🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُعَالَجَةِ أَمْرَاضِ الْبَطْنِ وَذَاتِ الْجُنُبِ وَ مُعَالَجَةِ الْأَطْفَالِ مِنَ الْعُدْرَةِ بِالْعُودِ الْهِنْدِي
پیٹ کی بیماریوں، اندرونی ورم اور بچوں کی حلق کی تکلیف کا عودِ ہندی کے ساتھ علاج کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7690
عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةِ أُخْتِ عُكَّاشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جِئْتُ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَنْهُ أَخَافُ أَنْ يَكُونَ بِهِ الْعُذْرَةُ وَفِي رِوَايَةٍ وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذِهِ الْعَلَائِقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ قَالَ يَعْنِي الْكُسْتَ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ ثُمَّ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَبِيَّهَا فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَكُنِ الصَّبِيُّ بَلَغَ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَمَضَتِ السُّنَّةُ بِأَنْ يُرَشَّ بَوْلُ الصَّبِيِّ وَيُغْسَلَ بَوْلُ الْجَارِيَةِ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَيُسْتَسْعَطُ لِلْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ لِذَاتِ الْجَنْبِ
۔ سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کی بہن سیدہ ام قیس بنت محصن اسدیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں اپنے ایک بیٹے کو لائی جس کے حلق میں دوائی لگا کر زخمی کردیا گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں مار کر بچوں کے حلق زخمی نہ کیا کرو،یہ عود ہندی استعمال کیا کرو، اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے، ان میں سے ایک بیماری نمونیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے کو پکڑ کر اسے گود میں بٹھا لیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیشاب کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور اسے چھڑکا، بچہ ابھی کھانا کھانے کی عمر کو نہ پہنچا تھا۔امام زہری کہتے ہیں: یہی طریقہ رائج ہے کہ بچے کے پیشاب کرنے سے پانی چھڑکا جائے اور بچی کے پیشاب کرنے سے اسے دھویا جائے، حلق میں خرابی کے لئے ناک میں قطرے ڈالے جائیں اور نمونیا بیماری کے لئے منہ میں قطرے ڈالے جائیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7690]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه عبد الرزاق: 1485، 20168، وابوعوانة: 1/ 203، والطبراني في الكبير: 25/ 435، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27540»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7691
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ بِصَبِيٍّ يَسِيلُ مَنْخِرَاهُ دَمًا قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِهِ وَعِنْدَهَا صَبِيٌّ يَبْعَثُ مَنْخِرَاهُ دَمًا قَالَ فَقَالَ مَا لِهَذَا قَالَ فَقَالُوا بِهِ الْعُذْرَةُ قَالَ فَقَالَ عَلَامَ تُعَذِّبْنَ أَوْلَادَكُنَّ إِنَّمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَأْخُذَ قُسْطًا هِنْدِيًّا فَتَحُكَّهُ بِمَاءٍ سَبْعَ مَرَّاتٍ ثُمَّ تُوجِرَهُ إِيَّاهُ قَالَ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ثُمَّ تُسْعِطَهُ إِيَّاهُ فَفَعَلُوا فَبَرَأَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا (اور ایک راوی کی روایت کے مطابق) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، ان کے پاس ایک بچہ تھا، جس کے نتھنوں سے خون بہہ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اسے کیا ہو گیا ہے؟ بتایا گیا کہ اس کے حلق میں تکلیف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد کو تکلیف میں کیوں مبتلا کرتے ہوئے؟ اتنا ہی کافی ہے کہ عود ہندی لو اور اسے پانی میں سات مرتبہ تر کر لو اور اسے حلق میں ڈال دو، ابن ابی عتبہ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے ناک میں ڈالو۔ پس انہوں نے ایسا ہی کیا اور وہ بچہ صحت یاب ہوگیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7691]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 9، والبزار: 3024، والحاكم: 4/ 205، وابويعلي: 1912، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14438»
وضاحت: فوائد: … اسلامی طب اور جدید طب میں تجویز بالا دواؤں کے فوائد اور استعمال کی تفصیلات پر مزید مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده قوي علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ مَا وَصَفَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ عِرْقِ النِّسَاءِ
اس چیز کا بیان جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرق نساء بیماری کے لیے تجویز کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7692
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصِفُ مِنْ عِرْقِ النَّسَا أَلْيَةَ كَبْشٍ عَرَبِيٍّ أَسْوَدَ لَيْسَ بِالْعَظِيمِ وَلَا بِالصَّغِيرِ يُجَزَّأُ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ فَيُذَابُ فَيُشْرَبُ كُلَّ يَوْمٍ جُزْءٌ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرق النساء کی بیماری کا علاج یہ بیان کیا ہے کہ سیاہ رنگ کا جنگلی مینڈھا لے کر جو کہ درمیانی عمر کا ہو، نہ بڑا ہو اور نہ چھوٹا، اسے ذبح کرکے اس کی سرین کا گوشت تین حصے کرلیا جائے اور اسے پگھلا کر یعنی یخنی بناکر تین دن پیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7692]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 3463، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13295 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13328»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7693
عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَتَ مِنْ عِرْقِ النَّسَا أَنْ تُؤْخَذَ أَلْيَةُ كَبْشٍ عَرَبِيٍّ لَيْسَتْ بِصَغِيرَةٍ وَلَا عَظِيمَةٍ فَتُذَابَ ثُمَّ تُجَزَّأَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ فَيُشْرَبَ كُلَّ يَوْمٍ عَلَى رِيقِ النَّفَسِ جُزْءًا
۔ سیدنا معبد بن سیرین انصار کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، وہ انصاری اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرق النساء کی بیماری کا علاج یہ بتایا ہے کہ عربی مینڈھا لیا جائے، جو نہ تو بہت چھوٹا ہو اور نہ ہی بہت بڑا، اس کے سرین کا گوشت لیا جائے اور اسے پگھلا لیا جائے یعنی یخنی بنالی جائے اور اس کے تین حصے کرلئے جائیں، ہر روز ایک حصہ نہار منہ پی لیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7693]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21022»
وضاحت: فوائد: … عرق النساء ایک رگ ہے، جو کولہو سے نکل کر ران میں جاتی ہے اس میں خرابی آنے کی وجہ سے درد ہوتا ہے، جو بہت ہی بے چین کرتا ہے، اس کا علاج کبھی تو اسہال کے ذریعہ یعنی دست آور چیز کھلا کر کیا جاتا ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا طریقہ علاج یہ بیان فرمایا ہے کہ دیہاتی اور جنگلی مینڈھا لیا جائے کیونکہ پہاڑوں اور صحرائوں میں چرنے کی وجہ سے اس کا گوشت علاج کے لئے مفید ہوتا ہے اور اس میں چربی اور فضولیات کم ہوتی ہیں اور جڑی بوٹیوں کی اس میں تاثیر ہوتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بابُ مَا تُعَالَجُ بِهِ الْجُرُوحُ وَالْبُشُورُ
زخموں اور جسم پر نکل آنے والے دانوں کے علاج کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7694
عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَجِيءُ بِالْمَاءِ فِي تُرْسِهِ وَفَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَأَخَذَ حَصِيرًا فَأَحْرَقَهُ فَحَشَا بِهِ جُرْحَهُ
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زخموں کا علاج کس چیز سے کیا گیا تھا، انھوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے ڈھال میں پانی لاتے تھے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور سے خون دھوتی تھیں اور ایک چٹائی لے کر اسے جلا کر اس کی راکھ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زخم بھرا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7694]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 243، 3037، ومسلم: 1790، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22799 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23185»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ احد کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ زخم لگے تھے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 243
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7695
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَحْرَقَتْ قِطْعَةً مِنْ حَصِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ تَجْعَلُهُ عَلَى جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بِوَجْهِهِ قَالَ وَأُتِيَ بِتُرْسٍ فِيهِ مَاءٌ فَغَسَلَتْ عَنْهُ الدَّمَ
۔ (دوسری سند) سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو احد کے دن دیکھا کہ انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا، اسے جلا کر اس کی راکھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے مبارک کے زخم بھرے اور ڈھال میں پانی لایا گیا تھا، اس سے انھوں نے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خون صاف کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7695]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23217»
وضاحت: فوائد: … راکھ سے زخم جلد خشک ہو جاتا ہے اور خون رک جاتا ہے، اب بھی دیہاتوں میں جسم پر لگنے والے کٹ پر راکھ لگا دی جاتی ہے۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23217
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7696
عَنْ مَرْيَمَ ابْنَةِ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ أَعِنْدَكِ ذَرِيرَةٌ قَالَتْ نَعَمْ فَدَعَا بِهَا فَوَضَعَهَا عَلَى بَثْرَةٍ بَيْنَ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ مُطْفِئَ الْكَبِيرِ وَمُكَبِّرَ الصَّغِيرِ أَطْفِهَا عَنِّي فَطُفِئَتْ
۔ صحابی رسول سیدنا ایاس بن بکیر رضی اللہ عنہ کی بیٹی مریم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا ذریرہ خوشبو ہے۔ میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ منگوائی اور اسے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان نکلنے والے چھالے پر لگا کر یہ دعا پڑھی: اَللّٰھُمَّ مُطْفِیئَ الْکَبِیرِ وَمُکَبِّرَ الصَّغِیرِ أَطْفِہَا عَنِّی (اے اللہ! بڑے کو بجھانے والے اور چھوٹے کو بڑا کرنے والے، اسے بجھا دے۔) پس وہ چھالہ وہیں بجھ گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7696]
تخریج الحدیث: «رواته من احمد الي منتھاه من رواة الصحيحين الا مريم بنت اياس بن البكير، وقد اختلف في صحبتھا، وأبوھا وأعمامھا من كبار الصحابة، ولأخيھا محمدٍ رؤية، أخرجه الحاكم: 4/ 207، والنسائي في عمل اليوم والليلة: 1031، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23529»
وضاحت: فوائد: … ذریرہ: یہ ایک خوشبو دار پاؤڈر ہوتا ہے، جو کئی چیزوں کا مرکب ہوتا ہے، اس کو زخموں پر بھی چھڑکا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث: رواته من احمد الي منتھاه من رواة الصحيحين الا مريم بنت اياس بن البكير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّنَاءِ وَالْبَانِ الْبَقَرِ
سنابوٹی اور گائے کے دودھ سے علاج کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7697
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَاذَا كُنْتِ تَسْتَشْفِينَ قَالَتْ بِالشُّبْرُمِ قَالَ حَارٌّ جَارٌّ ثُمَّ اسْتَشْفَيْتُ بِالسَّنَا قَالَ لَوْ كَانَ شَيْءٌ يَشْفِي مِنَ الْمَوْتِ كَانَ السَّنَا أَوِ السَّنَا شِفَاءٌ مِنَ الْمَوْتِ
۔ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کس چیز کے ساتھ جلاب لیتی ہو؟ میں نے کہا: شبرم بوٹی کے ساتھ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو گرم اور زیادہ جلاب آور ہے۔ پھر میں نے سنابوٹی کے ساتھ جلاب لیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اگرکوئی چیز موت سے شفاء دے سکتی ہوتی تو وہ یہی سنامکی ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7697]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الحميد بن جعفر مختلف فيه، وقد اضطرب في ھذا الحديث ايضا، أخرجه ابن ماجه: 3461، والترمذي: 2081، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27620»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ابی بن ام حرام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ((عَلَیْکُمْ بِالسَّنَّا وَالسَّنُّوْتِ، فَاِنَّ فِیْھِمَا شِفَائً مِّنْ کُلِّ دَائٍ اِلاَّالسَّامَ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا السَّامُ؟قَالَ: ((الْمَوْتُ۔)) … تم سَنا اور شہد کا استعمال لازمی طور پر کیا کرو، کیونکہ اس میں سَام کے علاوہ ہر بیماری کی شفا ہے۔ کہا گیا کہ سَام کا کیامعنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موت۔ (ابن ماجہ: ۳۴۵۷، صحیحہ:۱۷۹۸)

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7698
عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً فَعَلَيْكُمْ بِأَلْبَانِ الْبَقَرِ فَإِنَّهَا تَرُمُّ مِنْ كُلِّ الشَّجَرِ
۔ سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کا علاج پیدا کیا ہے، گائے کا دودھ لازمی طور پر استعمال کیا کرو،کیونکہ یہ ہر درخت سے چرتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7698]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، أخرجه النسائي في الكبري: 6864، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19037»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الْبَانُھَا شِفَائٌ، وَسَمَنُھَا دَوَائٌ، وَلُحُوْمُھَا دَائٌ۔)) … گائیوں کا دودھ شفا ہے، ان کا گھی دوا ہے اور ان کا گوشت بیماری ہے۔ (طبرانی کبیر، صحیحۃ:۱۵۳۳)

الحكم على الحديث: حديث حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ مَا يَنْفَعُ الْمَرِيضَ مِنَ الْعَذَاءِ وَمَا يُضِرُّهُ
صحت کے لیے مفید اور مضر غذائوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7699
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الْوَعْكُ أَمَرَ بِالْحَسَاءِ فَصُنِعَ ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَحَسَوْا مِنْهُ ثُمَّ يَقُولُ إِنَّهُ يَعْنِي لَيَرْتُو فُؤَادَ الْحَزِينِ وَيَسْرُو عَنْ فُؤَادِ السَّقِيمِ كَمَا تَسْرُو إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ بِالْمَاءِ عَنْ وَجْهِهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں میں سے اگر کسی کو بخار ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالیدہ بنانے کا حکم دیتے، جب وہ تیار کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکم دیتے اس کے گھونٹ بھرو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے غمگین کا دل اور معدہ مضبوط رہتا ہے اور بیمار کے دل کی تکلیف دور ہوتی ہے، جس طرح تم خواتین چہرے کو دھو کر میل کچیل دور کرتی ہو اسی طرح یہ مالیدہ دل اور معدہ کی صفائی کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7699]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة والدة محمد بن السائب، أخرجه الترمذي: 2039، وابن ماجه: 3445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24035 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24536»
وضاحت: فوائد: … یہ مالیدہ، آٹے، پانی اور تیل سے تیار کیا جاتا ہے، اس میں میٹھا بھی ملایا جا سکتا ہے، یہ اتنا پتلا ہوتا ہے کہ اس کے گھونٹ بھرے جاتے ہیں۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لجھالة والدة محمد بن السائب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں