الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَاب مَا جَاءَ فِي النُّوْمِ وَالْبَصَلِ وَنَحْوِهِمَا
لہسن اور پیاز اور ان جیسی چیز کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 7320
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ وَبَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَيَّ وَإِنَّهُ بَعَثَ يَوْمًا بِقَصْعَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا فِيهَا ثُومٌ فَسَأَلْتُهُ أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ قَالَ فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ وَفِي لَفْظٍ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي هَذَا الطَّعَامُ لَمْ تَأْكُلْ مِنْهُ آكُلُ مِنْهُ قَالَ فِيهِ تِلْكَ الثُّومَةُ فَيَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ فَآكُلُ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ فَكُلْ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جب کھانا پیش کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے کھاتے اورباقی مجھے عنایت فرما دیتے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھانے کا ایک پیالہ پیش کیا گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کچھ نہ کھایا، اس میں لہسن تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، حرام نہیں ہے، بس میں اس کی بدبو کی وجہ سے اسے ناپسند کرتا ہوں۔ ایک روایت میں ہے: سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو کھایا نہیں اور میں کھاؤں؟ یہ نہیں ہو سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں لہسن ہے اورمیرے پاس جبریل علیہ السلام اجازت لے کر وحی لایا کرتے ہیں، اس لیے میں نہیں کھاتا۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا پس میں اس سے کھاؤں؟ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، تو کھا لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7320]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2053، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23922»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2053
حدیث نمبر: 7321
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَخْبَرَهُ أَبُوهُ قَالَ نَزَلْتُ عَلَى أُمِّ أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الَّذِي نَزَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلْتُ عَلَيْهَا فَحَدَّثَتْنِي بِهَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ تَكَلَّفُوا طَعَامًا فِيهِ بَعْضُ هَذِهِ الْبُقُولِ فَقَرَّبُوهُ فَكَرِهَهُ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ كُلُوا إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي يَعْنِي الْمَلَكَ
۔ یزید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدہ ام ایوب انصاری رضی اللہ عنہا، جن کے گھر ہجرت کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہوئے تھے، کے ہاں ٹھہرا، انھوں نے مجھے بیان کیا کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پرتکلیف کھانا دیا، جس میں یہ سبزیاں پیاز اور لہسن بھی تھیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کھانا پسند نہ کیا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم کھا لو، میں تمہاری مانند نہیں ہوں، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اپنے ہم نشیں فرشتے کو تکلیف میں مبتلا نہ کر دوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7321]
تخریج الحدیث: «حديث حسن في الشواھد، أخرجه الترمذي: 1810، وابن ماجه: 3364، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27442 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27988»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَکَلَ ثُوْمًا اَوْ بَصَلًا فَلْیَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْیَقْعُدْ فِیْ بَیْتِہٖ۔)) (بخاری، مسلم) … جو آدمی (کچا) لہسن اور (کچا) پیاز کھائے وہ ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے۔ اس حدیث کی روشنی میں مذکورہ بالا حدیث کا یہ مفہوم بیان کیا جائے گا کہ مسجد میں جانے کا وقت اتنا دور تھا کہ اس وقت تک صحابہ کرام کے منہ سے لہسن کی بو ختم ہو چکی ہو گی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر بھی ایسی چیز کھانا مناسب نہ سمجھی اور وجہ بھی بیان کر دی۔اگر مسجد میں جانے کا وقت قریب ہو تو اس قسم کی چیز کھانا منع ہے۔ دراصل وہ لہسن پکا ہوا تھا جس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں مگر آپ کے پاس چونکہ فرشتہ آتا تھا اس لیے آپ پکے ہوئے لہسن سے بھی بچتے تھے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن في الشواھد
حدیث نمبر: 7322
عَنْ أَبِي زَيَادٍ خَيَارِ بْنِ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْبَصَلِ فَقَالَتْ إِنَّ آخِرَ طَعَامٍ أَكَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ فِيهِ بَصَلٌ
۔ ابو زیاد خیار بن سلمہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پیاز کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے کہا: آخری کھانا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھایا تھا، اس میں پیاز موجود تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7322]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، بقية بن الوليد يدلس ويسوي، ومثله ينبغي ان يصرح بالسماع في جميع طبقات السند، أخرجه ابوداود: 3829، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24585 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25092»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7323
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَوَجَدَ مِنِّي رِيحَ الثُّومِ فَقَالَ مَنْ أَكَلَ الثُّومَ قَالَ فَأَخَذْتُ يَدَهُ فَأَدْخَلْتُهَا فَوَجَدَ صَدْرِي مَعْصُوبًا قَالَ إِنَّ لَكَ عُذْرًا
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے لہسن کی بدبو محسوس کی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لہسن کس نے کھایا ہے، میں نے جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دست مبارک اپنے سینہ پر رکھ دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینے پر بندھی ہوئی پٹی پائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا آپ معذور ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7323]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 3826، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18176 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18360»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ عذر کی صورت میں اس قسم کی چیزیں استعمال کی جا سکتی ہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 7324
عَنْ أَبِي الرَّبَابِ قَالَ سَمِعْتُ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَنَزَلْنَا فِي مَكَانٍ كَثِيرِ الثُّومِ وَإِنَّ أُنَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَصَابُوا مِنْهُ ثُمَّ جَاءُوا إِلَى الْمُصَلَّى يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُمْ عَنْهَا ثُمَّ جَاءُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى الْمُصَلَّى فَنَهَاهُمْ عَنْهَا ثُمَّ جَاءُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى الْمُصَلَّى فَنَهَاهُمْ عَنْهَا ثُمَّ جَاءُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى الْمُصَلَّى فَوَجَدَ رِيحَهَا مِنْهُمْ فَقَالَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبْنَا فِي مَسْجِدِنَا
۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے،ہم ایک ایسی جگہ پر اترے، وہاں لہسن بہت زیادہ تھا، مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے اسے کھایا اور پھر نماز کی جگہ پر آگئے تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کر لیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس سے روکا، وہ اس کے بعد پھر نماز کی جگہ پرلہسن کھا کر آئے، آپ نے انہیں روکا، لیکن اس کے بعد وہ پھر نماز کی جگہ پر لہسن کھا کر آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد ان کو روکا، اس کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بو پائی کہ یہ لہسن وغیرہ کھا کر آئے ہیں تو فرمایا: جس نے اس درخت سے کھایا ہو، وہ ہماری مسجد کے قریب تک نہ آئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7324]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 510، 8/ 302، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20568»
وضاحت: فوائد: … موجودہ دور میں انسان کی خواہشات، چاہتیں اور زبان کے چسقے اس کے مذہب پر غالب ہیں، ہمارے ہاں کھانے کے ساتھ پیاز اور مولی وغیرہ بطور سلاد استعمال کئے جاتے ہیں۔ روکنے ٹوکنے کے باوجود کھانے والوں کی توجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان عالی شان کی طرف جھکاؤ ہی اختیار نہیں کرتی اور بعض احباب اتنا کہہ دیتے ہیں کہ پیاز وغیرہ کے بعد گڑ یا چینی وغیرہ کا استعمال کیا جائے تو بدبو ختم ہو جاتی ہے، لیکن وہ خود یہ نسخہ استعمال کئے بغیر مساجد کی طرف چل دیتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
9. باب مَا جَاءَ فِي طَعَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ
اہل کتاب کے کھانے کا حکم
حدیث نمبر: 7325
حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ هُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ مِنَ الطَّعَامِ طَعَامًا أَتَحَرَّجُ مِنْهُ (وَفِي رِوَايَةٍ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ طَعَامِ النَّصَارَى فَقَالَ لَا يَخْتَلِجَنَّ فِي صَدْرِكَ طَعَامٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ)
۔ سیدنا ہلب طائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا اور ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ ایک کھانا ایسا ہے، جس سے میں دل میں تنگی محسوس کرتا ہوں، دوسری روایت میں ہے: اس نے کہا: میں نے عیسائیوں کے کھانا کے متعلق آپ سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسے کھانے کے بارے میں تیرے سینے میں کوئی شبہ پیدا نہیں ہونا چاہیے، جس میں عیسائیت سے مشابہت پیدا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7325]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قصة مضارعة طعام النصرانية، وھذا اسناد ضعيف، شريك بن عبد الله النخعي سييء الحفظ، وقد توبع، وقبيصة بن ھلب مجھول، أخرجه الطبراني: 417، 419، 422، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22315»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ جو چیزیں شریعت کی روشنی میں حلال ہیں، ان کو کسی وسوسے اور شبہے کی بنا پر نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنا اہل نصرانیت کی روش تھی۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قصة مضارعة طعام النصرانية
حدیث نمبر: 7326
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ مُرَيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا قَالَ إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ أَمْرًا فَأَدْرَكَهُ يَعْنِي الذِّكْرَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَنْ طَعَامٍ لَا أَدَعُهُ إِلَّا تَحَرُّجًا قَالَ لَا تَدَعْ شَيْئًا ضَارَعْتَ فِيهِ نَصْرَانِيَّةً
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے باپ حاتم طائی صلہ رحمی کرتے تھے اور کئی نیک کام کرتے تھے؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے والد نے جس کام کا ارادہ کیا تھا، اس نے اس کو پا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد شہرت اور نمود و نمائش تھی،میں نے کہا: اچھا میں آپ سے ایسے کھانے کے متعلق سوال کرتا ہوں، جسے میں شک اور حرج کی بنا پر ہی چھوڑ دیتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ایسی چیز کو نہ چھوڑ، جس میں نصرانیت کی مشابہت ہو رہی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7326]
تخریج الحدیث: «قوله ان اباك اراد امرا فادركه حسن، والباقي ضعيف لجھالة مري بن قطري، أخرجه ابوداود الطيالسي: 1033، 1034، وابن حبان: 332، والطبراني في الكبير: 17/ 247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18451»
وضاحت: فوائد: … حاتم مذہباً عیسائی تھا، دورِ جاہلیت میں فوت ہو گیا تھا، جود و سخاوت میں عدیم النظیر تھا۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس کی سخاوت اور دوسرے اچھے خصائل کا مقصد شہرت اور تعریف کا حصول تھا، نہ کہ رضائے الہی کی تلاش اور ایسے ہی ہوا۔حافظ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میںکہا: حاتم ایک سخی آدمی تھا، دور جاہلیت میں اس کی بڑی تعریف کی جاتی تھی، اس کے بیٹے نے اسلام کو پا لیا تھا۔ حاتم اپنی سخاوت میں عجیب امور اور غریب اخبار والا تھا، لیکن اس کا مقصد شہرت طلبی اور ریاکاری تھا، نہ کہ اللہ تعالی کی ذات اور آخرت۔
الحكم على الحديث:
قوله ان اباك اراد امرا فادركه حسن
حدیث نمبر: 7327
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِجُبْنَةٍ فِي غَزَاةٍ فَقَالَ أَيْنَ صُنِعَتْ هَذِهِ فَقَالُوا بِفَارِسَ وَنَحْنُ نُرَى أَنَّهُ يُجْعَلُ فِيهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ اطْعَنُوا فِيهَا بِالسِّكِّينِ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا ذَكَرَهُ شَرِيكٌ مَرَّةً أُخْرَى فَزَادَ فِيهِ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهَا بِالْعِصِيِّ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ ایک غزوہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پنیر پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہاں تیار کیا گیا؟ انہوں نے کہا: یہ فارس کے علاقہ میں تیار کیا گیا اور ہمارا خیال ہے کہ اس میں مردار کا گوشت ڈالتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھری سے کاٹو اور بسم اللہ پڑھ کر کھا لو۔ دوسری مرتبہ جب شریک نے روایت کی تو یہ اضافہ کیا: لوگوں نے اسے لاٹھیوں کے تیزدھار حصہ کے ساتھ کاٹنا شروع کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7327]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني: 11807، والبيھقي: 10/ 6، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2755»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اُتِیَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِجُبْنَۃٍ فِیْ تَبُوْکَ، فَدَعَا بِسِکِّیْنٍ فَسَمّٰی وَقَطَعَ۔ … تبوک کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پنیر کا ٹکڑا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری منگوائی اور اللہ تعالی کا نام لے کر اس کو کاٹا۔ (ابوداود: ۳۸۱۹)
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
10. أَبْوَابُ مَا يَحْرُمُ أَكْلُهُ
حرام کھانوں کا بیان
حدیث نمبر: 7328
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ فَأَخَذُوا الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ فَذَبَحُوهَا وَمَلَئُوا مِنْهَا الْقُدُورَ فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَابِرٌ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَفَأْنَا الْقُدُورَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَأْتِيكُمْ بِرِزْقٍ هُوَ أَحَلُّ لَكُمْ مِنْ ذَا وَأَطْيَبُ مِنْ ذَا قَالَ فَكَفَأْنَا يَوْمَئِذٍ الْقُدُورَ وَهِيَ تَغْلِي فَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ وَلُحُومَ الْبِغَالِ وَكُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَكُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ وَحَرَّمَ الْمُجَثَّمَةَ وَالْخِلْسَةَ وَالنُّهْبَةَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن لوگوں کو بہت بھوک لگی ہوئی تھی، پس انہوں نے گھریلو گدھے پکڑ کر ذبح کئے اور ہنڈیاں بھر بھر کر انہیں پکانا شروع کر دیا، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہنڈیاں الٹ دو، سو ہم نے ہنڈیاں الٹ دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ عنقریب تمہیں اس سے زیادہ بہتر اور حلال رزق عنایت فرمائیں گے۔ ہم نے اس دن ہنڈیاں الٹ دیں، جبکہ وہ جوش مار رہی تھیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن گھریلو گدھوں،خچروں کا گوشت، ہر کچلی والا درندہ، پنجے سے شکار کرنے والا ہر پرندہ، وہ جانور جسے گاڑھ کر اس پر نشانہ باندھا گیا ہو، جس جانور کو درندہ چھین کر لے جائے اور وہ مر جائے اور لوٹا ہوا مال، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب چیزوں کو حرام قرار دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7328]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مختصرا الترمذي: 1478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14517»
وضاحت: فوائد: … ذِی نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ سے مراد ایسا درندہ ہے جو کچلیوں کے ساتھ شکار کرکے کھائے، مثلا شیر، بھیڑیا، چیتا، گیدڑ اور لومڑ وغیرہ۔ یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال و افعال کے حجت ہونے پر قطعی اور واضح دلیل ہے، کیونکہ قرآن مجید کی رو سے ان جانوروں کا حرام ہونا ثابت نہیں ہوتا، لیکن ہر مسلمان ان کو حرام سمجھتا ہے۔ ایسے تمام جانوروں کی حرمت احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 7329
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ كُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ وَلُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَالْخَلِيسَةَ وَالْمُجَثَّمَةَ وَأَنْ تُوطَأَ السَّبَايَا حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے دن پنجے سے شکار کرنے والا ہر پرندہ،گھریلو گدھے کا گوشت، جس جانور کو درند ہ چیر پھاڑ کر مار دے، جس جانور کو باندھ کر نشانہ بازی سے مارا گیا ہو اور حاملہ لونڈیوں سے جماع کرنا، جب تک وہ حمل وضع نہ کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب چیزوں کو حرام قرار دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7329]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 1474،1564، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17153 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17284»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره