🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ مَاجَاءَ فِي النَّعَالِ وَلُبْسِهَا وَآدَابِ تَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ
جوتا پہننے کے آداب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7918
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَمْشِيَ فِي خُفٍّ وَاحِدَةٍ أَوْ نَعْلٍ وَاحِدَةٍ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موزے یا ایک جوتے میں چلنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7918]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، الحسن بن ذكوان، ضعفه احمد، وابن معين، وابو حاتم وغيرھم، بل قال بعضھم: متروك الحديث، ذاھب الحديث، لايُشتغل به، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2948»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعُمَامَةِ وَالسَّرَاوِيل وَحُلل الْجِبَرَةِ
پگڑی، شلوار اور دھاری دار پوشاکیں پہننے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7919
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سیاہ رنگ کی پگڑی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7919]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14904 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14966»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7920
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ
۔ سیدنا حریث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک پر کالے رنگ کی پگڑی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7920]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1359، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18941»
وضاحت: فوائد: … ابو داود کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر خطاب کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر پگڑی تھی اور اس کا ایک کنارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے درمیان لٹک رہا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7921
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَةُ الْعَبْدِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثِيَابًا مِنْ هَجَرَ قَالَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا فِي سَرَاوِيلَ وَعِنْدَنَا وَزَّانُونَ يَزِنُونَ بِالْأَجْرِ فَقَالَ لِلْوَزَّانِ زِنْ وَأَرْجِحْ
۔ سیدنا سوید بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا مخرمہ عبدی رضی اللہ عنہ ہجر سے کپڑا لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے شلوار کا سودا کیا، جبکہ ہمارے پاس اجرت لے کر وزن کرنے والے بھی بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وزن کرنے والے سے فرمایا: اس کا وزن کرو اور ترازو کا یہ والا پلڑا جھکاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7921]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3336، وابن ماجه: 2220، 3579، والترمذي: 1305، والنسائي: 7/ 284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19098 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19308»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ بائع کو چاہیے کہ جب وہ کوئی چیز بیچے تو جس مقدار کا سودا ہوا ہو، اپنی رضامندی سے اس مقدار میں کچھ مقدار کا اضافہ کر دے، اس سے برکت ہو گی، ان شاء اللہ۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7922
عَنْ قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَعْجَبَ وَفِي رِوَايَةٍ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحِبَرَةُ
۔ قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدناانس رضی اللہ عنہ سے کہا: کون سا لباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ پسند تھا؟ انھوں نے کہا: دھاری دار۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7922]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5812، ومسلم: 2079، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12404»
وضاحت: فوائد: … عہد ِ نبوی میں یہ دھاری دارکپڑا یمن میں بنتا تھا، دھاری دار کپڑا جلدی میلا محسوس نہیںہوتا، نیز ایسا کپڑا دیکھنے میں بھلا محسوس ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7923
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ يَعْنِي ابْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْسَ ذَاكَ لَكَ قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْ ذَلِكَ فَأَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ عُمَرُ وَأَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ حُلَلِ الْحِبَرَةِ لِأَنَّهَا تُصْبَغُ بِالْبَوْلِ فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ لَيْسَ ذَاكَ لَكَ قَدْ لَبِسَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَبِسْنَاهُنَّ فِي عَهْدِهِ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حج تمتع یعنی حج کے ساتھ عمرہ کرنے سے منع کرنے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: یہ آپ کا حق نہیں ہے، کیونکہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو منع نہیں کیا، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منع کرنے کے ارادے کو ترک کر دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ دھاری دار پوشاکوں سے منع کر دیں،کیونکہ ان کو پیشاب سے رنگا جاتا تھا، لیکن سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اس کا آپ کو اختیار نہیں ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا لباس زیب ِ تن کیا ہے اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں پہنا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7923]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، لكن الحسن البصري لم يلق عمر ولا أُبيا، لكن قد صح نھي عمر عن متعة الحج، وأما شطره الثاني فقد جاء من طرق عن عمر، وھي وان كانت منقطعة لكن بمجموعھا تدل علي ان لھا اصلا عن عمر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21607»
وضاحت: فوائد: … اگر پیشاب سے رنگنے کی بات درست ہو تو اس سے کپڑے کا نجس ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ رنگے کے بعد جب اس کو دھویا جائے گا تو وہ پاک ہو جائے گا، ایسا پیشاب کپڑے کے ساتھ تو نہیں لگا رہتا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ يَا يَقُولُ مَنِ اسْتَجَدَ ثَوْبًا
نیا کپڑا پہننے والے کی دعا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7924
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ اسْتَجَدَّ ثَوْبًا فَلَبِسَهُ فَقَالَ حِينَ يَبْلُغُ تَرْقُوَتَهُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ أَوْ قَالَ أَلْقَى فَتَصَدَّقَ بِهِ كَانَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ تَعَالَى وَفِي جِوَارِ اللَّهِ وَفِي كَنَفِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا حَيًّا وَمَيِّتًا حَيًّا وَمَيِّتًا
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نیا لباس زیب تن کرے اور پہنتے ہوئے جب وہ کپڑا ہنسلی کی ہڈی تک پہنچے تووہ یہ دعا پڑھے: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَسَانِی مَا أُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی وَأَتَجَمَّلُ بِہِ فِی حَیَاتِیْ (ساری تعریف اس اللہ کے لئے، جس نے مجھے ایسا لباس پہنایا جس کے ساتھ میں اپنی شرمگاہ چھپاتا ہوں اور اپنی زندگی میں زینت اختیار کرتا ہوں۔) پھر پرانے لباس کا صدقہ کر دے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ، اس کی پناہ اور اس کی حفاظت میں آ جاتا ہے، وہ زندہ ہو یا میت، وہ بقید حیات ہو یا بقید ممات، وہ زندہ ہو یا میت، (وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آ جائے گا)۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7924]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي العلاء الشامي، أخرجه ابن ماجه: 3557، والترمذي: 3560، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 305 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 305»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7925
عَنْ أَبِي مَطَرٍ الْبَصْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَلِيًّا اشْتَرَى ثَوْبًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ فَلَمَّا لَبِسَهُ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي ثُمَّ قَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
۔ ابو مطر بصری، جنھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پایا تھا، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک کپڑا تین درہم سے خریدا، جب انھوں نے وہ پہنا تو یہ دعا پڑھی: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی رَزَقَنِی مِنَ الرِّیَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِہِ فِی النَّاسِ وَأُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی (ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہیں، جس نے مجھے شاندار لباس کے ذریعہ لوگوں میں زینت دی اور اس کے ذریعہ میں اپنی شرمگاہ ڈھانپتا ہوں۔) اور پھر کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7925]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف المختار بن نافع، ولجھالة ابي مطر البصري، أخرجه ابويعلي: 295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1353»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7926
عَنْ أَبِي مَطَرٍ أَيْضًا أَنَّهُ رَأَى عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَى غُلَامًا حَدَثًا فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ وَلَبِسَهُ إِلَى مَا بَيْنَ الرُّسْغَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ يَقُولُ وَلَبِسَهُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي فَقِيلَ هَذَا شَيْءٌ تَرْوِيهِ عَنْ نَفْسِكَ أَوْ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ عِنْدَ الْكُسْوَةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي
۔ ابو مطرسے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ابھی تک وہ نو عمر لڑکا ہی تھا، انہوں نے تین درہم سے قمیص خریدی، جب اسے گٹوں سے ٹخنوں تک پہن لیا تو یہ دعا پڑھی: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی رَزَقَنِی مِنَ الرِّیَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِہِ فِی النَّاسِ وَأُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی (ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہیں، جس نے مجھے شاندار لباس کے ذریعہ لوگوں میں زینت دی اور اس کے ذریعہ میں اپنی شرمگاہ ڈھانپتا ہوں۔) جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ یہ دعا اپنی طرف سے پڑھ رہے ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کر رہے ہیں تو انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لباس پہنتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی رَزَقَنِی مِنَ الرِّیَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِہِ فِی النَّاسِ وَأُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7926]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف المختار بن نافع، ولجھالة ابي مطر البصري، أخرجه عبد بن حميد: 96، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1355»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7927
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ قَمِيصًا أَوْ عِمَامَةً ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نیا لباس پہنتے تو اس کا نام لیتے کہ وہ قمیص ہے یا پگڑی اورپھر یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ کَسَوْتَنِیْہٖ اَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِہٖ وَخَیْرِ مَا صُنِعَ لَہُ، وَاَعَوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہٖ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَہٗ۔ (اے اللہ! ساری تعریف تیرے لئے ہے، تو نے مجھے یہ (کپڑا) پہنایا، (اب) میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس چیز کیلئے یہ بنایا گیا اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اور اس کی برائی اور جس چیز کیلئے یہ بنایا گیا اس کی برائی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔) [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7927]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 4020، والترمذي: 1767، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11489»
وضاحت: فوائد: … کسی انداز میں اس لباس کانام لیا جا سکتا ہے، مثلا: ھٰذَا قَمِیْصٌ، ھٰذِہٖ عَمَامَۃٌ، ھٰذَا رِدَائٌ، رَزَقَنِیَ اللّٰہُ قَمِیْصًا، اَعْطَانِیَ اللّٰہُ ھٰذِہِ الْعَمَامَۃَ، یا اس قسم کا کوئی جملہ۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں