🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ تَفْسِيرِ هَا وَصِفَةِ الْكَوْثَرِ
سورۂ کوثر سورۂ کوثر اور کوثر کی صفت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8845
عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَغْفَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِغْفَاءَةً فَرَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا إِمَّا قَالَ لَهُمْ وَإِمَّا قَالُوا لَهُ لِمَ ضَحِكْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ [سورة الكوثر] حَتَّى خَتَمَهَا قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هُوَ نَهَرٌ أَعْطَانِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ يَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ آنِيَتُهُ عَدَدُ الْكَوَاكِبِ يُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي فَيُقَالُ لِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اونگھ سی آئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا، لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیوں مسکرائے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ إِنَّا أَ عْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ}کی تلاوت کی،یہاں تک کہ مکمل سورت پڑھی اور پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کوثرکیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک نہر ہے، جو میرے رب نے مجھے جنت میں عطا کی ہے، اس میں بہت زیادہ بھلائی ہے، میری امت قیامت والے دن اس پر میرے پاس آئے گی، اس نہر کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے، لیکن کچھ بندے مجھ سے روک لئے جائیں گے، میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میری امت میں سے ہیں، مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ انہوں نے تمہارے بعد (دین میں) کیا کیا اضافے کر دیئے تھے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8845]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 400، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12019»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے آخر میں بدعت اور اہل بدعت کو متنبہ کیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8846
(وَعَنْهُ أَيْضًا) فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ [سورة الكوثر: ١] أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ هُوَ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ نَهْرًا فِي الْجَنَّةِ حَافَتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ فَقُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {إِنَّا أَ عْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ}کے بارے میں کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جنت میں ایک نہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: میں نے جنت میں ایک نہردیکھی، اس کے کنارے موتیوں کے خیمے تھے، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: یہی وہ کوثر ہے، جواللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8846]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6581، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12675 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12704»
وضاحت: فوائد: … احادیث ِ مبارکہ اپنے مفہوم کو خود واضح کر رہی ہیں، مزید دیکھیںحدیث نمبر (۱۳۱۲۳)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ تَفْسِيرٍ مَا وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا
سورۂ کافرون سورۂ کافروں کی تفسیر اور اس کی فضیلت کابیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8847
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ [سورة الكافرون] رُبْعُ الْقُرْآنِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ کافرون قرآن مجید کا چوتھائی حصہ ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8847]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان۔ أخرجه الترمذي: 2893، وابن ماجه: 3788، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12516»
وضاحت: فوائد: … یہ سورت محض توحید پر مشتمل ہے، اس میں شرک سے بیزاری اور دینِ حق کو اپنانے کا بیان ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8848
عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ شَيْخٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمَرَّ بِرَجُلٍ يَقْرَأُ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ [سورة الكافرون] قَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ قَالَ وَإِذَا آخَرُ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ [سورة الإخلاص] فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهَا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
۔ ’مہاجرابو حسن، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوپانے والے ایک بزرگ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ سورۂ کافرون پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شرک سے بری ہو گیا ہے۔ ایک دوسرا سورۂ اخلاص پڑھ رہاتھا، اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سورت کے ذریعے اس آدمی کے لئے جنت واجب ہو گئی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8848]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الدارمي: 2/ 458، والنسائي في الكبري: 8028، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23581»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8849
عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَفَعَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَقَالَ إِنَّمَا أَنْتَ ظِئْرِي قَالَ فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ مَا فَعَلَتِ الْجَارِيَةُ أَوِ الْجُوَيْرِيَةُ قَالَ قُلْتُ عِنْدَ أُمِّهَا قَالَ فَمَجِيئِي مَا جِئْتَ قَالَ قُلْتُ تُعَلِّمُنِي مَا أَقُولُ عِنْدَ مَنَامِي فَقَالَ اقْرَأْ عِنْدَ مَنَامِكَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ [سورة الكافرون] قَالَ ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ
۔ سیدنا نوفل اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی مجھے دی اور فرمایا: تو میری بیٹی کو دودھ پلانے والی عورت کا خاوند ہے۔ جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ کومنظور تھا، وہ رہے، پھر جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: بچی کا کیا بنا؟ میں نے کہا: جی وہ اپنی امی کے پاس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب کیوں آئے ہو؟ میں نے کہا: آپ مجھے یہ تعلیم دیں کہ میں سوتے وقت کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوتے وقت سورۂ کافرون پڑھا کرو، جب یہ ختم ہو تو سو جایا کرو، یہ شرک سے بیزاری اور براء ت کا اعلان ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8849]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 5055، والترمذي باثر الحديث: 3403، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24217»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ أَنَّهَا نَزَلَتْ لِنَعْيِ النَّبِيِّ ﷺ نَفْسَهِ
سورۃ النصر اس چیز کا بیان کہ سورۂ نصر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے اعلان کے لیے نازل ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8850
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ [سورة النصر] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي بِأَنَّهُ مَقْبُوضٌ فِي تِلْكَ السَّنَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے جب {اِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں میری موت کی اطلاع ہے، میں اس سال فوت ہونے والا ہوں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8850]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عطاء بن السائب قد اختلط، ومحمد بن فضيل روي عنه بعد الاختلاط۔ أخرجه الطبراني: 11907، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1873 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1873»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8851
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَأْذَنُ لِأَهْلِ بَدْرٍ وَيَأْذَنُ لِي مَعَهُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ يَأْذَنُ لِهَذَا الْفَتَى مَعَنَا وَمِنْ أَبْنَائِنَا مَنْ هُوَ مِثْلُهُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّهُ مَنْ قَدْ عَلِمْتُمْ قَالَ فَأَذِنَ لَهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَأَذِنَ لِي مَعَهُمْ فَسَأَلَهُمْ عَنْ هَذِهِ السُّورَةِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ [النصر: 1] فَقَالُوا أَمَرَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا فُتِحَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْتَغْفِرَهُ وَيَتُوبَ إِلَيْهِ فَقَالَ لِي مَا تَقُولُ يَا ابْنَ عَبَّاسِ قَالَ قُلْتُ لَيْسَتْ كَذَلِكَ وَلَكِنَّهُ أَخْبَرَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحُضُورِ أَجَلِهِ فَقَالَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ فَتْحُ مَكَّةَ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَذَلِكَ عَلَامَةُ مَوْتِكَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا [النصر: 1-3] فَقَالَ لَهُمْ كَيْفَ تَلُومُونِي عَلَى مَا تَرَوْنَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بدر والوں کو اپنی مجلس میں بیٹھنے کی اجازت دے رکھی تھی اور مجھے بھی ان کے ساتھ اجازت دی تھی، بعض لوگوں نے اعتراض کیا اورکہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس نوجوان کو ہمارے ساتھ بیٹھنے کی اجازت دے دیتے ہیں،حالانکہ اس جیسے ہمارے بیٹے بھی ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن ان لوگوں کو بھی بلایا اور مجھے بھی اور ان سے سورۂ نصر کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مکہ فتح ہو جائے، تو توبہ و استغفار کریں۔ مجھ سے کہا: اے ابن عباس! تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے کہا:میں اس طرح کا نظریہ نہیں رکھتا، بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے ذریعے اپنے نبی کو خبر دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت آ چکا ہے، {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} یعنی فتح مکہ، {وَرَأَ یْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِی دِینِ اللّٰہِ أَ فْوَاجًا} یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت کی علامت ہے، {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہُ کَانَ تَوَّابًا}، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ہاں جی، تم یہ (ابن عباس رضی اللہ عنہما علمی لیاقت) دیکھ کر مجھے کیسے ملامت کرتے ہو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8851]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4294، 4970، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3127 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3127»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی فقاہت تھی، اس میں کوئی شک نہیں کہ سورۂ نصر میں تحمید، تسبیح اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کی خبر بھی ہے، کیونکہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا مقصد پورا ہوتا ہوا بیان کیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا وَتَسْبِيحَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَعْدِ نُزُوْلِهَا
سورۂ نصر کی تفسیر اور اس کے نزول کے بعد نبی کریم کا تسبیح پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8852
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ [النصر: 1] رُبُعُ الْقُرْآنِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ}یعنی سورۂ نصر قرآن مجید کاچوتھائی حصہ ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8852]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان۔ أخرجه الترمذي: 2893، وابن ماجه: 3788، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12516»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8853
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ [النصر: 1] كَانَ يُكْثِرُ إِذَا قَرَأَهَا وَرَكَعَ أَنْ يَقُولَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ثَلَاثًا
۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورۂ نصر نازل ہوئی تو زیادہ تر یہ ہوتا کہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سورت کی تلاوت کرتے تو رکوع میں تین بار یہ دعا پڑھتے: سُبْحَانَکَ اللّہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! تو پاک ہے، اے ہمارے ربّ! اور تیری تعریف کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بخش دے، بیشک تو توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8853]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 5230، والبزار: 544، والطبراني في الدعائ: 598، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3683»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8854
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ [النصر: 1] إِلَى آخِرِهَا مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا قَالَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب سورۂ نصر نازل ہوئی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو نمازبھی پڑھی، اس میں یہ ذکر کیا: سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ۔ (اے اللہ! تو پاک ہے، اور تیری تعریف کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بخش دے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8854]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4967، ومسلم: 484، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25928 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26454»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں