🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلاَ تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: «وَلاَ تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ» ”اور نہ زبردستی کرو اپنی باندیوں پر بدکاری کے واسطے“۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 3029 ترقیم شاملہ: -- 7553
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنَّ جَارِيَةً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ يُقَالُ لَهَا مُسَيْكَةُ، وَأُخْرَى يُقَالُ لَهَا أُمَيْمَةُ، فَكَانَ يُكْرِهُهُمَا عَلَى الزِّنَا، فَشَكَتَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 33 ".
ابوعوانہ نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عبداللہ بن ابی ابن سلول کی ایک باندی تھی، اس کا نام مسیکہ تھا، اور دوسری (باندی) کو امیمہ کہا جاتا تھا۔ وہ ان دونوں سے (زبردستی) زنا کرانا چاہتا تھا۔ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس بات کی شکایت کی تو اللہ عزوجل نے آیت: "اور اپنی نوجوان لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں۔" اس (اللہ) کے فرمان: "بڑا بخشنے والا، ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔" تک نازل فرمائی۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7553]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی بن سلول کی ایک باندی تھی، اس کا نام مسیکہ تھا اور دوسری (باندی) کو امیمہ کہا جاتا تھا۔ وہ ان دونوں سے (زبردستی) زنا کرانا چاہتا تھا۔ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس بات کی شکایت کی تو اللہ عزوجل نے یہ آیت: ﴿وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا﴾ [سورة النور: 33] اور اپنی نوجوان لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں اس (اللہ) کے فرمان: «غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [سورة النور: 33] بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے تک نازل فرمائی۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7553]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3029
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: «أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ» ”یہ لوگ جن میں وہ پکارتے ہیں تلاش کرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے وسیلہ“۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 3030 ترقیم شاملہ: -- 7554
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ " فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ سورة الإسراء آية 57، قَالَ: كَانَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا، وَكَانُوا يُعْبَدُونَ فَبَقِيَ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ عَلَى عِبَادَتِهِمْ وَقَدْ أَسْلَمَ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ ".
عبداللہ بن ادریس نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے ابومعمر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق روایت کی: "وہ لوگ جنھیں یہ (کافر) پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ نزدیک ہو گا۔" (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہو گئی تھی اور (اس سے پہلے) ان کی پوجا کی جاتی تھی، تو جو ان کی عبادت کیا کرتے تھے، ان کی عبادت پر قائم رہے جبکہ جنوں کی یہ جماعت خود اسلام لے آئی۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7554]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عز وجل کے اس فرمان ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ﴾ [سورة الإسراء: 57] کے متعلق روایت ہے کہ وہ لوگ جنھیں یہ (کافر) پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ نزدیک ہوگا، (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہو گئی تھی اور (اس سے پہلے) ان کی پوجا کی جاتی تھی، تو جو ان کی عبادت کیا کرتے تھے، وہ ان کی عبادت پر قائم رہے جبکہ جنوں کی یہ جماعت خود اسلام لے آئی۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7554]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3030
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 3030 ترقیم شاملہ: -- 7555
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ " أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ سورة الإسراء آية 57، قَالَ: كَانَ نَفَرٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعْبُدُونَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ، فَأَسْلَمَ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ وَاسْتَمْسَكَ الْإِنْسُ بِعِبَادَتِهِمْ، فَنَزَلَتْ أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ سورة الإسراء آية 57 "،
سفیان نے اعمش سے انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے ابومعمر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے (اس آیت کے متعلق) روایت کی: "وہ لوگ جنھیں یہ (کافر) پکارتے ہیں، وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں۔" (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: انسانوں کی ایک جماعت جنوں کی ایک جماعت کی پرستش کرتی تھی، تو جنوں کی جماعت نے اسلام قبول کر لیا اور انسان بدستور ان کی عبادت سے لگے رہے۔ اس پر (یہ آیت) نازل ہوئی: "وہ لوگ جنھیں یہ پکارتے ہیں، وہ خود اپنے رب کی طرف (کسی نیک عمل کا) وسیلہ تلاش کرتے ہیں۔" [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7555]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ﴿وہ لوگ جنہیں یہ (کافر) پکارتے ہیں، وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں﴾ [سورة الإسراء: 57] ۔ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: انسانوں کی ایک جماعت جنوں کی ایک جماعت کی پرستش کرتی تھی، تو جنوں کی جماعت نے اسلام قبول کر لیا اور انسان بدستور ان کی عبادت سے لگے رہے، اس پر (یہ آیت) نازل ہوئی: ﴿وہ لوگ جنہیں یہ پکارتے ہیں، وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں﴾ [سورة الإسراء: 57] ۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7555]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3030
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 3030 ترقیم شاملہ: -- 7556
وحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
شعبہ نے سلیمان (اعمش) سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7556]
امام صاحب رحمہ اللہ یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7556]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3030
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 3030 ترقیم شاملہ: -- 7557
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ " أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ سورة الإسراء آية 57، قَالَ: نَزَلَتْ فِي نَفَرٍ مِنَ الْعَرَبِ كَانُوا يَعْبُدُونَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ، فَأَسْلَمَ الْجِنِّيُّونَ وَالْإِنْسُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ، فَنَزَلَتْ أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ سورة الإسراء آية 57 ".
عبداللہ بن عتبہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے (اس آیت کے متعلق) روایت کی: "وہ لوگ جنھیں یہ (کافر) پکارتے ہیں، وہ خود اپنے رب کی طرف (کسی نیک عمل کا) وسیلہ ڈھونڈتے ہیں۔" انہوں نے کہا: یہ (آیت) عربوں کے ایک ایسے گروہ کے بارے میں نازل ہوئی جو جنوں کے ایک گروہ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ جنوں نے اسلام قبول کر لیا جبکہ وہ انسان جو ان کی عبادت کیا کرتے تھے، انھیں پتہ تک نہ چلا۔ اس پر یہ آیت اتری: "وہ لوگ جنھیں یہ (کافر) پکارتے ہیں، وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں۔" [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7557]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں روایت ہے کہ: ﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ﴾ [سورة الإسراء: 57] وہ لوگ جنہیں یہ (کافر) پکارتے ہیں، وہ خود اپنے رب کی طرف (کسی نیک عمل کا) وسیلہ ڈھونڈتے ہیں، انہوں نے کہا: یہ (آیت) عربوں کے ایک ایسے گروہ کے بارے میں نازل ہوئی جو جنوں کے ایک گروہ کی عبادت کیا کرتے تھے، ان جنوں نے اسلام قبول کر لیا جبکہ وہ انسان جو ان کی عبادت کیا کرتے تھے، انہیں پتا تک نہ چلا، اس پر یہ آیت اتری: ﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ﴾ [سورة الإسراء: 57] وہ لوگ جنہیں یہ (کافر) پکارتے ہیں، وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7557]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3030

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب فِي سُورَةِ بَرَاءَةَ وَالأَنْفَالِ وَالْحَشْرِ:
باب: سورہ براءۃ اور انفال اور حشر کے بارے میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 3031 ترقیم شاملہ: -- 7558
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ " سُورَةُ التَّوْبَةِ، قَالَ: آلتَّوْبَةِ، قَالَ: بَلْ هِيَ الْفَاضِحَةُ مَا زَالَتْ تَنْزِلُ وَمِنْهُمْ وَمِنْهُمْ حَتَّى ظَنُّوا أَنْ لَا يَبْقَى مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا ذُكِرَ فِيهَا، قَالَ: قُلْتُ: سُورَةُ الْأَنْفَالِ، قَالَ: تِلْكَ سُورَةُ بَدْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: فَالْحَشْرُ قَالَ: نَزَلَتْ فِي بَنِي النَّضِيرِ ".
ابوبشر نے سعید بن جبیر سے روایت کی، کہا: کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ سورۃ التوبہ؟ انہوں نے کہا کہ سورۃ التوبہ؟ اور کہا کہ بلکہ وہ سورت تو ذلیل کرنے والی ہے اور فضیحت کرنے والی ہے (کافروں اور منافقوں کی)۔ اس سورت میں برابر اترتا رہا کہ "اور ان میں سے" "اور ان میں سے" یہاں تک کہ منافق لوگ سمجھے کہ کوئی باقی نہ رہے گا جس کا ذکر اس سورت میں نہ کیا جائے گا۔ میں نے کہا کہ سورۃ الانفال؟ انہوں نے کہا کہ وہ سورت تو بدر کی لڑائی کے بارے میں ہے (اس میں مال غنیمت کے احکام مذکور ہیں)۔ میں نے کہا کہ سورۃ الحشر؟ انہوں نے کہا کہ وہ بنی نضیر (کے انجام) کے بارے میں نازل ہوئی۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7558]
حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: سورۃ التوبہ؟ انہوں نے کہا: سورۃ التوبہ؟ بلکہ وہ سورت تو ذلیل کرنے والی ہے اور فضیحت کرنے والی ہے (کافروں اور منافقوں کی)۔ اس سورت میں برابر «مِنْهُمْ» «مِنْهُمْ» ان میں سے، ان میں سے نازل ہوتا رہا یہاں تک کہ منافق لوگ سمجھے کہ کوئی باقی نہ رہے گا جس کا ذکر اس سورت میں نہ کیا جائے گا۔ میں نے کہا: سورۃ الانفال؟ انہوں نے کہا: وہ سورت تو بدر کی لڑائی کے بارے میں ہے (اس میں مال غنیمت کے احکام مذکور ہیں)۔ میں نے کہا: سورۃ الحشر؟ انہوں نے کہا: وہ بنی نضیر (کے انجام) کے بارے میں نازل ہوئی۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7558]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3031
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب فِي نُزُولِ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ:
باب: شراب کی حرمت کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 3032 ترقیم شاملہ: -- 7559
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ أَلَا وَإِنَّ الْخَمْرَ نَزَلَ تَحْرِيمُهَا يَوْمَ نَزَلَ، وَهِيَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ مِنَ الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالْعَسَلِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ، وَثَلَاثَةُ أَشْيَاءَ وَدِدْتُ أَيُّهَا النَّاسُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَهِدَ إِلَيْنَا فِيهَا الْجَدُّ، وَالْكَلَالَةُ، وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا ".
علی بن مسہر نے ابوحیان سے، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر (کھڑے ہو کر) خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: اس کے بعد: سنو! شراب کی حرمت نازل ہوئی، جس دن وہ نازل ہوئی (اس وقت) وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی: گندم، جو، خشک کھجور، انگور اور شہد سے، خمر وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے۔ اور لوگو! تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں شدت سے چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ہمیں اور زیادہ قطعیت سے بتایا ہوتا: دادا اور کلالہ کی میراث اور سود کے ابواب میں سے چند ابواب۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7559]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر (کھڑے ہوکر) خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: اس کے بعد! سنو، شراب کی حرمت نازل ہوئی، جس دن وہ نازل ہوئی (اس وقت) وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی: گندم، جو، خشک کھجور، انگور اور شہد سے، خمر وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے۔ اور لوگو! تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں شدت سے چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ہمیں اور زیادہ قطعیت سے بتایا ہوتا: دادا اور کلالہ کی میراث اور سود کے ابواب میں سے چند ابواب۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7559]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3032
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 3032 ترقیم شاملہ: -- 7560
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولَ: " أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ، مِنَ الْعِنَبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْعَسَلِ، وَالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ، وَثَلَاثٌ أَيُّهَا النَّاسُ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَهِدَ إِلَيْنَا فِيهِنَّ عَهْدًا نَنْتَهِي إِلَيْهِ، الْجَدُّ، وَالْكَلَالَةُ، وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا "،
ابن ادریس نے کہا: ہمیں ابوحیان نے شعبی سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر فرماتے ہوئے سنا: حمد و ثنا کے بعد، لوگو! شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی، انگور، کھجور، شہد، گندم اور جو سے اور خمر (شراب) وہ ہے جو عقل کو ڈھانک دے۔ لوگو! تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں چاہتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اور زیادہ قطعیت سے واضح فرما دیتے: دادا اور کلالہ کی میراث اور سود کی صورتوں میں سے چند صورتیں۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7560]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر فرماتے ہوئے سنا: حمد و ثنا کے بعد، لوگو! شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی: انگور، کھجور، شہد، گندم اور جو سے، اور «الْخَمْرُ» (شراب) وہ ہے جو عقل کو ڈھانک دے۔ لوگو! تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں چاہتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اور زیادہ قطعیت سے واضح فرما دیتے: دادا اور کلالہ کی میراث اور ابوابِ «الرِّبَا» کے مسائل۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7560]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3032
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 3032 ترقیم شاملہ: -- 7561
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي حَيَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ عُلَيَّةَ فِي حَدِيثِهِ الْعِنَبِ كَمَا، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ وَفِي حَدِيثِ عِيسَى الزَّبِيبِ كَمَا قَالَ ابْنُ مُسْهِرٍ.
اسماعیل بن علیہ اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے ابوحیان سے اسی سند کے ساتھ ان دونوں کی حدیث کے مانند روایت کی، البتہ ابن علیہ کی حدیث میں ہے: انگور، جس طرح ابن ادریس نے کہا ہے۔ اور عیسیٰ کی روایت میں کشمش ہے۔ جس طرح ابن مسہر نے کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7561]
امام صاحب یہی روایت دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، ابن علیہ رحمہ اللہ کی روایت میں ابن ادریس رحمہ اللہ کی طرح انگور کا لفظ ہے اور عیسیٰ رحمہ اللہ کی حدیث میں ابن مسہر رحمہ اللہ کی طرح «الزَّبِيبِ» منقہ کا لفظ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7561]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3032
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: «هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ» ”یہ دو جھگڑا کرنے والے (گروہ) ہیں جنہوں نے جھگڑا کیا اپنے رب کے بارے میں“۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 3033 ترقیم شاملہ: -- 7562
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُقْسِمُ قَسَمًا إِنَّ " هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ سورة الحج آية 19 إِنَّهَا نَزَلَتْ فِي الَّذِينَ بَرَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ حَمْزَةُ، وَعَلِيٌّ، وَعُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ، وَعُتْبَةُ، وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ "،
ہشیم نے ابوہاشم سے، انہوں نے ابومجلز سے اور انہوں نے قیس بن عباد سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو قسم کھا کر کہتے ہوئے سنا: «هَٰذَانِ خَصْمَانِ ٱخْتَصَمُوا۟ فِى رَبِّهِمْ» [سورہ الحج: 19] یہ دو جھگڑنے والے ہیں جنھوں نے اپنے رب کے معاملے میں جھگڑا کیا۔ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جنھوں نے بدر کے دن مبارزت (رو در رو سیدھی لڑائی) کی: حضرت حمزہ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم اور (دوسری طرف سے) ربیعہ کے دو بیٹے: عتبہ اور شیبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7562]
قیس بن عباد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ پورے زور سے قسم اٹھا کر کہتے تھے کہ ﴿هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ﴾ یہ دو جھگڑنے والے ہیں جنہوں نے اپنے رب کے معاملے میں جھگڑا کیا [سورة الحج: 19] ، یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری جنہوں نے بدر کے دن مبارزت میں حصہ لیا: حمزہ، علی، عبیدہ بن حارث، اور ربیعہ کے بیٹے عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7562]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3033
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں