🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ سَبَبٍ عَدْمٍ وُجُودِ الْبَسْمَلَةِ فِي أَوَّلِهَا
سورۂ توبہ اس سورت کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ کے نہ لکھنے کی وجہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8614
عَنْ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا حَمَلَكُمْ عَلَى أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى الْأَنْفَالِ وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِي وَإِلَى بَرَاءَةٍ وَهِيَ مِنَ الْمِئِينَ فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا وَلَمْ تَكْتُبُوا قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْنَهُمَا سَطْرًا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَوَضَعْتُمُوهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ مَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِمَّا يَأْتِي عَلَيْهِ الزَّمَانُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ مِنَ السُّوَرِ ذَوَاتِ الْعَدَدِ وَكَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الشَّيْءُ يَدْعُو بَعْضَ مَنْ يَكْتُبُ عِنْدَهُ يَقُولُ ضَعُوا هَذَا فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا وَيُنْزَلُ عَلَيْهِ الْآيَاتُ فَيَقُولُ ضَعُوا هَذِهِ الْآيَاتِ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا وَيُنْزَلُ عَلَيْهِ الْآيَةُ فَيَقُولُ ضَعُوا هَذِهِ الْآيَةَ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا وَكَانَتِ الْأَنْفَالُ مِنْ أَوَائِلِ مَا أُنْزِلَ بِالْمَدِينَةِ وَبَرَاءَةٌ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ فَكَانَتْ قِصَّتُهَا شَبِيهًا بِقِصَّتِهَا فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا وَظَنَنْتُ أَنَّهَا مِنْهَا فَمِنْ ثَمَّ قَرَنْتُ بَيْنَهُمَا وَلَمْ أَكْتُبْ بَيْنَهُمَا سَطْرًا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَوَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اس پرکیوں آمادہ ہوئے کہ سورۂ انفال جو کہ مَثَانِی سورتوں میں سے ہے اور سورۂ توبہ، جو کہ مِئِیْن سورتوں میں سے ہے، تم نے ان دونوں کو آپس میں ملا دیا اور ان کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم کی سطر بھی نہیں لکھی اور تم نے اس کو سات لمبی سورتوں میں شامل کر دیا، کیا وجہ ہے؟سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: بسا اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ کافی عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہی نہ ہوتی اور کبھی کبھار ایسا ہوتا کہ کئی سورتیں نازل ہو جاتیں، بہرحال جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول ہوتا تو کاتب کو بلاتے اور اس سے فرماتے: یہ آیات اس سورت میں لکھو،جس میں ایسے ایسے امور کا ذکر موجود ہے، اگر پھر کوئی آیت اترتی تو پھر فرماتے: یہ آیت اس سورت میں لکھ دو، جس میں ایسا ایسا ذکر کیا گیا ہے۔ اب سورۂ انفال وہ سورت ہے، جو مدینہ میں شروع شروع میں نازل ہوئی اور سورۂ توبہ قرآن مجید کی آخر میں نازل ہونے والی سورت ہے،جبکہ ان کا واقعہ آپس میں ملتا جلتا ہے، اور اُدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے سامنے (ان دو سورتوں کے) بارے میں وضاحت نہیں فرمائی تھی، اس لیے میں نے خیال کیا کہ سورۂ انفال، سورۂ توبہ کا حصہ ہے، اس لئے میں نے دونوں کو آپس میں ملا دیا اور درمیان میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کی سطر نہیں لکھی اور اس کو سات لمبی سورتوں میں رکھ دیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8614]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ومتنه منكر،يزيد الفارسي في عداد المجھولين، وقال الحافظ في التقريب: مقبول۔ أخرجه ابوداود: 786، 787، والترمذي: 3086، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 399 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 399»
وضاحت: فوائد: … سورۂ توبہ قرآن مجید کی واحد سورت ہے، جس کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ نہیں لکھی گئی، اس کی متعدد وجوہات کتب ِ تفاسیر میں بیان کی گئی ہیں، لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ سورۂ انفال اور سورۂ توبہ کے مضامین میں بڑی حد تک یکسانیت پائی جاتی ہے اور گویایہ سورت، سورۂ انفال کا تتمہ اور بقیہ ہے اور یہ سات بڑی سورتوںمیں سے ساتویں بڑی سورت ہے، جنہیں سبع طوال کہا جاتا ہے۔
قرآن کریم کی سورتیں چار قسم کی ہیں:
(۱) طِوَال: سات ہیں، بقرہ، آل عمران، نسائ، مائدہ، انعام، اعراف اور انفال اور براء ت(سورۂ انفال اور سورۂ براء ت) کو ایک شمار کیا گیا ہے۔
(۲) المِئِیْنَ: جن سورتوں کی آیات (۱۰۰) سے زائد یا اس کے قریب ہیں۔
(۳) الْمَثَانِی: وہ سورتیں جو تعداد میں مئین کے بعد آتی ہیں، ان کو مثانی اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کو طوال اور مئین کی بہ نسبت بار بار پڑھا جاتا ہے۔
(۴) المُفصَّل: ان کی ابتداء سورۂ ق یا سورۂ حجرات سے ہوتی ہے، یہ مزید تین حصوں میں تقسیم کی جاتی ہیں:
طِوال مُفصَّل: سورۂ ق یا سورۂ حجرات سے لے کر سورۂ نباء یا سورۂ بروج تک۔
اَوْسَاط مُفصَّل: سورہ نباء یا سورۂ بروج سے لے کر سورۂ ضحییا سورۂ بینہ تک۔
قِصَار مُفصَّل: سورۂ ضحییا سورۂ بینہ سے آخرِ قرآن تک۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8615
عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ بِبَرَاءَةٍ لِأَهْلِ مَكَّةَ لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُدَّةٌ فَأَجَلُهُ إِلَى مُدَّتِهِ وَاللَّهُ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ قَالَ فَسَارَ بِهَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْحَقْهُ فَرُدَّ عَلَيَّ أَبَا بَكْرٍ وَبَلِّغْهَا أَنْتَ قَالَ فَفَعَلَ قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ بَكَى قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدَثَ فِيَّ شَيْءٌ قَالَ مَا حَدَثَ فِيكَ إِلَّا خَيْرٌ أُمِرْتُ أَنْ لَا يُبَلِّغَهَا إِلَّا أَنَا أَوْ رَجُلٌ مِنِّي
۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں امیر حج بنا کر بھیجا اوراہل مکہ سے اس براء ت کا اعلان کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی تھی کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرسکے گا، کوئی آدمی برہنہ ہو کر طواف نہیں کرے گا، جنت میں صرف وہی شخص داخل ہو گا، جو مسلمان ہو گا، جس شخص کا پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی خاص مدت تک کوئی معاہدہ پہلے سے ہوا ہو، وہ اپنی مدت کے اختتام تک برقرار رہے گا اور یہ کہ اللہ اور اس کا پیغمبر مشرکین سے بری ہیں۔ جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اس پیغام کو لے کر روانہ ہوگئے اور تین دن کی مسافت طے کرچکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ابوبکر کو پیچھے سے جا ملو، انہیں میری طرف واپس کر دو اور یہ اعلان تم نے کرنا ہے۔ سو انھوں نے ایسے ہی کیا، لیکن جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ واپس آئے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول!کیا میرے بارے میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے کہ (مجھے واپس بلا لیا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بارے صرف خیر ہی پیش آسکتی ہے، اصل بات یہ ہے کہ یہ پیغام خود مجھے پہنچانا چاہیےیا میرے خاندان کے کسی آدمی کو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8615]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، زيد بن يُثيع في عداد المجھولين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا محفوظ متن حدیث نمبر (۸۶۱۸)میں آ رہا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8616
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ عَشْرُ آيَاتٍ مِنْ بَرَاءَةٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَعَثَهُ بِهَا لِيَقْرَأَهَا عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ ثُمَّ دَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي أَدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَيْثُمَا لَحِقْتَهُ فَخُذِ الْكِتَابَ مِنْهُ فَاذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَاقْرَأْهُ عَلَيْهِمْ فَلَحِقْتُهُ بِالْجُحْفَةِ فَأَخَذْتُ الْكِتَابَ مِنْهُ وَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ قَالَ لَا وَلَكِنَّ جِبْرِيلَ جَاءَنِي فَقَالَ لَنْ يُؤَدِّيَ عَنْكَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ رَجُلٌ مِنْكَ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سورۂ براء ت کی دس آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کو یہ آیات دے کر بھیجا کہ وہ مکہ والوں کے سامنے ان کی تلاوت کریں، پھر مجھے (علی کو) کو بلایا اور فرمایا: ابو بکر کو جا ملو، جہاں بھی تم ان کو ملو، ان سے یہ پیغام لے لینا اور پھر اہل مکہ کے سامنے جا کر پڑھ دینا۔ پس میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حجفہ میں جا ملا اور ان سے خط لے لیا۔ پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹے تو پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، کوئی حکم نہیں ہے، بس جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا کہ پیغام یا تو آپ خود پہنچائیں یا آپ کے خاندان کا کوئی آدمی پہنچائے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8616]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف محمد بن جابر الحنفي، وحنش بن المعتمر الكناني ليس بالقوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1297»
وضاحت: فوائد: … اس اعلان کی درست صورت درج ذیل ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ((بَعَثَنِی أَ بُو بَکْرٍ فِی تِلْکَ الْحَجَّۃِ فِی مُؤَذِّنِینَیَوْمَ النَّحْرِ نُؤَذِّنُ بِمِنًی أَ نْ لَا یَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وَلَا یَطُوفَ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ قَالَ حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثُمَّ أَ رْدَفَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَلِیًّا فَأَ مَرَہُ أَ نْ یُؤَذِّنَ بِبَرَاء َۃ قَالَ أَ بُو ہُرَیْرَۃَ فَأَ ذَّنَ مَعَنَا عَلِیٌّ فِی أَ ہْل مِنًییَوْمَ النَّحْرِ لَا یَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وَلَا یَطُوفُ بِالْبَیْتِ عُرْیَان۔)) سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس حج میں نحر والے دن اعلان کرنے والوں میں بھیجا، سو ہم نے مِنٰی میں اعلان کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور کوئی آدمی ننگی حالت میں بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکتا۔ حمید بن عبد الرحمن نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان کو یہ حکم دیا کہ سورۂ براء ۃ والا اعلان کریں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پس انھوں نے بھی مِنٰی میں نحر والے دن ہمارے ساتھ اعلان کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گااور کوئی ننگا آدمی طواف نہیں کرے گا۔ (صحیح بخاری: ۴۶۵۵)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8617
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَهُ بِبَرَاءَةٍ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي لَسْتُ بِاللَّسِنِ وَلَا بِالْخَطِيبِ قَالَ مَا بُدٌّ أَنْ أَذْهَبَ بِهَا أَنَا أَوْ تَذْهَبَ بِهَا أَنْتَ قَالَ فَإِنْ كَانَ وَلَا بُدَّ فَسَأَذْهَبُ أَنَا قَالَ فَانْطَلِقْ فَإِنَّ اللَّهَ يُثَبِّتُ لِسَانَكَ وَيَهْدِي قَلْبَكَ قَالَ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَمِهِ
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سورۂ براء ت کا اعلان دے کر بھیجا تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نہ زیادہ زبان دان ہوں اور نہ ہی خطیب ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بغیر کوئی چارئہ کار نہیں ہے کہ میں خود جاؤں، یا پھر تم جاؤ۔ انھوں نے کہا: اگر کوئی چارۂ کار نہیں ہے تو پھر میں ہی چلا جاتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم چلے جاؤ،اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو ثابت قدم رکھے گا اور تمہارے دل کی رہنمائی کرے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے منہ پر رکھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8617]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1287»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8618
عَنْ زَيْدِ بْنِ أُثَيْعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلٍ مِنْ هَمْدَانَ سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ يَعْنِي يَوْمَ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْحَجَّةِ قَالَ بُعِثْتُ بِأَرْبَعٍ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ وَلَا يَحُجُّ الْمُشْرِكُونَ وَالْمُسْلِمُونَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا
۔ ہمدان کا باشندہ زید بن اثیع سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ان کو کس چیز کے ساتھ بھیجا گیا تھا، جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کے لیے بھیجا تھا؟ انھوں نے کہا: مجھے چار چیزوں کے ساتھ بھیجا گیا تھا:(۱) جنت میں صرف مومن آدمی داخل ہوگا، (۲) کوئی برہنہ آدمی بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا، (۳) جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی معاہدہ ہے،تو وہ عہد اپنی مدت تک قائم رہے گا اور (۴) اس سال کے بعد مشرک اور مسلمان ایک ساتھ حج نہیں کریں گے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8618]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 871، 872، 3092، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 594 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 594»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بابُ «أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجَ» ‏‏‏‏
{اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8619
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ إِلَى جَانِبِ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَسْقِيَ الْحَاجَّ وَقَالَ آخَرُ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ وَقَالَ آخَرُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَلَكِنْ إِذَا صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فِيمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ كُلِّهَا [سورة التوبة: ١٩]
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر کی ایک جانب بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی نے کہا، اسلام کے بعد مجھے کوئی عمل کرنے کی پرواہ نہیں ہے، الا یہ کہ حاجیوں کو پانی پلاؤں گا۔ دوسرے نے کہا: مجھے اسلام کے بعد مسجد حرام آباد کرنے کے علاوہ کوئی عمل کرنے کی پرواہ نہیں ہے، ایک اور بولا اور اس نے کہا: جو تم کہہ رہے ہو، اس سے افضل اور بہتر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا اور کہا: منبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آوازیں بلند نہ کرو، یہ جمعہ کا دن تھا، جب میں نے جمعہ ادا کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور ان لوگوں کے اختلاف کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا، تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {اَجَعَلْتُمْ سِقَا یَـۃَ الْحَاجِّ وَ عِـمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہ ِ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔} (سورۂ توبہ: ۱۹) کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس جیسا بنا دیا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا۔ یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8619]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1879، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18557»
وضاحت: فوائد: … نیکیوں اور برائیوں کا تعین کرنا اور پھر کسی نیکی کو کم یا زیادہ ثواب والا اور کسی برائی کو کم یا زیادہ جرم والا قرار دینا،یہ شریعت کا حق ہے، کسی بندے کے فہم کانتیجہ نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب: «وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ» ‏‏‏‏
{وَمِنْہُمْ مَنْ یَلْمِزُکَ فِی الصَّدَقَاتِ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8620
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذِي الْخُوَيْصِرَةِ التَّمِيمِيُّ فَقَالَ اعْدِلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ يُنْظَرُ فِي قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ثُمَّ يُنْظَرُ فِي نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ثُمَّ يُنْظَرُ فِي رِصَافِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ ثُمَّ يُنْظَرُ فِي نَضِيِّهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ آيَتُهُمْ رَجُلٌ إِحْدَى يَدَيْهِ أَوْ قَالَ ثَدْيَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ قَالَ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ جِيءَ بِالرَّجُلِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَنَزَلَتْ فِيهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ [سورة التوبة: ٥٨]
۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ عبداللہ بن ذی خویصرہ تمیمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ذرا انصاف کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے،اگر میں بھی عدل نہ کروں تو اور کون عدل کرے گا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ مجھے اجازت دیں، میں اس کی گردن اڑادیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو، اس کے ایسے ساتھی ہوں گے کہ تم میں سے ایک شخص ان کی نماز کے مقابلہ میں اپنی نماز کو حقیر سمجھے گا اور اپنے روزے کو ان کے روزے کے مقابلے میں حقیر سمجھے گا، یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے، جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، اس کے پروں میں دیکھا جائے تو معلوم کچھ نہیں ہوتا، پھر اس کے پھل میں دیکھا جائے تو معلوم کچھ نہیں ہوتا، پھر اس کی تانت اور اس کے بعد پیکان اور پر کے درمیان کے حصے کو دیکھتا ہے، تو کچھ معلوم نہیں ہوتا، حالانکہ وہ خون اور گوبر سے ہو کر گزرا ہوتا ہے، ان کی نشانی یہ ہوگی کہ ان میں ایک ایسا آدمی ہوگا جس کا ایک ہاتھ یا ایک چھاتی عورت کی ایک چھاتی کی طرح ہوگی،یا فرمایا کہ گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہوگی اور ہلتی ہوگی، لوگوں کے تفرقہ کے وقت نکلیں گے۔ ابوسعید نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا علی نے ان لوگوں کو قتل کیا، میں ان کے ساتھ تھا، اس وقت ان میں سے ایک شخص کو لایا گیا، وہ اسی صورت کے مطابق نکلا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کی تھی، ان ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْہَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْہَآ اِذَا ہُمْ یَسْخَطُوْنَ۔} (توبہ: ۵۸) اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو تجھ پر صدقات کے بارے میں طعن کرتے ہیں، پھر اگر انھیں ان میں سے دے دیا جائے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں ان میں سے نہ دیا جائے تو اسی وقت وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8620]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3610، 6933، ومسلم: 1064، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11558»
وضاحت: فوائد: … تیر اتنی تیزی سے شکار کو زخمی کر کے نکل جاتا ہے کہ اس پر خون کے اثرات بھی نظر نہیں آتے، حالانکہ وہ اپنا کام کر چکا ہوتا ہے، اسی طرح اسلام کا دعوی کرنے والے بعض لوگ دعوی تو اسلام کا کریں گے، لیکن وہ ایسے ایسے فتنوںمیںمبتلا ہو جائیں گے کہ جن کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہو گا، اکثر محدثین اور شارحین کے نزدیک ایسے لوگوں سے مراد خوارج ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: «الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ»
باب: {اَلْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ}
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8621
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ الْمُؤَلَّفَةُ قُلُوبُهُمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةً عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ الْجَعْفَرِيَّ وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيَّ وَزَيْدَ الْخَيْلِ الطَّائِيَّ وَعُيَيْنَةَ بْنَ بَدْرٍ الْفَزَارِيَّ قَالَ فَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِذَهَبَةٍ مِنَ الْيَمَنِ بِتُرْبَتِهَا فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں جن لوگوں کو ان کی تالیف ِ قلبی کی خاطر مال دیا گیا تھا، وہ چار افراد تھے: علقمہ بن علاثہ جعفری، اقرع بن حالبس حنظلی، زید خیل طائی اور عیینہ بن بدر فزاری، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے کچھ سونا لے کر آئے تھے جو ابھی مٹی میں تھا،(یعنی صاف نہیں کیا گیا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ان میں تقسیم کیا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8621]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البخاري: ومسلم:، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11287»
وضاحت: فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ سونا یمن سے بھیجا تھا، وہ تقسیم کے وقت خود موجود نہیں تھے، جیسا کہ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد کی دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ اقرع بن حابس: یہ تمیمی حنظلی اور بنو تمیم کے اشراف لوگوں میں سے تھے تھا، یہ عطارد بن حاجب، زبرقان بن بدر وغیرہ کے ساتھ فتح مکہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تھا اور مسلمان ہو گیا تھا، پھر یہ مختلف غزوات میں شریک ہوا اور یرموک میں شہید ہو گیا تھا، ایک قول کے مطابق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت تک زندہ رہا۔ عیینہ بن بدر: یہ فزاری تھا، بدر اس کے دادا کا نام ہے، باپ کا نام حصن ہے، یہ اپنی قوم کا رئیس تھا، فتح مکہ کے بعد یا اس سے پہلے مسلمان ہوا، یہ مرتدّ ہو کر طلیحہ اسدی کے ساتھ مل گیا تھا، لیکن پھر مسلمان ہو گیا تھا۔ علقمہ بن علاثہ: یہ عامری تھا اور عامر بن طفیل کے ساتھ بنو کلاب کا رئیس تھا، یہ دونوں شرف کی خاطر جھگڑتے رہتے تھے اور ایک دوسرے پر فخر کرتے رہتے تھے، علقمہ بھی ایک بار مرتدّ ہو گیا تھا، لیکن پھر مشرّف باسلام ہو گیا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں حوران مقام پر فوت ہو اتھا۔ عامر بن طفیل بیچارہ عہد ِ نبوی میں ہی شرک کی حالت میں مر گیا تھا۔
فوائد: … زکوۃ کے آٹھ مصارف میں سے ایک مصرف یہ ہے کہ اس مال سے لوگوں کی تالیف ِ قلبی کی جائے، اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
اس سے کون سے افراد مراد ہیں:
ایک تو وہ کافر ہے، جو کچھ کچھ اسلام کی طرف مائل ہو اور اس کی امداد کرنے پر یہ امید ہو کہ وہ مسلمان ہو جائے گا۔ دوسرے، وہ نو مسلم افراد ہیں، جن کو اسلام پر مضبوطی سے قائم رکھنے کے لیے امداد دینے کی ضرورت ہو۔ تیسرے، وہ افراد بھی ہیں جن کو امداد دینے کی صورت میں یہ امید ہو کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے سے روکیں گے اور اس طرح وہ قریب کے کمزور مسلمانوں کا تحفظ کریں۔ یہ اور اس قسم کی دیگر صورتیں تالیف ِ قلب کی ہیں، جن پر زکوۃ کی رقم خرچ کی جا سکتی ہے، چاہے مذکورہ افراد مالدار ہی ہوں، احناف کے نزدیکیہ مصرف ختم ہو گیا، لیکنیہ بات صحیح نہیں ہے، حالات و ظروف کے مطابق ہر دور میں اس مصرف پر زکوۃ کی رقم خرچ کرنا جائز ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: «اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ۔۔۔۔۔ وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا»
{اِسْتَغْفِرْ لَھُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ … وَلَا تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ اَبَدًا} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8622
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ فَقَامَ إِلَيْهِ فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ تَحَوَّلْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي صَدْرِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَى عَدُوِّ اللَّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ الْقَائِلِ يَوْمَ كَذَا كَذَا وَكَذَا يُعَدِّدُ أَيَّامَهُ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ حَتَّى إِذَا أَكْثَرْتُ عَلَيْهِ قَالَ أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ وَقَدْ قِيلَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ [سورة التوبة: ٨٠] لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي إِنْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ قَالَ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهِ وَمَشَى مَعَهُ فَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى فُرِغَ مِنْهُ قَالَ فَعَجَبٌ لِي وَجَرَاءَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتْ هَاتَانِ الْآيَتَانِ وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ [سورة التوبة: ٨٤] فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ عَلَى مُنَافِقٍ وَلَا قَامَ عَلَى قَبْرِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن ابی منافق مرا تو اس کی نماز جنازہ کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور جب اس کی نماز کا ارادہ کیا تو میں پلٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آ گیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اللہ کے دشمن پر؟ کیا آپ عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھیں گے؟ اس نے فلاں فلاں دن یہ یہ کہا تھا، ساتھ ہی میں اس کے ہر دن کو شمار کرنے لگا، جس میں اس نے اسلام کے خلاف سازش کی تھی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا رہے تھے، جب میں نے زیادہ اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: اے عمر! پیچھے ہٹ جاؤ، مجھے نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا اختیار دیا گیا ہے اور میں نے پڑھنے کو اختیار کیا ہے، مجھ سے تو یہ کہا گیا ہے کہ {اسْتَغْفِرْ لَہُمْ أَ وْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِینَ مَرَّۃً فَلَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ} … (آپ ان کے لئے بخشش طلب کریں یا نہ کریں، اگر آپ ان کے لئے ستر (۷۰) بار بخشش طلب کریں تو تب بھی اللہ تعالیٰ ہر گز ان کو معاف نہ کرے گا۔) اور اگر مجھے علم ہو جائے کہ اگر میں ستر بار سے زیادہ استغفار کروں تو اسے بخش دیا جائے گا تو میں اتنی مرتبہ بھی اس کے لئے استغفار کر دوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی اور اس کی قبر تک بھی چل کر تشریف لے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کی گئی جرأت پر بڑا تعجب ہوا، بہرحال اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن اللہ کی قسم! تھوڑ ا ہی وقت گزرا تھا کہ یہ دو آیتیں نازل ہو گئیں: {وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَ حَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَ بَدًا وَلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہِ إِنَّہُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ وَمَاتُوْا وَہُمْ فَاسِقُونَ} … اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس کا کبھی جنازہ نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بے شک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اس حال میں مرے کہ وہ نافرمان تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8622]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1366، 4671، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 95 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 95»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8623
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ حَتَّى أُكَفِّنَهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَقَالَ آذِنِّي بِهِ فَلَمَّا ذَهَبَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ قَالَ يَعْنِي عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ [سورة التوبة: ٨٠] فَصَلَّى عَلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا [سورة التوبة: ٨٤] قَالَ فَتُرِكَتْ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمْ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب عبد اللہ بن ابی منافق مرا تو اس کا بیٹا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ،جو مسلمان تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قمیص عنایت فرمائیں تا کہ میں اپنے باپ کو اس میں کفن دوں اور آپ اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائیں اوراس کے لئے استغفار کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قمیص عطا کر دی اور فرمایا: مجھے وقت پر اطلاع دینا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے آگے ہوئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کو اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دواختیار ملے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپ ان کے لیے استغفار کریںیا نہ کریں۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی، اور پھر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کر دیا: {وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَ حَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَ بَدًا} … اور آپ ان میں سے کسی کی کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8623]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1269، 5796، ومسلم: 2400، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4680 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4680»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ تبوک سے واپسی کے بعد ذو القعدہ ۹؁ھمیں رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی مرا تھا۔ چونکہ اس کا بیٹا مخلص مسلمان تھا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قمیص کا اور نمازِ جنازہ پڑھانے کا مطالبہ کیا تاکہ اس سے عذاب ٹل جائے، لیکن اس کا مقصد پورا نہ ہو سکا۔
معلوم ہوا کہ کافر، مشرک اور منافق کی نماز جنازہ پڑھنا اور ان کے حق میں بخشش کی دعا کرنا منع ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں