🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ نَسْحَ تَحْرِيمِ الْانْتِبَادِ فِي الْأَرْعِيَةِ الْمُتَقَدِّمِ ذِكْرُهَا
سابق احادیث میں جن برتنوں میں نبیذ بنانے کو حرام قرار دیا گیا¤ان کے اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7534
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَحْوَ حَدِيثِ عَلِيٍّ وَفِيهِ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا بِمَا شِئْتُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا فَمَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بھی سیدنا علی کی مانند روایت بیان کرتے ہیں، البتہ اس میں ہے: میں نے تمہیں ان برتنوں میں نبیذ بنانے سے روکا تھا، اب جیسے چاہو جائز مشروب پی سکتے ہو، البتہ نشہ آور نہ پینا اور جو چاہے کہ اپنی مشک میں گناہ بند کرے بے شک وہ نشہ آور مشروب رکھ لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7534]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه الحاكم: 1/ 375، وابويعلي: 3707، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13521»

الحكم على الحديث:
صحيح بطرقه وشواھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7535
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَنَا شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ وَأَنَا شَهِدْتُ حِينَ رَخَّصَ فِيهِ قَالَ وَاجْتَنِبُوا الْمُسْكِرَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل مزنی رضی ا للہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا تھا تو میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حاضر تھا اور جب آپ نے رخصت دی تھی، تب بھی میں حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: البتہ نشہ آور چیز سے اجتناب کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7535]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو جعفر الرازي الي الضعف اقرب لسوء حفظه ولا يحتمل تفرده، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 110، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 4/ 229، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16927»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7536
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ مِسْقَامٌ فَأْذَنْ لِي فِي جَرِيرَةٍ أَنْتَبِذُ فِيهَا قَالَ فَأَذِنَ لَهُ فِيهَا
۔ سیدنا صحار عبدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بہت زیادہ بیمار رہنے والا آدمی ہوں، مجھے اجازت دیں کہ میں اپنے مٹکے میں نبیذ بنا لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7536]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال عبد الرحمن بن صحار، أخرجه البزار: 2910، والطبراني في الكبير: 7403، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20339 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20604»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال عبد الرحمن بن صحار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7537
حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ذَكَرَ أَنَّ الَّذِي يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ فِي النَّبِيذِ بَعْدَ مَا نَهَى عَنْهُ مُنْذِرٌ أَبُو حَسَّانَ ذَكَرَهُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ يَقُولُ مَنْ خَالَفَ الْحَجَّاجَ فَقَدْ خَالَفَ
۔ عاصم نے بیان کیا کہ جس نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبیذ پینے کی ممانعت کے بعد اس کی اجازت دی تھی، وہ بیان کرنے والے منذر ابو حسان ہیں۔ انہوں نے یہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔اور وہ کہا کرتے تھے کہ جس نے حجاج کی مخالفت کی تو اس نے مخالفت کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7537]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، منذر ابو حسان يرمي بالكذب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20396»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کی حرمت کے موقع پر جن برتنوں کو حرام قرار دیا تھا، ان کی حرمت عارضی طور پر تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی، جیسا کہ اس باب کی احادیث سے معلوم ہو رہا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ مَا يُتَّخَذُ مِنْهُ الخَمْرُ وَتَحْرِيمُهُ وَأَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍحَرَامٌ
وہ جس سے شراب بنائی جاتی ہے اور شراب کی حرمت کا بیان اور یہ کہ ہر نشہ آور حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7538
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرٌ وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرٌ وَمِنَ الشَّعِيرِ خَمْرٌ وَمِنَ الزَّبِيبِ خَمْرٌ وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرٌ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گندم سے شراب بنتی ہے، کھجور سے شراب ہوتی ہے، جو سے شراب تیار کی جاتی ہے، منقّی سے شراب ہے اور شہد سے شراب تیار کی جاتی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7538]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 8/ 295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5992 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5992»
وضاحت: فوائد: … احناف کا مسلک یہ ہے کہ صرف انگور اور کھجور کی شراب حرام ہے، لیکن اس باب کی احادیث ِ مبارکہ سے جمہور کے مسلک کی تائید ہوتی ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے، خواہ وہ انگور یا کھجور کی شراب ہو یا کسی اور چیز کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منبر رسول پر دورانِ خطبہ ارشاد فرمایا: اَلْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ … خمر وہ چیز ہے جو عقل پر پردہ ڈال دے۔ (بخاری، مسلم) اس سلسلے میں ہر آدمی کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ شریعت کا مقصود یہ ہے جس چیز کی وجہ سے عقلی توازن برقرار نہ رہ سکے یا جو چیز عقل پر پردہ ڈال دے، وہ جس چیز سے بھی بنائی گئی ہو، اس کا نام جو بھی رکھ دیا جائے،وہ حرام اور ممنوع ہو گی۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7539
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ قَالَ إِنَّ مِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَمِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا وَمِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منقّی، کھجور، گندم، جو اور شہد سے شراب بنائی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7539]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح من قول عمر موقوفا، وھو في حكم المرفوع، أخرجه بوداود: 3676، والترمذي: 1872، 1873، وأخرجه البخاري: 5581، ومسلم: 3032 عن عمر موقوفا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18350 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18540»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح من قول عمر موقوفا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7540
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ مِنَ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شراب ان دو درختوں کھجور اور انگور کے پھلوں سے بنائی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7540]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1985، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9283»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1985
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7541
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ وَكَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَشْرَبُونَهُ فَقَالَ كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بتع کے متعلق سوال کیا گیا، بتع شہد سے بنائی گئی نبیذ کو کہتے ہیں اور یمن والے یہ مشروب پیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہے، وہ حرام ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7541]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5586، ومسلم: 2001، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25159»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5586
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7542
عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَذَكَرَ مِنْ ضُرُوبِ الشَّرَابِ فَقَالَ اجْتَنِبْ مَا أَسْكَرَ مِنْ زَبِيبٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ مَا سِوَى ذَلِكَ قَالَ مَا تَقُولُ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ
۔ عیینہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماکے پاس آیا اور کہا: میں خراسان کارہنے والا ہوں اور ہماراعلاقہ ٹھنڈا ہے، پھر اس نے مشروبات کی کئی قسمیں بیان کیں، انہوں نے کہا: جو چیز بھی نشہ دے، تو اس سے اجتناب کر، وہ منقّی سے بنی ہو یا کھجورسے ہو یا کوئی بھی ہو۔ اس نے کہا: مٹکے میں بنائی گئی نبیذ کے متعلق کیا خیال ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹکے میں بنائی گئی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7542]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 977، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2009 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2009»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 977
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7543
عَنْ سَلَامِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو چیز نشہ پیدا کرے، اس کی معمولی مقدار بھی حرام ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7543]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، أخرج الشطرين جميعا ابن ماجه: 3392، وأخرج الشرط الاول النسائي: 8/ 324، وابن ماجه: 3387، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5648»

الحكم على الحديث:
حديث قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں