الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْل «قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ» وَالْـمُـعَوَّذَتَيْنِ
سورۂ اخلاص کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 8865
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ قَالَ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالُوا مَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ [الإخلاص: 1] فَهِيَ ثُلُثُ الْقُرْآنِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس سے بے بس ہو کہ ایک رات میں قرآن مجید کا تیسرا حصہ پڑھ لو؟ صحابہ کرام پر یہ بات گراں گزری اور انہوں نے کہا: اس عمل کی کون طاقت رکھتاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ}پڑھ لیا کرو، پس یہ ایک تہائی قرآن ہی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8865]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5015، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11068»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5015
حدیث نمبر: 8866
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ (يَعْنِي الْبَدْرِيَّ الْأَنْصَارِيَّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
۔ سیدنا ابو مسعود بدری انصاری رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کرتی ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8866]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابن ماجه: 3789، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17235»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابن ماجه: 3789
حدیث نمبر: 8867
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْشُدُوا فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ قَالَ فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ ثُمَّ خَرَجَ فَقَرَأَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] ثُمَّ دَخَلَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَذَلِكَ الَّذِي أَدْخَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ إِنِّي قَدْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ وَإِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمع ہو جاؤ، میں تم پر قرآن مجید کا ایک تہائی حصہ تلاوت کرنے والا ہوں۔ جب جمع ہونے والے جمع ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ}کی تلاوت کی، پھر آپ اندر تشریف لے گئے، ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے: کوئی آسمان سے خبر آئی ہے، اس کی وجہ سے گھر چلے گئے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: میں نے تم سے کہا تھا کہ میں تم پر قرآن مجید کا تیسرا حصہ تلاوت کروں گا،اور یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے (جو میں نے تم پر پڑھ دی ہے)۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8867]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 812، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9535 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9531»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 812
حدیث نمبر: 8868
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] حَتَّى خَتَمَهَا فَقَالَ وَجَبَتْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَبَتْ قَالَ الْجَنَّةُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ فَأُبَشِّرَهُ فَآثَرْتُ الْغَدَاءَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفَرِقْتُ أَنْ يَفُوتَنِي الْغَدَاءُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى الرَّجُلِ فَوَجَدْتُهُ قَدْ ذَهَبَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا وہ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} پڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے اس سورت کو مکمل کر لیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاـ جنت واجب ہوگئی۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ارادہ کیا کہ میں اس قاری کو خوشخبری دوں، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر کھانا کھانے کو ترجیح دی، کیونکہ مجھے خدشہ تھا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھانا کھانے سے محروم نہ ہو جاؤں، لیکن کھانا کھانے کے بعد جب میں اس آدمی کی طرف آیا تو وہ وہاں سے جا چکا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8868]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 2897، والنسائي: 2/ 171، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10919 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10932»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 2897
حدیث نمبر: 8869
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَرَأَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] حَتَّى يَخْتِمَهَا عَشْرَ مَرَّاتٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ قَصْرًا فِي الْجَنَّةِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَنْ أَسْتَكْثِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْثَرُ وَأَطْيَبُ
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} یعنی سورۂ اخلاص آخر تک دس مرتبہ پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک محل تعمیر کرے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر تو میں بہت سے محلات حاصل کر سکتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بھی بہت کثرت والا اور بہت عمدہ عطا کرنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8869]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 397، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15695»
وضاحت: فوائد: … اس میں سورۂ اخلاص کی فضلیت و عظمت اور اللہ تعالی کی رحمت کی وسعت کا بیان ہے۔ اللہ تعالی نے جنت میں لے جانے والے تمام اسباب کی نشاندہی فرما دی ہے۔ دیکھئے! ہم کس قدر اللہ تعالی کی رحمت سے مستفید ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8870
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ
۔ سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ اخلاص ایک تہائی قرآن مجید کے برابر ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8870]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 3789، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17235»
الحكم على الحديث: حديث صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 3789
19. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهِمَا
سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 8871
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَابْتَدَأَنِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ يَا عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ ثَلَاثِ سُوَرٍ أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ وَالْفُرْقَانِ الْعَظِيمِ قَالَ قُلْتُ بَلَى جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ فَأَقْرَأَنِي {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] وَ{قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [الفلق: 1] وَ{قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} [الناس: 1] ثُمَّ قَالَ يَا عُقْبَةَ لَا تَنْسَاهُنَّ وَلَا تَبِتْ لَيْلَةً حَتَّى تَقْرَأَهُنَّ قَالَ فَمَا نَسِيتُهُنَّ مُنْذُ قَالَ لَا تَنْسَاهُنَّ وَمَا بِتُّ لَيْلَةً قَطُّ حَتَّى أَقْرَأَهُنَّ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ملے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کہنے میں پہل کی اور فرمایا: اے عقبہ بن عامر! کیا میں تجھے بہترین تین سورتوں کی تعلیم نہ دوں، جو تورات، انجیل، زبور اور قرآن مجید میں نازل کی گئیں ہیں؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان کردے، ضرور بتائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تعلیم دی اور فرمایا: اے عقبہ! انہیں نہیں بھولنا اور کوئی رات نہیں گزارنی، مگر ان میں اس کی تلاوت کرنی ہے۔ جب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ان کو نہ بھولنے کی تلقین کی، اس وقت سے نہ میں ان کو بھولا ہوں اور میں نے کوئی رات نہیں گزاری، مگر اس میں ان کی تلاوت کی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8871]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17467»
الحكم على الحديث: حديث حسن
حدیث نمبر: 8872
عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصَابَنَا عَطَشٌ وَظُلْمَةٌ فَانْتَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ لَنَا فَخَرَجَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ قُلْ فَسَكَتُّ قَالَ قُلْ قُلْتُ مَا أَقُولُ قَالَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِينَ تُمْسِي وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلَاثًا تَكْفِيكَ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ
۔ سیدنا عبداللہ بن خبیب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں سخت پیاس لگی ہوئی تھی، جبکہ اندھیرا بھی تھا اور ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرے رہے تھے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ کر ہمیں نماز پڑھائیں،پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: کہو۔ میں خاموش رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: کہو۔ میں نے کہا: جی میں کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شام اور صبح کرو تو تین تین بار سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھا کرو، تمہیں ہر روز دو بار کفایت کریں گی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8872]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 5082، والترمذي: 3575، والنسائي: 8/ 250، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23040م»
وضاحت: فوائد: … تمام نسخوں کو دیکھا جائے تو اس حدیث کے آخر میں مَرَّتَیْن کا لفظ زائد معلوم ہوتا ہے، جب مزی نے مسند احمد کی سند سے روایت ذکر کی تو انھوں نے بھی اس لفظ کا ذکر نہیں کیا۔ ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: تَکْفِیکَ مِنْ کُلَّ شیئٍ۔ (تجھے ہر چیزسے کفایت کریں گے۔) یہ سورتیں کس چیز سے کفایت کریں گی؟ ہر قسم کے شرّ سے کفایت کریں گی، آدمی شرور سے محفوظ رہے گے، یہ بھی معنی ممکن ہے کہ آدمی اللہ تعالی کی پناہ طلب کرنے کے لیے جتنے اوراد و وظائف کرتا ہے، یہ سورتیں ان سب سے کفایت کریں گی۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 5082
حدیث نمبر: 8873
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَقَبٍ مِنْ تِلْكَ النِّقَابِ إِذْ قَالَ لِي يَا عُقْبَةَ أَلَا تَرْكَبُ قَالَ فَأَجْلَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْكَبَ مَرْكَبَهُ ثُمَّ قَالَ يَا عُقَيْبُ أَلَا تَرْكَبُ قَالَ فَأَشْفَقْتُ أَنْ تَكُونَ مَعْصِيَةً قَالَ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبْتُ هُنَيَّةً ثُمَّ رَكِبَ ثُمَّ قَالَ يَا عُقَيْبُ أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَتَيْنِ مِنْ خَيْرِ سُورَتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا النَّاسُ قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَقْرَأَنِي {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [الفلق: 1] وَ{قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} [الناس: 1] ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ بِهِمَا ثُمَّ مَرَّ بِي قَالَ كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقَيْبُ اقْرَأْ بِهِمَا كُلَّمَا نِمْتَ وَكُلَّمَا قُمْتَ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَابِسٍ وَقَالَ ابْنُ عَبْسٍ الْجُهَنِيُّ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری ایک پہاڑی سے گزرنے والے راستہ سے چلا رہا تھا، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عقبہ! تم سوار کیوں نہیں ہوتے؟ میں نے کچھ نہ کہا، دراصل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلالت ِ شان کے پیش نظر سوار نہیں ہونا چاہتاتھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر فرمایا: اے عقیب! تم سوار کیوں نہیں ہوتے۔ اب میں ڈر گیا کہ یہ نافرمانی ہی نہ ہو جائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے اترے اور میں کچھ دیر کے لئے سوار ہو گیا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوار ہو گئے اور فرمایا: اے عقیب! کیا میں تمہیں سب سے بہترین دو سورتیں نہ سکھاؤں، جو لوگ پڑھتے ہیں؟ میں نے کہا: جی بالکل، اے اللہ کے رسول!، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تعلیم دی، اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور اس نماز میں ان ہی دو سورتوں کی تلاوت کی، پھر میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: اے عقیب! کیسا پایا (ان دو سورتوں کی فضیلت کو کہ میں نے ان کی تلاوت کر کے نماز پڑھا دی ہے)، جب بھی تو سوئے اور جاگے تو ان سورتوں کی تلاوت کر۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8873]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 8/ 253، وأخرجه مختصرا ابوداود: 1463، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17429»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیار کی وجہ سے عقبہ کو عقیب کے لفظ کے ساتھ پکارا، یہ عقبہ کی تصغیر ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح ۔ أخرجه النسائي: 8/ 253
حدیث نمبر: 8874
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ سُورَتَانِ (وَفِي رِوَايَةٍ أُنْزِلَ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ) فَتَعَوَّذُوا بِهِنَّ فَإِنَّهُ لَمْ يَتَعَوَّذْ بِمِثْلِهِنَّ يَعْنِي الْمُعَوِّذَتَيْنِ
۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے اوپر دو سورتیں نازل ہوئی ہیں، ایک روایت میں ہے: مجھ پر ایسی آیات نازل ہوئی ہیں کہ ان کی مثل آیات نہیں پائی گئیں، ان کے ذریعے پناہ طلب کیا کرو، ان جیسی اور کوئی سورت نہیں، جس کے ذریعے پناہ مانگی جائے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8874]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1814، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17432»
وضاحت: فوائد: … کسی بیمارییا شرّ یا شرّ والی چیز سے پناہ مانگنے کے لیے سورۂ فلق اور سورۂ ناس بے مثال ہیں۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1814