🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ قَتل الرّجُلِ بِالْمَرْأَةِ وَالْمَرْأَةِ بِمِثْلِهَا وَالْقَتْلِ بِالْمِثْقَل وَالْقِصَاصِ مِنَ الْقَاتِلِ بِالصِّفَةِ الَّتِي قَتَلَ بِهَا
مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے¤قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6555
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ الطَّرِيقِ الثَّانِيَةِ إِلَّا أَنَّ قَتَادَةَ قَالَ فِي حَدِيثِهِ فَاعْتَرَفَ الْيَهُودِيُّ
۔ (تیسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، یہ دوسری سند کی حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں قتادہ نے کہا ہے: اس یہودی نے قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6555]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13139»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6556
عَنْ حَمْلِ بْنِ النَّابِغَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ بَيْنَ بَيْتَيْ امْرَأَتَيَّ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا
۔ سیدنا حمل بن نابغہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنی دو بیویوں کے گھروں کے درمیان میں تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو ایک لکڑی ماری، جس سے وہ خاتون بھی مر گئی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی ضائع ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اس کے پیٹ کے بچے کے عوض ایک لونڈی یا غلام دیا جائے گا اور عورت کو قصاص میں قتل کر دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6556]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه ابوداود: 4572، والنسائي: 8/21، وابن ماجه: 2641، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16729 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16849»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے دو مسئلے تو بالنص ثابت ہوئے: (۱) عورت کے غیر مسلم قاتل کو قصاصاً قتل کیا جائے گا، اور (۲) عورت کی قاتل عورت کو بھی قصاصاً قتل کیا جائے گا۔

رہایہ مسئلہ کہ جب مسلمان مرد، مسلمان عورت کو قتل کر دے تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں، تو جمہور اہل علم کے نزدیک ایسے مرد سے عورت کا قصاص لیا جائے گی، اس رائے کی دلیل حدیث نمبر (۶۵۴۹) ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام اہل اسلام کے خونوں کو برابر قرار دیا ہے۔

امام ابن منذر kنے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ، امام حسن بصری اور امام عطاء سے منقول روایت کے علاوہ عورت کے بدلے مرد کو قتل کرنے پر اجماع ہے۔ (الاجماع لابن المنذر: ص ۱۴۴، رقم: ۶۵۳)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ لَا يُقْتَلُ وَالِدٌ بِوَلَدِهِ، وَمَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْإِثْنَيْنِ بِالْوَاحِدِ
والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6557
عَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَذَفَ رَجُلٌ ابْنًا لَهُ بِسَيْفِهِ فَقَتَلَهُ فَرُفِعَ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُقَادُ الْوَالِدُ مِنْ وَلَدِهِ لَقَتَلْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَبْرَحَ
۔ مجاہد کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے تلوار سے اپنے بیٹے کی گردن اڑا کر اسے مار ڈالا، جب یہ مقدمہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی عدالت میں لایا گیا تو انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ والد سے اولاد کے بدلے قصاص نہیں لیا جاتا تو میں تجھے اسی جگہ قتل کر دیتا۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6557]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 1400، وابن ماجه: 2662، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 98 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 98»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6558
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُقَادُ لِوَلَدٍ مِنْ وَالِدِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اولاد کا والدین سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6558]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 148»
وضاحت: فوائد: … ان روایات سے ثابت ہوا کہ والدین کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین ہی اس بچے کے وجود کا سبب تھے، اس لیے اگر وہ اس کی زندگی ختم کر دیں تو اس کے عوض ان کی زندگی کو ختم نہ کیا جائے، دوسری وجہ والدین کا احترام بھی ہو سکتا ہے۔

لیکن ایسی صورت میں باپ سے دیت لی جائے گی اور اس کو بیٹے کی میراث سے محروم کر دیا جائے گا، کیونکہ قاتل اپنے قتل کی وجہ سے مقتول کا وارث نہیں بن سکتا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6559
- حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَادٍ الْأَنْصَارِيُّ وَجَدَّتِي
(6559)-(ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ولید بن عبداللہ بن جمیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے عبدالرحمن بن خلاد انصاری اور میری دادی نے بیان کیا۔) [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6559]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6560
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيعٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيُّ وَجَدَّتِي عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُهَا كُلَّ جُمُعَةٍ وَأَنَّهَا قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ يَوْمَ بَدْرٍ أَتَأْذَنُ فَأَخْرُجُ مَعَكَ أُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ وَأُدَاوِي جَرْحَاكُمْ لَعَلَّ اللَّهَ يُهْدِي لِي شَهَادَةً قَالَ قَرِّي فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُهْدِي لَكِ شَهَادَةً وَكَانَتْ أَعْتَقَتْ جَارِيَةً لَهَا وَغُلَامًا عَنْ دُبُرٍ مِنْهَا فَطَالَ عَلَيْهِمَا فَغَمَّاهَا فِي الْقَطِيفَةِ حَتَّى مَاتَتْ وَهَرَبَا فَأُتِيَ عُمَرُ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ أُمَّ وَرَقَةَ قَدْ قَتَلَهَا غُلَامُهَا وَجَارِيَتُهَا وَهَرَبَا فَقَامَ عُمَرُ فِي النَّاسِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُ أُمَّ وَرَقَةَ يَقُولُ انْطَلِقُوا نَزُورُ الشَّهِيدَةَ وَأَنَّ فُلَانَةً جَارِيَتَهَا وَفُلَانًا غُلَامَهَا غَمَّاهَا ثُمَّ هَرَبَا فَلَا يُؤْوِيهِمَا أَحَدٌ وَمَنْ وَجَدَهُمَا فَلْيَأْتِ بِهِمَا فَأُتِيَ بِهِمَا فَصُلِبَا فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبَيْنِ (مسند أحمد: 27825)
۔ سیدہ ام ورقہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمعہ کو ان کی ملاقات کے لیے تشریف لاتے تھے، ایک دن میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا بدر کے دن آپ مجھے اجازت دیں گے، تاکہ میں بھی آپ کے ہمراہ جاؤں اوربیماروں کی تیمار داری کروں اور زخمیوں کا علاج معالجہ کروں، شاید اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت عطا کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر ہی ٹھہری رہو، اللہ تعالیٰ تجھے شہادت عطا کریں گے۔ سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا نے اپنی وفات کے بعد ایک غلام اور ایک لونڈی کو آزاد کر رکھا تھا، جب ان دونوں کے لیےیہ مدت طویل نظر آئی تو انھوں نے ایک چادر کے ذریعے اس کو ڈھانپ دیا،یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئیں اور وہ دونوں بھاگ گئے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع دی گئی کہ ام ورقہ کو اس کے غلام اور لونڈی نے قتل کر دیا ہے اور وہ بھاگ گئے ہیں، تو وہ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا کی ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے تھے، پھر انھوں نے کہا: چلو، اس شہید خاتون کی زیارت کرتے ہیں، فلاں لونڈی اور فلاں غلام نے اس کو ڈھانپ کر مار دیا اور وہ خود بھاگ گئے ہیں، کوئی آدمی ان کو جگہ نہ دے،بلکہ جو بھی ان کو پائے، وہ ان کو میرے پاس لے آئے، پس ان دونوں کو لایا گیا اور ان کو سولی پر لٹکا دیا گیا،یہ اسلام میں پہلے دو افراد تھے، جن کو سولی پر چڑھایا گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6560]
تخریج الحدیث: «حسن، قاله الالباني۔ أخرجه ابوداود: 591، 592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27282 ترقیم بيت الأفكار الدولية:27825»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صحابۂ کرام کی موجود گی میں ایک مقتول کے عوض دو قاتل افراد سے قصاص لیا، اسی طرح ایک اور روایت ہے: سعید بن مسیب کہتے ہیں: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ قَتَلَ نَفَرًا خَمْسَۃً أَوْ سَبْعَۃً بِرَجُلٍ وَاحِدٍ قَتَلُوْہٗقُتِلَغِیْلَۃً وَقَالَ عُمَرُ: لَوْ تَمْالَأُ عَلَیْہِ أَہْلُ صَنْعَائَ لَقَتَلْتُہُمْ جَمِیْعًا۔ … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پانچ یا سات افراد کو ایک آدمی کے بدلے میں قتل کیا، انھوں نے اس آدمی کو دھوکہ دیتے ہوئے قتل کیا اور انھوں نے کہا: اگر اہل صنعاء سارے اس قتل پر جمع ہوتے تو میں ان سب کو قتل کر دیتا۔ (مؤطا امام مالک)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ الْقِصَاصِ مِنْ وَلَاةِ الْأُمُورِ إِلَّا إِذَا اصْطَلَحَ المستحق أو عفا
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6561
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ شَيْئًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَلَبَّ عَلَيْهِ فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ فَجُرِحَ بِوَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَعَالَ فَاسْتَقِدْ قَالَ قَدْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مال تقسیم کر رہے تھے، ایک آدمی آگے بڑھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھجور کی ایک ٹہنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو وہ مار دی، جس سے اس کا چہر ہ زخمی ہو گا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آگے آ اور مجھ سے قصاص لے لے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو معاف کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6561]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4536، والنسائي: 8/32، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11229 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11247»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کوئی فرد قصاص کے قانون سے مستثنی نہیں ہے، اگر سید الانبیاء کی یہ صورتحال ہے تو اوروں کا اندازہ از خود ہو جانا چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6562
عَنْ أَبِي فِرَاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِيهِ أَلَا إِنِّي وَاللَّهِ مَا أُرْسِلُ عُمَّالِي إِلَيْكُمْ لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ وَلَكِنْ أُرْسِلُهُمْ إِلَيْكُمْ لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَسُنَّتَكُمْ فَمَنْ فُعِلَ بِهِ شَيْءٌ سِوَى ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلَيَّ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِذًا لَأُقِصَّنَّهُ مِنْهُ فَوَثَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَوَ رَأَيْتَ إِنْ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى رَعِيَّةٍ فَأَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ أَئِنَّكَ لَمُقْتَصٌّ مِنْهُ قَالَ إِي وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ إِذًا لَأُقِصَّنَّهُ مِنْهُ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقِصُّ مِنْ نَفْسِهِ
۔ ابو فراس سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا، جس میں انھوں نے ایک لمبی حدیث ذکر کی اور کہا: خبر دار! میں تم پر حکومتی کارندوں کو اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہارے جسموں پر ضربیں لگائیں اور تمہارے مال چھین لیں، میں تو ان کو تمہار ے پاس اس لیے بھیجتا ہوں کہ وہ تمہیں دین اور سنت کی تعلیم دیں، جس کے ساتھ کوئی اور کاروائی کی جائے، وہ مجھے بتائے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے ضرور ضرور قصاص دلواؤں گا، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اچھل کر کھڑے ہوئے اور کہا: اے امیر المومنین، آپ بتائیں کہ ایک آدمی رعایا پر مقرر ہوتا ہے اور اسے ادب سکھانے کے لیے سزا دیتا ہے، کیا آپ اس سے بھی قصاص لیں گے؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، اس ذات قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے! میں اس کو ضرورقصاص دلواؤں گا، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے نفس سے قصاص دلواتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6562]
تخریج الحدیث: «ابو فراس النھدي، وقال ابو زرعه: لا اعرفه۔ أخرجه ابوداود: 4537، والنسائي: 8/34، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 286»
وضاحت: فوائد: … عبد اللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: إِنَّ أُنَاسًا کَانُوا یُؤْخَذُونَ بِالوَحْیِ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ الوَحْیَ قَدِ انْقَطَعَ، وَإِنَّمَا نَأْخُذُکُمُ الآنَ بِمَا ظَہَرَ لَنَا مِنْ أَعْمَالِکُمْ، فَمَنْ أَظْہَرَ لَنَا خَیْرًا، أَمِنَّاہُ، وَقَرَّبْنَاہُ، وَلَیْسَ إِلَیْنَا مِنْ سَرِیرَتِہِ شَیْء ٌ اللَّہُ یُحَاسِبُہُ فِی سَرِیرَتِہِ، وَمَنْ أَظْہَرَ لَنَا سُوء ًا لَمْ نَأْمَنْہُ، وَلَمْ نُصَدِّقْہُ، وَإِنْ قَالَ: إِنَّ سَرِیرَتَہُ حَسَنَۃٌ۔ … بیشک عہد ِ نبوی میں وحی کے ذریعے لوگوں کا مؤاخذہ ہو جاتا تھا، اب وحی تو منقطع ہو چکی ہے، پس اب ہم تمہارے ظاہری اعمال کی روشنی میں تمہاری گرفت کریں گے، جو ہمارے لیے خیر و بھلائی کا اظہار کرے گا، ہم اس کو امین سمجھیں گے اور اس کو اپنے قریب کریں گے، جبکہ اس کے باطن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہو گا، اللہ تعالی اس کے باطن کا محاسبہ کرے گا، اور جو آدمی ہمارے لیے برے اعمال کو ظاہر کرے گا، ہم اس کو امین سمجھیں گے نہ اس کی تصدیق کریں گے، اگرچہ اس کا باطن پاک ہو۔ (صحیح بخاری: ۲۶۴۱)

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6563
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمٍ مُصَدِّقًا فَلَاجَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ يَرْضَوْا قَالَ فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ يَرْضَوْا قَالَ فَلَكُمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ قَالُوا نَعَمْ فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا أَرَضِيتُمْ قَالُوا لَا فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا فَكَفُّوا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ وَقَالَ أَرَضِيتُمْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَضِيتُمْ قَالُوا نَعَمْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو جہم رضی اللہ عنہ کو صدقہ کی وصولی کے لیے بھیجا، ایک آدمی نے صدقہ دینے میں ان سے جھگڑا کیا، جواباً ابو جہم رضی اللہ عنہ نے اسے مار کر اس کا سرزخمی کر دیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور قصاص کا مطالبہ کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اتنا کچھ لے لو۔ لیکن وہ راضی نہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو تمہیں اتنا کچھ مل جائے گا۔ لیکن وہ پھر بھی راضی نہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو، تم کو اتنا کچھ دے دیتے ہیں۔ پس اب کی بار وہ راضی ہوگئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں لوگوں سے خطاب کرتا ہوں اور ان کو تمہاری رضا مندی سے آگا ہ کرتا ہوں؟ انہوں نے کہا: جی ٹھیک ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: لیث قبیلے کے یہ افراد میرے پاس آئے، انھوں نے قصاص کا مطالبہ کیا، میں نے ان پر اتنا مال پیش کیا اور ان سے پوچھا: کیا اب راضی ہو گئے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، مہاجرین نے ان کو کچھ کہنا چاہا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو رکنے کا حکم دیا تو وہ رک گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلایا اور مزید دے کر فرمایا: اب راضی ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس بیشک میں لوگوں کو خطاب کر کے ان کو تمہاری رضا کے بارے میں بتلانے والا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مخاطب ہوئے اور فرمایا: کیا تم لوگ اب راضی ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6563]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4534، والنسائي: 8/ 35، وابن ماجه: 2638، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26485»
وضاحت: فوائد: … اگر بادشاہ اور کوئی صاحب ِ اختیار و اقتدار حکمران کسی کے ساتھ اس قسم کی زیادتی اور مار کٹائی والا معاملہ کرے، جیسا کہ سیدنا ابو جہم رضی اللہ عنہ نے کیا تھا تو اس سے قصاص لیا جائے گا، تاہم فریقِ ثانی کو کچھ دے دلا کر بھی معاملہ رفع دفع کیا جا سکتا ہے۔ اس حدیثسےیہ بھی معلوم ہوا کہ جب مظلوم قصاص کا ہی مطالبہ کر رہا ہو تو اس کو اس کی دیت سے زیادہ دے کر اس کو راضی کیا جا سکتا ہے۔ دیہاتی طبعاً سخت مزاج اور لاعلم ہوتے ہیں، اسی بنا پر انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وسعت ِ ظرفی اور حسن اخلاق کی روشنی میں ان کے اس رویے سے در گزر فرمایا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَاب فَضْلِ مَنِ اسْتَحَقَّ الْقِصَاصَ وَعَفَا
قصاص لینے کا مستحق ہونے کے بعد معاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6564
عَنْ أَبِي السَّفَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَسَرَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ سِنَّ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ إِنَّ هَذَا دَقَّ سِنِّي قَالَ مُعَاوِيَةُ كَلَّا إِنَّا سَنُرْضِيكَ قَالَ فَلَمَّا أَلَحَّ عَلَيْهِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ مُعَاوِيَةُ شَأْنَكَ بِصَاحِبِكَ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَالِسٌ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهِ خَطِيئَةً قَالَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي يَعْنِي فَعَفَا عَنْهُ
۔ ابو سفر کہتے ہیں: قریش کے ایک آدمی نے ایک انصاری آدمی کا دانت توڑ دیا، وہ فریاد رسی کے لیے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انصاری نے کہا: اس نے میرا دانت توڑ دیا ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یقینا ہم تجھے راضی کر دیں گے، جب انصاری نے قصاص لینے پر اصرار کیا تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرا معاملہ تیرے ساتھی کے سپرد ہے، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی اپنے جسم میں لگ جانے والے زخم کو معاف کر دیتا ہے، اللہ تعالی اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے اور اس کا گناہ مٹا دیتا ہے۔ انصاری نے کہا: کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں! میرے کانوں نے سنی ہے اور میرے دل نے اس کو یاد کیاہے، پس اس انصاری نے قریشی کو معاف کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6564]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، ابو السفر، قال احمد: لا اعرف له سماعا من ابي الدردائ، بل قال الحافظ: ما اظنه ادركه، فان ابا الدرداء قديم الموت۔ أخرجه الترمذي: 1393، وابن ماجه: 2693، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27534 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28084»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں