🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهِمَا
سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8875
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ
۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات یعنی سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھا کروں۔ یہ جمع کا لفظ ہے اور اس سے مراد تین سورتیں (اخلاص، فلق اور ناس) مراد ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8875]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1814، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17945»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1814
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8876
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ فَإِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَ بِمِثْلِهِمَا
۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تو سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھا کرو، ان سورتوں کی مثل کوئی چیز نہیں، جو تو پڑھے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8876]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17322 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17455»
وضاحت: فوائد: … دم اور پناہ طلب کرنے کے لیےیہ دو سورتیں بے مثال ہیں۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8877
عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ قَالَ قَالَ رَجُلٌ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَالنَّاسُ يَعْتَقِبُونَ وَفِي الظَّهْرِ قِلَّةٌ فَحَانَتْ نَزْلَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَزْلَتِي فَلَحِقَنِي مِنْ بَعْدِي فَضَرَبَ مَنْكِبَيَّ فَقَالَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [الفلق: 1] فَقُلْتُ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأْتُهَا مَعَهُ ثُمَّ قَالَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} [الناس: 1] فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأْتُهَا مَعَهُ قَالَ إِذَا أَنْتَ صَلَّيْتَ فَاقْرَأْ بِهِمَا
۔ ابو العلا کہتے ہیں: ایک آدمی یعنی سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور سواریاں کم ہو نے کی وجہ سے لوگ باری باری سوار ہو رہے تھے، اُدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور میرے اترنے کی باری بھی آ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے میرے پیچھے سے ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرےکندھے پر مارا اور فرمایا: پڑھ{قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}۔ میں نے پڑھا: {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ سورت پڑھی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پڑھ{قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ}۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ مکمل سورت پڑھی اور میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز پڑھے تو ان کی تلاوت کیا کر۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8877]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20284 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20550»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ رَأي ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ الْمُعَودَتَيْنِ لَيْسَنَا مِنْ كِتَابِ اللهِ وَرَدُ ذَلِكَ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے کا بیان کہ معوذ تین کتاب اللہ میں سے نہیں ہیں، نیز اس رائے کے غیر مقبول ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8878
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَحُكُّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ مِنْ مَصَاحِفِهِ وَيَقُولُ إِنَّهُمَا لَيْسَتَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ الْأَعْمَشُ وَحَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْنَا عَنْهُمَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقِيلَ لِي فَقُلْتُ
۔ عبد الرحمن بن یزید سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے مصحف سے معوذ تین کو مٹا دیتے اور کہتے کہ یہ کتاب اللہ میں سے نہیں ہیں۔ اعمش کہتے ہیں: عاصم نے ہم کو زرّ سے بیان کیا کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کے بارے میں سوال کیا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے کہا گیا، پس میں نے کہہ دیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8878]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطبراني: 9151، والبزار: 1586، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21507»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مفہوم سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۸۸۰)

الحكم على الحديث: اسناده صحيح ۔ أخرجه الطبراني: 9151
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8879
عَنْ زِرٍّ قَالَ قُلْتُ لِأُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ أَخَاكَ يَحُكُّهُمَا مِنَ الْمُصْحَفِ فَلَمْ يُنْكِرْ قِيلَ لِسُفْيَانَ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ نَعَمْ وَلَيْسَا فِي مُصْحَفِ ابْنِ مَسْعُودٍ كَانَ يَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بِهِمَا الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَلَمْ يَسْمَعْهُ يَقْرَأُهُمَا فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ فَظَنَّ أَنَّهُمَا عُوذَتَانِ وَأَصَرَّ عَلَى ظَنِّهِ وَتَحَقَّقَ الْبَاقُونَ كَوْنَهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ فَأَوْدَعُوهُمَا إِيَّاهُ
۔ زر بن حبیش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کے بھائی تو ان دونوں سورتوں کو مصحف سے کھرچ دیتے تھے، انہوں نے اس چیز کا انکار نہیں کیا۔ جب سفیان سے کہا کہ بھائی سے مراد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، انھوں نے کہا: جی ہاں اور یہ دو سورتیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں نہیں تھیں، ان کا خیال یہ تھا کہ یہ دو دم ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ذریعے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو دم کیا کرتے تھے، دراصل ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں ان سورتوںکی تلاوت کرتے ہوئے نہیں سنا تھا، پھر وہ اسی رائے پر مصرّ رہے، لیکن باقی افراد کی تحقیق یہ ہے کہ یہ قرآن مجید کا حصہ ہیں، اس لیے انھوں نے ان کو قرآن مجید میں رکھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8879]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطبراني: 9151، والبزار: 1586، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21508»
وضاحت: فوائد: … عُوْذَۃ: دم، گھبراہٹ یا جنون یا کسی بیماری پر کیا جانے والے دم۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح ۔ أخرجه الطبراني: 9151
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8880
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ لَا يَكْتُبُ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي مُصْحَفِهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لَهُ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [الفلق: 1] فَقُلْتُهَا فَقَالَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} [الناس: 1] فَقُلْتُهَا فَنَحْنُ نَقُولُ مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو معوذ تین کو اپنے مصحف میں نہیں لکھتے،انھوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ خبر دی کہ سیدنا جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں نے کہہ دیا، جبریل نے کہا: {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ}، پس میں نے کہہ دیا، سو ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8880]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن حبان: 797، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21505»
وضاحت: فوائد: … اس مقام پر جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے، صحابۂ کرام اس حقیقت پر متفق تھے کہ سورۂ فلق اور سورۂ ناس قرآن مجید کا حصہ ہیں، انھوں نے ان کو ان مصاحف میں لکھا تھا، جن کو ساری اسلامی خلافت میں بھیجا گیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز میں ان سورتوں کی تلاوت کرنا ثابت ہے، صرف سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کییہ رائے ہے، ممکن ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں ان کی تلاوت کرتے ہوئے نہ سنا ہو، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دم کے لیے اور پناہ مانگنے کے لیے ان سورتوں کو پڑھا کرتے تھے، اس وجہ سے ممکن ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کو دم سے متعلقہ دعائیں سمجھ لیا ہو۔ امام بزار نے کہا: کسی صحابی نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس رائے پر ان کی متابعت نہیں کی، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں ان کی تلاوت کی ہے۔ دیگر شرعی مسائل میں بھی صحابۂ کرام میں اس قسم کی مثالیںموجود ہیں، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جو آدمییہ بیان کرے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے، ان کی تصدیق نہ کی جائے، جبکہ دوسرے صحابی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے، یہ ایک مسلمہ قانون ہے کہ مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح ۔ أخرجه ابن حبان: 797
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا وَتَفْسِيرِهَا
سورۃ الفلق سورۃ الفلق کی فضیلت اور تفسیر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8881
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَأَرَانِي الْقَمَرَ حَتَّى طَلَعَ فَقَالَ تَعَوَّذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الْغَاسِقِ إِذَا وَقَبَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے چاند کو طلوع ہوتے ہوئے دکھایا اور فرمایا: تو اللہ کی پناہ طلب کر اس غاسق کے شرّ سے، جب اس کی تاریکی پھیل جائے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8881]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطيالسي: 1486، وابويعلي: 4440، والحاكم: 2/ 540، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26230»
وضاحت: فوائد: … امام مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: غاسق سے مراد چاند یا رات ہے، جب سرخی غروب ہو جائے، جب چاند کو گرہن لگتا ہے، اس وقت بھی وقب کا لفظ بولا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چاند گرہن سے پناہ مانگنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالی کی ایسی نشانی ہے، جو مصیبت و آزمائش پر دلالت کرتی ہے۔ دوسرا معنییہ ہے کہ غاسق سے مراد رات ہے، جب مشرق کی طرف اس کا اندھیرا چھا جائے، رات سے پناہ مانگنے کی وجہ یہ ہے کہ رات کو آفات کا انتشار عام ہوتا ہے، ایک قول کے مطابق غاسق سے مراد ثریا ستارہ ہے، جب وہ گر جائے اور غروب ہو جائے، ابن جریر نے اپنی تفسیر میں کہا: میرے نزدیک بہتر بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غاسق کے شرّ سے پناہ طلب کریں، جب رات اندھیروں میں داخل ہو تی ہے تو اس کو غاسق کہتے ہیں، جب ستارہ غروب ہوتا ہے تو اس کو غاسق کہتے ہیں اور جب چاند چھا جائے تو اس کو بھی غاسق کہتے ہیں، پس غاسق کی تخصیص نہ کی جائے، بلکہ اس کو عام رکھ کر اس سے پناہ مانگی جائے۔ (ملخص از: تحفۃ الاحوذی: ۹/ ۲۱۳)

الحكم على الحديث: اسناده حسن ۔ أخرجه الطيالسي: 1486
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8882
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ بَغْلَةٌ شَهْبَاءُ فَرَكِبَهَا فَأَخَذَ عُقْبَةُ يَقُودُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعُقْبَةَ اقْرَأْ فَقَالَ وَمَا أَقْرَأُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [سورة الفلق] فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ حَتَّى قَرَأَهَا فَعَرَفَ أَنِّي لَمْ أَفْرَحْ بِهَا جِدًّا فَقَالَ لَعَلَّكَ تَهَاوَنْتَ بِهَا فَمَا قُمْتَ تُصَلِّي بِشَيْءٍ مِثْلِهَا
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تحفے میں ایک سفید خچر دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہوئے، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ اس کو چلا رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: پڑھو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} پڑھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ اس سورت کو پڑھا، یہاں تک کہ اس (سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ) نے اس سورت کو پڑھ لیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ میں اس سورت سے زیادہ خوش نہیں ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے، تم اس کو معمولی سمجھ رہے ہو، تو نے نماز میں اس جیسی سورت نہیں پڑھی ہو گی (یعنی یہ بے مثال سورت ہے، جس کو نماز میں پڑھا جائے)۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8882]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 8/ 252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17475»

الحكم على الحديث: حديث صحيح ۔ أخرجه النسائي: 8/ 252
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8883
عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَبِيبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ تَعَلَّقْتُ بِقَدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُودٍ وَسُورَةَ يُوسُفَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ إِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَ سُورَةً أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا أَبْلَغَ عِنْدَهُ مِنْ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [سورة الفلق] قَالَ يَزِيدُ لَمْ يَكُنْ أَبُو عِمْرَانَ يَدَعُهَا وَكَانَ لَا يَزَالُ يَقْرَؤُهَا فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک کے ساتھ چمٹ گیا اور کہا:اے اللہ کے رسول! مجھے سورۂ ہوداور سورۂ یوسف پڑھائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عقبہ! تو کوئی ایسی کوئی سورت نہیں پڑھی، جو {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو پیاری، بلیغ اور نتیجہ خیز ہو۔ یزید راوی کہتے ہیں: ابوعمران اس سورت کی تلاوت کبھی نہ چھوڑتے تھے اور ہمیشہ اس کو نمازِ مغرب میں پڑھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8883]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 8/ 254، الدارمي: 3439، والطبراني في الكبير: 17/ 862، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17554»
وضاحت: فوائد: … سورۃ الفلق اور سورۂ ناس بہترین دم ہیں اور مخلوقات کے شرّ اور جادو اور نظر بد وغیرہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہیں، ان کے نزول سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مختلف الفاظ کے ساتھ انسانوں اور جنوں کی نظر سے پناہ مانگتے تھے، لیکن جب یہ سورتیں نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پڑھنے کو اپنا معمول بنا لیا۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح ۔ أخرجه النسائي: 8/ 254
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں