🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ: «وَلا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا آتَوكَ لِتَحْمِلَهُمْ»
{وَلَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَا اَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8624
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ أَحَدَ الرَّهْطِ الَّذِينَ نَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ [سورة التوبة: ٩٢] قَالَ إِنِّي لَآخِذٌ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِ الشَّجَرَةِ أُظِلُّ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُبَايِعُونَهُ فَقَالُوا نُبَايِعُكَ عَلَى الْمَوْتِ قَالَ لَا وَلَكِنْ لَا تَفِرُّوا
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ، یہ صحابی اس گروہ میں شامل تھا، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے{ وَّلَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ تَوَلَّوْا وَّاَعْیُنُہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَ۔} … اور نہ ان لوگوں پر کہ جب بھی وہ تیرے پاس آئے ہیں، تاکہ تو انھیں سواری دے تو تو نے کہا میں وہ چیز نہیں پاتا جس پر تمھیں سوار کروں، تو وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہ رہی تھیں، اس غم سے کہ وہ نہیں پاتے جو خرچ کریں۔ تو سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے درخت کی ٹہنیاں پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کیا ہوا تھا، جبکہ لوگ بیعت کر رہے تھے اور انھوں نے کہا: ہم موت پر آپ کی بیعت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس چیز پر بیعت کرو کہ فرار اختیار نہ کرو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8624]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو جعفر الرازي سييء الحفظ۔ أخرجه الطبري في التفسير: 10/ 212، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20820»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جابر اور سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہما سے یہ صحیح ثابت ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت پر بیعت نہیں کی، بلکہ اس چیز پر کی تھی کہ وہ فرار اختیار نہیں کریں گے۔
اس آیت سے پچھلی والی آیتیہ ہے: {لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَاء ِ وَلَا عَلَی الْمَرْضٰی وَلَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖمَاعَلَی الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔} … ضعیف اور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکتِ جہاد کے لیے راہ نہیں پاتے، اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جبکہ وہ خلوصِ دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے وفادار ہوں،ایسے محسنین پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اللہ بے حد درگزر کرنے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔ ان دوآیات میں ان مسلمانوں کا ذکر ہے، جن کو جہاد کے معاملے میں معذور قرار دیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا الْمُشْرِكِينَ۔۔۔۔۔» إِلَى آخِرِ الْآيَتَيْنِ
{مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا اَنْ یَسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ … ¤اِلٰی آخِرِ الْاٰیَتَیْنِ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8625
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْتَغْفِرُ لِأَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ فَقُلْتُ تَسْتَغْفِرُ لِأَبَوَيْكَ وَهُمَا مُشْرِكَانِ فَقَالَ أَلَيْسَ قَدِ اسْتَغْفَرَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَهُوَ مُشْرِكٌ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ إِلَى آخِرِ الْآيَتَيْنِ [سورة التوبة: ١١٣] قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ [سورة التوبة: ١١٤]
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیںـ: میں نے ایک آدمی کو سنا،وہ اپنے مشر ک ماں باپ کے لئے بخشش طلب کر رہا تھا، میں نے کہا: تم اپنے مشرک والدین کے لئے استغفار کر رہے ہو؟ اس نے کہا: کیا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے مشرک باپ کے لئے استغفار نہیں کیا تھا؟ جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو یہ آیات نازل ہوئیں: {مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوْٓا اُولِیْ قُرْبٰی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۔ وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰہِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَآ اِیَّاہُ فَلَمَّا تَـبَیَّنَ لَہٓ اَنَّہ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ اِنَّ اِبْرٰہِیْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیْمٌ۔ } … اس نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں، اس کے بعد کہ ان کے لیے صاف ظاہر ہوگیا کہ یقینا وہ جہنمی ہیں۔ اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا نہیں تھا مگر اس وعدہ کی وجہ سے جو اس نے اس سے کیا تھا، پھر جب اس کے لیے واضح ہوگیا کہ بے شک وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بے تعلق ہو گیا۔ بے شک ابراہیم یقینا بہت نرم دل، بڑا بردبار تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8625]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 3101، والنسائي: 4/ 91، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1085 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1085»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8626
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ فَقَالَ أَيْ عَمِّ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَلِمَةً أُحَاجُّ بِهَا لَكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ فَلَمْ يَزَالَا يُكَلِّمَانِهِ حَتَّى قَالَ آخِرَ شَيْءٍ كَلَّمَهُمْ بِهِ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ فَنَزَلَتْ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ [سورة التوبة: ١١٣] قَالَ فَنَزَلَتْ فِيهِ إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ [سورة القصص: ٥٦]
۔ مسیب سے روایت ہے کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس داخل ہوئے، جبکہ اس کے پاس ابو جہل اور عبداللہ بن امیہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے چچا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، یہ ایسا کلمہ ہے کہ میں اس کے ذریعہ آپ کے حق میں اللہ تعالیٰ کے ہاں بحث مباحثہ کروں گا۔ ابو جہل اور عبداللہ بن امیہ نے کہا: اے ابو طالب! کیا عبدالمطلب کے دین سے روگردانی کر جاؤ گے، وہ یہی بات دوہراتے رہے اور ورغلاتے رہے حتیٰ کہ ابو طالب کی آخری بات یہ تھی کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر (مر رہا) ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تیرے لیے استغفار کرتا رہوں گا تا وقتیکہ مجھے منع کر دیا جائے، پس یہ آیت نازل ہوئی: {مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوْٓا اُولِیْ قُرْبٰی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۔} … اس نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں، اس کے بعد کہ ان کے لیے صاف ظاہر ہوگیا کہ یقینا وہ جہنمی ہیں۔ اور یہ آیت بھی نازل ہوئی: {اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَائُ وَہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ۔} … بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو پسند کرے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8626]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3884، 4675، ومسلم: 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23674 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24074»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: اس پر مفسرین کا اتفاق ہے کہ {اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ … } والی آیت ابوطالب کے بارے میںنازل ہوئی۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہدایت صرف اللہ کے اختیار میں ہے اور کسی کا ہدایت قبول کرنا یا نہ کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبضے کی چیز نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تو صرف اللہ تعالی کا پیغام پہنچادینے کا فریضہ ہے، ہدایت کا مالک اللہ تعالی ہے، وہ اپنی حکمت کے ساتھ جسے چاہے قبولِ ہدایت کی توفیق بخشتا ہے۔ جیسے ارشادِ باری تعالی ہے: {لَیْسَ عَلَیْکَ ھُدٰھُمْ} … تیرے ذمہ ان کی ہدایت نہیں ہے۔ نیز ارشادِ باری تعالی ہے: {وَمَآ اَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ} … گو تو ہر چند طمع کرے لیکن ان میں سے اکثر ایماندار نہیں ہیں۔ یہ اللہ کے علم میں ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے اور ضلالت کا حقدار کون ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: «لَقَدْ تَابَ اللهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ» ‏‏‏‏
{لَقَدْ تَابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ فِی سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8627
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَيْرِهَا قَطُّ إِلَّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ تَخَلَّفْتُ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ وَلَمْ يُعَاتِبْ أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْهَا إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عِيرَ قُرَيْشٍ حَتَّى جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهِمْ عَلَى غَيْرِ مِيعَادٍ وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِينَ تَوَاثَقْنَا عَلَى الْإِسْلَامِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ وَإِنْ كَانَتْ بَدْرٌ أَذْكَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا وَأَشْهَرَ وَكَانَ مِنْ خَبَرِي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ أَنِّي لَمْ أَكُنْ قَطُّ أَقْوَى وَلَا أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْهُ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ وَاللَّهِ مَا جَمَعْتُ قَبْلَهَا رَاحِلَتَيْنِ قَطُّ حَتَّى جَمَعْتُهَا فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُرِيدُ غَزَاةً يَغْزُوهَا إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَتَّى كَانَتْ تِلْكَ الْغَزَاةُ فَغَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا وَاسْتَقْبَلَ عَدُوًّا كَثِيرًا فَجَلَّى لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ عَد
۔ عبد الرحمن بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عبداللہ بن کعب، جو اپنے باپ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو جانے کی وجہ سے ان کے قائد تھے، وہ کہتے ہیں: سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنا واقعہ بیان کیا جب وہ غزوئہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔ انھوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تمام لڑائیوں میں شریک ہوا تھا، ما سوائے تبوک اور بدرکے، میں ان میں پیچھے رہ گیا تھا، مگر بدر میں پیچھے رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا عتاب نہیں ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس جنگ میں غرض یہ تھی کہ قافلہ قریش کا تعاقب کیا جائے، دشمنوں کو اللہ تعالیٰ نے اچانک حائل کردیا اور جنگ ہوگئی، میں عقبہ والی رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے اسلام پر قائم رہنے کا عہد لیا تھااور مجھے تو عقبہ والی وہ رات غزوۂ بدر کے مقابلہ میں عزیز ہے، اگرچہ جنگ بدر کو لوگوں میں زیادہ شہرت اور فضیلت حاصل ہے اور جنگ تبوک کا واقعہ یہ ہے کہ اس جنگ سے پہلے کبھی بھی میرے پاس دو سواریاں جمع نہیں ہوئی تھیں، اس غزوہ کے وقت میں دو سواریوں کا مالک تھا، اس کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ دستور تھا کہ جب کہیں جنگ کا خیال کرتے تو صاف صاف پتہ نشان اور جگہ نہیں بتاتے تھے، بلکہ کچھ گول مول الفاظ میں بات ظاہر کرتے تھے تاکہ لوگ دوسرا مقام سمجھتے رہیں، غرض جب لڑائی کا وقت آیا تو گرمی بہت شدید تھی، راستہ طویل تھا اور بے آب و گیاہ تھا، دشمن کی تعداد زیادہ تھی، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو پورے طور پر آگاہ کردیا کہ ہم تبوک جا رہے ہیں تاکہ تیاری کرلیں، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کثیر تعداد میں مسلمان موجود تھے، مگر کوئی ایسی کتاب وغیرہ نہیں تھی کہ اس میں سب کے نام لکھے ہوئے ہوں، کوئی مسلمان ایسا نہیں تھا کہ جو اس لڑائی میں شریک ہونا نہ چاہتا ہو، مگر وہ یہ خیال کرتا تھا کہ کسی کی غیر حاضری نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس وقت تک معلوم نہیں ہو سکتی جب تک کہ وحی نہ آئے، غرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لڑائی کی تیاریاں شروع کردیں اور یہ وہ وقت تھا کہ میوہ پک رہا تھا اور سایہ میں بیٹھنا اچھا معلوم ہوتا تھا، سب تیاریاں کر رہے تھے، مگر میں ہر صبح کو یہی سوچتا تھا کہ میں تیاری کرلوں گا، کیا جلدی ہے، میں تو ہر وقت تیاری کر سکتا ہوں، اسی طرح دن گزرتے رہے، ایک روز صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہو گئے، میں نے سوچا ان کو جانے دو، میں ایک دو دن میں تیاری کرکے راستہ میں ان میں شامل ہو جاؤں گا، دوسری صبح کو میں نے تیاری کرنا چاہی، مگر نہ ہو سکی اور میں یوں ہی رہ گیا تیسرے روز بھی یہی ہوا اور پھر برابر میرایہی حال ہوتا رہا، اب سب لوگ بہت دور نکل چکے تھے، میں نے کئی مرتبہ قصد کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملوں، مگر تقدیر میں نہ تھا، کاش! میں ایسا کرلیتا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلے جانے کے بعد میں جب مدینہ میں چلتا پھرتا تو مجھ کو یا تو منافق نظر آتے یا وہ جو کمزور ضعیف اور بیمار تھے، مجھے بہت افسوس ہوتا تھا، (جب میں نے بعد میں معلومات لی تھیں تو ان سے پتہ چلا تھا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستے میں مجھے کہیں بھی یاد نہیں کیا تھا، البتہ تبوک پہنچ کر جب سب لوگوں میں تشریف فرما ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کعب بن مالک کہاں ہے؟ بنو سلمہ کے ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو اپنے حسن و جمال پر ناز کرنے کی وجہ سے رہ گئے ہیں، لیکن سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے اچھی بات نہیں کی، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! ہم تو انہیں اچھا آدمی ہی سمجھتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر خاموش ہوگئے، جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آ رہے ہیں تو میں سوچنے لگا کہ کوئی ایسا حیلہ بہانہ ہاتھ آ جائے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصہ سے مجھے بچا سکے، پھر میں اپنے گھر کے سمجھدار لوگوں سے مشورہ کرنے لگا کہ اس سلسلہ میں کچھ تم بھی سوچو، مگر جب یہ بات معلوم ہوئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کے بالکل قریب آ گئے ہیں تو میرے دل سے اس حیلہ کا خیال دور ہوگیا اور میں نے یقین کرلیا کہ جھوٹ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصہ سے نہیں بچا سکے گا، صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں پہنچ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جب سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور دو رکعت نفل ادا فرماتے، اس بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا اور مسجد میں بیٹھ گئے، اب جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے آنا شروع کیا اور اپنے اپنے عذر بیان کرنے لگے اور قسمیں کھانے لگے یہ کل اسی (۸۰) افراد یا اس سے کچھ زیادہ تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ان کے عذر قبول کر لئے اور ان سے دوبارہ بیعت لی اور ان کے لئے دعائے مغفرت فرمائی اور ان کے دلوں کے خیالات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا۔ جب میں آیا تو السلام علیکم کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غصے والی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا اور فرمایا: آؤ۔ پس میں سامنے جا کر بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: کعب تم کیوں پیچھے رہ گئے تھے؟ حالانکہ تم نے تو سواری کا بھی انتظام کرلیا تھا؟ میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان درست ہے، میں اگر کسی اور کے سامنے ہوتا تو ممکن تھا کہ بہانے وغیرہ کر کے اس سے نجات پا جاتا، کیونکہ میں خوب بول سکتا ہوں، مگر اللہ گواہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ اگر آج میں نے جھوٹ بول کر آپ کو راضی کرلیا تو کل اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کردے گا، اس لئے میں سچ ہی بولوں گا، چاہے آپ مجھ پر غصہ ہی کیوں نہ فرمائیں، آئندہ کو تو اللہ کی مغفرت اور بخشش کی امید رہے گی، اللہ کی قسم! میں قصور وار ہوں، حالانکہ مال و دولت میں کوئی بھی میرے برابر نہیں ہے، مگر میں یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی شریک نہ ہو سکا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا۔ کعب نے درست بات بیان کردی، اچھا چلے جاؤ اور اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرو۔ میں اٹھ کر چلا گیا، بنی سلمہ کے آدمی بھی میرے ساتھ ہو لئے اور کہنے لگے: ہم نے تو اب تک تمہارا کوئی گناہ نہیں دیکھا، تم نے بھی دوسرے لوگوں کی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کوئی بہانہ پیش کردیا ہوتا، حضور کی دعائے مغفرت تیرے کے لئے کافی ہو جاتی، وہ مجھے برابر یہی سمجھاتے رہے، یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خیال آنے لگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس چلا جاؤں اور پہلے والی بات کو غلط ثابت کرکے کوئی بہانہ پیش کردوں، پھر میں نے ان سے پوچھا کہ کیا کوئی اور شخص بھی ہے، جس نے میری طرح اپنے گناہ کا اعتراف کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں دو آدمی اور بھی ہیں، جنہوں نے اقرار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے بھی وہی کچھ فرمایا ہے جو تم سے ارشاد فرمایا ہے، میں نے ان کے نام پوچھے تو انھوں نے کہاؒایک مرارہ بن ربیع عامری اور دوسرے ہلال بن امیہ واقفی ہیں،یہ دونوں نیک آدمی تھے اور جنگ بدر میں شریک ہو چکے تھے، مجھے ان سے ملنا اچھا معلوم ہوتا تھا، ان دو آدمیوں کا نام سن کر مجھے بھی اطمینان سا ہوگیا اور میں چلا گیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام مسلمانوں کو منع فرمادیا تھا کہ کوئی شخص ان تین آدمیوں سے کلام نہ کرے، دوسرے پیچھے رہ جانے والے اور جھوٹے بہانے کرنے والوں کے لئے یہ حکم نہیں دیا تھا، اب ہوا کیا کہ لوگوں نے ہم سے الگ رہنا شروع کردیا اور ہم ایسے ہو گئے، جیسے ہمیں کوئی جانتا ہی نہیں ہے، بس گویا ہمارے لیے زمین تبدیل ہو گئی ہے، پچاس راتیں اسی حال میں گزر گئیں، میرے دونوں ساتھی تو گھر میں بیٹھ گئے، میں ہمت والا تھا، نکلتا، باجماعت نماز میں شریک ہوتا، بازار وغیرہ جاتا، مگر کوئی میرےساتھ بات نہیں کرتا تھا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھی آتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جائے نماز پر جلوہ افروز ہوتے، میں سلام کہتا اور مجھے ایسا شبہ ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہونٹ ہل رہے ہیں، شاید سلام کا جواب دے رہے ہیں، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہی نماز پڑھنے لگتا، اور آنکھ چرا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی دیکھتا رہتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دوران کیا کرتے ہیں، چنانچہ میں جب نماز میں ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے دیکھتے رہتے اور جب میری نظر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے اعراض کر لیتے، اس حال میں یہ مدت گزر گئی اور میں لوگوں کی خاموشی سے عاجز آ گیا، ایک دن اپنے چچا زاد بھائی سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس باغ میں آیا اور سلام کہا اور اس سے مجھے بہت محبت تھی، مگر اللہ کی قسم! اس نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا، میں نے کہا: اے ابوقتادہ! تو مجھے اللہ اور اس کے رسول کا طرفدار جانتا ہے یا نہیں؟ اس نے اس سوال کا جواب بھی نہیں دیا، پھر میں نے قسم کھا کر یہی بات کہی مگر جواب ندارد، میں نے تیسری مرتبہ یہی کہا تو ابوقتادہ نے صرف اتنا جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، پھر مجھ سے ضبط نہ ہو سکا، میں نے رونا شروع کر دیا اور واپس چل دیا، میں ایک دن بازار میں جا رہا تھا کہ ایک نصرانی کسان، جو ملک شام کا رہنے والا تھا اور اناج فروخت کرنے آیا تھا، وہ لوگوں سے میرا پتہ معلوم کر رہا تھا، لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا کہ یہ کعب بن مالک ہے، وہ میرے پاس آیا اور غسان کے نصرانی بادشاہ کا ایک خط مجھے دیا، اس میں لکھا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے رسول تم پر بہت زیادتی کر رہے ہیں، حالانکہ اللہ نے تم کو ذلیل اور بے عزت نہیں بنایا ہے، تم بہت کام کے آدمی ہو، تم میرے پاس آجاؤ، ہم تم کو بہت آرام سے رکھیں گے۔ میں نے سوچا کہ یہ تو دوہری آزمائش ہے اور پھر اس خط کو آگ کے تنور میں ڈال دیا، ابھی تک چالیس دن گزرے تھے،دس باقی تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قاصد سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے آکر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے الگ ہو جاؤ، میں نے کہا: کیا مطلب ہے؟ طلاق دے دوں یا کچھ اور؟ انھوں نے کہا: بس الگ رہو اور مباشرت وغیرہ مت کرو، میرے دونوں ساتھیوں کو بھی یہی حکم دیا گیا، پس میں نے بیوی سے کہا کہ تم اس وقت تک اپنے رشتہ داروں میں جا کر رہو، جب تک اللہ تعالیٰ میرا فیصلہ نہ فرما دے۔ اُدھر سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول!ہلال بن امیہ میرا خاوند بہت بوڑھا ہے، اگر میں اس کا کام کردیا کروں تو کوئی برائی تو نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں، بس وہ صحبت نہ کرنے پائے، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس میں تو ایسی خواہش ہی نہیں ہے اور جب سے یہ بات ہوئی ہے، وہ مسلسل رو رہا ہے، جب اس کے بارے میں یہ بات سامنے آئی تو میرے عزیزوں نے مجھ سے کہا: تم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر اپنی بیوی کے بارے میں ایسی ہی اجازت حاصل کرلو، تاکہ وہ تمہاری خدمت کرتی رہے، جس طرح سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کی بیوی کو اجازت مل گئی ہے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں کبھی بھی ایسا نہیں کر سکتا، معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا فرمائیں گے، میں نوجوان آدمی ہوں، ہلال کی مانند ضعیف نہیں ہوں، اس کے بعد وہ دس راتیں بھی گزر گئیں اور میں پچاسویں رات کو صبح کی نماز کے بعد اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا تھا اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور زمین میرے لئے باوجود اپنی وسعت کے تنگ ہو چکی ہے، اتنے میں کوہ سلع پر سے کسی پکارنے والے نے پکار کر کہا: اے کعب بن مالک! تم کو بشارت دی جاتی ہے۔ یہ آواز کے سنتے ہی میں خوشی سے سجدہ میں گر پڑا اور یقین کرلیا کہ اب یہ مشکل آسان ہوگئی، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر کے بعد لوگوں سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کا قصور معاف کردیا ہے۔ اب تو لوگ میرے پاس اور میرے ان ساتھیوں کے پاس خوشخبری اور مبارکباد کے لئے جانے لگے اور ایک آدمی زبیر بن عوام اپنے گھوڑے کو بھگاتے میرے پاس آیا اور ایک دوسرا بنو سلمہ کے آدمی نے سلع پہاڑ پر چڑھ کر آواز دی، اس کی آواز جلدی میرے کانوں تک پہنچ گئی، اس وقت میں اس قدر خوش ہوا کہ اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کو دے دیئے، جبکہ میرے پاس ان کے سوائی کوئی دوسرے کپڑے نہیں تھے، میں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے دو کپڑے لے کر زیب ِ تن کیے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جانے لگا، راستہ میں لوگوں کا ایک ہجوم تھا، وہ مجھے مبارکباد دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ انعام تمہیں مبارک ہو۔ پھر جب میں مسجد میں گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے اور دوسرے لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے، طلحہ بن عبیداللہ مجھے دیکھ کر دوڑے، میرے ساتھ مصافحہ کیا اورمبارک باد دی، مہاجرین میں سے یہ کام صرف طلحہ رضی اللہ عنہ نے کیا، اللہ گواہ ہے کہ میں ان کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا، پھر جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے کعب!یہ دن تمہیں مبارک ہو، جو سب ان دنوں سے اچھا ہے، جو تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک ہیں۔ میں نے عرض کیا: حضور! یہ معافی اللہ تعالیٰ کیطرف سے ہوئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے معاف کیا گیا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب خوش ہوتے تھے تو چہرہ مبارک چاند کی طرح چمکنے لگتا تھا اور ہم آپ کی خوشی کو پہچان جاتے تھے، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ کر کہا: اے اللہ کے رسول!میں اپنی اس نجات اور معافی کے شکریہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کے لئے خیرات نہ کردوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تھوڑا کرو اور کچھ اپنے لئے رکھ لو، کیونکہ یہ تمہارے لئے فائدہ مند ہو گا۔ میں نے عرض کیا: جی ٹھیک ہے، میں اپنا خیبر کا حصہ روک لیتا ہوں، پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے سچ بولنے کی وجہ سے نجات پائی ہے، اب میں تمام زندگی سچ ہی بولوں گا، اللہ کی قسم! میں نہیں کہہ سکتا کہ سچ بولنے کی وجہ سے اللہ نے کسی پر ایسی مہربانی فرمائی ہو، جو مجھ پر کی ہے، اس وقت سے آج تلک میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور میں امید کرتا ہوں کہ زندگی بھر اللہ مجھے جھوٹ سے بچائے گا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی: {لَقَدْ تَابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہَاجِرِینَ وَالْأَ نْصَارِ الَّذِینَ اتَّبَعُوہُ فِی سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِنْ بَعْدِ مَا کَادَیَزِیغُ قُلُوبُ فَرِیقٍ مِنْہُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ إِنَّہُ بِہِمْ رَئُ وْفٌ رَحِیمٌ۔ وَعَلَی الثَّلَاثَۃِ الَّذِینَ خُلِّفُوا حَتّٰی إِذَا ضَاقَتْ عَلَیْہِمْ الْأَ رْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْہِمْ أَنْفُسُہُمْ وَظَنُّوا أَ نْ لَا مَلْجَأَ مِنَ اللّٰہِ إِلَّا إِلَیْہِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ لِیَتُوبُوْا إِنَّ اللّٰہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ۔ یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِینَ} … بلاشبہ یقینا اللہ نے نبی پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی اور مہاجرین و انصار پر بھی، جو تنگ دستی کی گھڑی میں اس کے ساتھ رہے، اس کے بعد کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل ٹیڑھے ہو جائیں، پھر وہ ان پر دوبارہ مہربان ہوگیا۔ یقینا وہ ان پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اور ان تینوں پر بھی جو موقوف رکھے گئے، یہاں تک کہ جب زمین ان پر تنگ ہوگئی، باوجود اس کے کہ فراخ تھی اور ان پر ان کی جانیں تنگ ہوگئیں اور انھوں نے یقین کر لیا کہ بے شک اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ اس کی جناب کے سوا نہیں، پھر اس نے ان پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی، تاکہ وہ توبہ کریں۔ یقینا اللہ ہی ہے جو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ (سورۂ توبہ: ۱۱۷۔ ۱۱۹) سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس سے بڑھ کر میں نے کوئی انعام اور احسان نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے مجھے سچ بولنے کی توفیق دے کر ہلاک ہونے سے بچا لیا، ورنہ ان لوگوں کی طرح میں بھی تباہ اور ہلاک ہوجاتا، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جھوٹ بولا، جھوٹے حلف اٹھائے، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {سَیَحْلِفُونَ بِاللّٰہِ لَکُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَیْہِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْہُمْ فَأَ عْرِضُوا عَنْہُمْ إِنَّہُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاہُمْ جَہَنَّمُ جَزَائً بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُونَ۔ یَحْلِفُونَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْہُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْہُمْ، فَإِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ۔} … عنقریب وہ تمھارے لیے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے، تاکہ تم ان سے توجہ ہٹا لو۔ سو ان سے بے توجہی کرو، بے شک وہ گندے ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اس کے بدلے جو وہ کماتے رہے ہیں۔تمھارے لیے قسمیں کھائیں گے، تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ، پس اگر تم ان سے راضی ہو جاؤ تو بے شک اللہ نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔ (سورۂ توبہ: ۹۵،۹۶) سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم تینوں ان منافقوں سے علیحدہ ہیں، جنہوں نے نہ جانے کتنے بہانے بنائے اور جھوٹے حلف اٹھائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بات کو قبول کرلیا اور ان سے بیعت لے لی اور ان کے لیے دعائے مغفرت فرما دی، مگر ہمارا معاملہ چھوڑ ے رکھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَّعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا حَتّٰی اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْہِمْ اَنْفُسُھُمْ وَظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّآ اِلَیْہِ ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ لِیَتُوْبُوْا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ }… اور ان تینوں پر بھی جو موقوف رکھے گئے، یہاں تک کہ جب زمین ان پر تنگ ہوگئی، باوجود اس کے کہ فراخ تھی اور ان پر ان کی جانیں تنگ ہوگئیں اور انھوں نے یقین کر لیا کہ بے شک اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ اس کی جناب کے سوا نہیں، پھر اس نے ان پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی، تاکہ وہ توبہ کریں۔ یقینا اللہ ہی ہے جو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ (سورۂ توبہ: ۱۱۸) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہم کو پیچھے کرنا اور ہمارے معاملے کو مؤخر کرنا، جس کا ذکر کیا گیا ہے، یہ ہمارا غزوے سے پیچھے رہ جانا نہیں تھا، بلکہ یہ تو ان لوگوں سے پیچھے اور الگ کرنا تھا، جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے حلف اٹھائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے عذر پیش کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے عذر قبول کر لیے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8627]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3889، 4676، 4677، 6690، ومسلم: 2769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15789 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ: «لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ» ‏‏‏‏
{لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ مِنْ اَنْفُسِکُمْ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8628
عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى الْحَارِثُ بْنُ خَزَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ بَرَاءَةَ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا قَالَ لَا أَدْرِي وَاللَّهِ إِلَّا أَنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوَعَيْتُهَا وَحَفِظْتُهَا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَتْ ثَلَاثَ آيَاتٍ لَجَعَلْتُهَا سُورَةً عَلَى حِدَةٍ فَانْظُرُوا سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ فَضَعُوهَا فِيهَا فَوَضَعْتُهَا فِي آخِرِ بَرَاءَةَ
۔ عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حارث بن خزمہ، سورۂ توبہ کی یہ آخری دو آیتیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لائے، انہوں نے کہا: ان پر تمہارے ساتھ گواہ کون گواہ ہے؟ انہوں نے کہا: جی اللہ کی قسم! مجھے پتہ نہیں ہے، ہاں میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ آیات سنی تھیں اور میں نے ان کو یاد کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھیں، اگر یہ تین آیاتہوتیں تو میں ان کو علیحدہ سورت بنا دیتا، اب تم دیکھو کہ کون سی سورت ان آیات کے لیے زیادہ مناسب ہے، پس اس میں ان کو لکھ دو، پس میں نے ان کو سورۂ توبہ کے آخر میں لکھ دیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8628]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لتدليس محمد بن اسحق، ولانقطاعه، قال الشيخ احمد شاكر: عباد بن عبد الله لم يدرك قصة جمع القرآن، بل ما اظنه ادرك الحارث بن خزمة، ولئن ادركه لما كان ذالك مصححا للحديث، اذ لم يروِه عنه، بل ارسل القصة ارسالا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1715»
وضاحت: فوائد: … یہ دو آیاتیہ ہیں: {لَقَدْ جَاء َکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَء ُوْفٌ رَّحِیْمٌ۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۔} (سورۂ توبہ: ۱۲۸، ۱۲۹)
بلاشہیقینا تمھارے پاس تمھی سے ایک رسول آیا ہے، اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو، تم پر بہت حرص رکھنے والا ہے، مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسا کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔
مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ اپنا احسان عظیمیاد دلا رہا ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے خود انہیں میں سے ان کی ہی زبان میں اپنا رسول بھیجا،پھر اتنے نرم دل کہ امت کی تکلیفوں سے خود کانپ اٹھیں۔ آسانی، نرمی اور سادگی والا دین لے کر آئے ہیں، جو بہت آسان ہے، سہل ہے، کامل ہے اور اعلیٰ اور عمدہ ہے، وہ تمہاری ہدایت کے متمنی ہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8629
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ أُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ الْآيَةُ [سورة التوبة: ١٢٨]
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: سب سے آخر میں نازل ہونی والی آیت یہ تھی: {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَ نْفُسِکُمْ}۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8629]
تخریج الحدیث: «اثر حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 533، والحاكم: 2/ 338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21430»
وضاحت: فوائد: … کون سی آیات سب سے آخر میں نازل ہوئیں؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۴۴۷) کے فوائد۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ «لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ»
سورہ یونس {لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8630
عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ نُودُوا يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ إِنَّ لَكُمْ مَوْعِدًا عِنْدَ اللَّهِ لَمْ تَرَوْهُ فَقَالُوا وَمَا هُوَ أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا وَتُزَحْزِحْنَا عَنِ النَّارِ وَتُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ قَالَ فَيُكْشَفُ الْحِجَابُ فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمُ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْهُ ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ [سورة يونس: ٢٦]
۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب جنت والے جنت میں داخل ہوجائیں گے تو انہیں آواز دی جائے گی: اے جنت والو! اللہ تعالیٰ نے تم سے ایک وعدہ فرمایا تھا، جو ابھی تک پورا نہیں ہوا، وہ حیران ہو کر کہیں گے:وہ کیا وعدہ ہے، اے اللہ! کیا تو نے ہمارے چہرے سفید نہیں کئے، کیا ہمیں دوزخ سے نہیں بچایا ہے اور کیا ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا (ابھی تک کون سی چیز باقی ہے)؟ اتنے میں پردہ ہٹ جائے گا اور جنتی اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھنا شروع کر دیں گے۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے ان کو کوئی ایسی چیز عطا نہیں کی ہو گی، جو اس دیدار سے پیاری اور محبوب ہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {لِلَّذِینَ أَ حْسَنُوْا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ} … جن لوگوں نے نیکی کی، انہیں اس کا صلہ ملے گا اورمزید بھی دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8630]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 181، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18935 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19143»
وضاحت: فوائد: … آیت ِ مبارکہ میں زِیَادَۃٌ سے مراد اللہ تعالی کا دیدار ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ: «لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخرة»
{لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8631
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: 64] فَقَالَ لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي أَوْ أَحَدٌ قَبْلَكَ قَالَ تِلْكَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَوْ تُرَى لَهُ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے: {لَہُمْ الْبُشْرَی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ} … ایسے لوگوں کے لیے دنیوی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ میری امت سے کسی نے یہ سوال نہیں کیا، اس سے مراد نیک خواب ہے، جو نیک بندہ دیکھتا ہے یا اس کے لیے کسی کو دکھایا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8631]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 3898، والترمذي: 2275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23064»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالی اپنے اولیاء کا تعارف کرواتے ہوئے کہتے ہیں: {اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَاء َ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ۔ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ۔ لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔} (سورۂ یونس: ۶۲۔۶۳)
سن لو! بے شک اللہ کے دوست، ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور بچا کرتے تھے۔ انھی کے لیے دنیا کی زندگی میں خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی باتوں کے لیے کوئی تبدیلی نہیں،یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
اللہ تعالی کے اولیاء وہ ہیں، جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہو، جن کا ظاہر تقوٰی اور پرہیزگاری میں ڈوبا ہوا ہو، جتنا تقوٰی ہوگا، اتنی ہی ولایت ہوگی، ایسے لوگ بروز قیامت بے خوف ہوں گے، غم و رنج سے ناآشنا ہوں گے، دنیا میں جو چھوٹ جائے اس پر انہیں حسرت و افسوس نہیں ہو گا۔ ایسے لوگوں کی خوشی اور بشارت کا ایک سبب دنیا میں آنے والا نیک خواب بھی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8632
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ مَا تَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: 64] قَالَ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ شَيْءٍ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا سَأَلَ عَنْهُ بَعْدَ رَجُلٍ سَأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُشْرَاهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ وَبُشْرَاهُمْ فِي الْآخِرَةِ الْجَنَّةُ
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور اس نے کہا: تم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں کیا کہتے ہو: {لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ} … ایسے لوگوں کے لیے دنیوی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے۔ انھوں نے کہا: تو نے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ میں نے اس آدمی کے بعد کسی کو یہ سوال کرتے ہوئے نہیں سنا، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: دنیوی زندگی میں ایسے لوگوں کی خوشخبری نیک خواب ہے، جو مسلمان دیکھتا ہے، یا اس کے لیے کسی کو دکھایا جاتا ہے، اور آخرت میں ان کی خوشخبری جنت ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8632]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27526 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28076»
وضاحت: فوائد: … سابق حدیث کے فوائد ملاحظہ ہوں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ: «قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ»
{قَالَ آمَنْتُ اَنَّہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْ آمَنَتْ بِہٖبَنُوْاِسْرَائِیْلُ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8633
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَالَ فِرْعَوْنُ {آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ} [يونس: 90] قَالَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ يَا مُحَمَّدُ لَوْ رَأَيْتَنِي وَقَدْ أَخَذْتُ حَالًا مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَدَسَسْتُهُ فِي فِيهِ مَخَافَةَ أَنْ تَنَالَهُ الرَّحْمَةُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب فرعون نے کہا: {آمَنْتُ أَ نَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا الَّذِی آمَنَتْ بِہِ بَنُو إِسْرَائِیلَ} … میں ایمان لایا ہوں کہ وہی معبود برحق ہے، جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ تو جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: اے محمد! کاش آپ مجھے اس وقت دیکھتے جب میں سمندر کی کالی مٹی لے کر فرعون کے منہ میں ٹھونس رہا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں (اللہ کی) رحمت اس کو پا نہ لے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8633]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواهد، قاله الالباني۔ أخرجه الترمذي: 3107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2820»
وضاحت: فوائد: … برے لوگوں کا انجام بھی برا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کا اصل قانون یہ ہے کہ جو آدمی جس انداز میں زندگی گزارتا ہے، اسی انداز میں اس کو موت آتی ہے۔ سجدوں میں ان لوگوں کی روحیں پرواز کر گئیں جو اپنے زندگی میں کثرت سے سجدے کرنے کے عادی تھے اور برائی کی حالت میں ان لوگوں کو موت کا پیغام قبول کرنا پڑا جو برائیوں کے دلدادہ تھے۔ فرعون کی زندگی بغاوت اور سرکشی کی سنگین مثالوں سے بھری ہوئی تھی،اس لیے اسی کے مطابق ہی اس کاخاتمہ ہونا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں