🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِرَاقَةِ الْخَمْرِ وَكَسْرِ أَوَانِيهِ وَالنَّهْي عَنْ تَخْلِيلِهِ
شراب کو بہانے اور اس کے برتنوں کو توڑ دینے کا اور شراب کو سرکہ بنا لینے سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7574
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ إِنَّ عِنْدَنَا خَمْرًا لِيَتِيمٍ لَنَا فَأَمَرَنَا فَأَهْرَقْنَاهَا
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب شراب حرام ہوئی تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی کہ ہمارے پاس یتیموں کی شراب ہے، اس کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اس شراب کو بہا دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7574]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 1263، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11223»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7575
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَسُهَيْلَ ابْنَ بَيْضَاءَ وَنَفَرًا مِنْ أَصْحَابِهِ عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ وَأَنَا أَسْقِيهِمْ حَتَّى كَادَ الشَّرَابُ أَنْ يَأْخُذَ فِيهِمْ فَأَتَى آتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ أَوَمَا شَعَرْتُمْ أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَمَا قَالُوا حَتَّى نَنْظُرَ وَنَسْأَلَ فَقَالُوا يَا أَنَسُ اكْفِ مَا بَقِيَ فِي إِنَائِكَ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا عَادُوا فِيهَا وَمَا هِيَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْبُسْرُ وَهِيَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو عبیدہ بن جراح، سیدنا ابی بن کعب، سیدنا سہیل بن بیضاء اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کوسیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں شراب پلا رہا تھا، تقریباً شراب اپنا اثر ان میں دکھا رہی تھی کہ ایک مسلمان آیا اور اس نے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ شراب حرام ہو چکی ہے؟ انہوں نے جواباً یہ نہیں کہا کہ اچھا ہم دیکھتے ہیں یا کسی اور سے پوچھتے ہیں، بلکہ انہوں نے فوراً حکم دیا: اے انس! جو برتن میں باقی ہے، اسے انڈیل دو، اللہ کی قسم! اس کے بعد انہوں نے شراب کودیکھا تک نہیں، اس دور میں وہ عام طور پر شراب خشک کھجور اور کچی کھجور سے بناتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7575]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5582، 7253، ومسلم: 1980، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12869 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12900»
وضاحت: فوائد: … شراب کی حرمت کا معاملہ تو بالکل واضح ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں صحابۂ کرام کی رغبت کا اندازہ لگا کر ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے آپ کی اصلاح کریں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5582
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ تحريم التَّدَاوِي بِالْخَمْرِ وَبَيَان أَنَّهَا لَيْسَتْ بدواء
شراب کے ذریعے علاج کرنے کو حرام قرار دینے اور اس چیز کا بیان کہ شراب دوا نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7576
عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْتَصِرُهَا فَنَشْرَبُ مِنْهَا قَالَ لَا فَعَاوَدْتُهُ فَقَالَ لَا فَقُلْتُ إِنَّا نَسْتَشْفِي بِهَا لِلْمَرِيضِ فَقَالَ إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ شِفَاءً وَلَكِنَّهُ دَاءٌ
۔ سیدنا طاربق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری سر زمین میں انگور ہیں، ہم ان کو نچوڑ کر (شراب بناتے ہیں) اور پھر پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے پھر اپنی بات دوہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ہم اس کے ذریعہ بیمار کے لیے شفا طلب کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ شفا نہیں ہے، بلکہ یہ تو خود بیماری ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7576]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1984، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18994»
وضاحت: فوائد: … ابن عربی نے کہا: ہم نے مشاہدہ تو یہ کیا ہے کہ شراب پینے سے صحت اور قوت ملتی ہے، لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ یہ امہال اور استدراج ہے، یا یوں کہیںگے کہ دراصل دواء وہ ہوتی ہے، جو بدن کو صحیح کرے اور دین کو خراب نہ کرے، اگر اس کی وجہ سے دین میں خرابی آ جائے تو اس کی بیماری اور ضرر غالب تصور جائے گا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1984
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7577
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ عَنْهَا فَقَالَ إِنِّي أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا دَاءٌ وَلَيْسَتْ بِدَوَاءٍ
۔ سیدنا وائل حضرمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سوید بن طارق نامی ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شراب کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پینے سے روک دیا، اس نے کہا: میں دوا کے لیے شراب بناتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ تو بیماری ہے اور دوا نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7577]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19065»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: اس حدیث میں یہ صراحت موجود ہے کہ شراب دوا نہیں ہے، لہذا اس سے علاج کرنا درست نہیںہے، ہمارے اصحاب کے ہاں یہی رائے راجح ہے کہ اس سے علاج کرنا حرام ہے اور پیاس بجھانے کے لیے اس کو پینا بھی حرام ہے، ہاں جب لقمہ گلے میںپھنس جائے اور اس کو اتارنے کے لیے شراب کے علاوہ کوئی چیز موجود نہ ہو تو ضروری ہے کہ شراب استعمال کر لی جائے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19065
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں