الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ مَا يُتَّخَذُ مِنْهُ الخَمْرُ وَتَحْرِيمُهُ وَأَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍحَرَامٌ
وہ جس سے شراب بنائی جاتی ہے اور شراب کی حرمت کا بیان اور یہ کہ ہر نشہ آور حرام ہے
حدیث نمبر: 7554
عَنِ ابْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ بُكَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ شَرَاحْبِيلَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنَّ لِي أَرْحَامًا بِمِصْرَ يَتَّخِذُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَعْنَابِ قَالَ وَفَعَلَ ذَلِكَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ لَا تَكُونُوا بِمَنْزِلَةِ الْيَهُودِ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا قَالَ قُلْتُ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَخَذَ عُنْقُودًا فَعَصَرَهُ فَشَرِبَهُ قَالَ لَا بَأْسَ فَلَمَّا سِرْتُ قَالَ مَا حَلَّ شُرْبُهُ حَلَّ بَيْعُهُ
۔ شراحبیل بن بکیل کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسے کہا: میرے مصر میں کچھ رشتہ دار رہتے ہیں، وہ انگور سے شراب تیار کرتے ہیں، انھوں نے کہا: کیا مسلمانوں میں سے بھی کوئی یہ کام کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: یہودیوں کی طرح کی روش اختیار نہ کرو، ان پر چربی حرام قرار دی گئی، لیکن انہوں نے اسے فروخت کیااور اس کی قیمت کھانا شروع کر دی۔ میں نے کہا: آپ کا اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے، جو انگور کا ایک گچھا لیتا ہے اور اسے نچور کر پی لیتا ہے؟ انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پھر جب میں چلا تو انھوں نے کہا: جس چیز کا پینا حلال ہے، اس چیز کا فروخت کرنا بھی حلال ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7554]
تخریج الحدیث: «اثر حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16163»
وضاحت: فوائد: … شراب کے موضوع پر اس باب کی احادیث ِ مبارکہ میں انتہائی اہم قوانین بیان کیے گئے ہیں اور شریعت کا اصل مقصد بیان کیا گیا ہے، شراب اس وجہ سے حرام نہیں ہے کہ وہ انگور سے بنائی جاتی ہے یا گندم سے یا کسی اور چیز سے، بلکہ اس کی حرمت کا سبب اس کی صفت ِنشہ ہے۔
الحكم على الحديث:
اثر حسن
20. بَابُ مَفَاسِدِ الْخَمْرِ وَقِصَّةِ حَمْزَةِ مَعَ نَاقَتَيْ عَلِيٌّ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ
شراب کے مفاسد اور شراب کی حرمت سے قبل سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دو اونٹنیوں کے متعلق واقعہ
حدیث نمبر: 7555
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَى فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ لِأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ وَمِنَ السَّنَامِ قَالَ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ فَانْطَلَقَ مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ فَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِآبَائِي فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ وَذَلِكَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ
۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن مال غنیمت میں سے انھوں نے ایک اونٹنی حاصل کی اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دوسری اونٹنی بھی ان کو عطا کر دی، میں نے دونوں اونٹنیوں کو ایک انصاری کے گھر کے دروازے کے سامنے بٹھا دیا، میرا ارادہ تھا کہ میں ان پر اذخرگھاس لاد کر لایا کروں گا اور اسے فروخت کرکے سیدہ فاطمہ سے شادی کے بعد ولیمہ میں رقم استعمال کروں گا، اس کام پر میرے ساتھ بنو قینقاع کا ایک سنار بھی شریک تھا، سیدنا حمزہ بن مطلب رضی اللہ عنہ اس گھر میں شراب پی رہے تھے، (جب وہ نشے میں آئے) تو وہ تلوارپکڑ کر جوش میں آ گئے اور ان دونوں اونٹنیوں کی کوہانیں کاٹ لیں، ان کی کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور ان کے جگر اور کوہان کاٹ کر انہیں لے گئے، میں نے جب یہ منظر دیکھا تو نہایت پریشان ہوا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے پاس سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سانحہ کی اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس داخل ہوئے اور انہیں سخت سرزنش فرمائی، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے نظر گھمائی اور کہا: تم سب میرے باپ کے غلام ہو، یہ منظر دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پچھلے پاؤں واپس آ گئے اور گھر سے باہر تشریف لے آئے، یہ واقعہ شراب کی حرمت سے پہلے کا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7555]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2089، 2375، 3091، ومسلم: 1979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1201 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1201»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2089
21. بَابُ مَا جَاءَ فِي لَعْنِ الْخَمْرِ وَشَارِبِهَا وَحِرْمَانِهِ منْ خَمْرِ الْآخِرَةِ إِلَّا أَنْ يَتُوبَ
شراب اور اس کے پینے والے پر لعنت اور آخرت کی شراب سے اس کے محروم ہو جانے کا بیان، الا یہ کہ وہ توبہ کر لے
حدیث نمبر: 7556
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمِرْبَدِ فَخَرَجْتُ مَعَهُ فَكُنْتُ عَنْ يَمِينِهِ وَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَأَخَّرْتُ لَهُ فَكَانَ عَنْ يَمِينِهِ وَكُنْتُ عَنْ يَسَارِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَنَحَّيْتُ لَهُ فَكَانَ عَنْ يَسَارِهِ فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمِرْبَدَ فَإِذَا بِأَزْقَاقٍ عَلَى الْمِرْبَدِ فِيهَا خَمْرٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْمُدْيَةِ قَالَ وَمَا عَرَفْتُ الْمُدْيَةَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِالزِّقَاقِ فَشُقَّتْ ثُمَّ قَالَ لُعِنَتِ الْخَمْرُ وَشَارِبُهَا وَسَاقِيهَا وَبَائِعُهَا وَمُبْتَاعُهَا وَحَامِلُهَا وَالْمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ وَعَاصِرُهَا وَمُعْتَصِرُهَا وَآكِلُ ثَمَنِهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک باڑے کی طرف گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب تھا، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو میں پیچھے ہٹ گیا اور اب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائیں جانب تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب تھا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آ گئے تو پھر میں علیحدہ ہوگیا اور اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باڑے میں آئے تو باڑے میں کچھ مشکیں تھیں، جن میں شراب تھی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری لانے کا کہا اور چھری کے لیے مُدْیَۃ کا لفظ استعمال کیا، مجھے اس دن اس لفظ کا علم ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور مشکیں کاٹ دی گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شراب، اس کے پینے والے،پلانے والے، فروخت کرنے والے، خریدنے والے، اٹھانے والے، جس کی طرف اٹھا کر لے جائی گئی، نچڑوانے والے، نچوڑنے والے اور اس کی قیمت کھانے والے، ان سب افراد پر لعنت کی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7556]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 3343، والبيھقي: 8/ 287، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5390 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5390»
وضاحت: فوائد: … شراب کی وجہ سے نو افراد پر لعنت کی گئی ہے، اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ اندازہ لگانا بھی آسان ہو جاتا ہے کہ برائی کا سبب بننا بھی بہت بڑا جرم ہے، اصل جرم تو شراب پینا ہے، باقی آٹھ افراد پر تعاون کرنے کی وجہ سے لعنت کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 7557
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا وَلَمْ يَتُبْ مِنْهُ حُرِمَهَا فِي الْآخِرَةِ لَمْ يُسْقَهَا
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں شراب نوشی کی اور پھر اس سے توبہ نہ کی، تو وہ آخرت میں محروم رہے گا اور اسے یہ شراب نہیں پلائی جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7557]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5575، وملسم: 2003، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4690 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4690»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5575
حدیث نمبر: 7558
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احسان جتانے والا،ہمیشہ شراب نوشی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7558]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، علته جابان لا يدري من ھو،وقال البخاري:لا يعرف لجابان سماع من عبد الله، ولا لسالم من جابان، أخرجه النسائي في الكبري: 4915، والدارمي: 2/ 112، وابن حبان: 3383، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6537»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7559
عَنْ أَبِي مُوسَى يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ خَمْرٍ وَقَاطِعُ رَحِمٍ وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ سَقَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ نَهْرِ الْغُوطَةِ قِيلَ وَمَا نَهْرُ الْغُوطَةِ قَالَ نَهْرٌ يَجْرِي مِنْ فُرُوجِ الْمُومِسَاتِ يُؤْذِي أَهْلَ النَّارِ رِيحُ فُرُوجِهِمْ
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہو ں گے، ہمیشہ شراب نوشی کرنے والا، قطع رحمی کرنے والا اور جادو کی تصدیق کرنے والا اور جو ہمیشہ شراب نوشی کرتے ہوئے فوت ہو گا، اسے اللہ تعالیٰ غوطہ نہر سے پلائیں گے۔ کسی نے کہا:غوطہ نہر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ نہر بدکار عورتوں کی شرمگاہوں سے جاری ہو گی، ان کی شرمگاہوں کی بدبو سے دوزخی بھی اذیت میں ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7559]
تخریج الحدیث: «قوله منه: ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ خَمْرٍ وَقَاطِعُ رَحِمٍ وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابي حريز، أخرجه ابن حبان: 5346، وابويعلي: 7248، والحاكم: 4/ 146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19798»
وضاحت: فوائد: … کوئی آیات و احادیث میں شراب کی مذمت کی گئی ہے، شراب حرام ہے، بلکہ لعنت کا باعث جرم ہے، اس میں ملوث مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ توبہ تائب ہو کر اللہ تعالی کی طرف رجوع کریں۔
الحكم على الحديث:
قوله منه: ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ خَمْرٍ وَقَاطِعُ رَحِمٍ وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ حسن لغيره
22. بَاب مَا جَاءَ فِي وَعِيدِ شَارِبِ الْخَمْرِ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ
شرابی کی وعید کا بیان،ہم اس سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرتے ہیں
حدیث نمبر: 7560
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ بِالطَّائِفِ يُقَالُ لَهُ الْوَهْطُ وَهُوَ مُخَاصِرٌ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يُزَنُّ بِشُرْبِ الْخَمْرِ فَقُلْتُ بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ أَنَّ مَنْ شَرِبَ شَرْبَةَ خَمْرٍ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ تَوْبَةً أَرْبَعِينَ صَبَاحًا وَأَنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَأَنَّهُ مَنْ أَتَى بَيْتَ الْمَقْدِسِ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ فِيهِ خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَلَمَّا سَمِعَ الْفَتَى ذِكْرَ الْخَمْرِ اجْتَذَبَ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ انْطَلَقَ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو إِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ شَرِبَ مِنَ الْخَمْرِ شَرْبَةً لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ قَالَ فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ عبد اللہ بن دیلمی کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماکے پاس داخل ہوا، وہ طائف میں اپنے وہط نامی ایک باغ میں تھے،ان کے پہلو میں قریش کا ایک نوجوان بیٹھا ہوا تھا، جس پر شراب نوشی کی تہمت تھی، میں نے کہا: اے عبد اللہ! مجھے آپ سے ایک حدیث پہنچی ہے کہ جس نے شراب کا ایک گھونٹ پیا، اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہیں کرتے اور بدبخت وہ جو ماں کے پیٹ ہی سے بدبخت ہو اور جو بیت المقدس میں آئے، جبکہ اس کا یہ آنا صرف نماز کے لیے ہو، تو وہ اپنی خطاؤں سے اس طرح نکل جاتا ہے، جس طرح آج اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو، جب اس نوجوان نے شراب کی سزا کا ذکر سنا تو اس نے سیدنا عبد اللہ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور چل دیا، پھر سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمانے کہا: میں کسی کو اپنے اوپر وہ بات کہنے کی اجازت نہیں دے سکتا، جو میں نے نہیں کہی، میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے شراب کا گھونٹ پیا، اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا، اگر وہ دوبارہ پیے گا تو چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہو گی، اگر وہ توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا، اگر وہ پھر لوٹے، مجھے یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ ذکر کیا، اس کے بعد فرمایا: اگر اس کے بعد بھی کوئی پیے تو اللہ تعالیٰ کا حق بنتا ہے کہ اسے دوزخیوں کی پیپ سے جاری ہونے والی نہر سے پلائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7560]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3377، وأخرج المرفوع منه النسائي: 8/ 317، لكن بلفظ لم تقبل له توبة بل لم تقبل له صلاة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6644 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6644»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 7561
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ شَرِبَهَا فَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ شَرِبَهَا فَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَالثَّالِثَةَ وَالرَّابِعَةَ فَإِنْ شَرِبَهَا لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ تَابَ لَمْ يَتُبِ اللَّهُ عَلَيْهِ وَكَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُسْقِيَهُ مِنْ عَيْنِ خَبَالٍ قِيلَ وَمَا عَيْنُ خَبَالٍ قَالَ صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے شراب پی اور ا سے نشہ ہوا، اس کی چایس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی، اگر پھر شراب پی اورنشہ ہوا تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی، تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ اگر اس نے شراب پی تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے خبال کے چشمہ سے پلائے گا۔ کسی نے کہا: خبال کا چشمہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دوزخ والوں کی پیپ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7561]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: فان تاب لم يتب الله عليه نافع بن عاصم في عداد المجھولين، أخرجه البزار: 2936، والحاكم: 4/ 145 دون قوله: فان تاب لم يتب الله عليه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6773»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: فان تاب لم يتب الله عليه نافع بن عاصم في عداد المجھولين
حدیث نمبر: 7562
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ كَانَ مِثْلَ ذَلِكَ فَمَا أَدْرِي أَفِي الثَّالِثَةِ أَمْ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ عَادَ كَانَ حَتْمًا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے شراب پی، اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی، اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے، اگروہ شراب نوشی میں پھر لوٹے، مجھے معلوم نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ پھر شراب پیے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے طِینَۃُ الْخَبَال سے پلائے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! طِینَۃُ الْخَبَال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوزخیوں کی پیپ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7562]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه البزار: 4074، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21834»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7563
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ تَعَالَى أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ نَهْرِ الْخَبَالِ قِيلَ وَمَا نَهْرُ الْخَبَالِ قَالَ صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے شراب نوشی کی، اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی،اگر وہ توبہ کرے تواللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتے ہیں، لیکن اگر وہ پھر لوٹے تو اللہ تعالیٰ کا حق بنتا ہے کہ اسے خبال والی نہر سے پلائے۔ کسی نے کہا: نہر خبال سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوزخیوں کی پیپ سے جاری ہونے والی نہر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7563]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الترمذي: 1862، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4917 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4917»
الحكم على الحديث:
حديث حسن