الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ خَوَاتِمِ الْبَقَرَةِ
سورۂ بقرہ کی آخری آیات کے فضائل
حدیث نمبر: 8529M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَأِ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَإِنِّي أُعْطِيتُهُمَا مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ
۔ (دوسری سند) سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھا کر، یہ مجھے عرش کے نیچے سے عطا کی گئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8529M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17457»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17457
حدیث نمبر: 8530
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں عرش کے نیچے خزانے والے گھر سے عطا کی گئی ہیں اور مجھ سے پہلے کسی نبی کو یہ عطا نہیں کی گئیں۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8530]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الحاكم: 1/ 562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21345 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21672»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه الحاكم: 1/ 562
28. مَا جَاءَ فِي تَفْسِيرِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ وَ بَيَانِ اِسْمِ الله الاعظم
سورۂ آل عمران کی تفسیر اور اللہ تعالی کے اسم اعظم کا بیان
حدیث نمبر: 8531
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي هَذَيْنِ الْآيَتَيْنِ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ [سورة البقرة: ٢٥٥] وَالم اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ [سورة آل عمران: ٢] إِنَّ فِيهِمَا اسْمَ اللَّهِ الْأَعْظَمَ
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے:{اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} اور {الٓمٓ اللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8531]
تخریج الحدیث: «حسن، قاله الالباني۔ أخرجه ابوداود: 1496، والترمذي: 3478، وابن ماجه: 3855، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27611 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28163»
وضاحت: فوائد: … اللہ پاک کے اسم اعظم کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۵۶۲۸) اور اس سے پہلے والی احادیث اور ان کے فوائد۔
الحكم على الحديث:
حسن
29. بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: «هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ۔۔۔۔»
{ھُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8532
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ [سورة آل عمران: ٧] فَإِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِيهِ فَهُمُ الَّذِينَ عَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَاحْذَرُوهُمْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی: وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم قرآن میں جھگڑنے والوں کو دیکھو تو وہی فتنہ پرور لوگ ہوں گے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان سے بچو۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8532]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4547، ومسلم: 2665، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24714»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۴۶۲)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4547
حدیث نمبر: 8533
عَنْ أَبِي غَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ [سورة آل عمران: ٧] قَالَ هُمُ الْخَوَارِجُ وَفِي قَوْلِهِ يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ [سورة آل عمران: ١٠٦] قَالَ هُمُ الْخَوَارِجُ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {فَأَ مَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ} … پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ خوارج ہیں۔ اسی طرح {یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوہٌ} … اس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ سیاہ کے بارے میں بھی فرمایا کہ ان سے مراد بھی خارجی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8533]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو غالب البصري مختلف فيه، وھو ممن يعتبر به في المتابعات والشواھد، وفي رفعه نكارة، لكنه ثابت موقوفا عن ابي امامة۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 8046، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22614»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
30. بَابُ: «شَهِدَ اللهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ۔۔۔۔۔۔»
{شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8534
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [سورة آل عمران: ١٨] وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ يَا رَبِّ
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات میں یہ آیت پڑھ رہے تھے: {شَہِدَ اللّٰہُ أَ نَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ وَالْمَلَائِکَۃُ وَأُولُوا الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ} … اللہ نے گواہی دی کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے ربّ! میں بھی اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8534]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه ثلاثةمجاھيل: جبير بن عمرو القرشي، وابو سعد الانصاري، وابويحيي مولي آل الزبير۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 250، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1421 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1421»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت کی سند تو ضعیف ہے، البتہ آیت سے اہل علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور فرشتوں کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
31. بَابُ: «إِنّى أَعِيدُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ»
{اِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8535
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا نَخَسَهُ الشَّيْطَانُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَةِ الشَّيْطَانِ إِلَّا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ [سورة آل عمران: ٣٦]
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی بچہ جو پیدا ہوتا ہے، مگر شیطان اس کو چوکا لگاتا ہے، وہ شیطان کے اس چوکے کی وجہ سے چیختا ہے، ما سوائے ابن مریم اور اس کی ماں کے۔ سیدنا ابو ہریرہ علیہ السلام نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو قرآن کایہ حصہ پڑھ لو: {اِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔} بیشک میں اس کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں، شیطان مردود سے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8535]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3431، ومسلم: 2366، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7182 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7182»
وضاحت: فوائد: … شیطانیہ چوکا لگا کر بچے پر اپنے تسلّط کا آغاز کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں کی اس سے حفاظت کی،یہ ان کی ماں کی دعا کی برکت تھی، جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، مزید دیکھیں: حدیث نمبر (۱۳۲۵۱)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3431
32. بَابُ «إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا»
{اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8536
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ فَقَالَ الْأَشْعَثُ فِيَّ كَانَ وَاللَّهِ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَكَ بَيِّنَةٌ قُلْتُ لَا فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ احْلِفْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَنْ يَحْلِفَ فَذَهَبَ بِمَالِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا [سورة آل عمران: ٧٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جھوٹی قسم اٹھائی تا کہ مسلمان کا مال ہتھیا لے تو وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہوگا، اشعت بن قیس کہتے ہیں: اللہ کی قسم! یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے، میرے اور ایک یہودی کے درمیان زمین کا جھگڑا ہوا، اس نے میرے خلاف انکار کردیا اور دعویٰ کیایہ زمین میری ہے۔ میں نے اس مقدمہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودی سے فرمایا: تو قسم اٹھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ قسم اٹھا کر میرا مال لے جائے گا۔ پس اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰیِکَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْہِمْیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔} … بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت لیتے ہیں، وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۷۷) [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8536]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2416، 2417، ومسلم: 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3597 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3597»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2416
حدیث نمبر: 8537
عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ قَالَ فَجَاءَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ فَحَدَّثْنَاهُ قَالَ فِيَّ كَانَ هَذَا الْحَدِيثُ خَاصَمْتُ ابْنَ عَمٍّ لِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بِئْرٍ كَانَتْ لِي فِي يَدِهِ فَجَحَدَنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيِّنَتُكَ أَنَّهَا بِئْرُكَ وَإِلَّا فَيَمِينُهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي بِيَمِينِهِ وَإِنْ تَجْعَلْهَا بِيَمِينِهِ تَذْهَبُ بِئْرِي إِنَّ خَصْمِي امْرُؤٌ فَاجِرٌ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ قَالَ وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ [سورة آل عمران: ٧٧] الْآيَةَ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کا حق ناجائز طریقہ سے مارتا ہے، وہ جب اللہ تعالیٰ سے ملے گا تو وہ اس پر غضب ناک ہوگا۔ اتنے میں سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ آئے اور انھوں نے لوگوں سے پوچھا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کو کیا بیان کیا ہے؟ لوگوں نے ان کی بیان کی ہوئی بات بیان کی۔ سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ واقعہ میرے ساتھ پیش آیا تھا، مجھے اپنے ایک چچا زادسے کنوئیں کا مقدمہ پیش آیا، کنواں میرا تھا، لیکن اس نے مجھے دینے سے انکار کر دیا، اُدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اشعث تمہارے پاس دلیل ہے کہ یہ کنواں تمہاراہے، وگرنہ آپ کا مد مقابل قسم اٹھا لے گا؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی قسم کو کیا کروں،اگر آپ نے اس کی قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا تو وہ تو کنواں لے جائے گا کیونکہ میرا مد مقابل فاجر آدمی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کا مال ناحق ہتھیا لے گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:{اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰیِکَ لَا خَلَاقَ لَـہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْہِمْیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔} … بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت لیتے ہیں، وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (سورہ آل عمران: ۷۷) [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8537]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البخاري: 2416، 2666، ومسلم: 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21848 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22191»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه البخاري: 2416
حدیث نمبر: 8537M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ وَإِنَّ تَصْدِيقَهَا لَفِي الْقُرْآنِ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا [سورة آل عمران: ٧٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ فَخَرَجَ الْأَشْعَثُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقْرَؤُهَا قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّ رَجُلًا ادَّعَى رَكِيًّا لِي فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ فَقُلْتُ أَمَا إِنَّهُ إِنْ حَلَفَ حَلَفَ فَاجِرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:جس نے جھوٹی قسم اٹھائی اور اس کے ذریعے مال کا حق دار بن گیا، جبکہ وہ اس میں فاجر ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا، یہ آیت اس واقعہ کی تصدیق کرتی ہے: {اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰیِکَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْہِمْیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیْہِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔} … بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت لیتے ہیں، وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (سورہ آل عمران: ۷۷) جب سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ آئے تو وہ یہ آیت پڑھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی، ایک آدمی نے میرے ایک کنوئیں کے بارے میں یہ دعویٰ کر دیا کہ یہ اس کا ہے، پس ہم دونوں جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: دو گواہ ہیں؟ وگرنہ اس کی قسم معتبر ہو گی۔ میں نے کہا: اس کی قسم تو فاجر کی قسم ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو جھوٹی قسم اٹھائے اور مال ہتھیائے تو وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8537M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22184»
وضاحت: فوائد: … ان روایات سے اس آیت کامفہوم اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22184