الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي الأسْوَدِ وَالاخْضَرِ وَالْمَرْعُفَرِ والْمَلونَاتِ
سیاہ، سبز، زعفرانی اور رنگین ملبوسات کا بیان
حدیث نمبر: 7928
عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً سَوْدَاءَ مِنْ صُوفٍ فَذَكَرَ سَوَادَهَا وَبَيَاضَهَا فَلَبِسَهَا فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ قَذَفَهَا وَكَانَ يُحِبُّ الرِّيحَ الطَّيِّبَةَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اون کی سیاہ رنگ کی چادر بنائی، پھر انھوں نے اس چادر کی سیاہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفیدی کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چادر پہن لی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اون کی بو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اتار کر پھینک دیا، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاکیزہ اور اچھی خوشبو پسند کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7928]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4074، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25003 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25517»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 7929
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَاهُ جَالِسًا فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ
۔ سیدنا ابو رمثہ تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے باپ کے ساتھ تھا اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے اوپر دو سبز چادریں تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7929]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 721، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17633»
وضاحت: فوائد: … ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ کالے اور سبز رنگ کا لباس پہننا درست ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 7930
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی زعفران لگائے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7930]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5846، ومسلم: 2101، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12001»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5846
حدیث نمبر: 7931
عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ أَنَّ عَمَّارًا قَالَ قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي لَيْلًا وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ فَضَمَّخُونِي بِالزَّعْفَرَانِ فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي فَقَالَ اغْسِلْ هَذَا قَالَ فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ وَقَدْ بَقِيَ عَلَيَّ مِنْهُ شَيْءٌ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَلَمْ يُرَحِّبْ بِي وَقَالَ اغْسِلْ هَذَا عَنْكَ فَذَهَبْتُ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ وَرَحَّبَ بِي وَقَالَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ جَنَازَةَ الْكَافِرِ وَلَا الْمُتَضَمِّخَ بِزَعْفَرَانٍ وَلَا الْجُنُبَ وَرَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا نَامَ أَوْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَنْ يَتَوَضَّأَ
۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رات کو اپنے گھر والوں کے پاس آیا، جبکہ میرے ہاتھ پھٹ چکے تھے، گھر والوں نے زعفران لگا دیا، جب میں صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا اور نہ ہی مجھے مرحبا کہا، بلکہ فرمایا: اسے دھو دے۔ میں گیا اور اس کو دھویا، لیکن ابھی تک زعفران کا کچھ حصہ مجھ پر باقی تھا، بہرحال میں پھر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ سلام کا جواب دیا اور نہ مجھے مرحبا کہا، بلکہ فرمایا: اس کو دھو۔ پس میں چلا گیا اور اس کو دھو کر پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور مرحبا کہا اور فرمایا: فرشتے نہ کافرکے جنازہ پر حاضرہوتے ہیں، نہ اس آدمی کے پاس آتے ہیں، جو زعفران سے لت پت ہو اور نہ جنابت والے شخص کے پاس آتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنبی کو رخصت دی کہ جب وہ سوئے یا کھانا پینا چاہے تو وہ وضو کر لے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7931]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، يحيي بن يعمر لم يلق عمار بن ياسر، بينھما رجل، أخرجه ابوداود: 225، 4176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18886 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19092»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 7932
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَصْبَغُ ثِيَابَهُ وَيَدَّهِنُ بِالزَّعْفَرَانِ قِيلَ لَهُ لِمَ تَصْبُغُ ثِيَابَكَ وَتَدَّهِنُ بِالزَّعْفَرَانِ قَالَ لِأَنِّي رَأَيْتُهُ أَحَبَّ الْأَصْبَاغِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَّهِنُ بِهِ وَيَصْبَغُ بِهِ ثِيَابَهُ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمااپنے لباس کو زعفران کے ساتھ رنگتے اور زعفران بطور تیل بھی ملتے تھے، جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے کپڑے زعفران کے ساتھ کیوں رنگتے ہیں اور زعفران کو بطور تیل کیوں استعمال کرتے ہیں تو انہوں نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام رنگوں میں سب سے پیارا رنگ زعفران تھا، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کپڑوں پر لگاتے تھے اور بطورِ تیل بھی استعمال کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7932]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه بنحوه ابوداود: 4064، والنسائي: 8/ 140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5717»
وضاحت: فوائد: … بطورِ تیل لگانے سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ذریعے بالوں کو رنگتے تھے، ابوداود کی روایت میںوضاحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داڑھی مبارک رنگتے تھے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 7933
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الثَّوْبِ الْمَصْبُوغِ مَا لَمْ يَكُنْ بِهِ نَفْضٌ وَلَا رِدْعٌ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رنگے ہوئے کپڑے کی رخصت دی ہے، جب تک کہ اس کا رنگ جسم پر نہ چڑھے اور نہ ہی جسم پر داغ لگے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7933]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: ص 104، وابويعلي: 2579، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3418»
وضاحت: فوائد: … زعفران: ایک خوشبودار مشہور پودا، جس کے باریک زرد سرخی مائل ریشے ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
7. بَابُ نَهْيِ الرَّجُلُ عَنِ الْمُعَصْفَرِ وَمَا جَاءَ فِي الْأَحْمَرِ
مرد کو عصفر بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے ممانعت اور سرخ رنگ کے استعمال کا بیان
حدیث نمبر: 7934
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَيَّ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ قَالَ هَذِهِ ثِيَابُ الْكُفَّارِ لَا تَلْبَسْهَا وَفِي لَفْظٍ قَالَ الْقِهَا فَإِنَّهَا ثِيَابُ الْكُفَّارِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے اوپر دو معصفر رنگ کے کپڑے دیکھے تو فرمایا: یہ کافروں کا لباس ہے، یہ لباس نہ پہنا کر۔ ایک روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو پھینک دے، یہ کافروں کا لباس ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7934]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2077، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6513 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6513»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کافروں کا لباس پہنے یا ان کی وضع قطع اور عادات و اطوار کو اپنائے، کافی ساری احادیث میں اس موضوع کو بیان کیا گیا ہے، … …۔ لیکن اب تو بعض بلادِ اسلامیہ میں کفار کے ملبوسات اور ان کی عادات عام ہو چکی ہیں، بلکہ بعض یا تمام اسلامی ممالک کے فوجیوں پر کافروں کی تہذیب کے بعض امور فرض کر دیے گئے ہیں، مثلا ہیٹ (یعنی انگریزی ٹوپی)۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ لوگوں میں یہ شعور ہی نہیں رہا کہ وہ شریعت ِ اسلامیہ کی مخالفت کر رہے ہیں یا موافقت۔ فانا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ (صحیحہ: ۱۷۰۴)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2077
حدیث نمبر: 7935
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا عَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِعُصْفُرٍ فَقَالَ مَا هَذِهِ فَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَرِهَهَا فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورَهُمْ فَلَفَفْتُهَا ثُمَّ أَلْقَيْتُهَا فِيهِ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ قَالَ قُلْتُ قَدْ عَرَفْتُ مَا كَرِهْتَ مِنْهَا فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورَهُمْ فَأَلْقَيْتُهَا فِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَهَلَّا كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ وَذَكَرَ أَنَّهُ حِينَ هَبَطَ بِهِمْ مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ صَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَدْرٍ اتَّخَذَهُ قِبْلَةً فَأَقْبَلَتْ بَهْمَةٌ تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا زَالَ يُدَارِئُهَا وَيَدْنُو مِنَ الْجَدْرِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى بَطْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ لَصِقَ بِالْجِدَارِ وَمَرَّتْ مِنْ خَلْفِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع) اذاخر گھاٹی سے اتر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف دیکھا، میرے اوپر ایک چادر تھی جو عصفر بوٹی سے رنگی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ میں پہچان گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ناپسند کر رہے ہیں، میں وہاں سے نکل کر اپنے گھر والوں کے پاس گیا، انہوں نے تنور جلا رکھاتھا، میں نے وہ چادر لپیٹی اور اسے تنور میں پھینک دیا۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چادر کا کیا بنا؟ میں نے کہا: مجھے آپ کی ناپسندیدگی کا علم ہو گیا تھا، سو میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، وہ تنور جلا رہے تھے، میں نے وہ چادر اس میں پھینک دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے وہ اپنے گھر والوں میں سے کسی کو پہنا دینا تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذاخر گھاٹی سے نیچے اترے تو ہمیں نماز پڑھائی، سامنے ایک دیوار تھی، اس کو سترہ بنا لیا، ایک بکری یا بھیڑ کا بچہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے گزرنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے بچنے کے لیے دیوار کے قریب ہوتے گئے، یہاں تک کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیٹ مبارک کو دیکھا، وہ دیوار کے ساتھ مل گیا اور جانور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے گزر گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7935]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابوداود: 708، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6852 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6852»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 7936
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَاحَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى مَكَّةَ حَاجًّا وَدَخَلَتْ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ امْرَأَتُهُ فَبَاتَ مَعَهَا حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ غَدَا عَلَيْهِ رَدْعُ الطِّيبِ وَمِلْحَفَةٌ مُعَصْفَرَةٌ مُفْدَمَةٌ فَأَدْرَكَ النَّاسَ بِمَلَلٍ قَبْلَ أَنْ يَرُوحُوا فَلَمَّا رَآهُ عُثْمَانُ انْتَهَرَهُ وَأَفَّفَ وَقَالَ أَتَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ وَقَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَهُ وَلَا إِيَّاكَ إِنَّمَا نَهَانِي
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج کے لئے مکہ مکرمہ کو روانہ ہوئے، اور محمد بن جعفر بن ابی طالب کے پاس ان کی بیوی داخل ہوئی، انہوں نے اس کے ساتھ رات گزاری، جب صبح ہوئی تو یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ان پر عورتوں والی خوشبو کا داغ تھا اورخوب سرخ چادر تھی، جس کو عصفر بوٹی میں رنگا گیا تھا، انھوں نے ملل مقام پر لوگوں کو پا لیا، وہ وہاں سے ابھی تک سفر کے لئے چلے نہ تھے، جب انہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو ڈانٹا اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا: کیا تم معصفر کپڑا پہنتے ہو، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس رنگ کے لباس پہننے سے منع فرمایا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ محمد بن جعفر کو اور نہ ہی سیدنا عثمان کو منع کیا، بلکہ صرف مجھے منع کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7936]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبيد الله بن عبد الرحمن بن عبد الله مختلف فيه، ضعفه يحيي بن معين في رواية عباس الدوري، ووثقه في رواية اسحاق بن منصور، وقال النسائي: ليس بذالك القوي، وقال الحافظ في التقريب: ليس بالقوي، وعمّه عبيد الله بن عبد الله، لا يعرف، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 371، والبزار: 352، 476، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 517 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 517»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7937
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى رَجُلٍ صُفْرَةً فَكَرِهَهَا قَالَ لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ هَذِهِ الصُّفْرَةَ قَالَ وَكَانَ لَا يَكَادُ يُوَاجِهُ أَحَدًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی پرزرد رنگ کا لباس دیکھا تو اسے ناپسند کیا اور فرمایا: اگر تم اس کو حکم دو کہ یہ اس زردی کو دھو دے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی چیز کو ناپسند کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کم ہی کسی سے براہ راست بات کرتے تھے چہرے سے اس کا پتہ چل جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7937]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4182، 4789، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12394»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن