الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ الْجَابِ الْقِصَاصِ بِالْقَتْلِ الْعَمَدِ وَأَنَّ مُسْتَحِقَّهُ بِالْخِيَارِ بَيْنَهُ وَبَينَ الدِّيةِ
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
حدیث نمبر: 6545
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي لَفْظٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أُصِيبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ وَالْخَبْلُ الْجِرَاحُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ بَيْنَ إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ يَقْتَصَّ أَوْ يَأْخُذَ الْعَقْلَ أَوْ يَعْفُوَ فَإِنْ أَرَادَ رَابِعَةً فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ فَإِنْ فَعَلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ عَدَا بَعْدُ فَلَهُ النَّارُ خَالِدًا فِيهَا مُخَلَّدًا
۔ سیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا قتل ہو جائے یاجس کو کوئی زخم لگ جائے، اس کو تین باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے: (۱) وہ قصاص لے لے، یا (۲) دیت لے لے یا پھر (۳) معاف کر دے، اگر کوئی چوتھی صورت چاہے تو اسے روک دو، اگر کوئی آدمی ان تین میں سے ایک چیز اختیار کرلے اور پھر اس کے بعد زیادتی کرے، تو اس کے لئے دوزخ ہے، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6545]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف سفيان بن ابي العوجاء السلمي۔ أخرجه ابوداود: 4496، وابن ماجه: 2623، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16488»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا بعض مضمون اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: {فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذَالِکَ فَلَہٗعَذَابٌاَلِیْمٌ} ”پس جس نے (قبولِ دیت) کے بعد زیادتی کی، اس کے لیے درد ناک عذاب ہو گا۔“ (بقرہ: ۱۷۸)شریعت ِ مطہرہ نے مظلوم کے حق کا بھی تعین کر دیا ہے، ظالم کے ظلم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہو جائے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 6546
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوهُ وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً وَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ وَذَلِكَ تَشْدِيدُ الْعَقْلِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قصداً قتل کیا، اسے مقتول کے لواحقین کے حوالے کر دیاجائے گا، اگر وہ چاہیں تو اس کو قتل کردیں، چاہیں تو دیت لے لیں، جس کی تفصیل یہ ہے: تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس گابھن اونٹنیاں،یہ قتل عمد کی دیت ہے، نیز وہ جس چیز پر صلح کرلیں، وہ ان کی ہو گی،یہ سخت ترین دیت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6546]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 1387، وابن ماجه: 2626، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6717»
وضاحت: فوائد: … حِقّہ: وہ اونٹنی جو چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہو، جذعہ: وہ اونٹنی جو پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہو، خَلِفَہ: حاملہ اونٹنی کو کہتے ہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں قتل عمد کی دیت بیان کی گئی ہے۔
”نیز وہ جس چیز پر صلح کرلیں“ اس سے مراد مذکورہ دیت کے علاوہ کوئی چیز ہو سکتی ہے، یعنی جب مظلوم قصاص ہی کا مطالبہ کر ر ہا ہو تو اس کو اس کی دیت سے زیادہ دے دلا کر اس کو راضی کیا جا سکتا ہے، اسی طرح دیت کی ادائیگی کا وقت اور مقام بھی اس میںشامل ہیں، دونوں فریق ان امور کے پابند ہوں گے۔
مسلمان کے خون کا اندازہ لگائیںکہ اگر اولیائے مقتول قصاص معاف کر کے دیت لینے پر راضی ہو جائیں تو ان کو (۱۰۰) اونٹ دیئے جائیں اور وہ بھی عام اونٹ نہیں ہیں، بلکہ تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس گابھن اونٹنیاں ہیں۔ کاش ہم بھی اسلام کی وجہ سے مسلمان کے وجود کی معرفت حاصل کر لیتے۔
”نیز وہ جس چیز پر صلح کرلیں“ اس سے مراد مذکورہ دیت کے علاوہ کوئی چیز ہو سکتی ہے، یعنی جب مظلوم قصاص ہی کا مطالبہ کر ر ہا ہو تو اس کو اس کی دیت سے زیادہ دے دلا کر اس کو راضی کیا جا سکتا ہے، اسی طرح دیت کی ادائیگی کا وقت اور مقام بھی اس میںشامل ہیں، دونوں فریق ان امور کے پابند ہوں گے۔
مسلمان کے خون کا اندازہ لگائیںکہ اگر اولیائے مقتول قصاص معاف کر کے دیت لینے پر راضی ہو جائیں تو ان کو (۱۰۰) اونٹ دیئے جائیں اور وہ بھی عام اونٹ نہیں ہیں، بلکہ تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس گابھن اونٹنیاں ہیں۔ کاش ہم بھی اسلام کی وجہ سے مسلمان کے وجود کی معرفت حاصل کر لیتے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6547
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا أُعْفِي مَنْ قَتَلَ بَعْدَ أَخْذِهِ الدِّيَةَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دیت وصول کرلینے کے بعد بھی قاتل کو قتل کر دیا، میں اس کو معاف نہیں کروں گا۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6547]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من جابر، ومطر بن طھمان ضعفه غير واحد۔ أخرجه ابوداود: 4507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14911 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14973»
الحكم على الحديث: ضعیف
2. بَابُ لَا يُقْتَلُ مُسْلَمُ بِكَافِرٍ، وَمَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْحُرِ بالعبد
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے¤بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
حدیث نمبر: 6548
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ بَعْدَ الْقُرْآنِ قَالَ لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِلَّا فَهْمٌ يُؤْتِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا فِي الْقُرْآنِ أَوْ مَا فِي الصَّحِيفَةِ قُلْتُ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ قَالَ الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ
۔ سیدنا ابو حجیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ قرآن پاک کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم لوگوں کو کوئی اور چیز بھی دی ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا کیا ہے!کوئی چیز نہیں دی، ما سوائے اس فہم و بصیرت کے جو اللہ تعالیٰ کسی آدمی کو قرآن میں عطا کردیتا ہے، یا پھر وہ چیز ہے جو اس صحیفے میں ہے۔ میں نے کہا: اس میں کیا ہے؟ انھوں نے کہا: دیت کے مسائل،قیدی کو آزاد کرنا اور یہ کہ مسلمان کو کافرکے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6548]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 111، 3047، 6915، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 599»
وضاحت: فوائد: … ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کے سوال کا پس منظر یہ تھا کہ شیعہ کے ایک گروہ کا عقیدہ ہے کہ اہل بیت کے پاس خصوصاً سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص علم کی خبر دی ہے، جواباً سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بڑے جامع انداز میں اس نظریہ کی تردید کر دی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر مسلمان کافر کو قتل کر دے تو قصاصاً مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
معلوم ہوتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ہی لوگوں کے اندر یہ غلط فہمی عام ہو رہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کوئی خاص علم سکھایا ہے۔ جس کا ازالہ انہوں نے کیا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر مسلمان کافر کو قتل کر دے تو قصاصاً مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
معلوم ہوتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ہی لوگوں کے اندر یہ غلط فہمی عام ہو رہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کوئی خاص علم سکھایا ہے۔ جس کا ازالہ انہوں نے کیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6549
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمنوں کے خون آپس میں برابر ہیں،یہ اپنے دشمنوں کے خلاف تعاون میں سب ایک جیسے ہیں، ادنی مسلمان بھی تمام مسلمانوں کے عہد وپیمان کا حق رکھتا ہے، خبر دار! مؤمن کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گااور کسی ذمّی کو اس کے معاہدے کے دوران قتل نہیں کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6549]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:3172، 6755، 7300، ومسلم: 1370، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 991 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 991»
وضاحت: فوائد: … اسلام نے احکام کو مرتّب کرتے وقت ادنی و اعلی کی تمیز ختم کر دی ہے، جو دنیا پر راج کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، لیکن اہل اسلام اس قانون کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔
”ادنی مسلمان بھی تمام مسلمانوں کے عہد وپیمان کا حق رکھتا ہے“اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان مرد یا عورت کسی حربی کافر کو امان دے دے، تو تمام مسلمانوں کو اس امان کو قبول کرنا پڑے گا اور کسی کو اجازت نہیں ہو گی کہ وہ اس کو توڑ سکے۔
ذمّی اس شخص کو کہتے ہیں، جس کا تعلق دار الحرب سے ہو،لیکن وہ امان لے کر مسلمانوں کے ملک میں آیا ہوا ہو، ایسے شخص کو قتل کرنا حرام ہے، معاہدے کے مطابق اس کی امان برقرار رہے گی۔
”ادنی مسلمان بھی تمام مسلمانوں کے عہد وپیمان کا حق رکھتا ہے“اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان مرد یا عورت کسی حربی کافر کو امان دے دے، تو تمام مسلمانوں کو اس امان کو قبول کرنا پڑے گا اور کسی کو اجازت نہیں ہو گی کہ وہ اس کو توڑ سکے۔
ذمّی اس شخص کو کہتے ہیں، جس کا تعلق دار الحرب سے ہو،لیکن وہ امان لے کر مسلمانوں کے ملک میں آیا ہوا ہو، ایسے شخص کو قتل کرنا حرام ہے، معاہدے کے مطابق اس کی امان برقرار رہے گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6550
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَدِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، ایک روایت میں ہے: کافر کی دیت مسلمان کی نصف دیت کے برابر ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6550]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الترمذي: 1585، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7012»
وضاحت: فوائد: … مسلمان اور کافر کی شان برابر نہیں ہو سکتی، لیکن اسلام زیادتی کو بھی پسند نہیں کرتا، اس لیے اگر کوئی مسلمان کسی کافر کو قتل کر دیتا ہے، تو اس کے لواحقین کو نصف دیت دینا ہو گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6551
عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ وَمَنْ جَدَعَهُ جَدَعْنَاهُ قَالَ يَحْيَى ثُمَّ نَسِيَ الْحَسَنُ بَعْدُ فَقَالَ لَا يُقْتَلُ بِهِ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے غلام کوقتل کیا، ہم اس کے بدلے اس کو قتل کریں گے اور جس نے اس کا کوئی عضو کاٹا، ہم بھی اس کا وہ عضو کاٹیں گے۔ اس کے بعد حسن راوی بھول گئے اور کہا: غلام کے بدلے مالک کو قتل نہیں کیا جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6551]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من سمرة۔ أخرجه ابوداود:4515، والترمذي:1414، والنسائي: 8/20، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20214 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20477»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 6552
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَمَنْ أَخْصَى عَبْدَهُ أَخْصَيْنَاهُ
۔ (دوسری سند) سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے غلام کو خصی کرے گا، ہم قصاصاً اس کو خصی کریں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6552]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو امية شيخ مجھول لم نتبينه، وفيه الحسن البصري مدلس ولم يسمع ھذا الحديث من سمرة۔ انظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20461»
وضاحت: فوائد: … مالک یا آزاد سے غلام کا قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟
اس موضوع سے متعلقہ واضح روایات تو ضعیف ہیں اور غلام کے حقوق کم ہونے کی وجہ سے اس مسئلے پر مختلف جہات سے بحثیں بھی بہت زیادہ کی گئی ہیں، ہم اس رائے کے قائل ہیں کہ اگر غلام مسلمان ہے تو قصاص والے معاملات میں آقا کے مقابلے میں اس کی حیثیت بھی مسلم ہو گی،یعنی غلام کو قتل کرنے والے مالک سے قصاص لیا جائے گا، اس رائے کی دلیل حدیث نمبر(۶۵۴۹) ہے، اس حدیث کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْمُؤْمِنُوْنَ تَتَکَافَأُ دِمَاؤُھُمْ۔)) … ”مؤمنوں کے خون آپس میں برابر ہیں۔“ امام نسائی نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیاہے: ”باب القود بین الاحرار و الممالیک فی النفس“ (آزاد اور غلام کے درمیان قصاص کا بیان) یہی مؤقف سعید بن مسیّب، ابراہیم نخعی، قتادہ، سفیان ثوری اور ابو حنیفہj کا تھا، شیخ الاسلام ابن تیمیہi نے بھی اسی مؤقف کو ترجیح دی ہے، اس کے برعکس اہل علم کی ایک جماعت کے نزدیک آزاد کو غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، لیکن اول الذکر مسلک راجح نظر آتا ہے۔
اس موضوع سے متعلقہ واضح روایات تو ضعیف ہیں اور غلام کے حقوق کم ہونے کی وجہ سے اس مسئلے پر مختلف جہات سے بحثیں بھی بہت زیادہ کی گئی ہیں، ہم اس رائے کے قائل ہیں کہ اگر غلام مسلمان ہے تو قصاص والے معاملات میں آقا کے مقابلے میں اس کی حیثیت بھی مسلم ہو گی،یعنی غلام کو قتل کرنے والے مالک سے قصاص لیا جائے گا، اس رائے کی دلیل حدیث نمبر(۶۵۴۹) ہے، اس حدیث کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْمُؤْمِنُوْنَ تَتَکَافَأُ دِمَاؤُھُمْ۔)) … ”مؤمنوں کے خون آپس میں برابر ہیں۔“ امام نسائی نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیاہے: ”باب القود بین الاحرار و الممالیک فی النفس“ (آزاد اور غلام کے درمیان قصاص کا بیان) یہی مؤقف سعید بن مسیّب، ابراہیم نخعی، قتادہ، سفیان ثوری اور ابو حنیفہj کا تھا، شیخ الاسلام ابن تیمیہi نے بھی اسی مؤقف کو ترجیح دی ہے، اس کے برعکس اہل علم کی ایک جماعت کے نزدیک آزاد کو غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، لیکن اول الذکر مسلک راجح نظر آتا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
3. بَابُ قَتل الرّجُلِ بِالْمَرْأَةِ وَالْمَرْأَةِ بِمِثْلِهَا وَالْقَتْلِ بِالْمِثْقَل وَالْقِصَاصِ مِنَ الْقَاتِلِ بِالصِّفَةِ الَّتِي قَتَلَ بِهَا
مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے¤قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
حدیث نمبر: 6553
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ قَتَلَ جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى حُلِيٍّ لَهَا ثُمَّ أَلْقَاهَا فِي قَلِيبٍ وَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ فَأُخِذَ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّى يَمُوتَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری کی لونڈی کو اس کے زیورا ت کے لالچ میں قتل کر دیا، پھر اس کو کنویں میں پھینک دیا، اس نے اس کا سر پتھر سے کچل دیا تھا، پھر اس آدمی کو گرفتار کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، پس اس کو سنگسار کیا گیا،یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6553]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:6885، ومسلم: 1672، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12667 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12696»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6554
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ جَارِيَةً خَرَجَتْ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ فَأَخَذَهَا يَهُودِيٌّ فَرَضَخَ رَأْسَهَا وَأَخَذَ مَا عَلَيْهَا فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا لَا فَقَالَ فُلَانٌ فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا لَا قَالَ فَفُلَانٌ الْيَهُودِيُّ فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا نَعَمْ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَضَخَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ
۔ (دوسری سند) ایک لونڈی باہر نکلی، اس نے زیور پہنا ہوا تھا، ایک یہودی نے اس کو پکڑ لیا اور اس کا سر کچل کر اس کا زیور اتار کر لے گیا، جب اس لونڈی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایاگیا تو اس میں ابھی تک جان باقی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ کیافلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے سر سے اشارہ کر کے نہیں میں جواب دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر فلاں نے قتل کے ہے؟ اس نے سر سے اشارہ کرتے ہوئے نہیں میں جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: کیا فلاں یہودی نے قتل کیا ہے؟ اس نے سر سے اشارہ کر کے ہاں میں جواب دیا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس یہودی کو پکڑا اور اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6554]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13138»
الحكم على الحديث: صحیح