Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ نَهْيِ الرَّجُلُ عَنِ الْمُعَصْفَرِ وَمَا جَاءَ فِي الْأَحْمَرِ
مرد کو عصفر بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے ممانعت اور سرخ رنگ کے استعمال کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7938
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَقُولُ نَهَاكُمْ عَنِ الْمُعَصْفَرِ وَالتَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عصفر بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے اور سونے کی انگوٹھی سے منع فرمایا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ تم کو منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7938]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2078، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 924»
وضاحت: فوائد: … یہ حکم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص نہیں تھا، ان کا مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ کو ہوبہو نقل کرنا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَحْمَرِ
سرخ رنگ کے استعمال کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7939
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي حَارِثَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ قَالَ فَلَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْغَدَاءِ قَالَ عَلَّقَ كُلُّ رَجُلٍ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ ثُمَّ أَرْسَلَهَا تَهُزُّ فِي الشَّجَرِ قَالَ ثُمَّ جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَرِحَالُنَا عَلَى أَبَاعِرِنَا قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَرَأَى أَكْسِيَةً لَنَا فِيهَا خُيُوطٌ مِنْ عِهْنٍ أَحْمَرَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أَرَى هَذِهِ الْحُمْرَةَ قَدْ عَلَتْكُمْ قَالَ فَقُمْنَا سِرَاعًا لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَفَرَ بَعْضُ إِبِلِنَا فَأَخَذْنَا الْأَكْسِيَةَ فَنَزَعْنَاهَا مِنْهَا
۔ سیدنا رافع بن بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر پر گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جگہ پر صبح کے کھانے کے لئے اترے، ہر آدمی نے اونٹنی کی لگام لٹکا دی اور اسے چھوڑ دیا، وہ درختوں میں پھرنے لگیں، پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے اور ہمارے کجاوے ہمارے اونٹوں پر ہی رکھے ہوئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور دیکھا کہ چادریں ہیں، جن میں سرخ اون کے دھاگے لگے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں یہ نہیں دیکھ رہا کہ سرخی تم پر غالب آ گئی ہے۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان پر عمل پیرا ہونے کے لئے اتنی تیزی سے اٹھے کہ اس کی وجہ سے بعض اونٹ بھی بدکنے لگے،ہم نے وہ تمام چادریں جو ان پر ڈالی ہوئی تھیں وہ سب اتار پھینکیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7939]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام راويه عن رافع بن خديج، أخرجه ابوداود: 4070، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15900»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7940
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى حُمْرَةً قَدْ ظَهَرَتْ فَكَرِهَهَا فَلَمَّا مَاتَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ جَعَلُوا عَلَى سَرِيرِهِ قَطِيفَةً حَمْرَاءَ فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ ذَلِكَ
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرخ رنگ کی چادریں نمایاں طور پر دیکھ کر اظہارِ ناپسندیدگی فرمایا، جب سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے وفات پائی تو لوگوں نے ان کی چارپائی پر سرخ چادر بچھا دی، اس سے لوگوں کو بڑا تعجب ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7940]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه انقطاع بين عثمان بن محمد ورافع بن خديج، وانظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17406»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7941
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ جُمَّتَهُ لَتَضْرِبُ إِلَى مَنْكِبَيْهِ قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ لَتَضْرِبُ قَرِيبًا مِنْ مَنْكِبَيْهِ وَقَدْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ بِهِ مِرَارًا مَا حَدَّثَ بِهِ قَطُّ إِلَّا ضَحِكَ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی مخلوق میں سے میں نے کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر حسین نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرخ جوڑا زیب تن کر رکھا تھا اور سر کے بال کندھوں سے ٹکرا رہے تھے۔ ابن ابی بکیر راوی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے بال کندھوں کے قریب تک آ رہے تھے، میں نے کئی بار اسرائیل کو سنا، وہ جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو مسکراتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7941]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5901، ومسلم: 2337، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18613 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18814»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7942
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لَبْسِ الْحُمْرَةِ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی اور سرخ رنگ کا لباس پہننے اور رکوع و سجود میں قرآن پاک کی تلاوت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7942]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه البزار: 455، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 829 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 829»
وضاحت: فوائد: … دو قسم کی روایات اوپر گزری ہیں، سرخ لباس سے منع بھی کیا گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرخ لباس پہنا بھی ہے، مزید درج ذیل دو احادیث اور جمع و تطبیق کی صورت پر غور کریں:

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْحَرِيرِ وَمَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهُ مِنْهُمَا وَمَا لَا يَجُوزُ
سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان¤ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7943
حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ قَالَ كُنْتُ فِي مَلَإٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ جَمْعٍ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ قَالُوا أَمَّا هَذَا فَلَا قَالَ أَمَّا إِنَّهَا مَعَهُنَّ
۔ ابو شیخ ہنائی کہتے ہیں:میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ ان کے پاس صحابہ کرام کی ایک جماعت موجود تھی، سیدنا امیر معایہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں، پھر انھوں نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونا پہننے سے منع کیا ہے، مگر تھوڑا تھوڑا استعمال کر سکتے ہیں؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں۔ پھر انھوں نے کہا: میں تم کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چیتوں کے چمڑے بچھانے سے منع فرمایا ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں، پھر انھوں نے کہا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں، پھر انھوں نے کہا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کرکہتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کرنے سے منع کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: نہیں، ایسی بات تو کوئی نہیں ہے، لیکن انھوں نے کہا: خبردار یہ بھی ان کے ساتھ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7943]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 1794 وأخرجه مختصرا النسائي: 8/ 161، وابن ماجه: 3656، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16958»
وضاحت: فوائد: … تھوڑا تھوڑا سونا عربی میں لفظ مُقَطَّع استعمال کیا گیا ہے، یعنی قلیل ہو اور مختلف جگہوں پر ہو، مثلا: تلوار کے دستے پر نقش و نگار کی صورت میں ہو یا نقاط کی صورت میںہو، پورے دستے پر سونا نہ چڑھایا جائے، اسی طرح چاندی کی انگوٹھی پر سونے کے نشانات ہوں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7944
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ يُقَالُ لَهُ فَلَانُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُجِيبٍ قَالَ لَقِيَ أَبُو ذَرٍّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَجَعَلَ أُرَاهُ قَبِيعَةَ سَيْفِهِ فِضَّةً فَنَهَاهُ وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ إِنْسَانٍ أَوْ قَالَ أَحَدٍ تَرَكَ صَفْرَاءَ أَوْ بَيْضَاءَ إِلَّا كُوِيَ بِهَا
۔ ابو مجیب کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار کی مٹھی چاندی سے بنا رکھی تھی، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے انہیں روکا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو انسان بھی چاندی یا سونا چھوڑ کر جائے گا تو اس کو اس کے ساتھ داغا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7944]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح بالشاھد، وھذا اسناد ضعيف لجھالة فلان بن عبد الواحد الثقفي، ولجھالة ابي مجيب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21812»
وضاحت: فوائد: … سونے اور چاندی کا کاروبار کرنا، ان کو اپنے پاس رکھنا، عورت کا دونوں کا زیور پہننا اور مرد کے لیے چاندی کا استعمال کرنا، یہ سب امور جائز اور حلال ہیں، اس حدیث میں دراصل دنیوی زینت و آرائش سے نفرت دلائی جا رہی ہے، کیونکہ زیادہ تر دنیوی مال و دولت خرابی کا ہی باعث بنتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7945
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثَةٍ نَهَانِي عَنِ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تین چیزوں سے روکا ہے، ریشمی لباس سے، ریشمی گدیلوں سے اور اس سے کہ میں رکوع میں قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7945]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1004 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1004»
وضاحت: فوائد: … قس مصر کی ایک بستی ہے، اس میں جو ریشمی لباس تیار کیا جاتا تھا، اس کو قسی کہتے تھے، مراد ریشمی لباس ہے، وہ جہاں مرضی بنایا جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7946
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ وَالْمَيَاثِرِ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَالرَّجُلُ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ریشمی لباس، ریشمی گدیلے، معصفر کپڑے اور اس سے منع کیا ہے کہ آدمی رکوع و سجود کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7946]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 831»
وضاحت: فوائد: … پہلے معصفر کی وضاحت ہو چکی ہے، مرد کے لیے ریشم استعمال کرنا جائز نہیں ہے، وہ لباس کی صورت میں ہو یا گدیلے کی صورت میں یا زین یا زین پوش کی صورت میں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7947
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِيثَرَةِ وَعَنِ الْقَسِّيَّةِ قُلْنَا لَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَيُّ شَيْءٍ الْمِيثَرَةُ قَالَ شَيْءٌ تَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلَى رِحَالِهِنَّ قَالَ قُلْنَا وَمَا الْقَسِّيَّةُ قَالَ ثِيَابٌ تَأْتِينَا مِنْ قِبَلِ الشَّامِ مُضَلَّعَةٌ فِيهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ قَالَ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَلَمَّا رَأَيْتُ السَّبَنِيَّ عَرَفْتُ أَنَّهَا هِيَ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میثرہ اور قسی سے منع فرمایا ہے۔ لوگوں نے پوچھا: اے امیر المومنین! میثرہ کیا چیز ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ (ریشمی گدیلے) ہوتے ہیں، جو عورتیں اپنی رہائش گاہوں میں اپنے خاوندوں کے لیے بناتی ہیں، ہم نے کہا: قسی کیا چیز ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ شام کی طرف سے ہمارے ہاں ایک پھول دار (ریشمی) کپڑا لایا جاتا ہے، اس میں نارنگی کی مانند بیل بوٹے بنائے جاتے تھے، ابو بردہ کہتے ہیں: جب میں نے سبن علاقہ کے بنے ہوئے کپڑے دیکھے تو میں جان گیا کہ وہ یہی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7947]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2078، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1124»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں