🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ تَحْرِيم أَوَانِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرَّجُل وَالنِّسَاءِ
سونے اور چاندی کے برتنوں کا مردو زن پر حرام ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7958
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ خَرَجْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى بَعْضِ هَذَا السَّوَادِ فَاسْتَسْقَى فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ قَالَ فَرَمَاهُ بِهِ فِي وَجْهِهِ قَالَ قُلْنَا اسْكُتُوا اسْكُتُوا وَإِنَّا إِنْ سَأَلْنَاهُ لَمْ يُحَدِّثْنَا قَالَ فَسَكَتْنَا قَالَ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ أَتَدْرُونَ لِمَ رَمَيْتُ بِهِ فِي وَجْهِهِ قَالَ قُلْنَا لَا قَالَ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُهُ قَالَ فَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ قَالَ مُعَاذٌ لَا تَشْرَبُوا فِي الذَّهَبِ وَلَا فِي الْفِضَّةِ وَلَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَلَا الدِّيبَاجَ فَإِنَّهُمَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ
۔ عبدالرحمن بن ابولیلیٰ کہتے ہیں:میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی زمین کی طرف گیا، انہوں نے پینے کے لئے پانی مانگا، کسان چاندی کے برتن میں ان کے پاس پانی لایا، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پر دے مارا، ہم نے کہا: خاموش رہو، خاموش رہو، اب اگر ہم نے ان سے کچھ اس بارے میں پوچھا تو وہ کچھ نہیں بتائیں گے، ہم خاموش رہے، کچھ دیر بعد انھوں نے خود کہا: کیا تمہیں معلوم ہے میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں پھینکا؟ ہم نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: میں نے اسے اس سے پہلے بھی روکا تھا کہ چاندی کے برتن میں پانی پینا منع ہے اور بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے کے برتنوں میں نہ پیو۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو، حریر اور دیباج نہ پہنو، یہ چیزیں دنیا میں ان کے لیے ہیں اور آخرت میں تمہارے لیے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7958]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5633، ومسلم: 2067، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23364 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23756»
وضاحت: فوائد: … سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معصیت پر ناگواری کا کیسا اظہار کیا، سچی محبت کا نتیجہ اور اخلاص کے جذبے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5633
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7959
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاندی کے برتنوں میں پیتاہے، وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ کے گھونٹ بھرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7959]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5634، ومسلم: 2065، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26568 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27103»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5634
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7960
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ فِضَّةٍ كَأَنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پینے والے کے بارے میں فرمایا: گویا کہ وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ کے گھونٹ بھرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7960]
تخریج الحدیث: «صحيح من حديث ام سلمة، أخرجه ابن ماجه: 3415، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24662 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25169»
وضاحت: فوائد: … سونے کے زیورات عورت کے لیے جائز ہیں، لیکن جہاں تک سونے اور چاندی کے برتنوں کی حرمت کا تعلق ہے تو اس میں خواتین و حضرات کا معاملہ یکساں ہے، یہ برتن مردوں کے لیے بھی حرام ہیں اور عورتوں کے لیے بھی۔

الحكم على الحديث: صحيح من حديث ام سلمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ
سونے کی انگوٹھی اور اس قسم کے دوسرے زیورات کے ابواب¤سونے کی انگوٹھی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7961
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ فَاتَّخَذَهُ النَّاسُ فَرَمَى بِهِ وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا نگینہ ہتھیلی کی اندر والی طرف رکھتے تھے، لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پھینک دیا اورچاندی کی انگوٹھی بنوا لی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7961]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5865، 5866، ومسلم: 2091، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4677 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4677»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5865
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7962
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ وَإِنِّي لَنْ أَلْبَسَهُ أَبَدًا فَنَبَذَهُ فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ
۔ (دوسری سند) اس میں ہے:لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں نے یہ انگوٹھی پہنی تھی، اب میں اسے کبھی بھی نہیں پہنوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پھینک دیا، یہ منظر دیکھ کر لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7962]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، وانظر الحديث بالطريق الاول، أخرجه النسائي: 8/ 165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5887 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5887»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7963
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ وَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ يَدِهِ قَالَ فَطَرَحَهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ
۔ (تیسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سونے کی انگوٹھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کی اندرونی طرف رکھتے تھے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس انگوٹھی کو پھینک دیا، سو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں، پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوا لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ مہر لگاتے تھے اور پہنتے نہیں تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7963]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، وانظر الحديث بالطريق الاول، أخرجه النسائي: 8/ 179، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6107 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6107»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7964
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ عَلَى الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَكَانَ النَّاسُ يَقُولُونَ لَهُ لِمَ تَخَتَّمُ بِالذَّهَبِ وَقَدْ نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْبَرَاءُ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ غَنِيمَةٌ يَقْسِمُهَا سَبْيٌ وَخُرْثِيٌّ قَالَ فَقَسَمَهَا حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْخَاتَمُ فَرَفَعَ طَرْفَهُ فَنَظَرَ إِلَى أَصْحَابِهِ ثُمَّ خَفَّضَ ثُمَّ رَفَعَ طَرْفَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ ثُمَّ خَفَّضَ ثُمَّ رَفَعَ طَرْفَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ أَيْ بَرَاءُ فَجِئْتُهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَخَذَ الْخَاتَمَ فَقَبَضَ عَلَى كُرْسُوعِي ثُمَّ قَالَ خُذْ الْبَسْ مَا كَسَاكَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ وَكَانَ الْبَرَاءُ يَقُولُ كَيْفَ تَأْمُرُونِّي أَنْ أَضَعَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَسْ مَا كَسَاكَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ
۔ محمد بن مالک کہتے ہیں: میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی، لوگوں نے ان سے کہا: تم نے سونے کی انگوٹھی کیوں پہن رکھی ہے، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دفعہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے، جبکہ آپ کے سامنے مال غنیمت پڑا تھا، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقسیم کر رہے تھے، قیدی تھے اور گھر کا سازو سامان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے تقسیم کیا، یہاں تک کہ یہ انگوٹھی باقی رہ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نگاہ اٹھائی اور اپنے صحابہ کی طرف دیکھا، پھر نگاہ جھکائی، پھر اٹھائی اور انہیں دیکھا، پھر نگاہ جھکائی اور پھر نگاہ اٹھا کر ان کو دیکھا۔ پھر فرمایا: اے براء! پس میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ انگوٹھی اٹھائی اور مجھے پہنا دی اور فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے تجھے پہنایا ہے، وہ لے لو۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: اب تم مجھے یہ اتارنے کا حکم کیوں دیتے ہو؟ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اے براء! جو تجھے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پہنایا ہے وہ پہن لے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7964]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف محمد بن مالك الجوزجاني علي نكارة في متنه، أخرجه ابويعلي: 11708، وابن ابي شيبة: 8/ 470، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18602 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18803»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال اس قسم کے واقعے کو اس وقت پر محمول کیا جائے، جب سونا حلال تھا۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف محمد بن مالك الجوزجاني علي نكارة في متنه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7965
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمُ ذَهَبٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْ شَيْءٍ فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَحَدَّثَهَا فَقَالَتْ إِنَّ لَكَ لَشَأْنًا فَارْجِعْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَأَلْقَى خَاتَمَهُ وَجُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ أُذِنَ لَهُ وَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْرَضْتَ عَنِّي قَبْلُ حِينَ جِئْتُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ جِئْتَنِي وَفِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ وَكَانَ قَدْ قَدِمَ بِحُلِيٍّ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَا جِئْتَ بِهِ غَيْرُ مُغْنٍ عَنَّا شَيْئًا إِلَّا مَا أَغْنَتْ حِجَارَةُ الْحَرَّةِ وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَقَالَ الرَّجُلُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْذُرْنِي فِي أَصْحَابِكَ لَا يَظُنُّونَ أَنَّكَ سَخِطْتَ عَلَيَّ بِشَيْءٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَذَرَهُ وَأَخْبَرَ أَنَّ الَّذِي كَانَ مِنْهُ إِنَّمَا كَانَ لِخَاتَمِهِ الذَّهَبِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نجران کے وفد میں سے ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اس نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے چہرہ پھیر لیا اور پرواہ تک نہ کی، وہ آدمی اپنی بیوی کی طرف گیا اور اس سے یہ سلوک بیان کیا، اس نے کہا: کوئی بات ہوئی ہوگی، تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹو، وہ واپس آیا اور اپنی انگوٹھی اور جبہ اتار دیا تھا، اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت د ے دی، اس نے سلام کہا،تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب بھی دیا، اس نے کہا! اے اللہ کے رسول! اس سے پہلے میں آپ کے پاس حاضر ہواتھا تو آپ نے مجھ سے اعراض کیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو جب اس وقت آیا تھا تو تیرے ہاتھ میں آگ کا انگارا تھا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو پھر بہت زیادہ انگارے لے کر آیا ہوں، وہ بحرین سے زیورات لے کر آیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو جو کچھ بھی لے کر آیا ہے، یہ ہمارے کام کا نہیں، بس یہ حرّہ کے پتھروں جتنا مفید ہے، یہ دنیا کی زندگانی کا سامان ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اپنے صحابہ میں میرا عذر بیان کر دیں، کہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی وجہ سے مجھ سے غصے ہو گئے ہیں، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس آدمی کی معذوری بیان کی کہ اس کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے، وہ اس کی سونے کی انگوٹھی کی بنا پر تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7965]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو النجيب لايُعرف، أخرجه ابن حبان: 5489، وأخرجه مختصرا النسائي: 8/ 170، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11125»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7966
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْحُمْرَةِ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، سرخ رنگ کا لباس اور رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7966]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه البزار: 455، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 939 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 939»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7967
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا فَلَبِسَهُ ثُمَّ قَالَ شَغَلَنِي هَذَا مِنْكُمْ مُنْذُ الْيَوْمِ إِلَيْهِ نَظْرَةٌ وَإِلَيْكُمْ نَظْرَةٌ ثُمَّ رَمَى بِهِ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھی بنوا کر پہنی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے تو آج مجھے تم سے مشغول کر دیا ہے، میں کبھی اسے دیکھتا رہا ہوں اور کبھی تمہیں دیکھتا رہا ہوں۔ پھر وہ انگوٹھی پھینک دی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7967]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي: 8/ 194، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2960»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے بارے میں ہم صرف مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی کی بحث کا خلاصہ لکھتے ہیں: اس حدیث میں جس انگوٹھی کا ذکر ہے، اس سے مراد مہر والی انگوٹھی نہیں ہے، بلکہ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زینت کے لیے انگوٹھی بنوائی تھی، لیکن جب دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کی طرف توجہ نہیں کر پا رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرمت کی وجہ سے نہیں، بلکہ کراہت کی بنا پر اس کو پھینک دیا، بعد میں مہر والی انگوٹھی کا مسئلہ پیش آیا۔ (التعلیقات السلفیہ علی سنن النسائی: ۲/ ۲۹۰)

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں