الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ وَفَوَائِدِهَا وَ أَوْقَاتِهَا
سینگی، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان
حدیث نمبر: 7651
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ فَفِي الْحِجَامَةِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تم علاج کرتے ہو، اس میں سے اگر کوئی بہترین طریقۂ علاج ہے تو وہ سینگی لگانے میں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7651]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 3857، وابن ماجه: 3476، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8513 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8494»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7652
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْحَجَّامَ فَأَتَاهُ بِقُرُونٍ فَأَلْزَمَهُ إِيَّاهَا قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً بِقَرْنٍ ثُمَّ شَرَطَهُ بِشَفْرَةٍ فَدَخَلَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَحَدِ بَنِي جَذِيمَةَ فَلَمَّا رَآهُ يَحْتَجِمُ وَلَا عَهْدَ لَهُ بِالْحِجَامَةِ وَلَا يَعْرِفُهَا قَالَ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَامَ تَدَعُ هَذَا يَقْطَعُ جِلْدَكَ قَالَ هَذَا الْحَجْمُ قَالَ وَمَا الْحَجْمُ قَالَ هَذَا مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ نے سینگی لگانے والے کو بلوایا، وہ سینگی لگانے کا آلہ لے کر آ گیا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چمٹا دیا اورچھری سے آپ کے جسد اطہر پر بچھنے لگائے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آ گیا، جو بنو جذیمہ کی شاخ بنو فرازہ سے تھا، جب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سینگی لگواتے دیکھا تو کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اسے کیا چھوڑ رکھا ہے کہ یہ آپ کی جلد کاٹ رہا ہے؟ دراصل اسے معلوم نہیں تھا کہ سینگی کیا چیز ہے نہ اس نے کبھی لگتے دیکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سینگی ہے۔ اس نے کہا: سینگی کیا ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ جو علاج کرواتے ہیں، یہ سینگی ان کے بہترین علاج میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7652]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 1216، والطبراني في الكبير: 6785، والحاكم: 4/ 208، والنسائي في الكبري: 7596، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20356»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 7653
عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَادَ الْمُقَنَّعَ فَقَالَ لَا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فِيهِ الشِّفَاءَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے مقنع کی تیمار داری کی اور اس سے کہا: میں اس وقت تک نہیں جاؤں گا، جب تک تو سینگی نہیں لگوائے گا،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سینگی لگوانے سے شفا حاصل ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7653]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5697، ومسلم: 2205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14652»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5697
حدیث نمبر: 7654
عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى خَادِمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا قَطُّ يَشْكُو إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا فِي رَأْسِهِ إِلَّا قَالَ احْتَجِمْ وَلَا وَجَعًا فِي رِجْلَيْهِ إِلَّا قَالَ اخْضِبْهُمَا بِالْحِنَّاءِ
۔ سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خادمہ تھیں، بیان کرتی ہیں کہ جس نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سردرد کی شکایت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ سینگی لگاؤ۔ اور جس نے بھی پاؤں میں درد کی شکایت کی ہے، آپ نے اسے مہندی کا لیپ کرنے کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7654]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لاضطرابه، أخرجه ابوداود: 3858، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27617 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28169»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 7655
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اسْتَأْذَنَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا قَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت طلب کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو طیبہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں سینگی لگائے، یہ ابو طیبہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی بھائی تھا یا یہ ابھی نابالغ بچہ تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7655]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14834»
وضاحت: فوائد: … درج بالا اور دیگر کئی احادیث میں سینگی لگانے کا حکم اور ترغیب دلائی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2206
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي جَوَازِ التَّدَاوِى بِالْكَى وَكَرَاهَةِ النَّبِي ﷺ لَهُ
داغ لگوا کر علاج کروانا جائز ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا ہے
حدیث نمبر: 7656
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ كَانَ أَوْ إِنْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ تُوَافِقُ دَاءً وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے علاج کے طریقوں میں اگر کوئی بھلائی ہے تو وہ سینگی لگانے میں ہے یا شہد پینے میں ہے یا آگ سے داغ دینے میں ہے جو کہ بیماری کے موافق ہو، البتہ میں داغ لگانے کو پسند نہیں کرتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7656]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5683، 5702، ومسلم: 2205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14701 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14757»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5683
حدیث نمبر: 7657
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ شِفَاءٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ أَوْ كَيَّةٍ تُصِيبُ أَلَمًا وَأَنَا أَكْرَهُ الْكَيَّ وَلَا أُحِبُّهُ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ہیں، اگر کسی چیز میں شفا ہے، (تو ان تین میں ہے) یعنی سینگی لگانے میں ہے یا شہد پینے میں یا داغ لگوانے میں جو تکلیف کے علاج کے لئے مناسب ہو اور میں داغ کو ناپسند کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7657]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 1765، والطبران في الاوسط: 9335، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17315 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17448»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7658
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ شَرْبَةِ عَسَلٍ وَشَرْطَةِ مِحْجَمٍ وَكَيَّةِ نَارٍ وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تین چیزوں میں شفاء ہے، شہد پینے میں، سینگی لگوانے میں اور آگ کا داغ لگوانے میں، البتہ میں اپنی امت کو داغ لگانے سے منع کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7658]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5680، 5681، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2208»
وضاحت: فوائد: … ظاہری طور پر یہ روایت موقوف ہے، لیکن آخری جملہ دلالت کرتا ہے کہ یہ مرفوع روایت ہے، بہرحال صحیح بخاری اور سنن ابن ماجہ میں یہ پوری روایت مرفوع ثابت ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5680
حدیث نمبر: 7659
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ نَسْتَأْذِنُهُ أَنْ نَكْوِيَهُ فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ ارْضِفُوهُ إِنْ شِئْتُمْ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ کے پؤں کی بیماری کی وجہ سے تیمار داری کے لئے حاضر ہوئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ ہم داغ لگا دیں، جواباً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، ہم نے پھر سوال کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، جب ہم نے تیسری مرتبہ سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو گرم پتھر لگا لو۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7659]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار: 4/ 320، والحاكم: 4/ 416، وابن حبان: 6082، والطبراني في الكبير: 10275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4054»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 7660
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَوَانِي أَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَمَا نُهِيتُ عَنْهُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے داغ کر میرا علاج کیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، پس مجھے اس سے منع نہیں کیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7660]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5719، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12443»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5719