الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ مَا جَاءَ عَامًا فِي تَحْرِيمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ
سونے اور ریشم کی عام حرمت کا بیان
حدیث نمبر: 8008
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلَتْنَا الضَّبُعُ يَعْنِي السَّنَةَ قَالَ غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا إِذَا صُبَّتْ عَلَيْكُمْ صَبًّا فَيَا لَيْتَ أُمَّتِي لَا يَلْبَسُونَ وَفِي رِوَايَةٍ لَا يَتَحَلَّوْنَ الذَّهَبَ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! قحط سالی نے ہمیں تباہ کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کا اتنا خوف نہیں، جتنا اس سے زیادہ ایک اور چیز کا ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا تم پر بارش کی مانند برسے گی، کاش! میری امت سونا نہ پہنے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8008]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21697»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21697
حدیث نمبر: 8009
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ لَبِسَ الذَّهَبَ مِنْ أُمَّتِي فَمَاتَ وَهُوَ يَلْبَسُهُ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ذَهَبَ الْجَنَّةِ وَمَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ مِنْ أُمَّتِي فَمَاتَ وَهُوَ يَلْبَسُهُ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ حَرِيرَ الْجَنَّةِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جس نے سونا پہنا اور وہ اس حالت میں مرا کہ وہ اسے پہنا کرتا ہو تواللہ تعالیٰ اس پر جنت کا سونا حرام کردے گا اور میری امت میں سے جس نے ریشم پہنا اور وہ اسی حالت میں مر گیا کہ وہ اس کو پہنا کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس پرجنت کا ریشم حرام کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8009]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6556 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6556»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 8010
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ وَفِي لَفْظٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ حَرِيرًا وَلَا ذَهَبًا قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ نہ ریشم پہنے اور نہ سونا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8010]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الاوسط: 3192، والحاكم: 4/ 191، وأخرجه مسلم: 2074 بلفظ: من لبس الحرير في الدنيا، لم يلبسه في الآخرة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22249 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22604»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 8011
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا فَلَا يُكْسَاهُ فِي الْآخِرَةِ وَفِي لَفْظٍ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا فَلَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ
۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے اپنے خطبے میں کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، اس کو آخرت میں یہ نہیں پہنایا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8011]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5834، ومسلم: 2069، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 123 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 123»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5834
حدیث نمبر: 8012
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ریشم صرف وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8012]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5841، ومسلم: 2068، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5364 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5364»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5841
حدیث نمبر: 8013
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الْدُّنْيَا مَنْ لَا يَرْجُو أَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ قَالَ الْحَسَنُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَبْلُغُهُمْ هَذَا عَنْ نَبِيِّهِمْ فَيَجْعَلُونَ حَرِيرًا فِي ثِيَابِهِمْ وَفِي بُيُوتِهِمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں ریشم وہی پہنتا ہے جو آخرت میں اسے پہننے کی امید نہ رکھتا ہو، بس ریشم صرف وہی پہنتا ہے، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ حسن بصری کہتے ہیں: ان لوگوں کا کیا حال ہو گا، جن تک ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان پہنچ چکا ہے، لیکن پھر بھی وہ اپنے لباس اور گھروں میں ریشم استعمال کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8013]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطيالسي: 2464، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8337»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8014
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَّبَّعُ الْحَرِيرَ مِنَ الثِّيَابِ فَيَنْزِعُهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ریشم کے کپڑوں کی تاڑ میں رہتے اور ان کو اتروا دیتے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8014]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8244»
الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 8015
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الْدُّنْيَا فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ اس کو آخرت میں ہر گز نہیں پہنے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8015]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5832، ومسلم: 2073، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12008»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5832
حدیث نمبر: 8016
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَاهِبًا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُبَّةَ سُنْدُسٍ فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ فَوَضَعَهَا وَأَحَسَّ بِوَفْدٍ أَتَوْهُ فَأَمَرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَلْبَسَ الْجُبَّةَ لِقُدُومِ الْوَفْدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْلُحُ لِبَاسُهَا لَنَا فِي الْدُّنْيَا وَيَصْلُحُ لَنَا فِي الْآخِرَةِ وَلَكِنْ خُذْهَا يَا عُمَرُ فَقَالَ يَكْرَهُهَا وَآخَذُهَا فَقَالَ إِنِّي لَا آمُرُكَ أَنْ تَلْبَسَهَا وَلَكِنْ أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَرْضِ فَارِسَ فَتُصِيبَ بِهَا مَالًا فَأَرْسَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ وَكَانَ قَدْ أَحْسَنَ إِلَى مَنْ فَرَّ إِلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک راہب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باریک ریشم کا جبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پہنا، پھر آپ گھر میں آئے اور اس کو اتار دیا، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا کہ ایک وفد آیا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشورہ دیا کہ وفد کی آمد پر وہی جبہ پہن لیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لباس دنیا میں ہمارے لئے درست نہیں، یہ ہمارے لئے آخرت میں ہوگا، لیکن اے عمر! تم یہ لے لو۔ انہوں نے عرض کی: آپ اسے ناپسند کرتے ہیں اور میں لے لوں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس لیے نہیں دے رہا کہ تم اس کو پہن لو، میں تو اس لئے دے رہا ہوں کہ تم اسے فارس کے علاقے کی طرف بھیج دو اور اس کے عوض مال حاصل کر لو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نجاشی کی طرف بھیج دیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے ان صحابہ کے ساتھ اچھا سلوک کیا تھا، جو ہجرت کر کے اس کے پاس گئے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8016]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14675»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة
حدیث نمبر: 8017
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَعَلَيْهِ فَرُّوجُ حَرِيرٍ وَهُوَ الْقَبَاءُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ نَزَعَهُ نَزْعًا عَنِيفًا وَقَالَ إِنَّ هَذَا لَا يَنْبَغِي لِلْمُتَّقِينَ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم کے چاک والی قباء پہن رکھی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو اسے بڑی سختی سے اتارا اور فرمایا: یہ پرہیز گاروں کے لائق نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8017]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2075، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17425»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2075