الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ: «كَيْفَ يَهْدِى اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إيمَانِهِم»
{کَیْفَ یَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8538
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ وَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ [سورة آل عمران: ٨٦] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَبَعَثَ بِهَا قَوْمُهُ فَرَجَعَ تَائِبًا فَقَبِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ مِنْهُ وَخَلَّى عَنْهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی مرتد ہوا اور مشرکوں کے ساتھ مل گیا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی {کَیْفَ یَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ وَشَہِدُوْٓا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَاءَھُمُ الْبَیِّنٰتُ وَاللّٰہُ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔} … اللہ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جنھوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا اور (اس کے بعد کہ) انھوں نے شہادت دی کہ یقینایہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح دلیلیں آچکیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (سورۂ آل عمران: ۸۶)۔ جب اس کی قوم نے اس تک یہ آیت پہنچائی تو وہ تائب ہو کر واپس آ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے یہ چیز قبول کر لی اور اس کو آزاد چھوڑ دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8538]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه بنحوه النسائي: 7/ 107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2218 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2218»
وضاحت: فوائد: … مرتد کی سزا قتل ہے، لیکن اگر کوئی مرتدّ مسلمانوں کے قبضے میں آنے سے پہلے از سرِ نو مشرف باسلام ہو جائے گا تو اس کا اسلام قبول ہوگا اور اس کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
الحكم على الحديث:
صحيح ۔ أخرجه بنحوه النسائي: 7/ 107
34. بَابُ: «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقبَل مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبا»
{اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْ اَحَدِھِمْ¤مِلْئُ الْاَرْضِ ذَھَبًا} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8539
عَنْ قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُجَاءُ بِالْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ يَا رَبِّ قَالَ فَيُقَالُ لَقَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ [سورة آل عمران: ٩١]
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روز قیامت کافر کو لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا: اچھا یہ بتا کہ اگر تجھے زمین بھر سونا دے دیا جائے تو کیا اس عذاب سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اس کا فدیہ دے دے گا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، اے میرے پروردگار! تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: (دنیا میں) تجھ سے اس سے آسان تر مطالبہ کیا گیا تھا (لیکن تو نے اس کو بھی پورا نہ کیا)۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے: {إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْ أَ حَدِہِمْ مِلْئُ الْأَ رْضِ ذَہَبًا وَلَوِ افْتَدٰی بِہِ} … یقینا وہ لوگ جو کفر کی حالت میں مر گئے، اگر یہ زمین بھر سونا بھی فدیہ میں دے دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8539]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6538، ومسلم: 2805، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13288 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13321»
وضاحت: فوائد: … قارئین سے گزارش ہے کہ زندگی کے مقصد کو سمجھیں، وقت کی قدر کریں اور شرعی احکام کے مطابق شب و روز گزاریں،یہی اس زندگی اور اس جہاں کا راز ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6538
35. بَابُ: «لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ»
{لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8540
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ [سورة آل عمران: ٩٢] وَمَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا [سورة البقرة: ٢٤٥] قَالَ أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَحَائِطِي الَّذِي كَانَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا وَاللَّهِ لَوِ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهَا لَمْ أُعْلِنْهَا قَالَ اجْعَلْهُ فِي فُقَرَاءِ أَهْلِكَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} … تم ہر گز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے، تاآنکہ تم اپنی پسندیدہ چیزیں خرچ کرو اور {مَنْ ذَا الَّذِییُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا} … کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرضِ حسن دے۔ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا فلاں فلاں جگہ والا باغ (مجھے سب سے زیادہ پسند ہے)، اگر ہمت ہوتی تو میں اس کو مخفی طور پر ہی صدقہ کرنا، کسی کو پتا نہ چلنے دینا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے اپنے رشتہ دار فقراء میں تقسیم کر دو۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8540]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4555، ومسلم: 998، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12144 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12168»
وضاحت: فوائد: … اس روایت کی مفصل شکل درج ذیل ہے:سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کَانَ أَ بُوْ طَلْحَۃَ رضی اللہ عنہ أَ کْثَرَ الْأَ نْصَارِ بِالْمَدِیْنَۃِ مَالاً مِنْ نَخْلٍ، وَکَانَ أَ حَبُّ أَ مْوَالِہٖإِلَیْہِ بَیْرُحَائَ، وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَۃَ الْمَسْجِدِ، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَدْخُلُھَا وَیَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِیْھَا طِیْبٍ۔ قَالَ أَ نَسٌ: فَلَمَّا الآیَۃُ: {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} [آل عمران:۹۲] قَامَ أَ بُوْ طَلْحَۃَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَ تَعَالـٰییَقُوْلُ: {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} وَإِنَّ أَ حَبَّ أَ مْوَالِی إِلَیَّ بَیْرُحَائُ، وَإِنَّھَا صَدَقَۃٌ لِلّٰہِ، أَ رْجُوْبِرَّھَا وَذُخْرَھَا عِنْدَاللّٰہِ، فَضَعْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! حَیْثُ أَ رَاکَ اللّٰہُ۔ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ْ:((بَخٍّ! ذٰلِکَ مَالٌ رَابِحٌ، ذٰلِکَ مَالٌ رَابِحٌ! وَقَدْ سَمِعْتُ مَاقُلْتَ وَإِنِّی أَ رٰی أَ نْ تَجْعَلَھَا فِی الْأَ قْرَبِیْنَ۔)) … سیدناابوطلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ منوّرہ کے انصاریوں میں کھجور کے باغات کے اعتبار سے سب سے زیادہ مالدار تھے اور انھیں اپنے مالوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ بیرحا (نامی باغ) تھا، یہ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں تشریف لے جاتے اور باغ میںموجود عمدہ پانی پیتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: تم ہر گز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے، تاآنکہ تم اپنیپسندیدہ چیزیں خرچ کرو تو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالی نے آپ پر یہ آیت نازل فرمائی: تم ہر گز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے، تاآنکہ تم اپنی پسندیدہ چیزیں خرچ کرو اور مجھے اپنے مالوں میں سے سب سے زیادہ محبوب چیز بیرحا (باغ) ہے، میں اسے اللہ کے لیے صدقہ کرتا ہوں۔ میں اللہ تعالی سے اس کے اجر وثواب کی اور اس کے پاس اس کے ذخیرہ ہونے کی امید رکھتا ہوں، پس آپ اللہ کی طرف سے عطا کئے گئے فہم کے مطابق جہاں مناسب سمجھیں، اسے خرچ کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: واہ واہ! یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے، یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے! تم نے جو کچھ کہا ہے، میں نے سن لیا ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دو۔ (صحیح بخاري:۱۴۶۱، صحیح مسلم:۳/۷۹)
صحابہ کرام اپنے خون سے شجرِ اسلام کی آبیاری کرنے والی، آغوشِ نبوت کی پروردہ اور پاکیزہ ہستیاں تھیں، وہ اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام پر عمل کرنے کے نہ صرف سخت پابند تھے، بلکہ اسی میں اپنی سعادت سمجھتے تھے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ اللہ تعالی کا ایک فرمان سن کر اپنے بیش قیمت باغ کو اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کر دیا جائے۔ لیکن قربان جائیے محمدر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت اور حکمت پر کہ صلہ رحمی کی مصلحت کو مدنظر رکھتے ہوئے اتنے قیمتی مال کو قرابتداروں کی خاطر واپس لوٹایا جا رہا ہے۔
صحابہ کرام اپنے خون سے شجرِ اسلام کی آبیاری کرنے والی، آغوشِ نبوت کی پروردہ اور پاکیزہ ہستیاں تھیں، وہ اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام پر عمل کرنے کے نہ صرف سخت پابند تھے، بلکہ اسی میں اپنی سعادت سمجھتے تھے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ اللہ تعالی کا ایک فرمان سن کر اپنے بیش قیمت باغ کو اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کر دیا جائے۔ لیکن قربان جائیے محمدر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت اور حکمت پر کہ صلہ رحمی کی مصلحت کو مدنظر رکھتے ہوئے اتنے قیمتی مال کو قرابتداروں کی خاطر واپس لوٹایا جا رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4555
36. باب: «كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلَّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ»
{کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِبَنِیْ اِسْرَائِیْلَ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8541
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْيَهُودِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ فَكَانَ فِيمَا سَأَلُوهُ أَيُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ قَبْلَ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا فَطَالَ سَقَمُهُ فَنَذَرَ لِلَّهِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاهُ اللَّهُ مِنْ سَقَمِهِ لَيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ فَكَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانَ الْإِبِلِ وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ أَلْبَانُهَا فَقَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور کہا: اے ابو القاسم! ہم آپ سے چند باتیں پوچھتے ہیں، صرف نبی ان کا جواب دے سکتاہے، پھر انہوں نے جو سوال کئے تھے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا: یعقوب علیہ السلام نے تو رات اترنے سے پہلے کونسا کھانا اپنے اوپر حرام کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کے نام کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی ہے، کیا تم جانتے ہو کہ حضرت یعقوب علیہ السلام سخت بیمار ہوئے تھے، ان کی بیماری لمبی ہو گئی، بالآخر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بیماری سے شفا دی تو وہ سب سے زیادہ محبوب مشروب اور سب سے زیادہ پیارا کھانا خود پر حرام کر دیں گے؟ جبکہ انہیں سب سے زیادہ پیارا کھانا اونٹ کا گوشت تھا اور سب سے زیادہ پسند مشروب اونٹنیوں کا دودھ تھا، انہوں نے اس چیز کو حرام کردیا۔ یہودیوں نے کہا اللہ کی قسم! درست ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8541]
تخریج الحدیث: «حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2471 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2471»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث بڑی تفصیل کے ساتھ حدیث نمبر (۸۴۸۷،۸۴۸۷م) میں گزر چکی ہے۔ارشادِ باری تعالی ہے: {کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِّبَنِیْٓ اِ سْرَاء ِیْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاء ِیْلُ عَلٰی نَفْسِہٖمِنْقَبْلِاَنْتُنَزَّلَالتَّوْرٰیۃُ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰیۃِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔} … کھانے کی ہر چیز بنی اسرائیل کے لیے حلال تھی مگر جو اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) نے اپنے آپ پر حرام کر لی، اس سے پہلے کہ تورات اتاری جائے، کہہ دے تو لاؤ تورات، پھر اسے پڑھو، اگر تم سچے ہو۔ (سورۂ آل عمران: ۹۳)
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں کہا: یعقوب رحمتہ اللہ علیہ کی شریعت میں اس کا طریقہیہ تھا کہ اپنی پسندیدہ اور مرغوب چیز کو اللہ کے نام پر ترک کر دیتے تھے اور ہماری شریعت میں یہ طریقہ نہیں ہے، بلکہ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام پر خرچ کر دیا کریں۔
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں کہا: یعقوب رحمتہ اللہ علیہ کی شریعت میں اس کا طریقہیہ تھا کہ اپنی پسندیدہ اور مرغوب چیز کو اللہ کے نام پر ترک کر دیتے تھے اور ہماری شریعت میں یہ طریقہ نہیں ہے، بلکہ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام پر خرچ کر دیا کریں۔
الحكم على الحديث:
حسن
37. بَابُ: «وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا»
{وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8542
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا [سورة آل عمران: ٩٧] قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ فَقَالُوا أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ قَالَ ثُمَّ قَالُوا أَفِي كُلِّ عَامٍ فَقَالَ لَا وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ [سورة المائدة: ١٠١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلًا} … لوگوں پر اللہ کے لیے حج فرض ہے جو اس کی طرف راستہ کی طاقت رکھتا ہے۔ تو لوگوں نے کہا: ا ے اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ انہوں نے پھر کہا: کیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہرسال فرض ہو جاتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: {یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَاءَ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَاِنْ تَسْئَلُوْا عَنْہَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَکُمْ عَفَا اللّٰہُ عَنْہَا وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان چیزوں کے بارے میں سوال مت کرو جو اگر تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں اور اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کرو گے جب قرآن نازل کیا جا رہا ہوگا تو تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں گی۔ اللہ نے ان سے در گزر فرمایا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت برد بار ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8542]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الاعلي بن عامر الثعلبي ضعيف، ثم ھو منقطع ايضا، ابو البختري سعيد بن فيروز لم يسمع عليا۔ أخرجه ابن ماجه: 2884، والترمذي: 14ذ8، 3055، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 905»
وضاحت: فوائد: … یہ اصولِ فقہ کا ایک مسلّمہ قانون ہے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کا مطلق حکم، محکوم بہ کے تکرار پر دلالت نہیں کرتا، یعنی جب شریعت میں کسی قید کے بغیر کوئی حکم دیا جائے اور بندہ اس پر ایک دفعہ عمل کر لے، تو وہ اس حکم سے بریٔ الذمہ ہو جائے گا اور اس سے دوبارہ اس حکم کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔بالکل یہی مثال اس حدیث ِ مبارکہ میں کہ اللہ تعالی نے مطلق طور پر حج کو فرض قرار دیا، اس اطلاق کا تقاضا یہ ہے کہ جب آدمی ایک دفعہ حج کر لے گا تو وہ بریٔ الذمہ ہو جائے گا، لیکن جب صحابہ نے اس قانون پر اکتفا نہ کیا اور مزید پابندیوں کے بارے میں سوال کرنا شروع کر دیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناگوار گزرا اور اللہ تعالیٰ اس قسم کے سوالات سے منع کر دیا۔
حدیث نمبر (۴۰۶۴) میں حج کی فرضیت بیان ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر (۴۰۶۴) میں حج کی فرضیت بیان ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
38. بَابُ «كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ۔۔۔۔۔الخ»
{کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ … الخ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8543
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ [سورة آل عمران: ١١٠] قَالَ هُمُ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالی کا رضی اللہ عنہا فرمان: {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} … تم بہترین امت ہو، جو لوگوں کے لئے نکالے گئے ہو۔ سے مراد وہ لوگ ہیں، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8543]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الحاكم: 2/ 294، وابن ابي شيبة: 12/ 155، والطبراني: 12303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2926»
وضاحت: فوائد: … علامہ سندھی نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا مقصود یہ ہے کہ اس آیت میں خطاب تمام صحابہ کو نہیں کیا جا رہا، بلکہ مہاجرین کو کیا جا رہا ہے، چہ جائیکہ ساری امت کو اس کا مخاطَب سمجھ لیا جائے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خطاب مخاطَب کے موجود ہونے کا تقاضا کرتا ہے، اس لیےیہ ساری امت کو شامل نہیں ہے، دوسری وجہ یہ بھی کہ مہاجرین ہی ہیں، جن کو ان کے گھروں سے نکالا گیا تھا۔ واللہ تعالی اعلم۔ بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت سب سے بہترین اور لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ} … تم سب سے بہتر امت چلے آئے ہو، جو لوگوں کے لیے نکالی گئی، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ (سورۂ آل عمران: ۱۱۰)
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه الحاكم: 2/ 294
حدیث نمبر: 8543M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ
۔ (دوسری سند) ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ہیں جنھوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8543M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2987»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2987
39. بَابُ: «لَيَسُو سَوَاء»
{لَیْسُوْ سَوَائً}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8544
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ الصَّلَاةَ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ هَذِهِ الْأَدْيَانِ أَحَدٌ يَذْكُرُ اللَّهَ هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ قَالَ وَأَنْزَلَ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَتَّى بَلَغَ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ تُكْفَرُوهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ [سورة آل عمران: ١١٣-١١٥]
۔ سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز عشاء کو مؤخر کیا، پھر مسجد میں تشریف لائے، جبکہ لوگ نماز کا انتظار کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! اس وقت ان ادیان والوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جو اس وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہا ہو، ما سوائے تمہارے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کی ہیں: {لَیْسُوْا سَوَاء ً مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَائِمَۃٌیَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَاء َ الَّیْلِ وَھُمْ یَسْجُدُوْنَ۔ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَاُولٰیِکَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۔ وَمَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّکْفَرُوْہُ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌبِالْمُتَّقِیْنَ۔} … وہ سب برابر نہیں۔ اہل کتاب میں سے ایک جماعت قیام کرنے والی ہے، جو رات کے اوقات میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور وہ سجدے کرتے ہیں۔اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے اور اچھے کاموں میں ایک دوسرے سے جلدی کرتے ہیں اور یہ لوگ صالحین سے ہیں۔ اور وہ جو نیکی بھی کریں اس میں ان کی بے قدری ہرگز نہیں کی جائے گی اور اللہ متقی لوگوں کو خوب جاننے والا ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۱۱۳۔ ۱۱۵) [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8544]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 375، وابن حبان: 1530، والطبراني في الكبير: 10209، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3760 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3760»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن کثیرiنے اس آیت کی تفسیرمیں کہا: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اہل کتاب اور اصحاب محمد برابر نہیں، … پھر مسند احمد کییہی حدیث ذکر کی … اور پھر کہا: لیکن اکثر مفسرین کا قول یہ ہے کہ اہل کتاب کے علماء مثلاً سیدنا عبداللہ بن سلام، سیدنا اسد بن عبید،سیدنا ثعلبہ بن شعبہ وغیرہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی،یہ لوگ ان اہل کتاب میں شامل نہیں تھے، جن کی مذمت پہلے گزر چکی ہے، بلکہ یہ باایمان جماعت اللہ کے حکم پر قائم اور شریعت محمدیہ کی تابع تھی، استقامت و یقین اس میں تھا، یہ پاکباز لوگ راتوں کے وقت تہجد کی نماز میں بھی اللہ کے کلام کی تلاوت کرتے رہتے تھے، اللہ تعالی اورقیامت کے دن پر ایمان رکھتے تھے اور لوگوں کو بھی انہی باتوں کا حکم دیتے تھے، اور ان کی مخالفت کرنے سے روکتے تھے اور نیک کاموں میں پیش پیش رہا کرتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ انہیں خطاب عطا فرمایا ہے کہ یہ صالح لوگ ہیں اور سورت کے آخر میں فرمایا: {وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰہِ} … بعض اہل کتاب ایسے ہیں جو اللہ تعالی پر، تمہاری طرف اتارے جانے والے کلام پر اور خود ان کی طرف اتارے جانے والے کلام پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالی سے ڈرتے ہیں۔ (آل عمران: ۱۹۹) اور یہاں بھی فرمایا کہ ان کے یہ نیک اعمال ضائع نہیں ہوں گے، بلکہ پورا پورا بدلہ ملے گا، تمام پرہیزگار لوگ اللہ تعالی کی نظر میں ہیں، وہ کسیکے اچھے عمل کو برباد نہیں کرے گا۔ وہاں ان بے دین لوگوں کو اللہ کے ہاں نہ مال نفع دے گا اور نہ اولاد، یہ تو جہنمی ہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه البزار: 375
40. بَابُ: «لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَي.. الخ»
{لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ … الخ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8545
عَنْ سَالِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا اللَّهُمَّ الْعَنْ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ اللَّهُمَّ الْعَنْ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو اللَّهُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ [سورة آل عمران: ١٢٨] قَالَ فَتِيبَ عَلَيْهِمْ كُلِّهِمْ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں بد دعا کی: اے اللہ! حارث بن ہشام پر لعنت کر، اے اللہ! سہیل بن عمرو پر لعنت کر، اے اللہ! صفوان بن امیہ پر لعنت کر۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {لَیْسَ لَکَ مِنْ الْأَ مْرِ شَیْئٌ أَ وْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَ وْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} … تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں،یا وہ ان پر مہربانی فرمائے، یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلا شبہ وہ ظالم ہیں۔ پس ان سب افراد کی توبہ قبول کر لی گئی۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8545]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 3004، والنسائي: 2/ 203، وعلقه البخاري عقب الرواية رقم: 4559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5674 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5674»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفر (۴) سن ہجری میں ستر قراء صحابہ کو بئر معونہ والوں کی طرف بھیجا، تاکہ یہ ان کو قرآن مجید اور علم شرعی کی تعلیم دیں،ان کے امیر سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے، لیکن عامر بن طفیل نے ان قراء کو قتل کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کا بڑا دکھ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ماہ قنوت ِ نازلہ کی اور ان قبائل پر بد دعا، بالآخر یہ آیت نازل ہو۔ تعیین کے ساتھ صرف اس آدمی پر لعنت کی جا سکتی ہے، جس کا وحی کے ذریعے جہنمی ہونا واضح ہو چکا ہو، مثلا ابوجہل پر لعنت ہو، ابو لہب پر لعنت۔ وگرنہ کسی کافر اور مسلمان پر تعیین کے ساتھ لعنت نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ممکن ہے کہ ایسا کافر اپنی زندگی میں مشرف باسلام ہو جائے، ہاں مطلق طور ایسے کہنا درست ہے کہ کافروں پر لعنت ہو، جھوٹوں پر لعنت ہو، اس سے مراد وہ افراد ہوں گے، جنھوں نے کفر اور جھوٹ کی حالت میں ہی مرنا ہو گا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 3004
حدیث نمبر: 8546
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُسِرَتْ رَبَاعِيَّتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ فِي جَبْهَتِهِ حَتَّى سَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ [سورة آل عمران: ١٢٨]
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوۂ احد والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے والے دانت توڑ دیے گئے اور آپ کی پیشانی مبارک زخمی کی گئی،یہاں تک کہ آپ کے چہرئہ انور پر خون بہہ پڑا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قوم کیسے کامیاب ہوگی، جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کیا، جبکہ نبی ان کو ان کے رب کی طرف بلا رہا تھا۔ پس یہ آیت نازل ہوئی: {لَیْسَ لَکَ مِنْ الْأَ مْرِ شَیْئٌ أَ وْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَ وْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} … تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں،یا وہ ان پر مہربانی فرمائے، یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلا شبہ وہ ظالم ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8546]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1791، وعلقه البخاري في {ليس لك من الامر شيئ}في المغازي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11978»
وضاحت: فوائد: … ان دو احادیث میں الگ الگ واقعات بیان کیے گئے ہیں، پہلے غزوۂ احد اور اس کے بعد بئر معونہ کا واقعہ پیش آیا، لیکن دونوں میں ایک ہی آیت کے نزول کا ذکر ہے۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے جمع و تطبیق کییہ صورت بیان کی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احد کے بعد نماز میں مذکورہ لوگوں پر بد دعا کی تو دونوں واقعات کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ لیکنیہاں اصول تفسیر کا یہ قانون پیش کرنازیادہ بہتر ہے کہ صحابۂ کرام جب ایک آیت سے مختلف مسائل استنباط کرتے ہیں تو وہ لفظ فَنَزَلَتْ استعمال کرتے ہیں،یہ سب سے بہتر صورت ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1791