🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ فِي أَنَّ الْأَصْلَ فِي الْأَعْيَانِ وَالْأَشْيَاءِ الْإِبَاحَةُ إِلَى أَنْ يُرِدَ مَنْعُ أَوْ الْزَام
اس چیز کا بیان کہ تمام اشیاء کا اصل حکم اباحت کا ہے، جب تک منع نہ کر دیا جائے¤یا فرض نہ قرار دیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7281
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا رَجُلًا سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ وَنَقَّرَ عَنْهُ حَتَّى أُنْزِلَ فِي ذَلِكَ الشَّيْءِ تَحْرِيمٌ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ آدمی ہے، جو کسی چیز کے متعلق سوال کرتا ہے اور اس کے بارے میں اتنا کریدتا ہے کہ اس کے سوال کی وجہ سے اس چیز کو حرام کر دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7281]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7289، ومسلم: 2358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1520»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7282
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يَحْرُمْ فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ
۔ (دوسری سند) سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں وہ مسلمان سب سے بڑا مجرم ہے، جو کسی ایسے معاملہ کے بارے میں سوال کرتاہے، جو کہ حرام نہ تھا، لیکن اس کے سوال کی وجہ سے حرام کر دیا گیا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7282]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1545»
وضاحت: فوائد: … سوال کی دو اقسام ہیں:
(۱) وہ سوال جو ان امورِ دین سے متعلقہ ہو جو عام ضرورت ہونے کی وجہ سے توضیح طلب ہوتے ہیں، ایسا سوال کرناجائزہے، جیسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اور دوسرے صحابہ کا شراب کے بارے میں سوال کرتے رہنا، یہاں تک اسے حرام قرار دیا گیا، کیونکہ ضرورت کا تقاضا یہ تھا کہ اسے حرام قرار دیا جائے۔ اسی طرح ظالم امراء کی اطاعت کرنے، کلالہ، جوا، حیض، شکار اور حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے کے بارے میں سوال کرنا، کیونکہ یہ ضروریات ہیں۔
(۲) وہ سوال جو محض تکلف اور تعنت کی بنا پر کیا جائے، مثلا ایسی چیز کے بارے میں پوچھنا جو ابھی واقع نہ ہوئی ہو یا جس کی کوئی ضرورت نہ ہو۔ مثلا: عذاب ِ قبر جیسے غیبی امور کی حقیقت کے بارے میں سوال کرنا، اسی طرح قیامت کے بارے میں، روح کی حقیقت اور اس امت کی مدت کے بارے میں سوال کرنا یا کوئی ایسا سوال کرنا جس کا عمل سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اس اور دیگر احادیث میں ایسے سوالات سے منع کیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7283
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَمَا أَمَرْتُكُمْ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس وقت تک چھوڑ دو، جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کی ہلاکت کا سبب ہی یہ چیز بنی تھی کہ وہ اپنے انبیاء سے کثرت سے سوال کرتے تھے اور پھر ان پر اختلاف کیا کرتے تھے، پس میں جس چیز سے تمہیں منع کر دوں، اس سے باز آ جاؤ اور جس چیز کا تمہیں حکم دے دوں، اپنی طاقت کے مطابق اسے پورا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7283]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الشافعي: 1/ 199، والحميدي: 1125، وابن حبان: 18، وابويعلي: 6676، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7361»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7284
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا [آل عمران: 97] قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ فَقَالُوا أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ فَقَالُوا أَفِي كُلِّ عَامٍ فَقَالَ لَا وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ [المائدة: 101] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا} (سورۂ آل عمران: ۹۷) یعنی: جو شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو اس پر بیت اللہ کا حج لازم ہے۔ تو صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ انہوں نے پھر کہا: کیا ہر سال یہ فرض ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ انھوں نے تیسری مرتبہ کہا: کیا ہر سال یہ عبادت فرض ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَسْأَلُوْا عَنْ أَشْیَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ} (سورۂ مائدۃ: ۱۰۱) یعنی: ایمان والو! تم ایسی باتوں کے متعلق مت پوچھا کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے بیان کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7284]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الاعلي بن عامر الثعلبي ضعيف، ثم ھو منقطع ايضا، ابوالبختري لم يسمع عليا رضي الله عنه، أخرجه ابن ماجه: 2884، والترمذي: 814، 3055، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 905»
وضاحت: فوائد: … یہ اصولِ فقہ کا ایک مسلّمہ قانون ہے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کا مطلق حکم، محکوم بہ کے تکرار پر دلالت نہیں کرتا، یعنی جب شریعت میں کسی قید کے بغیر کوئی حکم دیا جائے اور بندہ اس پر ایک دفعہ عمل کر لے، تو وہ اس حکم سے بریٔ الذمہ ہو جائے گا اور اس سے دوبارہ اس حکم کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔بالکل یہی مثال اس حدیث ِ مبارکہ میں ہے کہ اللہ تعالی نے مطلق طور پر حج کو فرض قرار دیا، اس اطلاق کا تقاضا یہ ہے کہ جب آدمی ایک دفعہ حج کر لے گا تو وہ بریٔ الذمہ ہو جائے گا، لیکن جب صحابہ نے اس قانون پر اکتفا نہ کیا اور مزید پابندیوں کے بارے میں سوال کرنا شروع کر دیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناگوار گزرا اور اللہ تعالی نے اس قسم کے سوالات سے منع کر دیا۔ حج کی فرضیت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۴۰۶۴)۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب
ان چیزوں سے متعلقہ ابواب، جن کاکھانا مباح اور حلال ہے
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: Q7285]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَيْلِ وَحِمَارِ الْوَحْشِ
گھوڑے اورجنگلی گدھے کی حلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7285
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ذَبَحْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنِ الْخَيْلِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے جنگ خیبر کے دن گھوڑے، خچر اور گدھے ذبح کئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خچر اور گدھے سے تو منع کر دیا، لیکن گھوڑے کا گوشت کھانے سے منع نہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7285]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 3789، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14840 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14901»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7286
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَكَلْنَا زَمَنَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَحُمُرَ الْوَحْشِ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ہم نے جنگ خیبر کے دن گھوڑے اورجنگلی گدھے کا گوشت کھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں گھریلو گدھے کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7286]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1941، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14504»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7287
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ نَحَرْنَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا فَأَكَلْنَا مِنْهُ
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں گھوڑا ذبح کیا اور ہم نے اس کا گوشت کھایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7287]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5510، ومسلم: 1942، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26919 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27458»
وضاحت: فوائد: … گدھے اور خچر کا معاملہ تو واضح اور اتفاقی ہے کہ پہلے وہ حلال تھے، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حرام قرار دیا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّبُ
سانڈا کھانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7288
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَرِّمِ الضَّبَّ وَلَكِنْ قَذِرَهُ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سانڈا کو حرام قرار نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ناپسند کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7288]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 194»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7289
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ خَالَتَهُ أُمَّ حُفَيْدٍ أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَضُبًّا وَأَقِطًا قَالَ فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَمِنَ الْأَقِطِ وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا فَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُؤْكَلْ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ مَنْ قَالَ لَوْ كَانَ حَرَامًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ ان کی خالہ سیدہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے گھی، سانڈا اور پنیر کا تحفہ بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھی کھایا اور پنیر میں سے بھی کچھ کھایا، البتہ کراہت اور گھن محسوس کرتے ہوئے سانڈا کا گوشت نہ کھایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستر خوان پر سانڈا کا گوشت کھایا گیا، اگر یہ جانور حرام ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستر خوان پر تو نہ کھایا جاتا۔ ابوبشر کہتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ اگر یہ جانور حرام ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستر خوان پر نہ کھایا جاتا یہ بات کس نے کہی ہے، انہو ں نے کہا: یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7289]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2572، 5402، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2299»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں