الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ الْاقْتِصَادِ فِي الْأَعْمَالِ
اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
حدیث نمبر: 8925
وَعَنْهَا أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيَّ خُوَيْلَةُ بِنْتُ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ السُّلَمِيَّةُ وَكَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَتْ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَذَاذَةَ هَيْئَتِهَا فَقَالَ لِي ( (يَا عَائِشَةُ مَا أَبَذَّ هَيْئَةَ خُوَيْلَةَ) ) قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَةٌ لَا زَوْجَ لَهَا تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَهِيَ كَمَنْ لَا زَوْجَ لَهَا فَتَرَكَتْ نَفْسَهَا وَأَضَاعَتْهَا قَالَتْ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَجَاءَهُ فَقَالَ ( (يَا عُثْمَانُ أَرَغْبَةً عَنْ سُنَّتِي) ) قَالَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ قَالَ ( (فَإِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سیدہ خویلہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا میرے پاس آئیں، وہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی پراگندہ حالت دیکھی تو فرمایا: عائشہ! کس چیز نے خویلہ کی حالت کو اتنا بگاڑ دیا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس عورت کا کوئی خاوند نہیں، اس بات کی تفصیل یہ ہے کہ اس کا خاوند دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو نماز پڑھتا ہے اور (اپنی بیوی کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا) تو یہ ایسی ہی ہو گئی کہ ا س کا کوئی خاوند ہی نہیں ہے، اس لیے اس نے اپنے نفس کو چھوڑ دیا ہے اور اس کو ضائع کر دیا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بلایا، پس جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عثمان! کیا میری سنت سے اعراض کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! بلکہ میں آپ کی سنت کا ہی طلبگار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس بیشک میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ اے عثمان! اللہ تعالیٰ سے ڈر جا، پس بیشک تجھ پر تیرے اہل کا بھی حق ہے، اس لیے روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر اور نماز بھی پڑھ اور سویا بھی کر۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8925]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 1369، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26308 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26839»
وضاحت: فوائد: … ضرورت اس بات کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام عبادات اور معاملات کو سامنے رکھا جائے، ایک طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہادی لشکر ترتیب دیتے وقت جہاد میں شرکت کرنے کی ترغیب دلا رہے ہیں، دوسری طرف اس لشکر میںشرکت کے خواہشمند کو یہ حکم دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ وہ جہاد میں شرکت کرنے کے بجائے اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کرے۔ یقین مانیں کہ اس دنیا میں سب سے بڑی مہم یہ ہے کہ آدمی نے اپنی زندگی میں دینِ کامل پر عمل کیسے کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادات کا حق، حج و عمرہ کے تقاضے، جہاد میں شرکت، والدین کا حق، بیوی بچوں کے حقوق، ہمسائیوں کے حقوق، حصولِ رزق کے لیے محنت،مہمان کی میزبانی کے لیے وقت اور خرچ، فوتگیوں اور شادیوں کے معاملات …۔
ایک دن ایک اچھا خاصا دین دار اور با شرع آدمی اپنے بھائی کے ولیمے میں اس قدر مصروف ہو گیا کہ نمازِ عصر فوت ہو گئی، ایک دن ایک مستقل نمازی ایک نماز میں غائب تھا، جب اس سے سبب دریافت کیا گیا تو اس نے کہا کہ مہمان آئے ہوئے تھے۔ در حقیقتیہ لوگ افراط و تفریطمیں مبتلا ہیں اور اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے سے عاری ہیں، ہماری زندگیاں بیت گئیں اورہم اپنے اسلامی نظام الاوقات مقرر نہ کر سکے، وہ ولیمہ کرنے کی توفیق ہی ہوئی، جو کئی لوگوں کی نمازِ عصر سے محرومی کا سبب بنی، جن مہمانوں کی وجہ سے نمازیں متاثر ہو جائیں، وہ مہمان ہوتے ہیںیا شیطان۔ کیا ولیمہ اور میزبانی کی سنت کا تقاضا یہ ہے کہ نماز سے غفلت برت کر اللہ تعالیٰ کی بغاوت کر دی جائے۔
ایک دن ایک اچھا خاصا دین دار اور با شرع آدمی اپنے بھائی کے ولیمے میں اس قدر مصروف ہو گیا کہ نمازِ عصر فوت ہو گئی، ایک دن ایک مستقل نمازی ایک نماز میں غائب تھا، جب اس سے سبب دریافت کیا گیا تو اس نے کہا کہ مہمان آئے ہوئے تھے۔ در حقیقتیہ لوگ افراط و تفریطمیں مبتلا ہیں اور اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے سے عاری ہیں، ہماری زندگیاں بیت گئیں اورہم اپنے اسلامی نظام الاوقات مقرر نہ کر سکے، وہ ولیمہ کرنے کی توفیق ہی ہوئی، جو کئی لوگوں کی نمازِ عصر سے محرومی کا سبب بنی، جن مہمانوں کی وجہ سے نمازیں متاثر ہو جائیں، وہ مہمان ہوتے ہیںیا شیطان۔ کیا ولیمہ اور میزبانی کی سنت کا تقاضا یہ ہے کہ نماز سے غفلت برت کر اللہ تعالیٰ کی بغاوت کر دی جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8926
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (أَلَا هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ) ) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! غلو کرنے والے ہلاک ہو گئے ہیں۔ تین بار فرمایا۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8926]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2670، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3655»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8927
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْضُهُمْ لَا أَتَزَوَّجُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أُصَلِّي وَلَا أَنَامُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ( (مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي) )
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام کا ایک گروہ آیا، ان میں سے کسی نے کہا: میں شادی نہیں کروں گا، کسی نے کہا: میں نماز پڑھوں گا اور سوؤں گا نہیں، کسی نے کہا: میں روزے رکھوں گا اور افطار نہیں کروں گا۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، میں تو روزے بھی رکھتا ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں، پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ سے نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8927]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1401، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13534 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13568»
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابٌ فِي اسْتِحْبَابِ الْأَخْذِ بِالرَّحْصَةِ وَعَدْمِ التَّشْدِيدِ فِي الدِّينِ
دین میں رخصت کو قبول کرنے اور سختی نہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان رخصت: لغوي معني: سہولت اور آسانی
حدیث نمبر: 8928
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَاسًا سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ عِبَادَتِهِ فِي السِّرِّ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ( (مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَسْأَلُونَ عَمَّا أَصْنَعُ) ) فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند) کچھ لوگوں نے امہات المؤمنین سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سرّی عبادات کے بارے میں پوچھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ان (مخفی امورِ عبادت) کے بارے میں سوال کرنے لگ گئے جو میں کرتا ہوں، …۔ الحدیث [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8928]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13763»
وضاحت: فوائد: … دراصل یہ حدیث اوپر والی حدیث کا حصہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخفی امورِ عبادت کے بارے میں سوال کرنا قابل تعریف بات ہے، لیکن اگر نظریہیہ ہو کہ سوال کرنے والا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر عمل کرے گا تو پھر معاملہ غلط ہو جائے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8929
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُؤْتَى مَعْصِيَتُهُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ رخصتوں پر عمل کرنے کو اس طرح پسند کرتا ہے، جیسے وہ نافرمانیوں کو ناپسند کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8929]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البزار: 988، وابن حبان: 3568، والبيھقي: 3/ 140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5873 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5873»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۳۸۴۰)، اس مقام پر روزہ کی رخصت کے بارے سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے، اس سے مذکورہ بالا حدیث کا مفہوم سمجھ آ جائے گا۔ مزید ایک مثال درج ذیل ہے: سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے سال ماہِ رمضان میں مکہ مکرمہ کی طرف نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا اور لوگوں نے بھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کراع غمیم کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ روزے کی وجہ سے بڑی مشقت میں ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوایا اور اتنا بلند کیا کہ لوگوں نے دیکھ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پانی پی لیا،یہ عصر کے بعد کا وقت تھا، لیکن پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ بعض لوگوں نے ابھی تک روزہ رکھا ہوا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أُولٰئِکَ الْعُصَاۃُ أُولٰئِکَ الْعُصَاۃُ۔)) … یہ لوگ نافرمان ہیں،یہ لوگ نافرمان ہیں۔ (صحیح مسلم: ۱۸۷۸) اس حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ بالا حدیث کا معنی واضح کر دیا گیا ہے کہ جب رخصت پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے بندہ خواہ مخواہ کی مشقت میں پڑ رہا ہو، بلکہ اس کا نقصان ہونے کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں رخصت پر عمل کرنا ضروری ہو گا اور یہی عمل اللہ تعالیٰ کو پسند ہو گا، اگر کوئی اشد ضرورت کے وقت بھی رخصت کے معاملے میں تردّد میں پڑا رہے تو وہ نافرمان ہو گا۔ بطورِ مثال چند ایک رخصتیں درج ذیل ہیں:
تیمم کی رخصت،موزوں یا جرابوں پر مسح کرنے کی رخصت، اشارے سے نماز پڑھنے کی رخصت،فرض نماز بیٹھ کر ادا کرنے کی رخصت، بارش اور سفر میں نمازوں کو جمع کرنے کی رخصت، بارش کے دوران مسجد میں نہ جانے کی رخصت، مالی استطاعت رکھنے والے بیمارکے لیےیہ رخصت کہ وہ خود حج کے لیے نہ جائے، کسی بندے کو بھیج دے، سفر اور بیماری کی وجہ سے روزے اور نماز کی مخصوص رخصتیں، انتہائی مجبوری میں حرام کھانے کی رخصت وغیرہ، دراصل رخصتیں اسلام کا حسن ہیں۔
ہمارے ہاں بعض لوگ رخصتوں پر عمل کرنے والوں کو بڑی عجیب نگاہ سے دیکھتے ہیں، بلکہ اُن کی نظر میں ایسے لگ رہا ہوتا ہے، جیسے وہ جرم کر رہے ہیں،یہ دراصل ان لوگوں کی کج فہمی ہے، شریعت کسی کے فہم کا نام نہیں ہے، بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات کا نام ہے، اگر حضر میں نمازِ ظہر کی دس رکعتیں ہیں تو سفر میں صرف دو، حالانکہ سفر میں دس رکعتوں کی ادائیگی کوئی وبالِ جان تو نہیں ہے، لیکنیہ شریعت کا فیصلہ ہے، ہمارا کوئی اختیار نہیں، کتنی خوبصورت بات کہی امام زہری رحمتہ اللہ علیہ نے، وہ کہتے ہیں: عَلَی اللّٰہِ الْبَیَانُ وَعَلَی الرَّسُوْلِ اَلْبَلاَغُ وَعَلَیْنَا اَلتَّسْلِیْمُ۔ … اللہ تعالیٰ پر واضح کرنا ہے، رسول پر پہنچانا ہے اور ہم پر تسلیم کرنا ہے۔
رخصت کی اقسام:
أ: بوقتِ ضرورت حرام چیز کو جائز قرار دینا‘ جیسے زندگی بچانے کے لئے مجبورًا مردارکھانا‘ خون پینا۔
ب: واجب کو وقتی طور پر ترک کرنے کی رخصت دینا‘ جیسے مسافر اور مریض کے لئے رمضان کے روزے۔
ج: عام اصول و قواعد سے ہٹ کر بعض تجارتی معاملات کی اجازت دینا‘ جیسے بیع سلم‘ جس میں اصل چیز موجود نہیں ہوتی۔
رخصت کا حکم: رخصت کا اصل حکم تو مباح کا ہے‘ کیونکہ اس کا اصل مقصود لوگوں سے مشقت کو دور کرنا ہے‘ جیسے مسافر یا مریض کے لئے رمضان میں روزے نہ رکھنے کی رخصت ہے۔
بعض اوقات رخصت کی بہ نسبت عزیمت پر عمل کرنا افضل ہوتا ہے‘ جیسے قتل جیسی مجبوری کے وقت زبان سے کلمۂ کفر کہنا جائز تو ہے‘ لیکن حق پر ڈٹے رہنا زیادہ بہتر ہے۔
کبھی کبھی رخصت پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے‘ جیسے بھوک کی وجہ سے موت کے خطرے کو ٹالنے کے لئے حرام چیزیں کھا لینا۔
کیونکہ جان بچانا ضروری اور فرض ہے قرآن مجید میں ہے: {لا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ} (البقرۃ) اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
تیمم کی رخصت،موزوں یا جرابوں پر مسح کرنے کی رخصت، اشارے سے نماز پڑھنے کی رخصت،فرض نماز بیٹھ کر ادا کرنے کی رخصت، بارش اور سفر میں نمازوں کو جمع کرنے کی رخصت، بارش کے دوران مسجد میں نہ جانے کی رخصت، مالی استطاعت رکھنے والے بیمارکے لیےیہ رخصت کہ وہ خود حج کے لیے نہ جائے، کسی بندے کو بھیج دے، سفر اور بیماری کی وجہ سے روزے اور نماز کی مخصوص رخصتیں، انتہائی مجبوری میں حرام کھانے کی رخصت وغیرہ، دراصل رخصتیں اسلام کا حسن ہیں۔
ہمارے ہاں بعض لوگ رخصتوں پر عمل کرنے والوں کو بڑی عجیب نگاہ سے دیکھتے ہیں، بلکہ اُن کی نظر میں ایسے لگ رہا ہوتا ہے، جیسے وہ جرم کر رہے ہیں،یہ دراصل ان لوگوں کی کج فہمی ہے، شریعت کسی کے فہم کا نام نہیں ہے، بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات کا نام ہے، اگر حضر میں نمازِ ظہر کی دس رکعتیں ہیں تو سفر میں صرف دو، حالانکہ سفر میں دس رکعتوں کی ادائیگی کوئی وبالِ جان تو نہیں ہے، لیکنیہ شریعت کا فیصلہ ہے، ہمارا کوئی اختیار نہیں، کتنی خوبصورت بات کہی امام زہری رحمتہ اللہ علیہ نے، وہ کہتے ہیں: عَلَی اللّٰہِ الْبَیَانُ وَعَلَی الرَّسُوْلِ اَلْبَلاَغُ وَعَلَیْنَا اَلتَّسْلِیْمُ۔ … اللہ تعالیٰ پر واضح کرنا ہے، رسول پر پہنچانا ہے اور ہم پر تسلیم کرنا ہے۔
رخصت کی اقسام:
أ: بوقتِ ضرورت حرام چیز کو جائز قرار دینا‘ جیسے زندگی بچانے کے لئے مجبورًا مردارکھانا‘ خون پینا۔
ب: واجب کو وقتی طور پر ترک کرنے کی رخصت دینا‘ جیسے مسافر اور مریض کے لئے رمضان کے روزے۔
ج: عام اصول و قواعد سے ہٹ کر بعض تجارتی معاملات کی اجازت دینا‘ جیسے بیع سلم‘ جس میں اصل چیز موجود نہیں ہوتی۔
رخصت کا حکم: رخصت کا اصل حکم تو مباح کا ہے‘ کیونکہ اس کا اصل مقصود لوگوں سے مشقت کو دور کرنا ہے‘ جیسے مسافر یا مریض کے لئے رمضان میں روزے نہ رکھنے کی رخصت ہے۔
بعض اوقات رخصت کی بہ نسبت عزیمت پر عمل کرنا افضل ہوتا ہے‘ جیسے قتل جیسی مجبوری کے وقت زبان سے کلمۂ کفر کہنا جائز تو ہے‘ لیکن حق پر ڈٹے رہنا زیادہ بہتر ہے۔
کبھی کبھی رخصت پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے‘ جیسے بھوک کی وجہ سے موت کے خطرے کو ٹالنے کے لئے حرام چیزیں کھا لینا۔
کیونکہ جان بچانا ضروری اور فرض ہے قرآن مجید میں ہے: {لا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ} (البقرۃ) اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8930
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَنْ لَمْ يَقْبَلْ رُخْصَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الذُّنُوبِ مِثْلُ جِبَالِ عَرَفَةَ) )
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی رخصت قبول نہ کی، اس پر عرفہ کے پہاڑوں کی مانند گناہ ہوں گے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8930]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة رُزيق الثقفي، وابن لھيعة سييء الحفظ وقد اضطرب في اسناده، أخرجه الطبراني في الاوسط: 4532، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17587»
الحكم على الحديث: ضعیف
3. بَابُ الْاقْتَصَادِ فِي الْمَوْعِظَةِ
وعظ ونصیحت میںمیانہ روی اختیار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 8931
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ قَوْمٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کام میں کوئی رخصت دی، لیکن بعض لوگوں نے اس کو قبول کرنے سے گریز کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے غصے ہو گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر غصہ نظر آنے لگا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اس چیز سے اعراض کر رہے ہیں، جس میں مجھے (بھی) رخصت دی گئی ہے، اللہ کی قسم! لوگوں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جاننے والا اور سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا میں ہوں۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8931]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6101، 7301، ومسلم: 2356، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24683»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت رکھنے والے اور اس معرفت کے تقاضے پورے کرنے والے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام افعال و اعمال و اقوال سر آنکھوں پر۔ یہ خطرناک چیز ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رخصت دیں اور لوگ اس کے بارے میں تردّد میں پڑ جائیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8932
عَنْ أَبِي وَائِلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُ كُلَّ خَمِيسٍ أَوْ اثْنَيْنِ الْأَيَّامَ قَالَ فَقُلْنَا أَوْ فَقِيلَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا لَنُحِبُّ حَدِيثَكَ وَنَشْتَهِيهِ وَوَدِدْنَا أَنَّكَ تُذَكِّرُنَا كُلَّ يَوْمٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّهُ لَا يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ وَإِنِّي لَأَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا
۔ ابو وائل کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات یا سوموار کو وعظ و نصیحت کرتے تھے، ہم نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! ہم آپ کی گفتگو پسند کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں روزانہ وعظ و نصیحت کریں، جواب میں سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اس سے روکنے والی چیزیہ ہے کہ میں تمہیں اکتا دینے کو ناپسند کرتا ہوں اور میں نصیحت سے تمہاری ایسے ہی نگہداشت کرتا ہوں، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8932]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 70، ومسلم: 2821، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4439»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8933
عَنْ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ يَخْرُجُ عَلَيْنَا فَجَاءَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي النَّخَعِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقَالَ أَلَا أَذْهَبُ فَأَنْظُرُ فَإِنْ كَانَ فِي الدَّارِ لَعَلِّي أَنْ أُخْرِجَهُ إِلَيْكُمْ فَجَاءَنَا فَقَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ إِنَّهُ لَيُذَكِّرُ لِي مَكَانَكُمْ فَمَا آتِيكُمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ أُمِلَّكُمْ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا
۔ شقیق کہتے ہیں: ہم مسجد میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتظار کر رہے تھے، انھوں نے ہمارے پاس آنا تھا، اتنے میں یزید بن معاویہ نخعی آ گئے اور کہا: کیا میں خود ان کی طرف چلا جاؤں اور ان کو دیکھوں، اگر وہ گھر میں ہوئے تو ان کو تمہاری طرف لے آنا میری ذمہ داری ہو گی، پس سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر کہا: مجھے تمہارا مقام و مرتبہ یاد آ رہا تھا، لیکن بات یہ ہے کہ میں اس لیے تمہارے پاس نہیں آتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اکتا جاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے اکتا جانے کو ناپسند کرتے ہوئے وعظ و نصیحت کرنے میں ہمارا خیال رکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8933]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 68، 6411، ومسلم: 2821، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3587»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر روز خطاب نہیں کرتے تھے، بلکہ وعظ و نصیحت کے معاملے میں سامعین کی دلچسپی اور اکتاہٹ کا خیال رکھتے تھے، موجودہ دور کے مُصلح حضرات اور واعظین اس قسم کی مصلحت اور دانائی کا لحاظ نہیں کرتے اور پھر عوام سے یہ شکوہ رکھتے ہیں کہ شرعی مسائل سننے میںدلچسپی نہیں رکھتے۔
اگرچہ احوال و اشخاص میں فرق ہوتا ہے، پھر بھی خطباء حضرات کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی مستعدی اور شوق کا خیال رکھیں۔
لیکن عوام الناس کو بھی چاہیے کہ وہ صحابۂ کرام کی طرح قرآن و حدیث کے بیانات سننے کا شوق پیدا کریں اور ایسے دروس کی تلاش اور حرص میں رہیں۔
اگرچہ احوال و اشخاص میں فرق ہوتا ہے، پھر بھی خطباء حضرات کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی مستعدی اور شوق کا خیال رکھیں۔
لیکن عوام الناس کو بھی چاہیے کہ وہ صحابۂ کرام کی طرح قرآن و حدیث کے بیانات سننے کا شوق پیدا کریں اور ایسے دروس کی تلاش اور حرص میں رہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ الْاقْتِصَادُ فِي الْمَعِيشَةِ
معیشت میں میانہ روی اختیار کرنا
حدیث نمبر: 8934
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا نَاصِحُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ الْقَوَارِيرِيَّ يَقُولُ كُنْتُ أَمُرُّ بِنَاصِحٍ فَيُحَدِّثُنِي فَإِذَا سَأَلْتُهُ الزِّيَادَةَ قَالَ لَيْسَ عِنْدِي غَيْرُ ذَا وَكَانَ ضَرِيرًا
۔ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے: عبیداللہ قواریری کہتے ہیں: میں ناصح بن علاء کے پاس سے گزرتا تھا اور وہ مجھے احادیث بیان کرتے تھے، پھر جب میں ان سے مزید کا سوال کرتا تو وہ کہتے: میرے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے، وہ نابینا آدمی تھے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8934]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20897»
الحكم على الحديث: صحیح