الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. الْعَوَةُ وَالْكَمْأَةُ وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ وَمَنَافِعُهَا
عجوہ کھجور، کھمبی اور کلونجی اور ان کے فوائد کا بیان
حدیث نمبر: 7680
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ (وَفِي رِوَايَةٍ مِنَ السَّلْوَى) وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ
۔ سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھمبی مَن (اور ایک روایت کے مطابق سلویٰ) میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کی بیماری کے لئے شفاء ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7680]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4478، ومسلم: 2049، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1625 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1625»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4478
حدیث نمبر: 7681
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كَمْأَةٌ فَقَالَ تَدْرُونَ مَا هَذَا هَذَا مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ
۔ (دوسری سند) سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک میں کھمبی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ یہ مَن میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کی بیماری کے لئے شفاء ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7681]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1634»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1634
حدیث نمبر: 7682
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ قَالَ سُفْيَانُ السَّامُ الْمَوْتُ وَهِيَ الشُّونِيزُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کلونجی لازمی طور پر کھایا کرو، اس میں موت کے سوا ہر بیماری کے لئے شفاء ہے۔ امام سفیان نے کہا: سَام سے مراد موت اور حبّۂ سوداء سے مراد شونیز ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7682]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5699، ومسلم: 2215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7285»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5699
حدیث نمبر: 7683
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا السَّامُ قَالَ الْمَوْتُ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلونجی کے بارے میں فرمایا: اس میں ہر بیماری کی شفاء ہے، ما سوائے سام کے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول!سام کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موت۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7683]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7548»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7548
حدیث نمبر: 7684
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ يَعْنِي الْمَوْتَ وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ الشُّونِيزُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کلونجی لازمی طور پر استعمال کیا کرو، اس میں سوائے موت کے ہر بیماری کا علاج ہے۔ سَام سے مراد موت اور حبّۂ سوداء سے مراد شونیز یعنی کلونجی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7684]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5687، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25581»
وضاحت: فوائد: … عجوہ کھجور کی خاصیات کے بارے میں مختلف تحقیقات پیش کی جارہی ہیں، اس سے سب سے زیادہ فائدہ اس کو ہو گا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث پر یقین رکھ کر کھائے گا۔ عام طور پر کھجور میں پروٹین، چکنائی، نشاستہ، کیلوریز، سوڈیم، منگنیشیم، آئرن، فاسفورس، سلفر اور کلورین پایا جاتا ہے۔ یہ سستی ٹانک ہے، عجوہ کھجور نہار منہ زہروں کا تریاق ہے، قولنج کو فائدہ دیتی ہے، گردے اور رحم کے دردوں میں مفید ہے، روزانہ سات عجوہ کھجوریں کھانا کوڑھ سے شفا کا سبب بنتا ہے، دل کے دورے میں سات عجوہ کھجوریں گٹھلیوں سمیت کوٹ کر کھانی چاہئیں۔ یہ جسم کے ہر حصے کے لیے یکساں مفید ہے، اس کی سکنجبیں اور اس کے ساتھ بادام اور خشخاش کھانا بہت فائدہ دیتا ہے۔ زخموں کو مندمل کرتی ہے، اسہال دور کرتی ہے، یرقان کے لیے اکسیر ہے، پتہ اور جگر کے فعل کو درست کرتی ہے، اس سے پیٹ کے کیڑے ختم ہو جاتے ہیں، کھجور کے ساتھ انار کا پانی معدہ کی سوزش اور اسہال میں مفید ہے۔ علاوہ ازیں یہ کئی فوائد اور خاصیات پر مشتمل ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5687
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُعَالَجَةِ أَمْرَاضِ الْبَطْنِ وَذَاتِ الْجُنُبِ وَ مُعَالَجَةِ الْأَطْفَالِ مِنَ الْعُدْرَةِ بِالْعُودِ الْهِنْدِي
پیٹ کی بیماریوں، اندرونی ورم اور بچوں کی حلق کی تکلیف کا عودِ ہندی کے ساتھ علاج کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7685
أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي أَبْوَالِ الْإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا شِفَاءً لِلذَّارِبَةِ بُطُونُهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں کے پیشاب اور دودھ میں پیٹ کی بیماری کا علاج ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7685]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني: 12976، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2677 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2677»
وضاحت: فوائد: … پیٹ کو ایک بیماری لاحق ہوتی ہے جس سے معدہ کا نظام خراب ہوجاتا ہے اور کھانا ہضم نہیں ہوتا، اس کے لئے آپ نے علاج بیان فرمایا ہے کہ اونٹوں کے پیشاب اور اونٹنیوں کے دودھ ملا کر پلائیں تو ایسے مریض تندرست ہوجاتے ہیں، جیسا کہ عکل قبیلہ کے لوگ جب مدینہ منورہ آئے اور انھوں نے اس مقدس شہر کی آب و فضا کو موافق نہ پایا، جس کی وجہ سے ان کے پیٹ بڑھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے یہ علاج تجویز کیا کہ وہ باہر اونٹوں والی جگہ میں چلے جائیں اور اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پئیں، پس انھوں نے ایسے ہی کیا اور وہ صحت یاب ہو گئے، پھر یہ لوگ مرتد ہو گئے تھے، ان کی مزید تفصیل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 7686
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَخِي اسْتُطْلِقَ بَطْنُهُ قَالَ اسْقِهِ عَسَلًا قَالَ فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا قَالَ اسْقِهِ عَسَلًا قَالَ فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ اسْقِهِ عَسَلًا قَالَ فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ لَهُ فِي الرَّابِعَةِ اسْقِهِ عَسَلًا قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ فَسَقَاهُ فَبَرَأَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّابِعَةِ صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ
۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میرے بھائی کو دست آرہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ۔ اس نے اسے شہد پلایا اور آ کر کہا: میں نے اسے شہد پلایا، لیکن اس وجہ سے اسہال میں اضافہ ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ۔ پس وہ گیا، لیکن پھر اس نے آ کر کہا: جی میں نے اس کو شہد پلایا ہے، لیکن اسہال میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اور شہد پلاؤ۔ وہ گیا اور سہ بار اس نے آ کر کہا: میں نے اس کو شہد پلایا ہے، لیکن اسہال میں اضافہ ہی ہوا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوتھی بار اس سے فرمایا: اسے شہد پلاؤ۔ اس بار جب اس نے اس کو شہد پلایا تو وہ شفایاب ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھٹلا رہا ہے، (یعنی تیرے بھائی کا پیٹ شفا قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا)۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7686]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5684، ومسلم: 2217، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11146 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11163»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: امام ابن قیم نے (زاد المعاد: ۳/ ۹۷۔۹۸) میں شہد کے بے شمار فوائد ذکر کرنے کے بعد کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس آدمی کے لیے یہ دوا تجویز کی تھی، اس کو بسیار خوری کی وجہ سے بد ہضمی ہو گئی تھی اور پھر دست شروع ہو گئے تھے، اسے شہد پینے کا حکم دیا گیا، تاکہ معدہ اور انتڑیوں سے زائد مواد خارج ہو جائے۔ جب معدہ میں لیس دار مکسچر ٹھہرتا ہے تو وہ اس کی اندرونی جہت کو ڈھانکنے والے ریشوں میں پھنس جاتا ہے، اس طرح معدہ میں فساد اور بگاڑ آ جاتا ہے اور چپچپاہٹ کی وجہ سے وہاں غذا نہیں ٹھہر پاتی۔ ایسی صورت میں سب سے بہترین دوا وہ ہوتی ہے جو مخلوط مواد کو معدہ سے خارج کر دے اور وہ شہد ہے، بالخصوص جب اس کو گرم پانی کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5684
حدیث نمبر: 7687
عَنْ رِبْعِيَّةَ بِنْتِ عِيَاضٍ الْكِلَابِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كُلُوا الرُّمَّانَ بِشَحْمِهِ فَإِنَّهُ دِبَاغُ الْمَعِدَةِ
۔ ربیعہ بنت عیاض کلاَبِیْہِ بیان کرتی ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے کہا: انار اس کی جھلی سمیت کھاؤ، یہ معدہ کے لئے ایسے ہی ہے جس طرح چمڑا رنگنے سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7687]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه البيھقي في الشعب: 5958، وابن عدي في الكامل: 3/ 1098، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23237 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23625»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے معدہ کی اصلاح کے لئے نسخہ بتایا ہے جو کہ نہایت ہی مفید ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 7688
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَدَاوَوْا مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ وَالزَّيْتِ
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا ہے وہ نمونیا بیماری کا علاج عود ہندی اور زیتون کے تیل کے ذریعہ کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7688]
تخریج الحدیث: «التداوي بالعود الھندي منه صحيح، وميمون ابو عبد الله ضعيف، أخرجه الترمذي: 2079، وابن ماجه: 3467، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19289 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19504»
وضاحت: فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کُلُوْا الزَّیْتَ وَادَّھِنُوْا بِہٖ، فَإِنَّہُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُبَارَکَۃٍ۔)) … زیتون کا تیل کھایا کرو اور اسی سے تیل لگایا کرو، کیونکہ وہ بابرکت درخت سے ہے۔ یہ حدیث سیدنا عمر، سیدنا ابو اسید، سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا عبد اللہ بن عباس سے روایت کی گئی ہے۔ ترمذی: ۱/۳۴۰، وابن ماجہ: ۳۳۱۹،صحیحہ: ۳۷۹)
الحكم على الحديث:
التداوي بالعود الھندي منه صحيح
حدیث نمبر: 7689
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْعَتُ الزَّيْتَ وَالْوَرْسَ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ قَالَ قَتَادَةُ يَلُدُّهُ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي يَشْتَكِيهِ
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمونیا بیماری کے لیے زیتون کے تیل اور ورس بوٹی تجویز کیا کرتے تھے۔ امام قتادہ نے کہا: منہ کی اس جانب سے ان کے قطرے ڈالے جائیں جس جانب بیماری کی شکایت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7689]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19542»
وضاحت: فوائد: … ذات جنب دو قسم کی بیماری ہوتی ہے ایک یہ ہے کہ پول میں انتڑیوں اور ہڈیوں کے اندر ورم پیدا ہوجاتا ہے اسے حقیقی ذات جنب کہتے ہیں دوسری ذات جنب بیماری یہ ہے کہ پہلو میں غلیظ ہوا پیدا ہوتی ہے جس سے سخت اذیت ہوتی ہے اور درد پیدا ہوتا ہے اس ذات جنب بیماری سے بخار، کھانسی، سانس کی تنگی، گوشت کے اندر تکلیف وغیرہ بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اس کا علاج زیر شرح حدیث میں بتایا گیا ہے کہ عود ہندی کو اچھی طرح کوٹ کر باریک کرلیا جائے اور زیتون کے گرم تیل میں ملا کر درد والی جگہ پر مل دی جائے یا مریض کو چٹا دی جائے تو بہت مفید ہے اور اس سے اعضاء کو قوت بھی حاصل ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19542