الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَاب مَا جَاءَ فِي وَعِيدِ شَارِبِ الْخَمْرِ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ
شرابی کی وعید کا بیان،ہم اس سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرتے ہیں
حدیث نمبر: 7564
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَرْضَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ مَاتَ مَاتَ كَافِرًا وَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے شراب پی، اللہ تعالیٰ اس سے چالیس دن ناراض رہتا ہے، اگر وہ اسی حالت میں فوت ہوا تو کافر فوت ہو گا، اگر وہ توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا، اور اگر وہ پھر شراب نوشی کرے گا تو اللہ تعالیٰ کا حق بنتا ہے کہ اسے طِینَۃُ الْخَبَال سے پلائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! طِینَۃُ الْخَبَال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاں دوزخیوں کی پیپ جمع ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7564]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره دون قوله: فان مات مات كافرا وھذا اسنا ضعيف لضعف شھر بن حوشب، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 428، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28155»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره دون قوله: فان مات مات كافرا وھذا اسنا ضعيف لضعف شھر بن حوشب
حدیث نمبر: 7565
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَقْعُدَنَّ عَلَى مَائِدَةٍ يُدَارُ عَلَيْهَا بِالْخَمْرِ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِإِزَارٍ وَمَنْ كَانَتْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا تَدْخُلِ الْحَمَّامَ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے لوگو! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ اوریوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ ہرگز اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب کا دور چل رہا ہو اور جو شخص اللہ تعالیٰ اوریوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ حمام میں بغیر تہبند کے داخل نہ ہو اور جو خاتون اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ سرے سے حمام میں داخل نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7565]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابويعلي: 251، والبيھقي: 7/ 266، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 125 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 125»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں جن حماموں کا ذکر ہے، ان سے مراد دورِ جاہلیت کے وہ بڑے بڑے حمام ہیں، جہاں ایک سے زائد مختلف لوگ ننگے ہو کر اکٹھے نہاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے حماموں میں مردوں کو ازار پہن کر نہانے کی اجازت دی اور عورتوں کو مطلق طور پر منع کر دیا۔ہمارے گھروں میں جو حمام بنے ہوئے ہیں، ان میں ننگا بھی نہایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ایک ایک فرد ہو، البتہ میاں بیوی اکٹھے نہا سکتے ہیں۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر (۹۲۲) والا باب۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 7566
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَقْعُدْ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب نوشی کی جا رہی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7566]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه النسائي: 1/ 198، والترمذي: 2801، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14651 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14705»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 7567
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُدْمِنُ الْخَمْرِ إِنْ مَاتَ لَقِيَ اللَّهَ كَعَابِدِ وَثَنٍ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمیشہ شراب نوشی کرنے والا اگر اسی حالت میں مر گیا تو اس کی اللہ تعالیٰ سے جب ملاقات ہو گی تو وہ ایسے ہو گا جیسے کسی بت کی عبادت کرنے والا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7567]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الواسطة بين محمد بن المنكدر وبين ابن عباس، أخرجه ابن حبان: 5347، والبزار: 2934، وعبد الرزاق: 17070، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2453»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الواسطة بين محمد بن المنكدر وبين ابن عباس
حدیث نمبر: 7568
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي وَهُوَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ شُرْبَهَا فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي وَهُوَ يَتَحَلَّى الذَّهَبَ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ لِبَاسَهُ فِي الْجَنَّةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جو بھی فوت ہوا اور وہ شراب نوشی کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت میں سے شراب حرام کر دیتے ہیں اور جو شخص میری امت میں سے اس حال میں مرا کہ وہ سونا پہنتا تھا تو اللہ تعالیٰ اس پرجنت کا لباس حرام کر دیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7568]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، يزيد بن ھارون سمع من الجريري بعد ما اختلط، وقوله وَمَنْ مَاتَ اُمَّتِيْ وَھُوَ يَتَحَلَّي الذَّھْبَ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ لِبَاسَهُ فِي الْجَنَّةِ صحيح بطريق آخر، أخرجه البزار: 2935، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6948»
وضاحت: فوائد: … احادیث ِ مبارکہ کا متن ہی مسئلہ سمجھانے کے لیے کافی ہے، شرابی کی کس قدر مذمت بیان کی جا رہی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
23. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِرَاقَةِ الْخَمْرِ وَكَسْرِ أَوَانِيهِ وَالنَّهْي عَنْ تَخْلِيلِهِ
شراب کو بہانے اور اس کے برتنوں کو توڑ دینے کا اور شراب کو سرکہ بنا لینے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7569
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَهْرَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْخَمْرَ وَكَسَّرَ جِرَارَهُ وَنَهَى عَنْ بَيْعِهِ وَبَيْعِ الْأَصْنَامِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کو بہا دیا اور اس کے مٹکوں کو توڑ دیا اور اس کی اور بتوں کی خریدو فروخت سے منع کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7569]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14710»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 7570
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا فَقَالَ أَهْرِقْهَا قَالَ أَفَلَا نَجْعَلُهَا خَلًّا قَالَ لَا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ چند یتیم ہیں، جنہیں شراب وراثت میں ملی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے بہا دو۔ انھوں نے کہا: کیا ہم اسے سرکہ نہ بنا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7570]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1983، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12189 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12213»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1983
حدیث نمبر: 7571
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي طَلْحَةَ يَتَامَى فَابْتَاعَ لَهُمْ خَمْرًا فَلَمَّا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَصْنَعُهُ خَلًّا قَالَ لَا قَالَ فَأَهْرَاقَهُ
۔ (دوسری سند)سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی پرورش میں کچھ یتیم بچے تھے، انہوں نے ان کے لیے شراب خریدی، (لیکن ابھی تک وہ پڑی تھی کہ)شراب حرام ہو گئی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اوردریافت کیا کیا میں اس کا سرکہ بنا لوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ پس انھوں نے وہ شراب بہا دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7571]
تخریج الحدیث: «انظ الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13769»
الحكم على الحديث:
انظ الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13769
حدیث نمبر: 7572
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِمُدْيَةٍ وَهِيَ الشَّفْرَةُ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَرْسَلَ بِهَا فَأُرْهِفَتْ ثُمَّ أَعْطَانِيهَا وَقَالَ اغْدُ عَلَيَّ بِهَا فَفَعَلْتُ فَخَرَجَ بِأَصْحَابِهِ إِلَى أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ وَفِيهَا زِقَاقُ خَمْرٍ قَدْ جُلِبَتْ مِنَ الشَّامِ فَأَخَذَ الْمُدْيَةَ مِنِّي فَشَقَّ مَا كَانَ مِنْ تِلْكَ الزِّقَاقِ بِحَضْرَتِهِ ثُمَّ أَعْطَانِيهَا وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ أَنْ يَمْضُوا مَعِي وَأَنْ يُعَاوِنُونِي وَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْأَسْوَاقَ كُلَّهَا فَلَا أَجِدُ فِيهَا زِقَّ خَمْرٍ إِلَّا شَقَقْتُهُ فَفَعَلْتُ فَلَمْ أَتْرُكْ فِي أَسْوَاقِهَا زِقًّا إِلَّا شَقَقْتُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے پاس چھری لاؤں، میں چھری لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چھری تیز کرنے کے لیے بھیجی، پس اس کو تیز کیا گیا، پھر مجھے دے دی اور فرمایا: یہ چھری لے کر صبح کو میرے پاس آنا۔ پس میں نے ایسے ہی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینہ کے بازاروں میں نکلے، بازاروں میں شراب کی مشکیں تھیں، جو شام سے لائی گئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے وہ چھری لے لی اور جومشکیں موجود تھیں، ان سب کو چاک کر دیا، اور پھر چھری مجھے دے دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جتنے ساتھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ چلیں اور مجھ سے تعاون کریں اور مجھے حکم دیا کہ میں بازاروں میں جاؤں اور شراب کی جو بھی مشک پاؤں، اسے پھاڑ ڈالوں، پس میں نے ایسے ہی کیا، میں نے بازاروں میں کوئی شراب کی ایسی مشک نہ چھوڑی، جسے میں نے چیر نہ ڈالا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7572]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6165 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6165»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 7573
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنْ ثَابِتٍ وَقَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَالَ إِنِّي يَوْمَئِذٍ لَأَسْقِيهِمْ لَأَسْقِي أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا فَأَمَرُونِي فَكَفَأْتُهَا وَكَفَأَ النَّاسُ آنِيَتَهُمْ بِمَا فِيهَا حَتَّى كَادَتِ السِّكَكُ أَنْ تُمْتَنَعَ مِنْ رِيحِهَا قَالَ أَنَسٌ وَمَا خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ مَخْلُوطَيْنِ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ كَانَ عِنْدِي مَالُ يَتِيمٍ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ خَمْرًا أَفَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَبِيعَهُ فَأَرُدَّ عَلَى الْيَتِيمِ مَالَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الثُّرُوبُ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا وَلَمْ يَأْذَنْ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْخَمْرِ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ جب شراب حرام ہوئی تو سیدنا انس کہتے ہیں: میں اس دن ساتھیوں کوشراب پلا رہا تھا، کل گیارہ آدمی تھے، جنہیں میں نے شراب پلائی، پھر حرام ہونے کے بعد انہوں نے مجھے حکم دیا میں شراب انڈیل دوں، میں نے بھی انڈیل دی اور لوگوں نے بھی اپنے اپنے برتن انڈیل دیئے، گلیاں شراب کی بدبو سے بھر گئیں، چلنا مشکل ہو رہا تھا، ان دنوں ان کی شراب زیادہ کچی کھجور اورخشک کھجور سے ملا کر تیار کی گئی تھی، ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میرے پاس یتیموں کامال تھا، میں نے اس سے شراب خرید لی تھی، (جبکہ اب شراب تو حرام ہو گئی ہے) تو کیا آپ اس کی اجازت دیتے ہیں کہ میں وہ فروخت کرکے ان کا مال بچا لوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کرے، ان پرچربی حرام تھی، انہوں نے اسے فروخت کیا اور اس کی قیمت کو کھا گئے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوشراب فروخت کرنے کی اجازت نہ دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7573]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرج الشطر الأول بنحوه البخاري: 5600، ومسلم: 1980، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13275 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13308»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی ایک روایت (۵۵۸۰)کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب شراب کو ہم پر حرام کیا گیا تو مدینہ منورہ میں انگوروں کی شراب بہت کم تھی اور کچی اور خشک کھجوروں کی شراب عام تھی۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين