🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّبُ
سانڈا کھانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7300
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ وَقَالَ لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الَّتِي مُسِخَتْ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سانڈا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ شاید یہ ان قوموں میں سے ہو، جنہیں مسخ کر دیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7300]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1949، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14460 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14514»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1949
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7301
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَلَمْ يَأْكُلْهُ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُطْعِمُهُ الْمَسَاكِينَ قَالَ لَا تُطْعِمُوهُمْ مِمَّا لَا تَأْكُلُونَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سانڈا لایا گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ اس کو کھایا اور نہ اس سے منع کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ مسکینوں کو نہ کھلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خود نہیں کھاتے،وہ ان کو بھی نہ کھلاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7301]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: لاتطعموھم مما لا تاكلون وھذا اسناد اختلف فيه علي حماد بن ابي سليمان، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 267، وابويعلي: 4461، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24736 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25243»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: لاتطعموھم مما لا تاكلون وھذا اسناد اختلف فيه علي حماد بن ابي سليمان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7302
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا أَرْضًا كَثِيرَةَ الضِّبَابِ قَالَ فَأَصَبْنَا مِنْهَا وَذَبَحْنَا قَالَ فَبَيْنَا الْقُدُورُ تَغْلِي بِهَا إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فُقِدَتْ وَفِي رِوَايَةٍ مُسِخَتْ وَإِنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ هِيَ فَأَكْفِئُوهَا فَأَكْفَأْنَاهَا وَفِي رِوَايَةٍ فَأَكْفَأْنَاهَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ
۔ سیدنا عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم ایک علاقے میں اترے، وہاں سانڈے بہت زیادہ تھے، ہم نے ان کو حاصل کیا اور ذبح کیا اور پکانا شروع کر دیا، ہماری ہنڈیاں جوش مار رہی تھیں کہ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اورفرمایا: بنی اسرائیل کی ایک امت گم پائی گئی، ایک روایت میں ہے کہ مسخ کی گئی، مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ امت یہی سانڈے ہو، لہٰذا ہنڈیاں الٹ دو۔ پس ہم نے ہنڈیاں الٹ دیں، حالانکہ ہم سخت بھوک سے دو چار تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7302]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 1217، وابويعلي: 931، وابن حبان: 5266، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17909»
وضاحت: فوائد: … ضَبّ (سانڈا)جنگلی چوہے کے مشابہ ایک جانور ہے، لیکن اس سے بڑا ہوتا ہے، اس کی مادہ کو ضَبّۃ کہا جاتا ہے، ہمارے ہاں عموماً اس کا معنی گوہ کیا جاتا ہے، لیکن جو اوصاف ضب کے بیان کیے گئے ہیں، وہ تمام کے تمام سانڈے میں پائے جاتے ہیں، اس لیے درست بات یہی ہے کہ اس سے مراد سانڈا ہے، گوہ نہیں، واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّبُعِ
بجو کے حلال ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7303
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ الضَّبُعُ آكُلُهَا قَالَ نَعَمْ قُلْتُ أَصَيْدٌ هِيَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ أَسَمِعْتَ ذَاكَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ
۔ عبد اللہ الرحمن بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا میں بجو کا گوشت کھا سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا یہ شکار ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا آپ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7303]
تخریج الحدیث: «اسناده علي شرط مسلم، أخرجه الترمذي: 851، 1791، والنسائي: 5/ 191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14478»

الحكم على الحديث:
اسناده علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7304
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي نَاسٌ مِنْ قَوْمِي أَنْ أَسْأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ سِنَانٍ يُحَدِّدُونَهُ وَيُرَكِّزُونَهُ فِي الْأَرْضِ فَيُصْبِحُ وَقَدْ قَتَلَ الضَّبُعَ أَتُرَاهُ ذَكَاتَهُ قَالَ فَجَلَسْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ فَإِذَا عِنْدَهُ شَيْخٌ أَبْيَضُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لِي وَإِنَّكَ لَتَأْكُلُ الضَّبُعَ قَالَ قُلْتُ مَا أَكَلْتُهَا قَطُّ وَإِنَّ نَاسًا مِنْ قَوْمِي لَيَأْكُلُونَهَا قَالَ فَقَالَ إِنَّ أَكْلَهَا لَا يَحِلُّ قَالَ فَقَالَ الشَّيْخُ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي خِطْفَةٍ وَعَنْ كُلِّ نُهْبَةٍ وَعَنْ كُلِّ مُجَثَّمَةٍ وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ قَالَ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ صَدَقَ
۔ عبد اللہ بن یزید سعدی کہتے ہیں: میری قوم میں سے کچھ لوگوں نے مجھے کہا کہ میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے دریافت کروں کہ لوگ نیزے کی نوک تیز کر کے اسے زمین پر گاڑھ دیتے ہیں، اس سے بجو مارا جاتا ہے، کیا اس طرح ذبح کرنا آپ کی رائے میں درست ہے؟ پس میں سعید بن مسیب کے پاس بیٹھ گیا، ان کے پاس ایک بزرگ تشریف فرما تھے، جن کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، وہ شامی تھے، میں نے اس بارے میں ان سے دریافت کیا، انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تو بجو کھاتا ہے؟ میں نے کہا: میں نے تو کبھی نہیں کھایا، البتہ میری قوم کے لوگ کھاتے ہیں، انہوں نے کہا: بجو کھانا حلال نہیں، بزرگ نے کہا: اے اللہ کے بندے! کیا میں تجھے وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، ضرور بیان کریں، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان چیزوں سے منع کیا ہے: زندہ جانور سے کاٹ لیے جانے والا حصہ، لوٹا ہوا مال، جس جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بنایا جائے اور ہر کچلی والا درندہ۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں: بزرگ نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7304]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28062»

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7305
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنِ الضَّبُعِ فَكَرِهَهَا فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ قَوْمَكَ يَأْكُلُونَهُ قَالَ لَا يَعْلَمُونَ فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ الْمُتَقَدِّمَ
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے بجو کے بارے میں پوچھا، انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا، میں نے کہا: آپ کی قوم تو کھاتی ہے، انھوں نے کہا: ان کو علم نہیں ہے، ان کے پاس بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے کہا: میں نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے سنا، پھر اوپر والی حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7305]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22049»
وضاحت: فوائد: … بجو حلال جانور ہے، یہ قبروں کو اکھاڑنے میں مشہور ہے، کیونکہ اس کو بندے کا گوشت بہت پسند ہے، اس کی حیران کن صفت یہ ہے کہ یہ ایک سال مذکر رہتا ہے اور ایک سال مؤنث، مذکر کی حالت میں حاملہ ہو جاتا ہے اور مؤنث کی حالت میں بچہ جنم دیتا ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22049
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَرْتَبِ وَالْفُنْفُدِ وَالدَّجَاجِ
خرگوش ‘ سیہی اور مرغی کے گوشت کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7306
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ ثَارَتْ أَرْنَبٌ فَتَبِعَهَا النَّاسُ فَكُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهَا فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ قَالَ فَأَمَرَ بِهَا فَذُبِحَتْ ثُمَّ شُوِّيَتْ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ عَجْزَهَا فَقَالَ ائْتِ بِهِ النَّبِيَّ فَأَتَيْتُهُ بِهِ قَالَ قُلْتُ إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ أَرْسَلَ إِلَيْكُمْ بِعَجْزِ هَذِهِ الْأَرْنَبِ قَالَ فَقَبِلَهُ مِنِّي
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک خرگوش بھاگا، لوگوں نے اس کا پیچھا کیا، میں ان میں سب سے آگے نکل گیا اور خرگوش پکڑ لیا، میں اسے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، انہوں نے اسے ذبح کرنے کا کہا، پس اسے ذبح کیا گیا اور پھر اس کا گوشت بھونا گیا، پھر اس کا سرین والا پچھلا حصہ پکڑا اور کہا: جاؤ اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دے آؤ، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے خرگوش کا یہ سرین بھیجا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قبول کر لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7306]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13464»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7307
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَادَ أَرْنَبَيْنِ فَلَمْ يَجِدْ حَدِيدَةً يَذْبَحُهُمَا بِهَا فَذَبَحَهُمَا بِمَرْوَةٍ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهِمَا
۔ سیدنا محمد بن صفوان سے مروی ہے کہ انھوں نے دو خرگوش شکار میں پکڑے، لوہے کی کوئی چیز موجود نہ تھی، جس کے ساتھ انہیں ذبح کرتے، سو انھوں نے ایک پتھر کی نوک کے ساتھ انہیں ذبح کر دیا، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ان کو کھانے کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7307]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 2822، والنسائي: 7/ 197، وابن ماجه: 3175، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15870 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15965»
وضاحت: فوائد: … چھری کی مانند اگر مضبوط اور تیز دھار پتھر ہو جو کاٹنے کے کام آئے تو اس سے ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7308
عَنْ عِيسَى بْنِ نُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَسُئِلَ عَنْ أَكْلِ الْقُنْفُذِ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا [الأنعام: 145] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خَبِيثٌ مِنَ الْخَبَائِثِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنْ كَانَ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ كَمَا قَالَهُ
۔ نمیلہ فزاری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، ان سے سیہہ کے حکم کے بارے میں پوچھا گیا، انھوں نے جواباً یہ آیت پڑھی: {قُلْ لَآ أَجِدُ فِیمَا أُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا … } … کہہ دو کہ جو میری طرف وحی کی گئی ہے، اس میں حرام صرف یہ پاتا ہوں کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو یہ پلید ہے یا فسق ہے یا جو غیر اللہ کے نام پر پکاری گئی چیز ہو۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماکے پاس بیٹھے ہوئے ایک بزرگ نے کہا: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں اس سیہہ کا ذکر کیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ خبیث جانوروں میں ایک خبیث جانور ہے۔ یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے کہا: اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق یہ فرمایا ہے تو پھر تو اسی طرح ہے جس طرح آپ نے فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7308]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عيسي بن نميلة الفزاري وأبيه، ولابھام الراوي عن ابي ھريرة، أخرجه ابوداود: 3799، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8941»
وضاحت: فوائد: … سیہی ایک چھوٹا سا کانٹے دار جانور ہوتا ہے، کوئی ایسی صحیح دلیل نہیں ہے، جو اس کی حرمت پر دلالت کرتی ہو۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عيسي بن نميلة الفزاري وأبيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7309
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَاءَ رَجُلٌ وَهُوَ يَأْكُلُ دَجَاجًا فَتَنَحَّى فَقَالَ إِنِّي حَلَفْتُ أَنْ لَا آكُلَهُ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا قَذِرًا فَقَالَ لَهُ ادْنُهْ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا، جبکہ وہ مرغی کا گوشت کھا رہے تھے، وہ علیحدہ ہو گیا اور اس نے یہ کھانا نہ کھایا۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے جب اس سے دریافت کیا تو اس نے کہا: میں نے اسے نہ کھانے کی قسم اٹھائی ہے، کیونکہ میں نے اسے دیکھا کہ یہ گندگی کھاتی ہے، سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: قریب ہو جاؤ اور اسے کھاؤ، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرغی کا گوشت کھاتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7309]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي: 7/ 206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19554 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19783»
وضاحت: فوائد: … مرغی حلال اور مرغوب جانور ہے، اگر حلال جانور کوئی غلاظت والی چیز یا حرام جانور کا گوشت کھا جاتا ہے تو اس سے اس کے حلال ہونے میں فرق نہیں پڑتا۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں