🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحُمَّى وَعَلاجها
بخار اور اس کے علاج کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7641
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحُمَّى مِنْ كِيرِ جَهَنَّمَ فَمَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ مِنْهَا كَانَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخار دوزخ کی بھٹی سے ہے، مومن کو جتنا بخار ہو گا، یہ اتنا ہی اس کے لیے آگ کا حصہ ہوگا،یعنی اتنی اسے دوزخ کی آگ میں کمی ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7641]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 7468، والبيھقيي في الشعب: 9843، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22165 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22518»
وضاحت: فوائد: … ہر قسم کی ذہنی اور جسمانی بیماری اور تکلیف مومنوں کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے۔ لیکن اس پر صبر کرنا شرط ہے، جیسا کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ((بَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَاعِدٌ مَعَ اَصْحَابِہِ، اِذْ ضَحِکَ، فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُوْنِيْ مِمَّ اَضْحَکُ؟ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمِمَّ تَضْحَکُ؟ قَالَ: ((عَجِبْتُ لِأَمْرِ الْمُوْمِنِ، اِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ اِنْ اَصَابَہٗ مَایُحِبُّ، حَمِدَ اللّٰہَ وَکَانَ لَہُ خَیْرًا، وَإِنْ اَصَابَہٗ مَا یَکْرَہٗ فَصَبَرَ، کَانَ لَہٗ خَیْرًا، وَلَیْسَ کُلُّ اَحَدٍ اَمْرُہٗ کُلُّہٗ خَیْرٌ اِلَّا الْمُوْمِنَ۔)) (مسلم، صحیحہ:۱۴۷) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام میں تشریف فرما تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا: کیا تم مجھ سے سوال نہیں کرتے کہ میں کیوں ہنسا ہوں؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے مؤمن کے معاملے پر بڑا تعجب ہے، اس کے ہر کام میں اس کے لیے بھلائی ہے، اگر اسے کوئی پسندیدہ چیز نصیب ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے اور یہ تعریف کرنا اس کے لیے بہتر ہے اور اگر وہ کسی مکروہ چیز کا سامنا کرتاہے اور اس پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے، مؤمن کے علاوہ کوئی بھی ایسا نہیں کہ اس کے ہر کام میں خیر ہو۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7642
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا مِنَ الْحُمَّى وَالْأَوْجَاعِ بِسْمِ اللَّهِ الْكَبِيرِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں بخار اور دیگر جسمانی تکالیف کے لیے یہ دعا پڑھنے کی تلقین کرتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ الْکَبِیْرِ، اَعَوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ، وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ (اللہ تعالیٰ کے نام سے، جو بہت بڑا ہے، میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں خون بہانے والی رگ سے اور دوزخ کی گرمی کے شر سے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7642]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن ابي حبيبة، أخرجه ابن ماجه: 3526، والترمذي: 2075، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2729 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2729»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن ابي حبيبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7643
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمُ الْحُمَّى وَإِنَّ الْحُمَّى قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيُطْفِئْهَا عَنْهُ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ وَلْيَسْتَقْبِلْ نَهَرًا جَارِيًا يَسْتَقْبِلُ جَرْيَةَ الْمَاءِ فَيَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ وَصَدِّقْ رَسُولَكَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَيَغْتَمِسُ فِيهِ ثَلَاثَ غَمَسَاتٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي ثَلَاثٍ فَخَمْسٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي خَمْسٍ فَسَبْعٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي سَبْعٍ فَتِسْعٍ فَإِنَّهُ لَا يَكَادُ يُجَاوِزُ التِّسْعَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو بخار ہو جائے تو وہ اسے ٹھنڈے پانی کے ساتھ بجھائے، کیونکہ یہ دوزخ کی آگ کا ٹکڑا ہے اورجاری نہر میں چلا جائے اور پانی کے چلاؤ کی طرف رخ کرے اور یہ پڑھی: بِسْمِ اللّٰہِ اللّٰھُمَّ اشْفِ عَبْدَکَ وَصَدِّقْ رَسُولَکَ۔ (اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! اپنے اس بندے کو شفا دے اور اپنے رسول کی تصدیق فرما) نماز فجر کے بعد اور طلوع آفتاب سے پہلے اس طرح نہائے اور اس میں تین غوطے لگائے، تین دن یہی عمل دہرائے، اگر تندرست نہ ہو تو پانچ دن ایسا کر لے اور اگر پانچ دن میں صحت یاب نہ ہو تو سات دن ایسا کرے اور اگر اتنے دنوں میں بھی صحت نہ پائے تو نو دن ایسا کرے، اللہ کے حکم سے بخار نو دنوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7643]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة سعيد بن زرعة الشامي، أخرجه الترمذي: 2084، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22789»
وضاحت: فوائد: … وقت اور دنوں کے تعین کے بارے میں درج ذیل روایت صحیح ہے:

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة سعيد بن زرعة الشامي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7644
عَنْ أُمِّ طَارِقٍ مَوْلَاةِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ فَاسْتَأْذَنَ فَسَكَتَ سَعْدٌ ثُمَّ أَعَادَ فَسَكَتَ سَعْدٌ ثُمَّ عَادَ فَسَكَتَ سَعْدٌ فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَأَرْسَلَنِي إِلَيْهِ سَعْدٌ أَنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَأْذَنَ لَكَ إِلَّا أَنَّا أَرَدْنَا أَنْ تَزِيدَنَا قَالَتْ فَسَمِعْتُ صَوْتًا عَلَى الْبَابِ يَسْتَأْذِنُ وَلَا أَرَى شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَنْتِ قَالَتْ أُمُّ مِلْدَمٍ قَالَ لَا مَرْحَبًا بِكِ وَلَا أَهْلًا أَتَهْدِينَ إِلَى أَهْلِ قُبَاءَ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَاذْهَبِي إِلَيْهِمْ
۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ ام طارق رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے اجازت طلب کی، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ اجازت طلب کی، وہ پھرخاموش رہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لے گئے، ام طارق کہتی ہیں: مجھے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب بھیجا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کروں کہ ہم نے آپ کو اجازت صرف اس لیے نہیں دی کہ ہم چاہتے تھے کہ آپ ہمیں سلام کی برکات سے مزید نوازتے رہیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر آواز سنی کہ کوئی اجازت طلب کر رہاہے، لیکن میں اسے دیکھ نہیں رہی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں ام ملدم ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے کوئی مرحبا نہیں ہے، تجھے کوئی خوش آمدید نہیں ہے، کیا تو قباء والوں کے پاس نہیں چلا جاتا؟ اس نے کہا: ٹھیک ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ان کی طرف چلا جا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7644]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة جعفر بن عبد الرحمن النصاري، أخرجه الطبراني في الكبير: 25/ 349، والبيھقي في دلائل النبوة: 6/ 158، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27127 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27668»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة جعفر بن عبد الرحمن النصاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ وَفَوَائِدِهَا وَ أَوْقَاتِهَا
سینگی، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7645
عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ وَقَالَ أَمْثَلُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ
۔ حمید کہتے ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سینگی لگانے کی کمائی کے متعلق سوال کیا گیا،انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگی لگوائی اور سیدنا ابو طیبہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سینگی لگائی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک صاع جو دینے کا حکم دیا اور ان کے آقاؤں سے مطالبہ کیا کہ انھوں نے اس پر آمدن کی جس مقدار کا تعین کر رکھا ہے، وہ اس میں کمی کریں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین علاج جو تم کرتے ہو، وہ سینگی لگوانا اور قسط بحری کا استعمال ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7645]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5696، ومسلم: 1577، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12883 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12914»
وضاحت: فوائد: … سینگی لگوانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قولی اور فعلی سنت ہے، اس سے جسم کا خراب اور فاسد خون خارج ہو جاتا ہے، جسم کو راحت ملتی ہے اورخون صاف ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اس چیز کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے، دوبارہ اس کا احیاء ہونا چاہئے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5696
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7646
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گردن کی دونوں جانبوں والی رگوں پر اور ٹخنوں کے درمیان سینگی لگوائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7646]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي في الشمائل: 355، والطبراني: 12584، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2091 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2091»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7647
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ يَوْمٍ تَحْتَجِمُونَ فِيهِ سَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ وَقَالَ وَمَا مَرَرْتُ بِمَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَيْلَةً أُسْرِيَ بِي إِلَّا قَالُوا عَلَيْكُمْ بِالْحِجَامَةِ يَا مُحَمَّدُ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سترہ انیس اکیس مہینہ کی جوتاریخ ہے یہ ایام سینگی لگوانے کے لیے نہایت موزوں اور بہتر ہیں اور فرمایا:معراج کی رات جب مجھے لے جایا گیا تو میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرا ہوں انہوں نے یہی کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! سینگی کو لازم پکڑو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7647]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عباد بن منصور الناجي ضعيف، وقد دلّس ھذا الخبر فأسقط من اسناده اثنين من الرواة، أخرجه الترمذي: 2053، وأخرج القطعة الثانية ابن ماجه: 3477، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3316»
وضاحت: فوائد: … لیکن سینگی لگواتے وقت چاند کی ان تاریخوں کا خیال رکھنا درست ہے، جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے:

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7648
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ وَلَا تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کے ساتھ تم علاج کرتے ہو، اس میں سے بہترین ذریعۂ علاج وہ ہے جو تم سینگی لگوا کر اورعود ہندی استعمال کرکے کرتے ہو اور اپنے بچوں کو گلے میں انگلی مار کر تکلیف نہ پہنچاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7648]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12068»
وضاحت: فوائد: … اگر بچے کے حلق کا کوا اتر جائے تو اسے انگلی سے چوکا دے کر اپنی جگہ پر نہ لایا جائے، کیونکہ اس سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ کوئی دوا دے کر اس کا علاج کر لیا جائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7649
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ عَلَى الْأَخْدَعَيْنِ وَعَلَى الْكَاهِلِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گردن کی دونوں جانبوں والی رگوں پر اور کندھوں کے درمیان یعنی کمر کے اوپر والے حصے پر سینگی لگوائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7649]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 3860، وابن ماجه: 3483، والترمذي: 2051، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12191 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12215»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7650
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ ثَلَاثًا وَاحِدَةً عَلَى كَاهِلِهِ وَاثْنَتَيْنِ عَلَى الْأَخْدَعَيْنِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین جگہ پر سینگی لگواتے تھے، کندھو کے درمیان اور گردن کے دونوں جانبوں والی دور رگوں پر۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7650]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13032»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13032
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں