَالَ عُثْمَانُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تَسْتَعْمِلَنِي، فَأَعْفَاهُ وَقَالَ: لَا تُخْبِرْ بِهَذَا أَحَدًا
۔ یزید بن موہب سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: لوگوں کے ما بین فیصلہ کرو، انھوں نے کہا: میں دوآدمیوں کے مابین قاضی بنوں گا نہ دو آدمیوں کا امام بنوں گا، اے عثمان! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ جس نے اللہ تعالی کے ساتھ پناہ مانگی، اس نے بہت بڑی پناہ مانگی؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جی، کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر میں اس بات سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے عامل بنائیں، پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو معاف کر دیا، لیکن کہا: کسی اور کو یہ حدیث بیان نہ کرنا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6392]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 5056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 475 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 475»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6393
عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَرَادَ الْحَجَّاجُ أَنْ يَجْعَلَ ابْنَهُ عَلَى قَضَاءِ الْبَصْرَةِ، قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ طَلَبَ الْقَضَاءَ وَاسْتَعَانَ عَلَيْهِ وُكِّلَ إِلَيْهِ، وَمَنْ لَمْ يَطْلُبْهُ وَلَمْ يَسْتَعِنْ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ) )
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ حجاج نے ان کے بیٹے کو بصرہ پر قاضی مقرر کرنا چاہا تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عہدئہ قضا طلب کیا اور دوسرے کے تعاون سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کی تو اسے اس عہدے کے سپرد کر دیا جائے گا اور جو آدمی نہ اس کو طلب کرتا ہے اور نہ اس کے حصول کے لئے دوسروں کا تعاون لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے فرشتہ نازل کرے گا، جو درستی کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6393]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف عبد الاعلي الثعلبي، وضعف بلال بن ابي موسي۔ أخرجه ابوداود: 3587، والترمذي: 1323، وابن ماجه: 2309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13335»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6394
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ سَأَلَ الْقَضَاءَ وُكِّلَ إِلَيْهِ، وَمَنْ أُجْبِرَ عَلَيْهِ نَزَلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ فَيُسَدِّدُهُ) )
۔ (دوسری سند)سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عہدئہ قضا خود طلب کیا وہ اس کے سپرد کر دیا جائے گا اور جسے زبردستی دیا گیا، اس پر ایک فرشتہ نازل ہو گا، جو بہتری کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6394]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12208»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل حدیث سے یہی مسئلہ ثابت ہوتا ہے:سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ سَمُرَۃَ! لَا تَسْأَلِ الْاَمَارَۃَ، فَاِنَّکَ اِنْ اُوْتِیْتَھَا عَنْ مَسْاَلَۃٍ وُکِلْتَ اِلَیْھَا، وَاِنْ اُوْتِیْتَھَا مِنْ غَیْرِ مَسْاَلَۃٍ اُعِنْتَ عَلَیْھَا۔)) (صحیح بخاری: ۶۶۲۲، صحیح مسلم: ۱۶۵۲) اے عبد الرحمن بن سمرہ! تو خود امارت کا سوال نہ کر، کیونکہ اگر یہ تجھے سوال کرنے کی بنا پر دی گئی تو تجھے اس کے سپر د کر دیا جائے گا اور اگر یہ تجھے سوال کے بغیر دی گئی تو تیری مدد کی جائے گی۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6395
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَذَاكَرْتُهَا حَتَّى ذَكَرْنَا الْقَاضِيَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْقَاضِي الْعَدْلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَاعَةٌ يَتَمَنَّى أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي تَمْرَةٍ قَطُّ) )
۔ عمران بن حطان کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا اور ان سے مذاکرہ کرنے لگا، یہاں تک کہ قاضی کے عہدے کا ذکر ہونے لگا، اس موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قاضی پر قیامت کے روز ایک گھڑی ایسی آئے گی کہ وہ یہ آروز کرے گا کہ کاش کہ اس نے دوآدمیوں کے درمیان ایک کھجور کا بھی فیصلہ نہ کیا ہوتا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6395]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، صالح بن سرج وعمرو بن العلاء الشني من رجال التعجيل۔ أخرجه الطيالسي: 1546، والبيھقي: 10/ 96، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24968»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں