الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ: «قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ»
{قَالَ آمَنْتُ اَنَّہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْ آمَنَتْ بِہٖبَنُوْاِسْرَائِیْلُ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8633M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يَدُسُّ فِي فَمِ فِرْعَوْنَ الطِّينَ مَخَافَةَ أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
۔ (دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام اس ڈر سے فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونس رہے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8633M]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواهد، قاله الالباني۔ أخرجه الترمذي: 3107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2144»
الحكم على الحديث: صحیح
19. بَابُ مَا جَاءَ فِي سُورَةِ هُودٍ مِنْ ذِكْرِ الْقِيَامَةِ وَأَهْوَالِهَا
سورۂ ہود سورۂ ہود میں قیامت اور اس کی ہولناکیوں کا بیان
حدیث نمبر: 8634
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ رَأْيُ عَيْنٍ فَلْيَقْرَأْ {إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ} [التكوير: 1] {وَإِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ} [الانفطار: 1] {وَإِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ} [الانشقاق: 1] وَأَحْسَبُهُ قَالَ سُورَةَ هُودٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قیامت کے دن کو بالکل آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتا ہے، وہ ان سورتوں کی تلاوت کرے: سورۂ تکویر، سورۂ انفطار اور سورۂ انشقاق۔ راوی کہتے ہیں: میں گمان ہے کہ سورۂ ہود کا بھی ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8634]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 3333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4806»
الحكم على الحديث: صحیح
20. بَابُ: «قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ»
{قَالَ یَا نُوْحُ اِنَّہُ لَیْسَ مِنْ اَھْلِکَ اِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8635
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَهَا {إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ} [هود: 46]
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت اس طرح پڑھی: {اِنَّہُ عَمِلَ غَیْرَ صَالِحٍ}۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8635]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين بشاھده۔ أخرجه ابوداود: 3983، والترمذي: 2932، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26518 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27053»
وضاحت: فوائد: … اس آیت کی متواتر قراء ت یوں ہے: {اِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ}۔ جب نوح علیہ السلام نے سیلاب کے دوران اپنے بیٹے کے حق میں دعا کی تو اللہ تعالی نے ان الفاظ کے ساتھ ان کو جواب دیا تھا کہ وہ بیٹا تمہارے اہل میں سے نہیں ہے، کیونکہ اس کے عمل نیک نہیں ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
21. بَابُ: «قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَىٰ رُكْنٍ شَدِيدٍ»
{قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8636
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ لُوطٍ {لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ} [هود: 80] قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا بُعِثَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوط علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: {لَوْ أَ نَّ لِی بِکُمْ قُوَّۃً أَوْ آوِی إِلٰی رُکْنٍ شَدِیدٍ} … کاش کہ مجھ میں تمہارا مقابلہ کرنے کی قوت ہوتییا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا۔ (سورۂ ہود: ۸۰) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ (لوط علیہ السلام) ایک مضبوط سہارے اپنے رب کی طرف آسرا پکڑتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے بعد اللہ تعالی نے جو نبی بھی بھیجا، اس کو اس کی قوم کے انبوہ کثیر میں بھیجا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8636]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه بنحوه ومختصرا البخاري: 3375، ومسلم: ص 1840، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8987 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8975»
وضاحت: فوائد: … قوت سے مراد اپنے دست و بازو اور اپنے وسائل کی قوت یا اولاد کی قوت مراد ہے اور رکن شدید (مضبوط آسرا) سے مراد خاندان، قبیلہیا اسی قسم کا مضبوط آسرا مراد ہے، یعنی وہ نہایت بے بسی کے عالم میں آرزو کر رہے ہیں کہ کاش! میرے اپنے پاس کوئی قوت ہوتییا کسی خاندان اور قبیلے کی پناہ اور مدد مجھے حاصل ہوتی تو آج مجھے مہمانوں کی وجہ سے یہ ذلت و رسوائی نہ ہوتی، بلکہ میں ان بد قماشوں سے نمٹ لیتا اور مہمانوں کی حفاظت کر لیتا، لوط علیہ السلام کییہ آرزو، اللہ تعالی پر توکل کے منافی نہیں ہے، بلکہ ظاہری اسباب کے مطابق ہے اور توکل علی اللہ کا صحیح مفہوم بھییہی ہے کہ پہلے تمام ظاہری اسباب و سائل بروئے کار لائے جائیں اور پھر اللہ تعالی پر توکل کیا جائے۔
لوط علیہ السلام کی مذکورہ بالا کا سیاق و سباق درج ذیل آیات میں بیان کیا گیا ہے: {وَلَمَّا جَآئَ تْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓئَ بِھِمْ وَضَاقَ بِھِمْ ذَرْعًا وَّقَالَ ھٰذَا یَوْم’‘ عَصِیْب’‘۔ وَجَآئَہٗقَوْمُہٗیُھْرَعُوْنَ اِلَیْہِ وَمِنْ قَبْلُ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ قَالَ ٰیقَوْمِ ھٰٓؤُلَآئِ بَنَاتِیْ ھُنَّ اَطْھَرُ لَکُمْ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَلَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُل’‘ رَّشِیْد’‘۔ قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَالَنَا فِیْ بَنٰتِکَ مِنْ حَقٍّ وَ اِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ۔ قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِیْٓ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ۔ قَالُوْا ٰیلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَّصِلُوْٓا اِلَیْکَ فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَد’‘ اِلَّا امْرَاَتَکَ اِنَّہٗمُصِیْبُھَا مَآ اَصَابَھُمْ اِنَّ مَوْعِدَھُمُ الصُّبْحُ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ۔ فَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ۔ مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ وَمَا ھِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۔} (سورۂ ہود: ۷۷ تا ۸۲)
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط کے پاس آئے، وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا اور ان سے دل تنگ ہوا اور اس نے کہا یہ بہت سخت دن ہے۔اور اس کی قوم (کے لوگ) اس کی طرف بے اختیار دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے اور وہ پہلے سے برے کام کیا کرتے تھے۔ اس نے کہا اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیں،یہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں، تو اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو، کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں؟ انھوں نے کہا بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں اور بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے ہم کیا چاہتے ہیں۔ اس نے کہا کاش! واقعی میرے پاس تمھارے مقابلہ کی کچھ طاقت ہوتی،یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔ انھوں نے کہا اے لوط! بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں،یہ ہرگز تجھ تک نہیں پہنچ پائیں گے، سو اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے کر چل نکل اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے مگر تیری بیوی۔ بے شک حقیقتیہ ہے کہ اس پر وہی مصیبت آنے والی ہے جو ان پر آئے گی۔ بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا صبح واقعی قریب نہیں۔ پھر جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے اس کے اوپر والے حصے کو اس کا نیچا کر دیا اور ان پر تہ بہ تہ کھنگر کے پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں سے نشان لگائے ہوئے تھے اور وہ ان ظالموں سے ہرگز کچھ دور نہیں۔
لوط علیہ السلام کی مذکورہ بالا کا سیاق و سباق درج ذیل آیات میں بیان کیا گیا ہے: {وَلَمَّا جَآئَ تْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓئَ بِھِمْ وَضَاقَ بِھِمْ ذَرْعًا وَّقَالَ ھٰذَا یَوْم’‘ عَصِیْب’‘۔ وَجَآئَہٗقَوْمُہٗیُھْرَعُوْنَ اِلَیْہِ وَمِنْ قَبْلُ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ قَالَ ٰیقَوْمِ ھٰٓؤُلَآئِ بَنَاتِیْ ھُنَّ اَطْھَرُ لَکُمْ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَلَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُل’‘ رَّشِیْد’‘۔ قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَالَنَا فِیْ بَنٰتِکَ مِنْ حَقٍّ وَ اِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ۔ قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِیْٓ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ۔ قَالُوْا ٰیلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَّصِلُوْٓا اِلَیْکَ فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَد’‘ اِلَّا امْرَاَتَکَ اِنَّہٗمُصِیْبُھَا مَآ اَصَابَھُمْ اِنَّ مَوْعِدَھُمُ الصُّبْحُ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ۔ فَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ۔ مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ وَمَا ھِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۔} (سورۂ ہود: ۷۷ تا ۸۲)
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط کے پاس آئے، وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا اور ان سے دل تنگ ہوا اور اس نے کہا یہ بہت سخت دن ہے۔اور اس کی قوم (کے لوگ) اس کی طرف بے اختیار دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے اور وہ پہلے سے برے کام کیا کرتے تھے۔ اس نے کہا اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیں،یہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں، تو اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو، کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں؟ انھوں نے کہا بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں اور بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے ہم کیا چاہتے ہیں۔ اس نے کہا کاش! واقعی میرے پاس تمھارے مقابلہ کی کچھ طاقت ہوتی،یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔ انھوں نے کہا اے لوط! بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں،یہ ہرگز تجھ تک نہیں پہنچ پائیں گے، سو اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے کر چل نکل اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے مگر تیری بیوی۔ بے شک حقیقتیہ ہے کہ اس پر وہی مصیبت آنے والی ہے جو ان پر آئے گی۔ بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا صبح واقعی قریب نہیں۔ پھر جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے اس کے اوپر والے حصے کو اس کا نیچا کر دیا اور ان پر تہ بہ تہ کھنگر کے پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں سے نشان لگائے ہوئے تھے اور وہ ان ظالموں سے ہرگز کچھ دور نہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8636M
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ قَالَ قَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ وَلَكِنَّهُ عَنَى عَشِيرَتَهُ فَمَا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْدَهُ نَبِيًّا إِلَّا بَعَثَهُ فِي ذُرْوَةِ قَوْمِهِ قَالَ أَبُو عُمَرَ فَمَا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيًّا بَعْدُ إِلَّا فِي مَنْعَةٍ مِنْ قَوْمِهِ
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: لوط علیہ السلام مضبوط قلعہ کی جانب جگہ پکڑتے تھے، ان کی مراد رشتہ دار تھے، پس اللہ نے اس کے بعد کسی نبی کو نہیں بھیجا، مگر اس کی قوم کے اعلی نسب سے۔ ابو عمر راوی کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس اللہ تعالی نے ان کے بعد کوئی نبی نہیں بھیجا، مگر اس کو اپنی قوم میں محفوظ کر کے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8636M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10903»
وضاحت: فوائد: … سابق حدیث کی شرح ملاحظہ ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
22. بَابُ: «وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ۔۔۔»
{وَاَقِمِ الصَّلاۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8637
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً مُغِيبًا أَتَتْ رَجُلًا تَشْتَرِي مِنْهُ شَيْئًا فَقَالَ ادْخُلِي الدَّوْلَجَ حَتَّى أُعْطِيَكِ فَدَخَلَتْ فَقَبَّلَهَا وَغَمَزَهَا فَقَالَتْ وَيْحَكَ إِنِّي مُغِيبٌ فَتَرَكَهَا وَنَدِمَ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ فَأَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صَنَعَ فَقَالَ وَيْحَكَ فَلَعَلَّهَا مُغِيبٌ قَالَ فَإِنَّهَا مُغِيبٌ قَالَ فَأْتِ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاسْأَلْهُ فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَيْحَكَ لَعَلَّهَا مُغِيبٌ قَالَ فَإِنَّهَا مُغِيبٌ قَالَ فَأْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهَا مُغِيبٌ قَالَ فَإِنَّهَا مُغِيبٌ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ {وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ} [هود: 114] إِلَى قَوْلِهِ {لِلذَّاكِرِينَ} [هود: 114] قَالَ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهِيَ فِيَّ خَاصَّةً أَوْ فِي النَّاسِ عَامَّةً قَالَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ لَكَ بَلْ هِيَ لِلنَّاسِ عَامَّةً قَالَ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ صَدَقَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، ایک عورت جس کا خاوند گھر سے باہر تھا، وہ ایک آدمی کے پاس کچھ خریدنے آئی۔ اس نے کہا: اس حجرہ میں اندر چلی جاؤ، تاکہ میں تمہیں تمہاری چیز دے سکوں، جب وہ داخل ہوئی تو اس آدمی نے اس سے بوس و کنار کیا، اس عورت نے کہا: بڑا افسوس ہے، میرا خاوند گھر سے باہر تھا تونے یہ کیا کیا، اس آدمی نے اسے چھوڑ دیا اور نادم ہوا، پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور جو کیا تھا انہیں بتا دیا، انہوں نے کہا: لگتا ہے اس عورت کا خاوند گھر پر نہ ہو گا، تب وہ سودا خریدنے آئی ہو گی؟ اس نے کہا: جی ہاں وہ گھر سے باہر تھا۔ انہوں نے کہا؛ تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس چلا جا اور ان سے پوچھ لے، پس وہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا انہیں ساری بات بتائی، انھوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، شاید اس کا خاوند گھر پر نہ ہو، اس نے کہا: جی ہاں، اس پر خاوند گھر پر نہیں تھا، پھرسیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا اور آپ کو صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ تفصیل بتا، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ کو واقعہ بتایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے کہ اس عورت کا خاوند گھر سے باہر تھا؟ اس آدمی نے کہا: جی ہاں، واقعی وہ گھر پر نہ تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے اوریہ قرآن مجید نازل ہوا: {وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّـیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ۔} … اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔ یہیاد کرنے والوں کے لیےیاد دہانی ہے۔ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ حکم میرے لئے خاص ہے یا لوگوں کے عام ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اس سے صرف تیری ہی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوں گی، بلکہ یہ تمام لوگوں کے لئے خوشبخری ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا کرفرمایا: عمر نے سچ کہا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8637]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني: 12931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2430»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8638
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أَخَذْتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ فَفَعَلْتُ بِهَا كُلَّ شَيْءٍ غَيْرَ أَنِّي لَمْ أُجَامِعْهَا قَبَّلْتُهَا وَلَزِمْتُهَا وَلَمْ أَفْعَلْ غَيْرَ ذَلِكَ فَافْعَلْ بِي مَا شِئْتَ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَقَدْ سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَوْ سَتَرَ عَلَى نَفْسِهِ قَالَ فَأَتْبَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ فَقَالَ رُدُّوهُ عَلَيَّ فَرَدُّوهُ عَلَيْهِ فَقَرَأَ عَلَيْهِ {وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ} [هود: 114] إِلَى {لِلذَّاكِرِينَ} [هود: 114] فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَهُ وَحْدَهُ أَمْ لِلنَّاسِ كَافَّةً يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے باغ میں ایک عورت کو پکڑ لیا اور میں نے اس کے ساتھ ہر کام کیا ہے، بس صرف زنا نہیں کیا، میں نے اسے بوسہ دیا اور اس کے ساتھ چمٹا، اس کے علاوہ کچھ نہیں کیا، اب میں حاضر ہوں، آپ جو چاہیں، مجھے سزا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کچھ نہ کہا اور وہ چلا بھی گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میںکہا: اللہ تعالیٰ نے تو اس پر پردہ ڈالا تھا، اگر وہ خود بھی پردہ ڈال لیتا،اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جانے والے کو پیچھے سے تک رہے تھے اور بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے واپس بلاؤ۔ پس جب اس کو لوٹایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر یہ آیت تلاوت کی: {وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّـیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ۔} … اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔ یہیاد کرنے والوں کے لیےیاد دہانی ہے۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ اس اکیلے کے لئے ہے یا سب لوگوں کے لئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب لوگوں کے لئے ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8638]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 526، 4687، ومسلم: 2763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4290 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4290»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8638M
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) نَحْوُهُ) وَفِيهِ فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} [هود: 114] قَالَ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَهُ خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ كَافَّةً فَقَالَ بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے، پس یہ آیت نازل ہوئی: {وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّـیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ۔} … اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کیکچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔ یہیاد کرنے والوں کے لیےیاد دہانی ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلایا اور اس پر اس آیت کیتلاوت کی، سیدنا عمر نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ اس کے لئے خاص ہے یا سب لوگوں کے لئے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب لوگوں کے لئے عام ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8638M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4250»
الحكم على الحديث: صحیح
23. بَابُ: «فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ»
سورۂ یوسف کی تفسیر {فَاسْاَلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَۃِ اللّٰاتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَہُنَّ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8639
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ لِرَسُولِهِ {فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ} [يوسف: 50] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: { فَاسْأَ لْہُ مَا بَالُ النِّسْوَۃِ اللّٰاتِی قَطَّعْنَ أَ یْدِیَہُنَّ} کے بارے میں فرمایا: اگر یوسف علیہ السلام کی جگہ میں ہوتا تو میں پیغام دینے والے کی بات کو بہت جلدی قبول کر لیتا اور میں نے کوئی عذر تلاش نہ کرنا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8639]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه ومختصرا البخاري: 3375، ومسلم: ص 1840، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9048»
وضاحت: فوائد: … یوسف علیہ السلام جیل میں تھے اور بادشاہ کی اجازت کے باوجود وہاں سے نکلنے میں جلدی نہیں کی، تاکہ کوئییہ نہ سمجھے کہ یہ واقعی گنہگار تھے اور اب ان کو معاف کر کے رہا کر دیا گیا اور یوسف علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اُن پر یہ حجت قائم کر دیں کہ انھوں نے اِن پر ظلم کر کے اِن کو قید کیا تھا، یہیوسف علیہ السلام کا حسنِ صبر اور قوت ِ عزم تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عاجزی و انکساری کا اظہار کر رہے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
24. بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: «نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مِّنْ نَّشَاءُ»
{نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّنْ نَّشَائُ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8640
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ {نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ} [الأنعام: 83] قَالَ بِالْعِلْمِ قُلْتُ مَنْ حَدَّثَكَ قَالَ زَعَمَ ذَاكَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ
۔ امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: {نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّنْ نَّشَائُ} یعنی علم کے ذریعے، میں نے ایک راوی سے کہا: تجھے کس نے یہ حدیث بیان کی ہے؟ اس نے کہا: زید بن اسلم یہ گمان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8640]
تخریج الحدیث: «اثر صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 449 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 449»
وضاحت: فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {وَتِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَیْنٰہَآ اِبْرٰہِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖنَرْفَعُدَرَجٰتٍمَّنْنَّشَائُاِنَّرَبَّکَحَکِیْمٌ عَلِیْمٌ} … اور یہ ہماری دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں دی، ہم درجوں میں بلند کرتے ہیں جسے چاہتے ہیں۔ بے شک تیرا رب کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
یعنی توحید ِ الٰہی پر ایسی حجت اور دلیل، جس کا کوئی جواب ابراہیم علیہ السلام کو ان کی قوم سے نہ بن پڑا۔
یعنی توحید ِ الٰہی پر ایسی حجت اور دلیل، جس کا کوئی جواب ابراہیم علیہ السلام کو ان کی قوم سے نہ بن پڑا۔
الحكم على الحديث: صحیح