الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَاب فَضْلِ مَنِ اسْتَحَقَّ الْقِصَاصَ وَعَفَا
قصاص لینے کا مستحق ہونے کے بعد معاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6565
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ رَجُلٍ يُجْرَحُ فِي جَسَدِهِ جِرَاحَةٌ فَيَتَصَدَّقُ بِهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلَ مَا تَصَدَّقَ بِهِ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اس کے جسم میں زخم لگایا جاتا اور وہ معاف کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی معافی کے بقدر اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6565]
تخریج الحدیث: «صحيح بشواهده۔ أخرجه الطيالسي: 587، والبيھقي: 8/ 56، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 11146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22701 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23077»
الحكم على الحديث:
صحيح بشواهده۔ أخرجه الطيالسي: 587
حدیث نمبر: 6566
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا رُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْرٌ فِيهِ الْقِصَاصُ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جب بھی قصاص والا معاملہ پیش کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے معاف کرنے کا حکم دیتے۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6566]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود:4497، والنسائي:8/ 37، وابن ماجه: 2692، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13220 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13252»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ قصاص کو معاف کردینا باعث ِ اجر عمل ہے اور یہ معافی کی بڑی قسموں میں سے ہے، اگر دیت کو بھی معاف کر دیا جائے تو یہ وسعت ِ ظرفی کی اعلی مثال ہو گی۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود:4497
7. بابُ الْقِصَاصِ فِي كَسْرِ السِّنُ
دانت توڑنے کے قصاص کا بیان
حدیث نمبر: 6567
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ النَّضْرِ عَمَّةَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَعَرَضُوا عَلَيْهِمُ الْأَرْشَ فَأَبَوْا طَلَبُوا الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ فَجَاءَ أَخُوهَا أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ قَالَ فَعَفَا الْقَوْمُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی پھوپھی ربیع بنت نضر نے ایک لونڈی کا دانت توڑ دیا، جب انہوں نے اس لونڈی کے ورثاء کے سامنے دیت پیش کی تو انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا، انہوں نے معافی کا مطالبہ کیا، لیکن وہ معاف کرنے پر بھی راضی نہ ہوئے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قصاص لینے کا حکم جاری کر دیا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی کا بھائی اور ان کا چچا سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا میری بہن ربیع کے دانت توڑے جائیں گے، نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! اس کے دانت نہیں توڑے جائیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے انس بن نضر! اللہ تعالی کی کتاب کامطالبہ قصاص کا ہے۔ اتنے میں مظلوم لوگوں نے معاف کر دیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھادیں تو وہ اس کو پورا کر دیتاہے۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6567]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2703، 4499، 6894، ومسلم: 1675، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12734»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2703
حدیث نمبر: 6568
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُخْتَ الرُّبَيِّعِ أُمَّ حَارِثَةَ جَرَحَتْ إِنْسَانًا فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقِصَاصُ الْقِصَاصُ فَقَالَتْ أُمُّ الرُّبَيِّعِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُقْتَصُّ مِنْ فُلَانَةَ لَا وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أُمَّ رُبَيِّعٍ كِتَابُ اللَّهِ قَالَتْ لَا وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا قَالَ فَمَا زَالَتْ حَتَّى قَبِلُوا مِنْهَا الدِّيَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ربیع کی بہن ام حارثہ نے ایک انسان کو زخمی کر دیا، وہ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قصاص ہوگا، قصاص۔ لیکن ام ربیع نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا فلاں عورت سے قصاص لیا جائے گا، نہیں، اللہ کی قسم! اس سے کبھی بھی قصاص نہیں لیا جائے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! اے ام ربیع! اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مسئلہ ہے۔ لیکن ام ربیع نے پھر کہا: نہیں، میں کہہ رہی ہوں کہ اللہ کی قسم ہے اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا، وہ یہ کہتی رہیں،یہاں تک کہ وہ لوگ دیت قبول کرنے پر رضا مند ہوگئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھادیں تو وہ اس کی قسم پوری کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6568]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14073»
وضاحت: فوائد: … ان دو احادیث میں جو مسئلہ پیش کیا گیا ہے، اس میں قصاص ہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قصاص کا ہی مطالبہ کیا، حقیقت میں اس باب میں قسم اٹھانا مفید نہیں ہوتا، سارا اختیار مظلوم کے ہاتھ میں ہوتا ہے، وہ قصاص لے، یا دیت لے، یا معاف کر دے، لیکن جب ان صحابہ نے قسم اٹھا لی تو اللہ تعالی نے ان کا لحاظ کیا اور متأثرہ لوگوں نے قصاص کا مطالبہ چھوڑ دیا اور دیت لینے پر راضی ہو گئے۔
پہلی سند کے مطابق ربیع بنت نضر نے دانت توڑا اور دوسری سندکے مطابق یہ کام ربیع کی بہن ام حارثہ نے کیا، امام نوویk کی رائے یہ ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں، دوسری رائے یہ ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہے اور ام حارثہ، ربیع بنت نضر کی ہی کنیت ہے، نہ کہ اس کی بہن کی۔
دوسرا شکال یہ ہے کہ ایک روایت میں دانت نہ توڑنے کی قسم سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کھائی تھی اور دوسری روایت میں ہے کہ یہ قسم سیدہ ام ربیع رضی اللہ عنہا نے کھائی تھی، اس کا حل یہ ہے کہ دونوں نے ہی قسم اٹھا لی تھی، دو روایتوں میں علیحدہ علیحدہ ذکر کیا گیا۔
پہلی سند کے مطابق ربیع بنت نضر نے دانت توڑا اور دوسری سندکے مطابق یہ کام ربیع کی بہن ام حارثہ نے کیا، امام نوویk کی رائے یہ ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں، دوسری رائے یہ ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہے اور ام حارثہ، ربیع بنت نضر کی ہی کنیت ہے، نہ کہ اس کی بہن کی۔
دوسرا شکال یہ ہے کہ ایک روایت میں دانت نہ توڑنے کی قسم سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کھائی تھی اور دوسری روایت میں ہے کہ یہ قسم سیدہ ام ربیع رضی اللہ عنہا نے کھائی تھی، اس کا حل یہ ہے کہ دونوں نے ہی قسم اٹھا لی تھی، دو روایتوں میں علیحدہ علیحدہ ذکر کیا گیا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14073
8. باب القِصَاصِ فِي قَطْعِ شَيْءٍ مِنَ الْأُذُن
کان کا بعض حصہ کاٹنے میں قصاص لینے کا بیان
حدیث نمبر: 6569
عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي سَهْمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مَاجِدَةُ قَالَ عَارَمْتُ غُلَامًا بِمَكَّةَ فَعَضَّ أُذُنِي فَقَطَعَ مِنْهَا أَوْ عَضَضْتُ أُذُنَهُ فَقَطَعْتُ مِنْهَا فَلَمَّا قَدِمَ إِلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَاجًّا رُفِعْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ انْطَلِقُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَإِنْ كَانَ الْجَارِحُ بَلَغَ أَنْ يُقْتَصَّ مِنْهُ فَلْيَقْتَصَّ قَالَ فَلَمَّا انْتَهَى بِنَا إِلَى عُمَرَ نَظَرَ إِلَيْنَا فَقَالَ نَعَمْ قَدْ بَلَغَ هَذَا أَنْ يُقْتَصَّ مِنْهُ ادْعُوا لِي حَجَّامًا فَلَمَّا ذَكَرَ الْحَجَّامَ قَالَ أَمَا إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَدْ أَعْطَيْتُ خَالَتِي غُلَامًا وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يُبَارِكَ اللَّهُ لَهَا فِيهِ وَقَدْ نَهَيْتُهَا أَنْ تَجْعَلَهُ حَجَّامًا أَوْ قَصَّابًا أَوْ صَائِغًا
۔ بنو سہم کے ماجدہ نامی آدمی سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: میں مکہ میں ایک غلام سے جھگڑ پڑا، اب اس نے میرے کان پر کاٹا جس سے اس کا ایک حصہ کٹ کر علیحدہ ہو گیا،یا میں نے اس کے کان پر کاٹا تھا، جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ حج کے لیے ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہمارے اس معاملے کو ان کی عدالت میں پیش کیا گیا، انہوں نے کہا: ان کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف لے چلو، اگر زخم قصاص لینے کے قابل ہے تو وہ قصاص دلوائیں، جب ہم کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو انھوں نے دیکھا اور کہا: جی یہ زخم قصاص کی حد تک پہنچ چکا، ایک حجام کو بلاؤ، جب انھوں نے حجام کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا: میں نے اپنی خالہ کو ایک غلام دیا اور میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے غلام میں برکت کرے گا اور میں نے اس کواس سے منع کیا کہ وہ اس کو سینگی لگانے والا، قصاب یا سنار بنائے۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6569]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الرجل الذي من بني سھم، وجھالة ماجدة، ويقال: ابن ماجدة و أبو ماجدة ايضا۔ أخرجه ابوداود: 3430، 3431، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 102»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن ارشادِ باری تعالی ہے: {وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ} … ”اور کان کے بدلے کان کا (بدلہ ہے)۔“ (سورۂ مائدہ: ۴۵)
اس لیے کان کا جو زخم قصاص کے قابل ہو گا، اس کا قصاص لیا جائے گا۔
اس لیے کان کا جو زخم قصاص کے قابل ہو گا، اس کا قصاص لیا جائے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الرجل الذي من بني سھم
9. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ عَضَ يَدَ رَجُلٍ فَانتَزعَهَا فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتهُ
اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
حدیث نمبر: 6570
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ وَسَلَمَةَ بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ مَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا فَاقْتَتَلَ هُوَ وَرَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَعَضَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ بِذِرَاعِهِ فَاجْتَبَذَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ فَذَهَبَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ الْعَقْلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ يَعَضُّهُ عَضِيضَ الْفَحْلِ ثُمَّ يَأْتِي يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ لَا دِيَةَ لَكَ فَأَطْلَقَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَأَبْطَلَهَا
۔ سیدنایعلی بن امیہ اور سلمہ بن امیہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے ساتھ ایک اور دوست بھی تھا، اس کی اور ایک مسلمان کی آپس میں لڑائی ہو گئی، اس آدمی نے دوسرے کے بازو پرکاٹا، اس نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا اور اس کا اگلا دانت گرا دیا، اس آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر دیت کا مطالبہ کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو سانڈ کی طرح کاٹتا ہے اور پھر آکر دیت کا مطالبہ کرتا ہے، اس کے لیے کوئی دیت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت کو باطل قرار دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6570]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2656، والنسائي: 8/ 30، وانظر الحديث بالطريق الثاني الآتي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18117»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2656
حدیث نمبر: 6571
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ وَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي وَكَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ وَقَالَ أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا قَالَ أَحْسَبُهُ قَالَ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ
۔ (دوسری سند) سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تنگی والے لشکر یعنی غزوۂ تبوک میں شریک ہوا، یہ غزوہ میرے ان اعمال میں سے ہے، جن پر مجھے سب سے زیادہ اعتماد ہے، میرا ایک مزدور تھا، وہ ایک آدمی سے لڑپڑا، ان میں سے ایک نے دوسرے کو کاٹا، دوسرے نے اپنی انگلی کھینچی، جس سے اس کادانت گرگیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شکایت لے کر گیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں دیئے رکھتا اور تو سانڈ کی طرح اس کو چباتا رہتا۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6571]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2265، ومسلم: 1674، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17966 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18129»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2265
حدیث نمبر: 6572
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَاتَلَ يَعْلَى بْنُ مُنْيَةَ أَوِ ابْنُ أُمَيَّةَ رَجُلًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ صَاحِبِهِ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ وَقَالَ حَجَّاجٌ ثَنِيَّتَيْهِ فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَعَضُّ أَحَدُكُمَا أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لَا دِيَةَ لَهُ وَفِي لَفْظٍ فَأَبْطَلَهَا وَقَالَ أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَ لَحْمَ أَخِيكَ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یعلی بن منیہ یا ابن امیہ کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، ایک نے دوسرے کے ہاتھ پر کاٹا، اس نے بچانے کے لیے اپنا ہاتھ کھینچا، جس کی وجہ سے کاٹنے والے کا ایک یا دو دانت گر پڑے، جب یہ دونوں جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو سانڈ کی مانند کاٹتا ہے، کوئی دیت نہیں ہے ایسے آدمی کے لیے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت کو باطل قرار دیا اور فرمایا: کیا تو چاہتا تھا کہ سانڈ کی طرح اپنے بھائی کے گوشت کو چبائے؟ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6572]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:6892، ومسلم: 1673، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19829 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20067»
وضاحت: فوائد: … کسی شخص پر حملہ ہو تو اسے اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے، اگر دفاعی کروائی کے دوران حملہ آور کا کوئی نقصان ہو جائے، حتی کہ وہ مر بھی جائے تو کوئی قصاص، دیتیا معاوضہ یا تاوان نہیں ہو گا، البتہ اگر دفاع کرنے والا کوئی جارحانہ کاروائی کرے گا تو وہ ذمہ دار ہو گا، یہ فیصلہ عدالت کرے گی کہ فلاں آدمی کی کاروائی جارحانہ ہے یا دفاعی۔ ان احادیث کے مطابق ایک آدمی نے دوسرے کی انگلیاں کاٹنا شروع کر دیں، وہ دفاع کرنے کے لیےیہی کچھ کر سکتا ہے کہ اپنا ہاتھ اس کے منہ سے باہر کھینچے، لیکن کاٹنے والے نے انگلیاں اتنی مضبوطی سے پکڑی ہوئی تھیں کہ اس کے دانت بھی باہر آ گئے، ایسے میں دفاعی کاروائی کرنے والا ذمہ دار نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري:6892
10. بَابُ النَّهْي عَنِ الْاقْتِصَاصِ فِي الطَّرْفِ قَبْلِ الْإِنْدِمَالِ
زخم کے درست ہونے سے پہلے قصاص لینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6573
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ طَعَنَ رَجُلًا بِقَرْنٍ فِي رِجْلِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِدْنِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَعْجَلْ حَتَّى يَبْرَأَ جُرْحُكَ قَالَ فَأَبَى الرَّجُلُ إِلَّا أَنْ يَسْتَقِيدَ فَأَقَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ قَالَ فَعَرِجَ الْمُسْتَقِيدُ وَبَرَأَ الْمُسْتَقَادُ مِنْهُ فَأَتَى الْمُسْتَقِيدُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَرِجْتُ وَبَرَأَ صَاحِبِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ آمُرْكَ أَنْ لَا تَسْتَقِيدَ حَتَّى يَبْرَأَ جُرْحُكَ فَعَصَيْتَنِي فَأَبْعَدَكَ اللَّهُ وَبَطَلَ جُرْحُكَ ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرَّجُلِ الَّذِي عَرِجَ مَنْ كَانَ بِهِ جُرْحٌ أَنْ لَا يَسْتَقِيدَ حَتَّى تَبْرَأَ جِرَاحَتُهُ فَإِذَا بَرِئَتْ جِرَاحَتُهُ اسْتَقَادَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کو سینگ مار کر اس کے پاؤں کو زخمی کر دیا، زخمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے اس سے قصاص دلوائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جلدی نہ کر، یہاں تک کہ تیرا زخم ٹھیک ہو جائے۔ لیکن جب اس آدمی نے قصاص لینے پر ہی اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قصاص دلوا دیا، لیکن اس کے بعد قصاص لینے والا لنگڑا ہوگیا اور جس سے قصاص لیا گیا تھا وہ صحت مند ہوگیا، اب وہ قصاص لینے والا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول!میں لنگڑا ہو گیا ہوں اور میرے متعلقہ آدمی صحت یاب ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا میں نے تجھے حکم نہیں دیا تھا کہ اپنے زخم کے درست ہونے تک قصاص نہ لے، لیکن تو نے میری نافرمانی کی، پس اللہ تعالی نے تجھے شفا سے محروم کر دیا اور تیرا زخم رائیگاں ہو گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لنگڑا ہو جانے والے اس آدمی کے واقعہ کے بعد یہ حکم دیا ہے کہ جس کو کوئی زخم لگ جائے، وہ اس وقت تک قصا ص نہ لے، جب تک اس کا زخم درست نہ ہوجائے، جب اس کا زخم درست ہو جائے تو تب وہ قصاص لے۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6573]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن اسحاق مدلس، وقد عنعن۔ أخرجه البيھقي: 8/ 67، والدارقطني: 3/88، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7034»
وضاحت: فوائد: … ملا علی قاری نے اس حکم کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ زخموں میں انجام کو دیکھا جاتا ہے، نہ ان کی حالیہ صورتحال کو، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ زخم جان لیوا ثابت ہو جائے۔ بہرحال یہ روایت ضعیف ہے۔(مرقاۃ المفاتیح)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
11. بَابُ هَلْ يُسْتَوْقَى الْقِصَاصُ وَالْحُدُودُ فِي الْحَرَم وَالْمَسَاجِدِ أَمْ لَا؟
کیا حرم یا دیگر مساجد میںقصاصیا حدیں لگائی جا سکتی ہیں؟
حدیث نمبر: 6574
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ وَلَا يُسْتَقَادُ فِيهَا
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجدوں میں نہ حدیں لگائی جائیں اور نہ قصاص لیا جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6574]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة العباس بن عبد الرحمن المدني۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 42، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 3131، والدارقطني في ’’السنن‘‘: 3/ 86، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15579 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15664»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت درج ذیل الفاظ کے ساتھ صحیح ہے:
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُسْتَقَادَ فِی الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِیہِ الْأَشْعَارُ، وَأَنْ تُقَامَ فِیہِ الْحُدُودُ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ مسجد میں قصاص لیا جائے، اس میں اشعار پڑھے جائیں اور اس میں حدیں لگائی جائیں۔ (ابوداود: ۴۴۹۰)
معلوم ہوا کہ مسجد میں نہ کوئی حد لگائی جائے اور نہ قصاص لیا جائے، کیونکہ مسجد کی تعمیر کا مقصد اللہ تعالی کا ذکر، تلاوت اور نماز ہے۔
ابن خطل کو قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ یہ مرتد ہوگیا تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خادم مسلمان کو قتل کیا تھا اور اس کی دو لونڈیاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مذمت کیا کرتی تھیں۔ (عبداللہ رفیق)
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُسْتَقَادَ فِی الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِیہِ الْأَشْعَارُ، وَأَنْ تُقَامَ فِیہِ الْحُدُودُ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ مسجد میں قصاص لیا جائے، اس میں اشعار پڑھے جائیں اور اس میں حدیں لگائی جائیں۔ (ابوداود: ۴۴۹۰)
معلوم ہوا کہ مسجد میں نہ کوئی حد لگائی جائے اور نہ قصاص لیا جائے، کیونکہ مسجد کی تعمیر کا مقصد اللہ تعالی کا ذکر، تلاوت اور نماز ہے۔
ابن خطل کو قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ یہ مرتد ہوگیا تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خادم مسلمان کو قتل کیا تھا اور اس کی دو لونڈیاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مذمت کیا کرتی تھیں۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة العباس بن عبد الرحمن المدني۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 42