الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: «إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ»
سورۂ رعد {اِنَّمَا اَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8641
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ {إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ} [الرعد: 7] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُنْذِرُ وَالْهَادِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان تو ڈرانے والا ہے اور ہر ایک قوم کے لئے رہنما ہوتا ہے اس کی تفسیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ڈرانے والا اور رہنمائی کرنے والا بنو ہاشم میں سے ایک آدمی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8641]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، وفي متنه نكارة، مطلب بن زياد، واسماعيل بن عبد الرحمن السدي، مثل ھذين الراويين لا يحتملان مثلَ ھذا المتن۔ أخرجه الحاكم: 3/ 129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1041 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1041»
الحكم على الحديث: ضعیف
26. بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: «وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ»
{وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8642
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَقْبَلَتْ يَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّا نَسْأَلُكَ عَنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ فَإِنْ أَنْبَأْتَنَا بِهِنَّ عَرَفْنَا أَنَّكَ نَبِيٌّ وَاتَّبَعْنَاكَ فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ إِسْرَائِيلُ عَلَى بَنِيهِ إِذْ قَالُوا {اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ} [يوسف: 66] قَالَ هَاتُوا قَالُوا أَخْبِرْنَا عَنْ عَلَامَةِ النَّبِيِّ قَالَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالُوا أَخْبِرْنَا كَيْفَ تُؤَنِّثُ الْمَرْأَةُ وَكَيْفَ تُذْكِرُ قَالَ يَلْتَقِي الْمَاءَانِ فَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَتْ وَإِذَا عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ آنَثَتْ قَالُوا أَخْبِرْنَا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ قَالَ كَانَ يَشْتَكِي عِرْقَ النَّسَا فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُلَائِمُهُ إِلَّا أَلْبَانَ كَذَا وَكَذَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ أَبِي قَالَ بَعْضُهُمْ يَعْنِي الْإِبِلَ فَحَرَّمَ لُحُومَهَا قَالُوا صَدَقْتَ قَالُوا أَخْبِرْنَا مَا هَذَا الرَّعْدُ قَالَ مَلَكٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ بِيَدِهِ أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ يَسُوقُهُ حَيْثُ أَمَرَ اللَّهُ قَالُوا فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي يُسْمَعُ قَالَ صَوْتُهُ قَالُوا صَدَقْتَ إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ وَهِيَ الَّتِي نُبَايِعُكَ إِنْ أَخْبَرْتَنَا بِهَا فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ مَلَكٌ يَأْتِيهِ بِالْخَبَرِ فَأَخْبِرْنَا مَنْ صَاحِبُكَ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالُوا جِبْرِيلُ ذَاكَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَالْعَذَابِ عَدُوُّنَا لَوْ قُلْتَ مِيكَائِيلَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالرَّحْمَةِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَكَانَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ} [البقرة: 97] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہودی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اے ابوالقاسم! ہم آپ سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال کریں گے، اگر آپ ان کے جوابات دیں گے تو ہم پہچان جائیں گے کہ آپ برحق نبی ہیں اور ہم آپ کی اتباع بھی کریں گے، آپ نے ان سے اس طرح عہد لیا، جس طرح یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے عہد لیا تھا، جب انھوں نے کہا تھا ہم جو بات کر رے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ وکیل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: و ہ سوال پیش کرو۔ (۱) انہوں نے کہا: ہمیں نبی کی نشانی بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبی کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا۔ (۲) انھوں نے کہا: یہ بتائیں کہ نر اورمادہ کیسے پیدا ہوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردوزن کا آب جو ہر دونوں ملتے ہیں، جب آدمی کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے، تو نر پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا آب جو ہر غالب آتا ہے تو مادہ پیدا ہوتی ہے۔ (۳) انہوں نے کہا: ہمیں بتاؤ کہ یعقوب علیہ السلام نے خود پر کیا حرام قرار دیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں عرق نساء کی بیماری تھی، انہیں صرف اونٹنیوں کا دودھ موافق آیا، تو صحت ہونے پر اونٹوں کا گوشت خود پر حرام قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا: آپ سچ کہتے ہیں، (۴) اچھا یہ بتائیں کہ یہ رعد کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے، جس کے سپرد بادل ہیں یا اس فرشتہ کے ہاتھ میں آگ کا ہنٹرہے، جس کے ساتھ وہ بادلوں کو چلاتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ آواز کیا ہے جو سنی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی ہنٹر کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ (۵) انہوں نے کہا: ایک بات رہ گئی ہے، اگر آپ اس کا جواب دیں گے تو ہم آپ کی بیعت کریں گے، وہ یہ ہے کہ ہر نبی کے لئے ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جواس کے پاس بھلائی یعنی وحی لے کر آتا ہے، آپ بتائیں آپ کا فرشتہ ساتھی کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام ہیں۔ اب کی بار انھوں نے کہا: جبریل،یہ تو جنگ، لڑائی اور عذاب لے کر آتا ہے، یہ تو ہمارا دشمن ہے، اگر آپ میکائیل کہتے جو کہ رحمت، نباتات اور بارش کے ساتھ نازل ہوتا ہے، تو پھر بات بنتی، اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل کی: {قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہٗنَزَّلَہٗعَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ۔} (سورۂ بقرہ: ۹۷) کہہ دے جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو بے شک اس نے یہ کتاب تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اتاری ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے اور مومنوں کے لیے سرا سر ہدایت اور خوشخبری ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8642]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه الترمذي: 3117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2483»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۴۸۷)
الحكم على الحديث: صحیح