🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ فِي اسْتِحْبَابِ تَعْمِيمِ السَّلَامِ وَكَرَاهَةِ تَحْصِيصِهِ بِمَنْ يَعْرَفُ
سلام کو عام کرنے کے مستحبّ ہونے اور معرفت والے لوگوں کے لیے¤خاص کرنے کے مکروہ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8258
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَى الرَّجُلِ لَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِلَّا لِلْمَعْرِفَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ قیامت کی علامتوں میں سے ہے کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کو سلام اس کی معرفت کی بنا پر ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8258]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وانظر الحديثيں السابقين ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3848»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کو عام کرنے کا حکم دیا ہے،نیز مسلمان کواس لیے سلام کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے، جب آدمی ذاتی معرفت کی بنا پر سلام کہے گا تو وہ دراصل اللہ تعالی اور اس کے رسول کا حکم نہیں ہو گا، جبکہ اب وہی کچھ ہو رہا ہے، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت کی علامت قرار دیا تھا، اب کسی کو سلام کہنے کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ ذاتی معرفت ہونی چاہیے، اجنبی لوگوں کا معاملہ گونگوں سے زیادہ نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب مَا جَاءَ فِي الْفَاظِ السَّلَامِ وَالرَّدْ
سلام اور اس کے جواب کے الفاظ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8259
عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ مِنْ قُطْنٍ مُنْتَثِرُ الْحَاشِيَةِ فَقُلْتُ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى إِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى سَلَامٌ عَلَيْكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا هَكَذَا
۔ سیدنا ابو تمیمہ ہجیمی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں،وہ کہتا ہے: میں مدینہ کے ایک راستہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا، آپ پر کاٹن کا تہبند تھا، جس کا کنارہ پھیلا ہوا تھا، میں نے کہا: عَلَیْکَ السَّلَامُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (آپ پر سلام ہو، اے اللہ کے رسول!) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ کہا کرو، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ۔ یہ الفاظ بھی دو تین بار دوہرائے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8259]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مطولا ومختصرا ابوداود: 4084، والترمذي: 2722، والنسائي في الكبري: 10150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16051»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں عَلَیْکَ السَّلَامُ کو مردوں کا سلام قرار دے کر اس سے منع کر دیا گیا ہے اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ … کہنے کی تلقین کی گئی ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قبرستان میں جا کر خود اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ … ہی کہا؟

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8260
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ عَشْرٌ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ عِشْرُونَ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ ثَلَاثُونَ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا جواب دیا اور فرمایا: اسے دس نیکیاں ملی ہیں۔ پھر ایک اور آیا اور اس نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا جواب دیا، وہ بھی بیٹھ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے بیس نیکیاں ملی ہیں۔ پھر ایک اور آیا اور اس نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا بھی جواب دیا اور وہ بھی بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اس نےتیس نیکیاں حاصل کی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8260]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 5195، والترمذي: 2689، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20190»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8261
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ
۔ بنو نمیر کا ایک آدمی اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے ابا جان آپ کو سلام کہتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عَلَیْکُمْ وَعَلٰی اَبِیْکَ السَّلَامُ (تم پر اور تیرے باپ پر بھی سلام ہو)۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8261]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الرجل النميري وابيه، أخرجه ابوداود: 2934، 5231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23104 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23492»
وضاحت: فوائد: … تمام احادیث ِ مبارکہ اپنے مفہوم میں واضح ہیں، مزید ایک حدیث ملاحظہ فرمائیں:

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الرجل النميري وابيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ مَا يَفْعَلُ الْمُصَلَّى وَالْمُخْتَلِي إِذَا سَلَّمَ أَحَدٌ عَلَيْهما
اس چیز کا بیان کہ اگر کوئی آدمی، نمازی اور قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کہے تو وہ کیا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8262
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ مَسْجِدَ قُبَاءٍ يُصَلِّي فِيهِ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ رِجَالُ الْأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَدَخَلَ مَعَهُ صُهَيْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ قَالَ يُشِيرُ بِيَدِهِ قَالَ سُفْيَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ لِرَجُلٍ سَلْ زَيْدًا أَسَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ وَهِبْتُ أَنَا أَنْ أَسْأَلَهُ فَقَالَ يَا أَبَا أُسَامَةَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُهُ فَكَلَّمْتُهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو عمرو بن عوف کی مسجد قباء میں داخل ہوئے، اس میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر انصاری لوگوں میں سے کچھ آدمی داخل ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بھی تھے، میں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب سلام کہا جاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے، سفیان کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی سے کہا: زید سے پوچھو کہ کیا تم نے عبداللہ بن وہب سے سنا ہے؟ میں نے کہا: میں ان سے سوال کرتا ہوں، انھوں نے کہا: ا ے ابو اسامہ! کیا تم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے انہیں دیکھا ہے اور ان سے کلام کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8262]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 927، والترمذي: 368، وابن ماجه: 1017،والنسائي: 3/ 5، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4568 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4568»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8263
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ صُهَيْبٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ إِلَيَّ إِشَارَةً وَقَالَ لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ إِشَارَةً بِإِصْبَعِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ صحابی ٔ رسول سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے سلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کر کے مجھے جواب دیا، راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انھوں نے انگلی سے اشارہ کرنے کی بات کی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8263]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 925، والترمذي: 367،والنسائي: 3/ 5، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18931 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19139»
وضاحت: فوائد: … علامہ سندھی حنفی نے کہا: یُشِیْرُ بِیَدِہ کے الفاظ سے معلوم ہوا کہ ہاتھ کے ساتھ اشارہ کر کے سلام کا جواب دینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی،بلکہ اس کو مکروہ بھی نہیں کہنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8264
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ
۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سلام کا جواب دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8264]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه النسائي: 3/ 6، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18508»
وضاحت: فوائد: … نمازی کو سلام کہنا اور اس کا اشارہ کر کے جواب دینا، اس کا حکم کیا ہے؟ دیکھیں حدیث نمبر (۱۹۳۸)والا باب اور مفید بحث کا مطالعہ کریں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8265
عَنِ ابْنِ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَأَنَا خَلْفَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى رَحْلِهِ وَدَخَلْتُ أَنَا الْمَسْجِدَ فَجَلَسْتُ كَئِيبًا حَزِينًا فَخَرَجَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَطَهَّرَ فَقَالَ عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَابِرٍ بِخَيْرِ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اقْرَأْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى تَخْتِمَهَا
۔ سیدنا ابن جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیشاب کر رہے تھے، میں نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، میں نے پھر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، میں نے پھر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدل چل دیئے، میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوئے اور میں مسجد میں داخل ہو ا اور غمگین ہو کر بیٹھ رہا، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طہارت حاصل کر لی تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تینوں سلاموں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: عَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ، َعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ اور عَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ! میں تمہیں قرآن پاک کی بہترین سورت بتاؤں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، ضرور بتائیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ پڑھو، یہاں تک کہ اس کو ختم کر دو۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8265]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن في المتابعات والشواھد،ثم ذكر الاحاديث التي تدل علي كراھة رد السلام علي غير طھارة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17597 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17740»
وضاحت: فوائد: … سلام کا جواب دینے کے لیے وضو ضروری نہیں تھا، البتہ مستحب ضرور ہے کہ اللہ تعالی کا ذکر کرنے کے لیے وضو کا اہتمام کیا جائے، سلام بھی اللہ تعالی کے ذکر کی ایک صورت ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن في المتابعات والشواھد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ اسْتِحْبَابِ السَّلَامِ مِنَ الْقَادِمِ وَالْقَائِمِ
مجلس میں آنے والے اور جانے والے کا سلام کہنے کے مستحب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8266
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ إِنْ قَامَ وَالْقَوْمُ جُلُوسٌ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مجلس تک پہنچے تو وہ سلام کہے، اگر اس کا ارادہ بیٹھنے کا ہو تو بیٹھ جائے اور اگر جانے کے لئے کھڑا ہواور لوگ ابھی بیٹھے ہوں توپھر جاتے ہوئے سلام کہے، پہلی دفعہ کا سلام اس دوسری دفعہ کے سلام سے زیادہ اہم نہیں ہے (یعنی آتے وقت بھی سلام کہنا چاہیے اور جاتے وقت بھی، دونوں کی اہمیت برابر برابر ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8266]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابوداود: 5208،والترمذي: 2706، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9662»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8267
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ حَقٌّ عَلَى مَنْ قَامَ عَلَى مَجْلِسٍ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ وَحَقٌّ عَلَى مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسٍ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَامَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَكَلَّمُ فَلَمْ يُسَلِّمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَسْرَعَ مَا نَسِيَ
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مجلس میں آئے، اس پر حق ہے کہ وہ سلام کہے اور جو مجلس سے کھڑا ہو تو اس پر بھی حق ہے کہ وہ جاتے وقت سلام کہے۔ اتنے میں ایک آدمی جانے کے لئے کھڑا ہوا، چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تک گفتگو میں مصروف تھے، اس لیے وہ سلام کہے بغیر چلا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اس نے بات کو بہت جلدی بھلا دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8267]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 408، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15700»
وضاحت: فوائد: … پہلا سلام تو وہ ہے جو مجلس میں پہنچتے وقت کیا جائے اور دوسرا وہ ہے جو مجلس سے اٹھتے وقت کیا جائے، دونوں سلام ضروری ہیں، ایک کی اہمیت دوسرے سے زیادہ یا ایک دوسرے سے فائق نہیں ہے، بلکہ دونوں ہی ضروری ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں