🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ تَفْسِيرِهَا وَ مَنْقَبَةٍ لِأَبَى بَنِ كَعْبٍ
{لَمْ یَکُنْ …} یعنی سورۃ البینہ کی تفسیر سورۃ البیّنہ کی تفسیر اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی منقبت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8835
عَنْ أَبِي حَبَّةَ الْبَدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَمْ يَكُنْ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ هَذِهِ السُّورَةَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أُبَيُّ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِئَكَ هَذِهِ السُّورَةَ فَبَكَى وَقَالَ ذُكِرْتُ ثَمَّةَ قَالَ نَعَمْ
۔ سیدنا ابو حبہ بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب سورۂ بینہ نازل ہوئی تو جبریل علیہ السلام نے کہا: اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو یہ سورت پڑھائیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابی! میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے، میں فلاں سورت کی تجھ کو تعلیم دوں۔ پس سیدنا ابی رو پڑے اور کہا: کیا وہاں میرا تذکرہ ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8835]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 823، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16096»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 823
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا
سورۃالزلزال سورۂ زلزال کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8836
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ [سورة الكافرون] رُبْعُ الْقُرْآنِ وَإِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ [سورة الزلزلة] رُبْعُ الْقُرْآنِ وَإِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ [سورة النصر] رُبْعُ الْقُرْآنِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورہ کافرون قرآن مجید کا چوتھائی حصہ ہے، سورۂ زلزال بھی قرآن مجید کا ایک چوتھائی ہے اور سورہ ٔ نصر بھی ایک چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8836]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان۔ أخرجه الترمذي: 2893، وابن ماجه: 3788، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12516»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف سلمة بن وردان ۔ أخرجه الترمذي: 2893
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8837
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَهُ اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ الرَّاءِ فَقَالَ الرَّجُلُ كَبِرَتْ سِنِّي وَاشْتَدَّ قَلْبِي وَغَلُظَ لِسَانِي قَالَ فَاقْرَأْ مِنْ ذَوَاتِ حَامِيمَ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَى فَقَالَ اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنَ الْمُسَبِّحَاتِ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَقَالَ الرَّجُلُ وَلَكِنْ أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ سُورَةً جَامِعَةً فَأَقْرَأَهُ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ [سورة الزلزلة] حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهَا قَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدُ عَلَيْهَا أَبَدًا ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ ثُمَّ قَالَ عَلَيَّ بِهِ فَجَاءَهُ فَقَالَ لَهُ أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى جَعَلَهُ اللَّهُ عِيدًا لِهَذِهِ الْأُمَّةِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةَ ابْنِي أَفَأُضَحِّي بِهَا قَالَ لَا وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ وَتَقُصُّ شَارِبَكَ وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے قرآن مجید کی تعلیم دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: الٓر والی سورتوں میں سے تین سورتیں پڑھ لو۔ اس آدمی نے کہا: میری عمر بڑی ہو چکی ہے دل سخت ہو چکا ہے، زبان موٹی ہے،(اس لیے مقدار تھوڑی کریں)،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو پھر حمٓ والی سورتیں پڑھ لو۔ لیکن اس نے پہلے والا جواب دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسبحات سورتیں پڑھ لو۔ اس نے کہ: اے اللہ کے رسول! کوئی ایک جامع سورت پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَ رْضُ} والی سورت پڑھی،یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو گئے، اب کی بار اس آدمی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق دے کربھیجا ہے، میں اس میں اضافہ نہ کروں گا، پھر وہ آدمی منہ پھیر کر چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آدمی کامیاب ہوا، یہ آدمی کامیاب ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے یومِ اضحی کا حکم دیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن کو اس امت کے لیے عید بنایا ہے۔ اس آدمی نے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میرے پاس صرف اپنے بیٹے کی ایک بکری ہو تو اس کی قربانی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم (قربانی والے دن) اپنے بالوں کو کاٹو، ناخنوں کو تراشو، مونچھوں کو کاٹو اور زیر ناف بال مونڈو، یہ عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری پوری قربانی ہو گی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8837]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1399، 2789، والنسائي: 7/ 212، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6575»
وضاحت: فوائد: … الرٰ: یہ وہ سورتیںہیں، جن کے شروع میں لفظ الرٰ آتا ہے، یہ کل پانچ سورتیں ہیں: یونس، ہود، یوسف، ابراہیم، حجر۔ حٰمٓ: اس سے مراد وہ سورتیں ہیں، جن کے شروع میں لفظ حٰمٓ آتا ہے، یہ کل سات سورتیںہیں: غافر، فصلت، شوری، زخرف، دخان، جاثیہ، احقاف۔ مسبحات: ان سے مراد وہ سورتیں ہیں، جن کے شروع میں تسبیح والا لفظ ہو، جیسے سَبَّحَ، یُسَبِّحُ وغیرہ۔ یہ بھی کل سات سورتیں ہیں: اسرائ، حدید، حشر، صف، جمعۃ، تغابن، اعلی۔چونکہ سورہ زلزال قیامت، دوبارہ جی اٹھنے اور جزاء وسزا کے احوال پر مشتمل ہے اور عمررسیدہ آدمی کے لیےیہی سورت مناسب ہے۔ جو شخص قربانی کی طاقت نہیں رکھتا، اس کے لیے شریعت کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنی جسمانی صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام کرے، عید والے دن اپنے بال اور ناخن تراشے، اپنی مونچھیں کاٹے اور زیر ناف بالوں کی صفائی کرے، یہ اہتمام اس کے لیے قربانی کے قائم مقام ہو گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 1399
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: «يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا»
{یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8838
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا [سورة الزلزلة: ٤] قَالَ أَتَدْرُونَ مَا أَخْبَارُهَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ أَخْبَارَهَا أَنْ تَشْهَدَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ وَأَمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلَى ظَهْرِهَا أَنْ تَقُولَ عَمِلْتَ عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَهُوَ أَخْبَارُهَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَ خْبَارَہَا} … اس دن زمین اپنی خبریں بیان کرے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اس کی خبریں کیا ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی خبریںیہ ہیں کہ ہر مرد و زن نے اس پر جو عمل بھی کیا ہو گا، یہ بول کر اس پر گواہی دے گی اور کہے گی: تو نے میرے پشت پر فلاں فلاں دن یہ یہ عمل کیا تھا، یہی اس کی خبریں ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8838]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،يحيي بن ابي سليمان، قال البخاري: منكر الحديث۔ أخرجه الترمذي: 2429، 3353، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8867 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8854»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: «‏‏‏‏فَمَنْ يُعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» ‏‏‏‏
{فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًایَّرَہُ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8839
عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْفَرَزْدَقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ عَلَيْهِ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ [سورة الزلزلة: ٧-٨] قَالَ حَسْبِي لَا أُبَالِي أَنْ لَا أَسْمَعَ غَيْرَهَا
۔ سیدنا صعصعہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ، جو فرزدق شاعرکے چچا ہیں، سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر یہ تلاوت کی: {فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًایَرَہُ وَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہُ} … جو ذرہ برابر بھلائی کا عمل کرے گا، وہ اسے دیکھ لے گا ارو جو ذرہ برابر برائی کرے گا، وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔ میں نے کہا: مجھے یہی آیت کافی ہے، اس کے علاوہ نہ سننے کی مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8839]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي في الكبري: 11694، والطبراني في الكبير: 7411، والحاكم: 3/ 613، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20593 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20869»
وضاحت: فوائد: … یہ دو آیات انتہائی جامع و مانع ہیں اور خیر و شرّ کے ہر پہلو پر شامل ہیں، فکرمند کوفکر دلانے کے لیےیہ دو آیات کافی ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه النسائي في الكبري : 11694
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: «ثُمَّ لَتُسْتَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ»
{اَلْہَاکُمْ} یعنی سورۃالتکاثر {ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8840
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ فَقَرَأَهَا حَتَّى بَلَغَ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ [سورة التكاثر] قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ وَسُيُوفُنَا عَلَى رِقَابِنَا وَالْعَدُوُّ حَاضِرٌ فَعَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ قَالَ إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ
۔ سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں: {أَ لْہَاکُمُ التَّکَاثُرُ … … لَتُسْأَ لُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیمِ}لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم سے کون سی نعمتوں کے متعلق سوال ہوگا، بس پانی اور کھجور، یہ دو چیزیں تو ہماری خوراک ہے اور ہماری تلواریں ہماری گردنوں پر سجی ہوئی ہیں اور دشمن کا سامنا رہتا ہے،پس کس نعمت کے بارے میں سوال ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب یہ نعمتیں ہو ں گی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8840]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 231، والطبري في تفسيره: 30/ 288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24040»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْہٰکُمُ التَّکَاثُرُ۔ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۔ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ کَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ۔ لَتَرَوُنَّ الْجَــحِیْمَ۔ ثُمَّ لَتَرَوُنَّہَا عَیْنَ الْیَقِیْنِ۔ ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۔} … تمھیں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی حرص نے غافل کر دیا۔ یہاں تک کہ تم نے قبرستان جا دیکھے۔ ہرگز نہیں، تم جلدی جان لوگے۔ پھر ہرگز نہیں، تم جلدی جان لوگے۔ ہرگز نہیں، کاش! تم جان لیتے،یقین کا جاننا۔ کہ یقینا تم ضرور جہنم کو دیکھو گے۔ پھر یقینا تم ضرور اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لوگے۔ پھر یقینا تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤ گے۔
زیادتی کی خواہش، یہ عام ہے، مال، اولاد،اعوان و انصار اور خاندان و قبیلہ وغیرہ سب کو شام ہے، ہر وہ چیز، جس کی کثرت کے حصول کی کوشش اور خواہش اسے اللہ کے احکام اور آخرت سے غافل کر دے، یہاں اللہ تعالی اسی کمزوری کوبیان کر رہا ہے، جس میں انسانوں کی اکثریت ہردور میںمبتلا رہی ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 231
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8841
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَلَمَّا نَزَلَتْ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ [سورة التكاثر: ٨] قَالَ الزُّبَيْرُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ قَالَ أَمَا إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: { ثُمَّ لَتُسْأَ لُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیمِ} … پھر تم اس دن نعمتوں کے متعلق ضرور ضرور سوال کئے جاؤ گے۔ توسیدنا زبیر نے کہا:اے اللہ کے رسول! کونسی نعمتیں ہیں، جن کے متعلق ہم سے سوال ہوگا،اب تو ہمارے پاس صرف یہ دو کالے رنگ کی نعمتیں پانی اور کھجور ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! عنقریب وہ نعمتیں ہوں گی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8841]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 4158، والترمذي: 3236، 3356، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1405 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1405»
وضاحت: فوائد: … جلد ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ پیشن گوئی پوری ہو گئی تھی اور امت ِ مسلمہ کی اکثرت دنیاوی مال و اسباب میں غافل ہو گئی۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابن ماجه: 4158
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ تَفْسِيرِهَا وَقِصَّةِ قُرَيْشٍ
سورۃ قریش سورۂ قریش کی تفسیر اور قریش کے قصے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8842
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ [سورة قريش: ١-٢] وَيْحَكِ يَا قُرَيْشُ اعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَكُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَكُمْ مِنْ خَوْفٍ
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیات پڑھیں: {لِاِیْلَافِ قُرَیْشٍ۔ اِیْلَافِہِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَاءِ وَالصَّیْفِ} … قریش کو مانوس کرنے کی وجہ سے، یعنی انہیں جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کی وجہ سے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے قریش! بہت افسوس ہے تم پر، اپنے اس گھر کے رب کی عبادت کرو،جس نے تمہیں بھوک سے کھانا کھلایا اور خوف سے امن دیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8842]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب۔ أخرجه الحاكم: 2/ 256، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27607 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28159»
وضاحت: فوائد: … قریش کی گزران کاذریعہ تجارت تھی، سال میں دو بار ان کا تجارتی قافلہ باہر جاتا اور وہاں سے اشیائے تجارت لاتا، سردیوں میںیمن، جو گرم علاقہ تھا، اور گرمیوں میں شام کی طرف، جو ٹھنڈا تھا، خانہ کعبہ کے خدمت گزار ہونے کی وجہ سے تمام اہل عرب ان کی عزت کرتے تھے، اس لیے ان کے قافلے بلا روک ٹوک سفر کرتے، اور دوسفر ہونے کی وجہ سے موسم کی سختیوں سے بھی محفوظ رہتے۔ اللہ تعالی ان احسانات کی بناپر یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ قریشیوں کو چاہیے تھا کہ شرک نہ کرتے اور اللہ تعالی کی عبادت کرتے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب ۔ أخرجه الحاكم: 2/ 256
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ تَفْسِيرِ هَا وَصِفَةِ الْكَوْثَرِ
سورۂ کوثر سورۂ کوثر اور کوثر کی صفت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8843
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا سَمِعْتَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَذْكُرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي الْكَوْثَرِ فَقُلْتُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذَا الْخَيْرُ الْكَثِيرُ فَقَالَ مُحَارِبٌ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا أَقَلَّ مَا يَسْقُطُ لِابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلٌ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ لَمَّا أُنْزِلَتْ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ [سورة الكوثر: ١] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ حَافَتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ يَجْرِي عَلَى جَنَادِلِ الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ شَرَابُهُ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَأَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ قَالَ صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذَا وَاللَّهِ الْخَيْرُ الْكَثِيرُ
۔ عطاء بن سائب کہتے ہیں: محارب بن دثار نے مجھ سے کہا: تم نے سعید بن جبیر سے کوثر کے بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی کوئی بات سنی ہے؟ انھوں نے کہا:جی انھوں نے کہا ہے کہ کوثر سے مراد خیر کثیر ہے، محارب نے کہا: سبحان اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات معتبر ہی ہوتی ہے، میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا، انھوں نے کہا: جب {إِنَّا أَ عْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ}نازل ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جنت میں ایک نہر ہے، اس کے کنارے سونے کے ہیں،یہ موتیوں اور یا قوت کی نالیوں میں بہتی ہے، اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور دودھ سے زیادہ سفید اور برف سے زیادہ ٹھنڈا اور کستوری کی خوشبو سے زیادہ مہک والا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بالکل سچ کہا، اللہ کی قسم! یہ بہت زیادہ خیر اور بھلائی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8843]
تخریج الحدیث: «حديث قويّ۔ أخرجه الحاكم: 3/ 543، والطيالسي: 1933، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5913 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5913»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: الْکَوْثَرُ الْخَیْرُ الْکَثِیرُ الَّذِی أَ عْطَاہُ اللّٰہُ إِیَّاہُ۔ قَالَ أَبُو بِشْرٍ: قُلْتُ لِسَعِیدٍ: إِنَّ أُنَاسًا یَزْعُمُونَ أَ نَّہُ نَہَرٌ فِی الْجَنَّۃِ؟ فَقَالَ سَعِیدٌ: النَّہَرُ الَّذِی فِی الْجَنَّۃِ مِنْ الْخَیْرِ الَّذِی أَ عْطَاہُ اللّٰہُ إِیَّاہُ۔ … کوثر سے مراد وہ خیرِ کثیر ہے، جو اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کی۔ ابو بشر نے کہا: میں نے سعید سے کہا: لوگ تو یہ گمان کرتے ہیں کہ کوثر جنت میں ایک نہر کا نام ہے۔ انھوں نے جواباً کہا: جو نہر جنت میں ہے،یہ بھی اس خیر میں سے ہے، جو اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کی ہے۔ (صحیح بخاری: ۶۵۷۸)
اَلْکَوْثَر کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں، ان مرفوع احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سے ایک نہر مراد ہے، جو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کی جائے گی، بعض احادیث میں اس کا مصداق حوض بتلایا گیا ہے، اس حوض میں پانی اسی جنت والی نہر سے آ رہا ہو گا۔ حافظ ابن کثیر نے خیر کثیر کے مفہوم کو ترجیح دی ہے، کیونکہ اس میں دنیا و آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملنے والی تمام نعمتیں شامل ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث قويّ ۔ أخرجه الحاكم: 3/ 543
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8844
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَا الْكَوْثَرُ قَالَتْ نَهَرٌ أُعْطِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بُطْنَانِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ وَمَا بُطْنَانُ الْجَنَّةِ قَالَتْ وَسَطُهَا حَافَّتَاهُ دُرَّةٌ مُجَوَّفَةٌ
۔ ابو عبیدہ بن عبداللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کوثر کیا چیز ہے؟ انھوں نے کہا: یہ ایک نہر ہے، جو جنت کے درمیانی حصے میں واقع ہے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی گئی ہے، اس کے کناروں پر خول دار موتی ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8844]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4965، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26403 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26935»
وضاحت: فوائد: … بیچ میں راوی نے بُطْنَان کا معنی دریافت کیا، سیدہ نے بتایا کہ اس کے درمیانی حصے کو کہتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4965
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں