🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي جَوَازِ التَّدَاوِى بِالْكَى وَكَرَاهَةِ النَّبِي ﷺ لَهُ
داغ لگوا کر علاج کروانا جائز ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7661
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رُمِيَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ أُحُدٍ بِسَهْمٍ فَأَصَابَ أَكْحَلَهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكُوِيَ عَلَى أَكْحَلِهِ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ان کے بازو کی رگ پر تیر لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کے بازو پر داغا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7661]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14302»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2207
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7662
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ طَبِيبًا فَقَطَعَ لَهُ عِرْقًا ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ فَكَوَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف ایک معالج کو بھیجا، جس نے ان کی رگ کو کاٹ کر اس کو داغ دیا،ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے داغا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7662]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14432»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14432
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7663
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي أَكْحَلِهِ فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بِمِشْقَصٍ ثُمَّ وَرِمَتْ فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ میں تیر لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے تیر کے پھل کے ساتھ ان کو داغا، پھر جب اس پر ورم آ گیا تو آپ نے دوسری بار داغا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7663]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2208، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14343 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14395»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2208
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7664
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ كَوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَعْدًا أَوْ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَلْقِهِ مِنَ الذُّبْحَةِ وَقَالَ لَا أَدَعُ فِي نَفْسِي حَرَجًا مِنْ سَعْدٍ أَوْ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ
۔ ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ یا سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو حلق کی بیماری کی وجہ سے داغ لگایا اور فرمایا: میں اپنے دل میں سعد یا اسعد بن زرراہ کے بارے میں کوئی حرج نہیں چھوڑنا چاہتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7664]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو الزبير المكي مدلس وقد عنعن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16735»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7665
عَنْ جَابِرٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَوَاهُ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو داغا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7665]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21099 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21416»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7666
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ أَحَدَ النُّقَبَاءِ يَوْمَ الْعَقَبَةِ أَنَّهُ أَخَذَتْهُ الشَّوْكَةُ فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ بِئْسَ الْمَيِّتُ لَيَهُودُ مَرَّتَيْنِ سَيَقُولُونَ لَوْلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ وَلَا أَمْلِكُ لَهُ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَأَتَمَحَّلَنَّ لَهُ فَأَمَرَ بِهِ وَكُوِيَ بِخَطَّيْنِ فَوْقَ رَأْسِهِ فَمَاتَ
۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ، جو عقبہ والے دن کے نقیبوں میں سے ایک تھے، سے مروی ہے کہ ان کے چہرے اور جسم پر سرخی چڑھ آئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودیوں کی میت بہت بری ہوتی ہے، یہ بات دو مرتبہ فرمائی،عنقریب یہ یہودی کہیں گے کہ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھی سے تکلیف دور کیوں نہ کرسکے، لیکن سن لو میں اس کے نقصان اور نفع کا اختیار نہیں رکھتا، تاہم میں اس تکلیف کو حتی الامکان دور کرنے کی کوشش ضرور کروں گا۔ پھر آپ نے ان کے لئے حکم دیا تو ان کے سر کے اوپر دو لکیروں کی صورت میں داغ لگایا گیا، لیکن وہ شفایاب نہ ہوسکے اور وفات پا گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7666]
تخریج الحدیث: «ابو امامة بن سھل بن حنيف، وان كانت له رؤية، لم يسمع من النبي، وزمعة بن صالح توبع، وباقي رجال الاسناد ثقات رجال الشيخين، أخرجه عبد الرزاق: 19515، والطبراني في الكبير: 5584، والحاكم: 4/ 214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17238 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17370»
وضاحت: فوائد: … بہرحال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مختار کل نہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ اپنے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی موت کی مدت بڑھا سکتے تھے اور اپنی مرضی سے کسی کو شفا دے سکتے تھے، یہ اللہ تعالی کی صفات ہیں۔

الحكم على الحديث:
ابو امامة بن سھل بن حنيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7667
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَيِّ فَاكْتَوَيْنَا فَمَا أَفْلَحْنَا وَلَا أَنْجَحْنَا
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے داغ لگانے سے منع کیا، لیکن ہم نے داغ لگوائے، پس ہم نہ کامیاب ہوئے اور نہ ہم نے نجات پائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7667]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2049، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20069»
وضاحت: فوائد: … داغنا فائدہ دیتا ہے، ممکن ہے یہ ایسے زخم ہوں، جو داغنے سے بھی ٹھیک نہ ہوتے ہوں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7668
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے داغ لگوایا یا دم کروایا وہ توکل سے بری ہو گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7668]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابن ماجه: 3489، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18364»
وضاحت: فوائد: … علاج معالجہ کے جائز اسباب استعمال کرنا توکل کے منافی نہیں ہے اور دغوانا اور دم کروانا علاج کے جائز اسباب میں سے ہے، دراصل اس حدیث میں توکل کی انتہائی اعلی قسم کو بیان کیا جا رہا ہے، جس میں کسی بیماری میں مبتلا ہونے والا اللہ تعالی کے فیصلے پر راضی ہو کر صبر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جس نے بیماری لگائی ہے، وہی اس کو دور کرنے پر بھی قادر ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ سَبْعُوْنَ الفًا بِغَیْرِ حِسَابٍ، وَہُمُ الَّذِیْنَ لَا یَکْتَوُوْنَ وَلَا یَسْتَرْقُوْنَ ولَا یَتَطَیَّرُوْنَ وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔)) یعنی: (میری امت کے) ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، (ان کی صفات یہ ہیں کہ وہ اپنے جسم کو) داغتے نہیں ہیں اور نہ دم کرواتے ہیں اور نہ کسی چیز سے برا شگون لیتے ہیں اور اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو دوائیں اور چیزوں کے خواص بیان کیے ہیں، ان کے بارے میں ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: Q7669]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. الْعَوَةُ وَالْكَمْأَةُ وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ وَمَنَافِعُهَا
عجوہ کھجور، کھمبی اور کلونجی اور ان کے فوائد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7669
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ يَعْنِي سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتِ عَجْوَةٍ مِنْ بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ عَلَى الرِّيقِ لَمْ يَضُرَّهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ شَيْءٌ حَتَّى يُمْسِيَ قَالَ فُلَيْحٌ وَأَظُنُّهُ قَالَ وَإِنْ أَكَلَهَا حِينَ يُمْسِي لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يُصْبِحَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ انْظُرْ يَا عَامِرُ مَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَشْهَدُ مَا كَذَبْتُ عَلَى سَعْدٍ وَمَا كَذَبَ سَعْدٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نہار منہ مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان والی کھجوروں میں سے سات عجوہ کھجوریں کھائے گا، تو اسے سارا دن شام تک کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی اور اگر یہی کھجوریں شام کو کھائے گا تو صبح تک اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عامر! ذرا دیکھ لینا جو تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کررہے ہو۔ انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پر جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7669]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2047، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1528»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2047
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں