🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ مَا يُتَّخَذُ مِنْهُ الخَمْرُ وَتَحْرِيمُهُ وَأَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍحَرَامٌ
وہ جس سے شراب بنائی جاتی ہے اور شراب کی حرمت کا بیان اور یہ کہ ہر نشہ آور حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7544
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اورہر شراب حرام ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7544]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2003، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4830 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4830»
وضاحت: فوائد: … ہمارے ہاں احادیث میںمذکورہ لفظ خَمْر کا معنی شراب کیا جاتا ہے، جبکہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر نشہ آور چیز خَمْر ہے اور ہر خَمْر حرام ہے۔ نیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ۔ (بخاری، مسلم) … خَمْر ا س چیز کو کو کہتے ہیں جو عقل پر پردہ ڈال دے۔اس اعتبار سے سگریٹ اور حقہ وغیرہ کی شکل میں تمباکو نوشی، نسوار، بیڑہ وغیرہ کی نوعیت کی تمام چیزیں خَمْر میں داخل ہیں۔شراب اور نشہ آور چیز کا استعمال اتنا سنگین جر م ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مُدْمِنُ خَمْرٍ کَعَابِدِ وَثْنٍ۔)) (ابن ماجہ: ۳۳۷۵) … ہمیشہ شراب پینے والا بت کی عبادت کرنے والے کی طرح ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2003
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7545
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ پیدا کرتی ہے، اس کی معمولی مقدار بھی حرام ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7545]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه النسائي: 8/ 300، وابن ماجه: 3394، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6558 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6558»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7546
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7546]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 3681، والترمذي: 1865، وابن ماجه: 3393، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14703 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14759»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7547
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَسْكَرَ الْفَرَقُ مِنْهُ إِذَا شَرِبْتَهُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کا ایک فرق نشہ پیدا کر دے، اس سے ایک لپ بھر پینا بھی حرام ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7547]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3687، والترمذي: 1866، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24432 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24936»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7548
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ وَمُفْتِرٍ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر نشہ آور چیز اور ہرفتور پیدا کرنے والی چیز سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7548]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره دون قوله: ومفتِر وھذا اسناد ضعيف لضعف شھر بن حوشب، أخرجه ابوداود: 3686، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26634 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27169»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره دون قوله: ومفتِر وھذا اسناد ضعيف لضعف شھر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7549
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَفَّتَةِ وَقَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ قَالَ قُلْتُ وَمَا الْمُزَفَّتَةُ قَالَ الْمُقَيَّرَةُ قَالَ قُلْتُ فَالرَّصَاصُ وَالْقَارُورَةُ قَالَ مَا بَأْسَ بِهِمَا قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَهُمَا قَالَ دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ قَالَ قُلْتُ لَهُ صَدَقْتَ السُّكْرُ حَرَامٌ فَالشَّرْبَةُ وَالشَّرْبَتَانِ عَلَى طَعَامِنَا قَالَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ وَقَالَ الْخَمْرُ مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ فَمَا خَمَّرْتَ مِنْ ذَلِكَ فَهِيَ الْخَمْرُ
۔ مختار بن فلفل کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے برتنوں میں مشروب پینے کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تارکول والے برتن سے منع کیا ہے اور فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ میں نے کہا: کچ اور شیشے کے برتن کے متعلق کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے، میں نے کہا: کچھ لوگ انہیں ناپسند کرتے ہیں، انہوں نے کہا: جو چیز تجھے شک میں ڈالتی ہے، اسے اس وقت تک چھوڑ دو، جب تک کہ شک ختم نہ ہو جائے اور بے شک ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ میں نے کہا: آپ سچ کہتے ہیں کہ نشہ آور چیز حرام ہے، لیکن کھانے کے بعد اگر ایک دو گھونٹ پی لیں تو؟ انہوں نے کہا: جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ پیدا کر دے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے، شراب انگور سے ہوتی ہے، کھجور سے ہوتی ہے، شہد سے ہوتی ہے، گندم سے ہوتی ہے، جو سے ہوتی ہے، مکئی سے ہوتی ہے، ان میں سے جو بھی تو شراب بنائے گا، یہ وہ شراب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7549]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه النسائي: 8/ 308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12099 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12123»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7550
عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْلَمَهُمُ الصَّلَاةَ وَالسُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ ثُمَّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُهُ مِنَ الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ قَالَ فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ ثُمَّ لَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمَيْنِ ذَكَرُوهُمَا لَهُ أَيْضًا فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ ثُمَّ لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْطَلِقُوا سَأَلُوهُ عَنْهُ فَقَالَ الْغُبَيْرَاءُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ لَا تَطْعَمُوهُ قَالُوا فَإِنَّهُمْ لَا يَدَعُونَهَا قَالَ مَنْ لَمْ يَتْرُكْهَا فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ
۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ یمن کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے انہیں نماز، سنتوں اور فرضوں کی تعلیم دی، انھوں نے کہا: ہمارا ایک مشروب ہے، جسے ہم گندم اور جو سے تیار کرتے ہیں، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے غبیراء کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نہ کھانا۔ دو دن کے بعد پھر انہوں نے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی غبیراء؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو استعمال نہیں کرنا۔ جب یہ لوگ جانے لگے تو انھوں نے اس کے متعلق پھر سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ غبیراء؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نہیں کھانا۔ وہ کہنے لگے: وہ لوگ تو اس کو نہیں چھوڑیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس کو نہ چھوڑے، اس کی گردن اڑا دینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7550]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف دراج بن سعان، أخرجه ابويعلي: 7147، والطبراني في الكبير: 23/ 483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27952»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف دراج بن سعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7551
عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَ عَلَيَّ الْخَمْرَ وَالْكُوبَةَ وَالْقِنِّينَ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُبَيْرَاءَ فَإِنَّهَا ثُلُثُ خَمْرِ الْعَالَمِ
۔ قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک میرے رب نے میرے اوپر شراب، ڈھولک بجانا اور رومیوں والا جوا کھیلنا حرام کیا ہے اور غبیراء سے بچو، (یہ غبیراء جو گندم اور جو سے تیار کی جاتی ہے) یہ پوری دنیا کی شرابوں کا ایک تہائی حصہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7551]
تخریج الحدیث: «حسن لغير دون قوله: فانھا ثلث خمر العالم وھذ اسناد ضعيف، بكر بن سوادة لم يدرك قيس بن سعد، وعبيد الله بن زحر الضمري مختلف فيه، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/197، والبيھقي: 10/ 222، والطبراني في الكبير: 18/ 897، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15560»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِجْتَنِبُوْا الخَمْرَ، فَإِنَّھَا مِفْتَاحُ کُلِّ شَرٍّ۔)) … شراب سے بچو، کیونکہ یہ ہر برائی کی بنیاد ہے۔ (حاکم: ۴/ ۱۴۵، صحیحہ: ۲۷۹۸)

الحكم على الحديث:
حسن لغير دون قوله: فانھا ثلث خمر العالم وھذ اسناد ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7552
عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ نُعَالِجُ بِهَا عَمَلًا شَدِيدًا وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا قَالَ هَلْ يُسْكِرُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاجْتَنِبُوهُ قَالَ ثُمَّ جِئْتُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ هَلْ يُسْكِرُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاجْتَنِبُوهُ قُلْتُ إِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَاقْتُلُوهُمْ
۔ سیدنا دیلم حمیری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ہماری سر زمین ٹھنڈک والی ہے اور ہماری محنت بہت سخت ہے، ہم گندم سے ایک شراب تیار کرتے ہیں، جس کے ذریعہ ہم قوت حاصل کرتے ہیں تاکہ عملی مشقت اور علاقے کی ٹھنڈک پر قابو پائیں، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہے؟ میں نے کہا: جی وہ نشہ آور تو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے اجتناب کرو اور اسے نہ پیو۔ میں سامنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہی سوال دوہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ دیتی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے بچو۔ میں نے کہا: لوگ تو اسے نہیں چھوڑیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر نہ چھوڑیں تو انہیں قتل کر دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7552]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3683، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18035 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18198»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7553
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ جَيْشَانَ وَجَيْشَانُ مِنَ الْيَمَنِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمُسْكِرٌ هُوَ قَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَإِنَّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جیشان کا ایک آدمی آیا، جیشان یمن کا علاقہ ہے، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شراب کے متعلق دریافت کیا، جسے وہ پیتے تھے، وہ ان کے ہاں تیار کی جاتی تھی، اس کا نام مزر تھا، وہ مکئی سے تیار کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا عہد ہے کہ جونشہ آور چیز پیے گا، وہ اسے طینہ الخبال سے پلائے گا۔ لوگوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! طینۃ الخبال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوزخیوں کا پسینہ ہے یا ان کے زخموں سے بہنے والا مادہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7553]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2002، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14880 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14941»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2002
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں