الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْحَرِيرِ وَمَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهُ مِنْهُمَا وَمَا لَا يَجُوزُ
سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان¤ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 7948
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِيثَرَةِ وَالْقَسِّيَّةِ وَحَلْقَةِ الذَّهَبِ وَالْمُفْدَمِ قَالَ يَزِيدُ وَالْمِيثَرَةُ جُلُودُ السِّبَاعِ وَالْقَسِّيَّةُ ثِيَابٌ مُضَلَّعَةٌ مِنْ إِبْرَيْسَمٍ يُجَاءُ بِهَا مِنْ مِصْرَ وَالْمُفْدَمُ الْمُشَبَّعُ بِالْعُصْفُرِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشمی گدیلوں، ریشمی لباس، سونے کا چھلہ اور انتہائی سرخ لباس سے منع فرمایا ہے۔یزید راوی کہتے ہیں: میثرہ سے مراد درندوں کے چمڑے ہیں، قسی عمدہ ریشم سے تیار کیا جانے والا ایک پھول دار لباس ہوتا ہے، یہ مصر سے لایا جاتا ہے اور عصفر بوٹی سے خوب رنگے ہوئے لباس کو مُفْدَم کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7948]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، قوله نھي عن حلقة الذھب والمفدم أخرجه ابن ماجه: 3643، 3601، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5751»
وضاحت: فوائد: … یزید راوی نے مِیْثَرَۃ کے معانی درندوں کے چمڑے کے کیے ہیں، لیکن امام نووی نے کہا: یہ باطل تفسیر ہے اور محدثین کے اجماع کے مخالف ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7949
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ مِيثَرَةِ الْأُرْجُوَانِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَرْكَبُهَا وَلَا أَلْبَسُ قَمِيصًا مَكْفُوفًا بِحَرِيرٍ وَلَا أَلْبَسُ الْقَسِّيَّ
۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سرخ رنگ کے ریشمی گدیلوں کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہ ایسے گدیلے رکھ کر سوار ہو تا ہوں، نہ ایسی قمیص پہنتا ہوں، جس کے کناے ریشم کے ہوں اور نہ ریشمی لباس پہنوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7949]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14682 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14738»
وضاحت: فوائد: … ہم نے الْاُرْجُوَانِ کے معانی سرخ کے کیے ہیں، دراصل یہ لفظ ارغوان سے معرب ہے، یہ سرخ رنگ کا پھول ہوتا ہے، گدیلوں کو ارغوان کہنے کا مطلب رنگ میں تشبیہ دینا ہے، یعنی سرخ رنگ کے گدیلے، پہلے گزر چکا ہے کہ میثرۃ (گدیلا) سے روکنے کی وجہ ریشم تھا جو اس کی بنتی میں استعمال ہوتا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7950
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نُهِيَ عَنْ مَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ وَلُبْسِ الْقَسِّيِّ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ قَالَ مُحَمَّدٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَخِي يَحْيَى بْنِ سِيرِينَ فَقَالَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ هَذَا نَعَمْ وَكِفَافِ الدِّيبَاجِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سرخ رنگ کے ریشمی گدیلوں سے، ریشمی کپڑے پہننے سے اور سونے کی انگوٹھی سے منع کیا گیا ہے۔ محمد بن سیریں کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات اپنے بھائی یحییٰ بن سیرین سے ذکر کی تو انھوں نے کہا: کیا تو نے یہ سنا نہیں ہے؟ جی ہاں اور ریشم سے بنے ہوئے کناروں والا لباس پہننا بھی منع ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7950]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 4050، والنسائي: 8/ 170، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 981 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 981»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7951
عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَجَاءَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ انْهَنَا عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَهَانَا عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَنَهَانَا عَنِ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَعَنِ الْحَرِيرِ وَالْحَلَقِ الذَّهَبِ ثُمَّ قَالَ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ حَرِيرٍ فَخَرَجْتُ فِيهَا لِيَرَى النَّاسُ عَلَيَّ كِسْوَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي بِنَزْعِهِمَا فَأَرْسَلَ بِإِحْدَاهُمَا إِلَى فَاطِمَةَ وَشَقَّ الْأُخْرَى بَيْنَ نِسَائِهِ
۔ مالک بن عمیر کہتے ہیں:میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا، ان کے پاس صعصعہ بن صوحان آئے، سلام کہا اور پھر کھڑے ہو کر کہا: اے امیر المومنین! جس چیز سے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے، آپ اس سے ہمیں بھی منع کر دیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کدو سے بنے ہوئے برتن، سبز مٹکے، تارکول والے برتن اور تنا کرید کر بنائے ہوئے لکڑی کے برتن سے منع فرمایاہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ریشمی لباس، سرخ رنگ کے ریشمی گدیلے، ریشم، سونے کی انگوٹھی اور چھلے سے منع فرمایا ہے۔ سیدنا علی نے کہا: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ریشم کا ایک جوڑا دیا، میں وہ پہن کر باہر آیا تا کہ لوگ میرے اوپر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہنا ہوالباس دیکھیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے اوپر یہ دیکھ کر مجھے اتارنے کا حکم دیا، پس اس کا ایک حصہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے بھیج دیا اور دوسرا حصہ اپنی دیگر عورتوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7951]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 3697، والنسائي: 8/ 166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 963»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7952
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ وَالْقَسِّيِّ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھیاں، چاندی کے برتن، حریر، دیباج اور استبرق، سرخ رنگ کے ریشمی گدیلوں اور قسی سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7952]
تخریج الحدیث: «أخرجه بتمامه ومختصرا البخاري: 5838، 5849، 6654، ومسلم: 2066، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18644 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18847»
وضاحت: فوائد: … باریک ریشم کو سندس، موٹے اور کھردرے ریشم کو استبرق کہتے ہیں، جب ریشم میں سونے کی تاریں بنی جائیں، تب بھی اسے استبرق کہتے ہیں، مقصد یہ ہے کہ ہر قسم کا ریشم مردوں پر حرام ہے، باریک ہو یا موٹا، نرم ہو یا سخت۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7953
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَقُولُ نَهَاكُمْ عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ وَكَسَانِي حُلَّةً مِنْ سِيَرَاءَ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَقَالَ يَا عَلِيُّ إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا قَالَ فَرَجَعْتُ بِهَا إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَعْطَيْتُهَا نَاحِيَتَهَا فَأَخَذَتْ بِهَا لِتَطْوِيَهَا مَعِي فَشَقَقْتُهَا بِثِنْتَيْنِ قَالَ فَقَالَتْ تَرِبَتْ يَدَاكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ مَاذَا صَنَعْتَ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِهَا فَالْبَسِي وَاكْسِي نِسَاءَكِ
۔ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے منع فرمایا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے، ریشمی لباس اور معصفر لباس سے اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایاہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشمی دھاری دار ایک پوشاک مجھے دی، جب میں اسے پہن کرنکلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! میں نے تمہیں یہ پہننے کے لئے تو نہیں دی، میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور چادر کے دو ٹکڑے کر دئیے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابن ابی طالب! آپ نے یہ کیا کیا؟ میں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ پہننے سے منع فرمایا ہے، تم پہن لو اور دیگر عورتوں کو پہنا دو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7953]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابويعلي: 329، وابوعوانة: 2/ 174، وأخرجه مختصرا مسلم: 480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 710»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں ایک اہم نقطہ بیان کیا گیا ہے کہ جو چیز معاشرے کے بعض افراد کے لیے جائز ہو یا جس چیز میں مفید پہلو بھی موجود ہو، وہ ایک دوسرے کو تحفہ بھی دی جا سکتی ہے اور اس کا کاروبار بھی کیا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7954
عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ
۔ سیدنا اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندوں کے چمڑوں سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7954]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4132، والترمذي: 1770، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20982»
وضاحت: فوائد: … درندوں کے چمڑوں سے ممانعت کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں: یہ اسراف اور تکبر والے لوگوں کی عادت ہے کہ وہ ان کے چمڑے استعمال کرتے ہیں یا ان چمڑوں کی نجاست کی وجہ سے ان سے منع کیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7955
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْمِيثَرَةِ وَعَنِ الْقَسِّيِّ وَعَنِ الْجِعَةِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشمی گدیلے اورریشمی لباس اور جَو کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7955]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 2808، والنسائي: 8/165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1102»
وضاحت: فوائد: … نبیذ بالاتفاق جائز ہے، نبیذ کی بعض اقسام میں جلدی نشہ پیدا ہو جاتا ہے، اس لیے ایسی بعض اقسام کو ناپسند کیا گیا ہے، وگرنہ جب تک نبیذ میں نشہ پیدا نہ ہو، اس وقت تک اس کو پینا جائز ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7956
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَآنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَقَالَ هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عام حریر، دیباج اور سونے اور چاندی کے برتنوں سے منع کیا اور فرمایا: یہ دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور ہمارے لئے آخرت میں ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7956]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5632، 5831، ومسلم: 2067، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23658»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7957
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَمْسٍ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ وَالشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَلُبْسِ الْقَسِّيِّ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْءٌ رَقِيقٌ مِنْ الذَّهَبِ يُرْبَطُ بِهِ الْمِسْكُ أَوْ يُرْبَطُ بِهِ قَالَ لَا اجْعَلِيهِ فِضَّةً وَصَفِّرِيهِ بِشَيْءٍ مِنْ زَعْفَرَانٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پانچ چیزوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں منع فرمایاہے: ریشم اور سونا پہننے سے، سونے اور چاندی کے برتنوں میں پینے سے، سرخ رنگ کے ریشمی گدیلے سے اور ریشمی لباس پہننے سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! باریک سی سونے کی زنجیر، جس کے ساتھ کنگن باندھا جاتا ہے، وہ بھی جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اسے چاندی سے بناؤ یا زعفران سے زرد کر لو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7957]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف خصيف بن عبد الرحمن الجزري، أخرجه ابويعلي: 4789، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25911 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26436»
الحكم على الحديث: ضعیف