الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ يُسلمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي ..... الخ
سوار، پیدل کوسلام کہے اور …
حدیث نمبر: 8268
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُسَلِّمِ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ وَفِي رِوَايَةٍ أَوِ الْمَارُّ بَدَلَ الْمَاشِي وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَالصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوار پیدل پر، پیدل چلنے والا بیٹھنے والے پر، تھوڑی تعداد والے زیادہ تعداد والوں پر اور چھوٹا بڑے پر سلام کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8268]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2703، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10625 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10633»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8269
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8269]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23949 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24448»
وضاحت: فوائد: … سلام میں پہل کرنے والا زیادہ عاجزی پیش کرتا ہے اور تکبر سے دور ہو جاتا ہے، سلام سے متعلقہ یہ آداب بھی ان ہی دو چیزوںپر دلالت کرتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
7. بابُ السَّلَامِ عَلَى الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ
بچوں اور عورتوں کو سلام کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 8270
عَنْ سَيَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَحَدَّثَ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَحَدَّثَ أَنَسٌ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ
۔ یسار بیان کرتے ہیں: میں ثابت بنانی کے ساتھ چل رہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے اور ان پر سلام کہا اور بیان کیا کہ: میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے، انھوں نے ان پر سلام کہا اور بیان کیا کہ: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کہا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8270]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6247، ومسلم: 2168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12337 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12362»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8271
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچوں کے پاس آئے، جبکہ وہ کھیل رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر سلام کہا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8271]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 5202، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12754»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8272
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ مَرَّ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَلْعَبُ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا صِبْيَانُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ہمارے پاس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا جبکہ ہم کھیل رہے تھے تو آپ نے فرمایا: بچو! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8272]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12896 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12927»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8273
عَنْ جَرِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنِسَاءٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ
۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے اور ان کو سلام کہا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8273]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 635، وابويعلي: 7506، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19367»
وضاحت: فوائد: … تربیت کے لیے بچوں کو سلام کہنا چاہیے، نیز سلام کہنے کے معاملے میں مرد وزن میں کوئی فرق نہیں ہے، ہاں اگر کسی فتنے کا ڈر ہو، تو تربیت کرنے تک کسی مصلحت سے کام لیا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
8. بَابُ النَّهْي عَنْ ابْتَدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلامِ
اہل کتاب کو سلام کہنے میں پہل کرنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8274
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ وَفِي رِوَايَةٍ إِذَا لَقِيتُمُ الْمُشْرِكِينَ فِي طَرِيقٍ فَلَا تَبْدَءُوهُمْ وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا قَالَ زُهَيْرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لِسُهَيْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم راستے میں مشرکوں سے ملو تو تم سلام میں پہل نہ کرو اور ان کو سب سے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔ زہیر کہتے ہیں: میں نے سہیل سے کہا: کیا ان سے مراد یہود و نصاری ہیں؟ انھوں نے کہا: مشرک ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8274]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2167، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7557»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8275
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودو نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تم ان کو راستے میں ملو تو ان کو سب سے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8275]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7606»
وضاحت: فوائد: … سب سے تنگ راستے کی طرف مجبور کرنا، اس سے غیر مسلم کی اہانت مقصود نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ مسلمان راستے کے درمیان میں چلیں تاکہ اسلام اور مسلمان کی فضیلت واضح ہو جائے، جب اسلام کو عملی طور پر زمین کا پسندیدہ مذہب مانا جاتا تھا، اس وقت ان احادیث پر عمل کرنے میں خوبصورتی لگتی تھی، کیونکہ ان اعمال سے اسلام کی شان و عظمت ثابت ہوتی ہے اور اِس وقت چونکہ مسلمان اپنے آپ کو شان والا ثابت نہیں کر رہے، اس لیے اسلام کو اس مرتبے والا نہیں سمجھا جا رہا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8276
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى يَهُودٍ فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ
۔ سیدنا ابو عبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سوار ہو کرکل یہودیوں کے پاس جانے والا ہوں، تم نے انہیں سلام کہنے میں پہل نہیں کرنی اور جب وہ تمہیں سلام کہیں تو صرف یہ کہنا ہے کہ وَعَلَیْکُمْ۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8276]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3699، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17295 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17427»
وضاحت: فوائد: … احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں، مزید وضاحت اگلے باب سے ہو گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
9. بَابُ مَا يُقَالُ فِي رَدُ السَّلام عَلَى أَهْلِ الْكِتَابِ
اہل کتاب کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے
حدیث نمبر: 8277
عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
۔ سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8277]
الحكم على الحديث: صحیح