🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. بَابُ: «وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ»
{وَعَصَیْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا اَرَاکُمْ مَا تُحِبُّوْنَ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8547
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرُّمَاةِ وَكَانُوا خَمْسِينَ رَجُلًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَقَالَ إِنْ رَأَيْتُمُ الْعَدُوَّ وَرَأَيْتُمُ الطَّيْرَ تَخْطَفُنَا فَلَا تَبْرَحُوا فَلَمَّا رَأَوُا الْغَنَائِمَ قَالُوا عَلَيْكُمُ الْغَنَائِمَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَبْرَحُوا قَالَ غَيْرُهُ فَنَزَلَتْ وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ [سورة آل عمران: ١٥٢] يَقُولُ عَصَيْتُمُ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمُ الْغَنَائِمَ وَهَزِيمَةَ الْعَدُوِّ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ احد والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچاس تیر اندازوں پر سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا اور ان سے فرمایا: اگر تم دیکھو کہ دشمن نے ہمیں ماردیا ہے اور پرندے ہمارا گوشت نوچ رہے ہیں، پھر بھی تم نے اس مقام کو نہیںچھوڑنا۔ لیکن جب انہوں نے مالِ غنیمت کو دیکھا توکہنے لگے: تم بھی غنیمتیں جمع کرو، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ تم لوگوں نے اسی درے پر رہنا ہے۔؟ (لیکن وہ نہ مانے) اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {وَعَصَیْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَ رَاکُمْ مَا تُحِبُّونَ} … اور جونہی وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے (یعنی مالِ غنیمت اور دشمن کی شکست)تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے راوی کہتا ہے: تم نے غنیمتوں اور دشمنوں کی شکست دیکھنے کے بعد اپنے رسول کی نافرمانی کردی۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8547]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3039، 3986، 4061، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18801»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ احد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک درّے پر پچاس تیر انداز صحابہ کو تعینات کیا،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جنگی مہارت کا منہ بولتا ثبوت تھا، لیکنیہ دستہ حکم عدولی کر بیٹھا اور لشکر ِ اسلام کی فتح، شکست میں تبدیل ہو گئی، سبق یہ ملتا ہے کہ کسی حالت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے اور ہر حال میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کو مقدم رکھنا چاہیے۔ پوری آیتیوں ہے: {وَلَقَدْ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعْدَہٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِہِ حَتّٰی اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَعَصَیْتُمْ مِّنْ بَعْدِ مَآ اَرٰیکُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْھُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ وَاللّٰہُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ۔} … اللہ نے تائید ونصرت کاجو وعدہ تم سے کیا تھا وہ تو اس نے پورا کر دیا۔ ابتدا میں اس کے حکم سے تم ہی ان کو قتل کر رہے تھے۔ مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا، اور اس کے بعد کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے (یعنی مالِ غنیمت اور دشمن کی شکست)تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے، اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے، تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے۔ اور حق یہ ہے کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کر دیا کیونکہ مومنوں پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3039
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: «أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا»
{اَوَلَمَّا اَصَابَتْکُمْ مُصِیْبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِثْلَیْہَا قُلْتُمْ اَنّٰی ھٰذَا} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8548
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَرْوَاحَهُمْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَشْرَبِهِمْ وَمَأْكَلِهِمْ وَحُسْنَ مُنْقَلَبِهِمْ قَالُوا يَا لَيْتَ إِخْوَانَنَا يَعْلَمُونَ بِمَا صَنَعَ اللَّهُ لَنَا لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ وَلَا يَنْكُلُوا عَنِ الْحَرْبِ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ عَلَى رَسُولِهِ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ [سورة آل عمران: ١٦٩]
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب احد میں تمہارے بھائی شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحیں سبز پرندں میں ڈال دیں، وہ جنت کی نہروں پر جاتے ہیں، جنت کے پھل کھاتے ہیں اور عرش الٰہی کے سائے میں سونے کی قندیلوں میں جگہ پکڑ تے ہیں، جب انہوں نے کھانے پینے کی یہ عمدگی اور اپنے ٹھکانے کی خوبصورتی دیکھی تو انھوں نے کہا: کاش ہمارے دنیا والے بھائیوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ کس قدر اچھا سلوک کیا ہے، تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ سے روگردانی نہ کریں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:میں تمہارا یہ پیغام تمہاری طرف سے تمہارے بھائیوں تک پہنچاتا ہوں، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَاء ٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ۔} … اور تو ان لوگوں کو جو اللہ کے راستے میں قتل کر دیے گئے، ہرگز مردہ گمان نہ کر، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8548]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 5/ 294، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2388»
وضاحت: فوائد: … شہدء کی جس زندگی کو ثابت کیا جا رہا ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ بدعتی لوگ ایسی آیات کے ذریعے شہدا اور اولیا کی وہ زندگی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کا تصور انھوں نے بزعم خود قائم کر لیا ہے۔ حقیقتیہ ہے کہ جب کوئی آدمی مر جاتا ہے تو وہ اس دنیا سے منقطع ایک نئے عالم میں داخل ہو جاتا ہے، جس کو عالم برزخ کہتے ہے، اُس عالَم کا اس دنیا سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہے، اس عالَم میں نیکیوں اور برائیوں کا صلہ ملناشروع ہو جاتا ہے۔ شہداء کی مثال اس حدیثِ مبارکہ میں بیان کی گئی ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 5/ 294
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. بَابُ: «وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ»
{وَاِذَ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُو الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8549
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ اذْهَبْ يَا رَافِعُ لِبَوَّابِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقُلْ لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ مِنَّا فَرِحَ بِمَا أُوتِيَ وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُونَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمَا لَكُمْ وَهَذِهِ إِنَّمَا نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ [سورة آل عمران: ١٨٧] هَذِهِ الْآيَةَ وَتَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا [سورة آل عمران: ١٨٨] وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَأَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ فَكَتَمُوهُ إِيَّاهُ وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ فَخَرَجُوا قَدْ أَرَوْهُ أَنْ قَدْ أَخْبَرُوهُ بِمَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ وَاسْتَحْمَدُوا بِذَلِكَ إِلَيْهِ وَفَرِحُوا بِمَا أَتَوْا مِنْ كِتْمَانِهِمْ إِيَّاهُ مَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ
۔ حمید بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ مروان نے اپنے دربان رافع سے کہا: اے رافع! تم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اوران سے کہو: اگر ہم میں سے ہر کوئی اس چیز پر خوش ہو، جو اس کو دی گئی ہے اور یہ پسند کرے کہ ایسے کام پر بھی اس کی تعریف کی جائے، جو اس نے کیا نہ ہو، تو پھرتو ہم سب کو عذاب ہوگا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تمہارا س آیت سے کیا تعلق ہے؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی، پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: {وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہ لِلنَّاسِ وَلَاتَکْتُمُوْنَہ ْ فَنَبَذُوْہُ وَرَاء َ ظُہُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖثَمَنًاقَلِیْلًا فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ۔} … اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا جنھیں کتاب دی گئی کہ تم ہر صورت اسے لوگوں کے لیے صاف صاف بیان کرو گے اور اسے نہیں چھپاؤ گے تو انھوں نے اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی قیمت لے لی۔ سو برا ہے جو وہ خرید رہے ہیں۔ اور اس کے ساتھ یہ آیت بھی پڑھی: {لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَیَفْرَحُوْنَ بِمَا أَ تَوْا وَیُحِبُّونَ أَ نْ یُحْمَدُوْا بِمَا لَمْیَفْعَلُوا} … ان لوگوں کو ہرگز خیال نہ کر جو ان (کاموں) پر خوش ہوتے ہیں جو انھوں نے کیے اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان (کاموں) پر کی جائے جو انھوں نے نہیں کیے۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان اہل کتاب سے ایک سوال کیا، انہوں نے اس کو چھپایا اورغلط بتایا اور تمنا یہ کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی اس بناء پر تعریف بھی کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے جو کچھ پوچھا ہے، انہوں نے وہ بتا دیا اور یہ یہودی اس صحیح بات کو چھپا لینے پر بہت خوش تھے کہ انھوں نے اصل بات بھی چھپا لی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب بھی دے دیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب تفسير القرآن وفضائل السور والآيات حسب ترتيب النزول/حدیث: 8549]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4568، ومسلم: 2778، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2712»
وضاحت: فوائد: … یہ آیات اگرچہ یہودیوں کے بارے میں ہیں، لیکن ان کا حکم عام ہے اور ہر وہ شخص ان کا مصداق ہے کہ جو یہ چاہتا ہے کہ خیر و بھلائی والے اُن امور کی وجہ سے اس کی تعریف کی جائے، جو اس نے کیے نہ ہوں، اسی طرح اس کو علم و صلاح کی طرف منسوب کیا جائے، جبکہ حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو، آجکل کئی ظاہر پرست اس چیز کے خواہش مند نظر آتے ہیں کہ ان کے لیے بڑے بڑے القاب استعمال کیے جائیں۔نَسْأَ لُ اللّٰہَ السَّلَامَۃَ وَالْعَافِیَۃَ۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4568
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں